فقیہ یا دانشور؟

328

نوآبادیاتی عہد میں جب مسلم سماج کا تعارف جدید ریاستی نظم اور اس کی اقدار سے ہوا تو اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ ترقی کے نئے مرحلے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے روایتی فکری و انتظامی خدوخال کے حامل دائروں سے باہر نکلنا ہوگا۔ جدید مرحلے کی ایک اساسی خصوصیت یہ تھی کہ یہ سلاطین و آمریت کے عہد سے عوامی ترجیحات کو اہمیت دینے کی طرف انتقال تھا۔ گویا یہ سیاسی و سماجی ساختیاتی تبدیلی تھی اور اس کا منطقی تقاضا یہ بھی تھا کہ ایک نیا فکری طبقہ وجود میں آئے گا جو عوام و جدید نظام کی ترجمانی کرے گا، نہ کہ ماضی کی طرح سلاطین و آمریتوں کی۔

تاریخی طور پہ مسلم معاشروں میں رائے عامہ ہموار کرنے اور سماج پر اثرانداز ہونے کے فکری حقوق فقیہ کو حاصل رہے ہیں۔ مختصر مدت کے لیے محدثین بھی اس دوڑ میں شامل رہے اور انہیں کامیابی بھی ملی لیکن مجموعی طور پر فقہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والا طبقہ بااثر رہا۔ اس طبقے کا غالب تأثر رہا ہے کہ وہ خود کو عوام کا حصہ شمار نہیں کرتا تھا۔ ماضی میں ’عامہ‘ اور ’خاصہ‘ کے نام سے دو اصطلاحیں مشہور تھیں، مذہبی حلقہ خواص کا جزو کہلاتا تھا اور انہیں وہی اہمیت حاصل تھی جو مشیروں اور وزراء کو حاصل ہوتی تھی۔ اگرچہ ان کی اولین شناخت دینی تھی لیکن سیاسی و حقوق کے معاملات میں ان کی تعبیر سلاطین کی ترجیحات کی رعایت رکھتی تھی، نہ کہ عوام کی۔ اس کا واضح ثبوت سلطانی آداب اور سیاسی فقہ پر لکھی گئی کتب ہیں۔

اُس دور میں جن لوگوں نے عامہ اور خاصہ کی طبقاتی تفریق کے خلاف عَلم بلند کیا تھا انہیں شعوبی (عامی) کہا جاتا تھا۔ شعوبی تحریک اُموی عہد کے اواخر میں شروع ہوئی تھی، ان کا مطالبہ تھا کہ دین کی اصل تعلیمات پر عمل کیا جائے اور طبقاتی تفریق کو ختم کرتے ہوئے مساوات کی قدر کو غالب کیا جائے۔ شعوبی تحریک کو کچلنے کے لیے سلاطین اور مذہبی طبقے نے مل کر کردار ادا کیا۔ سیاسی حقوق کی آوازوں سے ہٹ کر فکروفلسفہ میں غیرروایتی تعبیرات کے نمائندے معتزلہ بھی دبا دیے گئے، یہ طبقہ اپنے دور میں جدید اصلاح کے مطابق ’دانش ور‘ تھا۔

اسلامائزیشن کا بے تکان عمل ’دانش ور‘ کی جگہ کم کرنے اور اس کی اہمیت کو ختم کرنے کی سعی تھی

عصرحاضر میں جب ریاست، سماج اور فرد کی تعریفات پر نظرئانی ہوئی تو پوری دنیا میں ایک نیا فکری طبقہ بھی وجود میں آیا جس کے لیے ’دانش ور‘ کی اصطلاح متعارف ہوئی۔ یہ ریاست کی بجائے عوامی نمائندہ تھا اور اس نے شہریت، دستور، آئین، عمرانی معاہدہ، انسانی حقوق اور ارتقاء کی نئی سیاسی و سماجیات کی مباحث پر کلام کیا۔

مسلم تاریخ میں فقیہ کی حیثیت معتبر اور تقریباََ مقدس رہی ہے، اس کی وجہ مذہب کے ساتھ اس کا خاص ربط تھا۔ تاہم دانش ور کو اعتبار حاصل نہیں ہوسکا۔ اس کی ایک وجہ تو مذہبی طبقے کی جانب سے پھیلائی گئی یہ بدگمانی ہے کہ وہ خود دین اور اسلامی تہذیب کا نمائندہ ہے جبکہ نیا فکری طبقہ مغرب کا ترجمان ہے۔ اس کے ساتھ ریاست نے بھی فقیہ کے دعوے کی تائید کی۔ وقت کی ضرورت اور دانش ور کی جگہ کو پُر کرنے کے لیے فقیہ نے تمام مسائل و امور پر بات کرنے کے لیے اپنا دائرہ وسیع کیا جس کے باعث مذہبی حلقہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ بااثر اور سماج پر اثرانداز ہونے کے وسیع فکری حقوق کا پہلے سے مضبوط مالک بن گیا۔

اسلامائزیشن کا بے تکان عمل دانش ور کی جگہ کم کرنے اور اس کی اہمیت کو ختم کرنے کی سعی تھی۔ ریاست نے اس کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کیا، حتیٰ کہ آئین میں بھی اس طبقے کی حیثیت کو بالا رکھا گیا۔ ریاست نے جتنی آزادی فقیہ اور اس کے بیانیے کے مراکز و مدارس کو دی اتنی آزادی دانش ور اور اس کی درسگاہوں کو فراہم نہیں کی۔ فقیہ کے اس لامحدود رسوخ نے سیاست اور معاشرے میں کئی چیلنج کھڑے کیے۔ فقیہ کے بیانیے نے سماج کو مصروف تو رکھا لیکن اسے وہ منزل عطا نہیں کرسکا جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔ اس نے بالآخر ریاست کے لیے بھی مشکلات پیدا کیں اور اس کے دوبدو کھڑا ہوگیا۔

ہمارے اندر یہ احساس تو جاگا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے لیکن اسے ٹھیک کرنے کے لیے جس ہمت اور اعتراف کی جرأت کی ضرورت ہے وہ موجود نہیں ہے۔ ریاست متبادل تو چاہتی ہے لیکن اپنے اختیارات سے عوام کے حق میں دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ دانش ور کو اس کی آزادی دینے کے لیے اب بھی راضی نہیں، جبکہ سماج ایک تھونپی گئی مخصوص مذہبی تعبیر، بدگمانی اور تاریخی جبر کی سچائی کے درمیان کنفیوژن کا شکار ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...