کیا ایران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے؟

ڈیوڈ اگنیشس

369

ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہد میں جی رہے ہیں، تاہم جب بات معاشرے میں بنیادی تبدیلی کی آتی ہے تو مزدور و منظم صنعتی ورکرز ہی اس کی حقیقی مؤثر فورس سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بات ایران میں بھی اتنی ہی صادق آتی ہے جتنی کہ دیگر جدید معاشروں میں۔

ایسے وقت میں کہ جب ہر جگہ ٹرمپ مواخذے، امریکی انتخابات اور کورونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبائی بیماری کی خبریں منظر پہ چھائی ہوئی ہیں، اس دوران ایران کی مزدور تحریک کا ذکر غیرمتعلق سا محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایرانی عنصر چند ایسے معاملات میں براہ راست دخل انداز ہے جو دنیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب ہیں۔ موجودہ ایرانی مزدور تحریک ان معاملات کے نتائج پر ممکنہ طور اثرانداز ہوسکتی ہے۔

ایران رفتہ رفتہ ایک نئے موڑ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 1979ء کا انقلاب بوڑھا ہو رہا ہے جیسے کہ ملک کی لیڈرشپ بھی۔ مذہبی طبقے کی قیادت داخلی و خارجی سطح پر پاسداران انقلابِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے کام کرتی ہے۔ لیکن اس سپاہ کی کرشماتی جاذبیت پچھلے ماہ جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے ساتھ ماند پڑ گئی ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب کی حیثیت مطلق العنان ریاست میں ایسے سرغنے کی ہے جو خوف کے بل بوتے حکومت کرتا ہے۔ اختلاف و مزاحمت کو دبانے میں اس تنظیم کی مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی جمود مزید ایک عشرے تک جاری رہ سکتا ہے، لیکن ایران جیسی نفیس قوم میں زیادہ دیر تک اس کا چلنا ممکن نظر نہیں آتا۔ تو سوال یہ ہے کہ ایران کیسے تبدیل ہوسکتا ہے؟

ملکی سیاسی اُمور کی نبض پرکھنے میں عموماََ ایران کی مزدور تحریک نظر انداز کی جاتی ہے۔ لیکن یہ احتجاج دو دہائیوں کی تاریخ رکھتے ہیں، جو زوردار اور وسیع پیمانے پر رہے ہیں، انہیں مکمل طور پہ دبایا نہیں جا سکا۔ بلاشبہ ناراض صنعتی کارکن و مزدور ایسی سیاسی قوت بن کر اُبھر سکتے ہیں جو ملاؤں کے لیے پریشان کن ہوسکتی ہے۔

نومبر میں ایران کے شہر ماھشھر میں احتجاج کے دوران پانچ دنوں میں 148 مظاہرین کو ہلاک کردیا گیا تھا

ایران میں بس ڈرائیوروں، ٹرک چلانے والوں، ریفائنری ورکروں اور بہت سے دوسرے لوگوں کی وقفے وقفے سے ہڑتالیں ہوتی رہی ہیں۔ مزدور رہنماؤں کو جیل بھیجا گیا اور ان پر مبینہ طور پر تشدد کیا جاتا رہا، لیکن وہ ہر بار واپس آتے رہے۔ حال ہی میں امریکی اقتصادی پابندیوں کے سبب محنت کش طبقے کی ناراضی اور ان کے مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ملک میں یہ احتجاج ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں سے پہلے کے ہیں جو طویل عرصے سے پنپنے والی بدعنوانی، عدم مساوات اور بدانتظامی کے خلاف عوامی غیض و غضب کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزدور تحریکوں سے جنم لینے والی حکومتی بے چینی پر بی بی سی نے دسمبر میں ایک سٹوری لکھی تھی جس میں سابق صدر محمد خاتمی کی رائے بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر مڈل کلاس اور امیر طبقہ ورکرز احتجاج کا حصہ بن گیا تو پھر عسکری اور سکیورٹی طاقت کا جبر بھی اس کا راستہ نہیں روک سکے گا۔ محمد خاتمی کے مطابق یہ عوام بمقابلہ حکومت دو دھڑوں کی تقسیم ہوگی۔

محمد خاتمی کا یہ تبصرہ نومبر میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ملک گیر سخت مظاہروں کے بعد سامنے آیا۔ حکومتی انتظامیہ کے ساتھ سب سے خونریز محاذ آرائی جنوب مغربی ایران کے شہر ماھشھر میں پیش آئی جہاں مزدوروں سمیت پیٹروکیمیکل شعبے کے ورکرز سڑکوں پر نکل آئے تھے، حکومت نے بے دردی سے جوابی کاروائی کی، خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا اور ٹینکوں سے آگ برسائی۔ آزاد نیوز ایجنسی ’ویر‘ نے ایک مقامی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ پانچ دنوں کے اندر 148 مظاہرین کو ہلاک کردیا گیا۔

فاؤنڈیشن آف ڈیفینس اینڈ ڈیموکریسیز میں تجزیہ کار بہنام بن طالبلو کا کہنا ہے کہ ایرانی مقتدرہ یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ 1978-79 میں شاہ کا تختہ الٹنے کے لیے پٹرولیم ورکرز کی ہڑتالیں از حد ضروری تھیں، اس لیے مقتدرہ ایسی منظم ہڑتالوں سے خوفزدہ ہے۔ تاوانا نامی ایک سول سوسائٹی تنظیم کی مشترکہ بانی مریم میمار سادیگی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ صنعتی ورکرز کی ہڑتالوں اور عام سٹرِیٹ مظاہروں کے درمیان ایک ہم آہنگ اتحاد موجود ہے۔

جب آپ وحشیانہ کریک ڈاؤن کے باوجود ایران بھر میں ہڑتالوں کی لہر کو پھیلتا دیکھیں تو آپ کہہ سکتے ہیں ایران ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے

ایرانی مزدور تحریک نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کچھ بہادر رہنماؤں کو جنم دیا جن میں منصور اوسانلو بھی شامل ہے جسے 2005ء میں بس ڈرائیوروں کی یونین بنانے کے بعد جیل میں بند کردیا گیا تھا، اس نے سرکاری ذرائع مواصلات میں مسافروں کو کرائے کی ادائیگی سے منع  کر کے احتجاج کیا تھا۔ اسی طرح اساتذہ کے یونین آرگنائزر محمد حسین سیپھری جو بار بار گرفتاریوں کے باوجود ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مظاہرے کر رہے ہیں۔

لاس اینجلس میں کیلیفورنیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے کیون ہیریس اور جیپ کالب کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق جبر کے باوجود مزدوروں کے احتجاج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی اخبارات سے جمع کیے گئے اعدودوشمار سے انہوں نے نتیجہ نکالا کہ 2012ء سے 2016ء تک کے مظاہروں میں تہران سے باہر کے علاقوں میں ہڑتالوں کی شدت و تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

2018ء میں ٹرک ڈرائیوروں کی ہڑتال سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ اس سے قومی سطح پر مزدرور تحریک کو زبردست پھیلاؤ ملے گا۔ حتیٰ کہ تب ٹرمپ انتظامیہ کے بعض عہدیدار اس قدر پرجوش تھے کہ انہیں اقتصادی تناؤ کو بڑھاوا دینے کی اُمید تھی جس کی وجہ سے یہ ہڑتال سامنے آئی، اور امریکہ میں موجود ایرانی ٹرک ڈرائیوروں کے تأئیدی پیغامات بھی جمع کیے گئے، تاہم بعد میں پتہ چلا کہ وہ بہت زیادہ تعداد میں نہیں تھے۔

لیکن خبردار رہنے کی ضرورت ہے کہ ایرانی تحریک کے لیے کھلی امریکی حمایت نقصان دہ ثابت ہوگی۔ تاہم یہ عالمی سطح پر مزدور یونینز کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ اس میں کیا کردار ادا کرتی ہیں۔ پولینڈ میں مزدور تحریک کے ساتھ ’بکجہتی تحریک‘ اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ جب پوری دنیا کے یونین کارکن اس تحریک کی حمایت میں کھڑے ہوئے اور نتیجتاََ  اس سے مشرقی یورپ میں کمیونزم کو پٹری سے اتارنے میں مدد ملی۔ ایرانی مزدوروں و صنعتی ورکرز کی حمایت میں اسی طرح کی بین الاقوامی تحریک ’یکہجتی‘ کی لازوال مثال قائم کرسکتی ہے۔

ناراض ورکرز ایران، چین ور حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا میں بھی سیاسی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب آپ وحشیانہ کریک ڈاؤن کے باوجود ایران بھر میں ہڑتالوں کی لہر کو پھیلتا دیکھیں تو آپ کہہ سکتے ہیں ایران ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: واشنگٹن پوسٹ

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...