کے کے عزیز: تاریخ کا درخشندہ ستارہ

طارق رحمان

359

خورشید کمال عزیز (کے کے عزیز) 15 جولائی 2009ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ آپ تقریباً پچاس کتابوں کے مصنف تھے۔ کے کے عزیز نہ ہی میڈیا کی نمایاں شخصیت تھے نہ ہی کوئی عوامی دانش ور جو اپنا زیادہ وقت لائبریری کے بجائے سیمیناروں میں گزارتے ہیں۔ وہ اپنے کام میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے یہاں تک کے ان کی بیگم زرینہ کے مطابق پانچ سال کی طویل بیماری میں وہ روزانہ دس گھنٹے کام کرتے تھے۔ ان کا لوگوں سے میل جول بہت کم تھا۔ ان کی ذات میں خوشامد کو دخل نہ تھا۔ اگر وہ اتنے زیادہ محنتی نہ ہوتے تو وہ اتنی زیادہ کتابیں نہ لکھتے اور نہ آکسفوڑد، کیمبرج اور خرطوم کی یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتے۔

میں ان سے پہلی مرتبہ 1992ء میں نیشنل ڈاکو مینٹیشن سینٹر کیبنٹ ڈویژن میں ملا۔ انہوں نے اپنی جوشیلی تقریر میں کہا کہ ہمیں آثار قدیمہ سے نکلنا ہو گا تاکہ ہم نو آبادیاتی غلامی سے چھٹکارا پا سکیں۔ ان کے اپنے لفظوں میں I beg to remain sir, your most abedient servent ۔ یہ الفاظ بہت متاثر کن تھے۔ یہ بہت بڑی بات تھی کہ ایک سکالر نے اپنی خودداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلامی کے دور کے انتظامی ڈھانچہ کو چیلنج کیا تھا جس کا تصوّر دوسرے سکالر کر ہی نہیں سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ غلامی کے مستعار الفاظ سے انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے لہٰذا ایسے الفاظ کو (Archives) سے نکال دینا چاہیے۔

The British in India: A study in Imperialism (1976) اور The India Muslim Conference (1972)انڈین تاریخ کے تناظر میں نہایت اہم کتب ہیں۔ ان کی اور بہت سی کتابیں ہیں ان میں سے ایک اسلامی فنون لطیفہ پر ہے جس کا نام The meaning of Islamaic Art ہے۔

میں نے ان کی دو کتابیں پڑھیں۔ ان میں سے ایک The Murder of History کے بارے میں میں نے بہت سے لوگوں کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔ ان کی دوسری کتاب جو میں نے پڑھی وہ The Pakistani Historian ہے۔ یہ دونوں کتابیں 1993ء میں شائع ہوئیں۔ اگرچہ ضیاء الحق کا دور ختم ہو چکا تھا لیکن اس کا مسخ شدہ تعلیمی نصاب ابھی تک باقی تھا۔ اول الذکر کتاب میں قوم پرستوں اور خیال پرستوں جنہوں نے تاریخ میں ٹیکسٹ بکس کو سکولوں اور کالجوں کے لیے منتخب کیا۔ ان کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا۔ حقیقتوں کو توڑ مروڑ کر اور جھوٹ کو اس طرح پیش کیا گیا تھا کہ وہ طالبعلموں میں ایک مکمل Garrison State کی ذہنیّت بنانے کے لیے بہت مفید تھا۔ دوسری کتاب The Pakistani Historian میں 1857ء سے لے کر 1947ء تک پاکستان میں قومیّت پسندی اور اس پر کچھ کتابوں پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں۔ ’’کتنی افسوسناک بات ہے کہ تاریخ دانوں نے غیر منطقی خیالات کو قومیت پسندی کے ساتھ نہ صرف جوڑا ہے بلکہ اس کو مان بھی لیا ہے۔ اور انہوں نے ان غیر منطقی دلائل کو قومیت پسندی کا لبادہ پہنا دیا ہے۔‘‘

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں کے کے عزیز کو National Commission of Historical and Cultural Research Islamabad کا چیئر مین بنایا گیا۔ میں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا کہ ایک خود مختار آدمی کو ایک سیاسی حکومت نے کس طرح ایک بڑے عہدے پر تعینات کیا ۔ وہ آدمی جو بغیر تعصب کے چیزوں کو لکھتا ہو۔ بین الاقوامی حکومتیں حقیقی تاریخ سے ہٹ کر قومیت پسندی کی تاریخ کو ترجیح دیتی ہیں۔ ابتدائی طور پر کے کے عزیز کو حکومت نے مکمل آزادی دیے رکھی لیکن چونکہ حکومتوں کے بھی اپنے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تو ضیا الحق نے(1978) میں کے کے عزیز کو ان کے عہدہ سے ہٹا کر ان کو مجبور کیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ ان کی بہت سی کتابیں سیاسی تاریخ پر تھیں۔ علاوہ ازیں انھوں نے سماجی تاریخ پر بھی گرانقدر کام کیا۔ آپ کی آخری کتاب “The Coffee House of Lahore: A Memoir 1942-57 (2008) لاہور کی سماجی، ادبی اور تہذیبی زندگی سے متعلق ہے۔ آپ نے چودھری رحمت علی اور سر آغا خان دوم کی سوانح عمری بھی لکھی۔ آپ کی کتاب ’’وہ حوادث آشنا‘‘، باراک اوباما کی کتاب Dream of my Father کی یاد دلاتی ہے۔ وہ حوادث آشنا کے کے عزیز نے اپنے والد بیرسٹر عزیز کے لیے لکھی تھی۔ بیرسٹر عزیز بھلم آباد، فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نے ان کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لاہور بھیج دیا جہاں پر انہوں نے پطرس بخاری جیسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جو بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور کافی ہائوس میں اس حوالے سے ان کی گفتگو بہت اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔عزیز نے اس کے بعد تعلیم مانچسٹر میں حاصل کی۔

آخری مرتبہ کے کے عزیز سے 2006ء پنجاب یونیورسٹی میں منعقدہ ایک سیمینار میں ملاقات ہوئی۔ وہ بہت کمزور ہو چکے تھے لیکن روانی سے گفتگو کر رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں چمک تھی۔ ان کے ساتھ ان کی بیگم زرینہ تھیں۔ چلتے وقت وہ بہت کمزور دکھائی دیے۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ will power کے ساتھ چل رہے تھے۔ ان کی کئی کتابیں میرے سامنے پڑی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے نزدیک ان کتابوں کی توقیر کیا ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...