سکردو کے ترقیاتی کاموں میں رُکاوٹیں نہ ڈالی جائیں

126

بلتستان دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سمیت آٹھ ہزار میٹر سے بلند چار چوٹیوں، قطبین کے بعد بڑے گلیشئرز، دنیاکے بلند ترین سطح ِمرتفع دیوسائی اور دلفریب مناظر سے بھرپور وادیوں کی سرزمین ہونے کے ناطے دنیا بھر میں اس خطے کا ایک ممتاز نام ہے۔ دنیاکے بلند ترین برف زار پر واقع محاذِ جنگ سیاچن کے باعث اس مقام کی حساسیت بھی ملک کے لیے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ سب سے بڑھ کر بلتستان کی منفرد تہذیب و ثقافت اور یہاں کے لوگوں کی امن پسندی وہ خوبی ہے جو کم علاقوں کے نصیب میں آتی ہے۔ لیکن اِس وقت تشویش کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے توسط سے اہل بلتستان کے بارے میں علاقائی اور ملکی سطح پر پہلے سے موجود مثبت تأثرمیں تبدیلی آرہی ہے جو یہاں کی حقیقی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ آج بھی بلتستان ریجن ملک کا ایسا حصہ ہے جہاں فرقہ واریت، لسانیت، علاقائیت یا دیگر بنیادوں پر لوگوں میں کسی قسم کا تفرقہ یا گروہ بندی نہیں ہے۔ جرائم یہاں نہ ہونے کے برابرہیں۔ کئی علاقوں کے تھانوں میں سال بھر میں کوئی بڑی FIR درج نہیں ہوتی۔ ملکی و غیر ملکی سیاح دن یا رات کے کسی پہر بے فکر ہوکر گھوم سکتے ہیں۔

ان ساری حقیقتوں کے باوجود گلگت بلتستان میں بعض انتظامی مسائل کی وجہ سے اور مختلف طبقات کے مابین اتفاق کی کمی کے رجحان کے سبب چند ایسی مشکلات سامنے آرہی ہیں جو مجموعی مقامی چہرے کو متأثر کر رہی ہیں۔ یہ رجحان نیا ہے تاہم ان بعض چھوٹے چھوٹے مسائل کے سبب سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے بارے میں اس طرح منفی باتیں کی جاتی ہیں جیسے یہاں مشکلات کا انبار ہو اور ماضی کی خوبصورت روایات و امن گہنا رہی ہوں۔ انتظامی سقم اور چند طبقات کے عدم اتفاق کے سبب پہلے کی طرح کسی بڑے کام کو لے کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ مثال کے طور پہ ماضی میں پورا ایک مہینہ سکردو شہر کی صفائی اس لیے نہیں ہوسکی کہ اس کے بعد جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے یا اسے زیر مین دبانے کے لیے جگہ دینے کے لیے سکردو اور مضافات کے علاقوں کے شہری تیار نہ تھے۔ ایک جگہ پر اتفاق کیا گیا تو عدالت کا سہارا لے کر اُس مقام پر کوڑا کرکٹ پھینکنے سے بھی روک دیا گیا، طویل بحث تمحیص کے بعد مسئلے کا حل نکالا گیا۔

سکردو  بلتستان ڈویژن کا مرکزی شہر ہے۔ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں سب سے پُرامن ضلع ہونے کے ناطے اس میں سیاحوں کی زیادہ تعداد میں آمد کے علاوہ دوسرے شہروں سے بغرض کاروبار و ملازمت لوگوں کے منتقل ہونے کا تناسب بھی زیادہ ہے۔

آج بھی بلتستان ریجن ملک کا ایسا حصہ ہے جہاں فرقہ واریت، لسانیت، علاقائیت یا دیگر بنیادوں پر لوگوں میں کسی قسم کا تفرقہ یا گروہ بندی نہیں ہے۔ جرائم یہاں نہ ہونے کے برابرہیں۔ کئی علاقوں کے تھانوں میں سال بھر میں کوئی بڑی FIR درج نہیں ہوتی

اِس وقت سکردو کے کئی اہم منصوبے متأثر ہور ہے ہیں۔ شہر میں روز بہ روز بڑھتے ہوئے بجلی بحران کے پیش نظر حکومت نے سکردو ہرگسہ کے مقام پر 3.5 میگاواٹ توانائی کے بجلی گھر کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس منصوبے کے لیے ابتدا میں سب لوگ متفق تھے لیکن پھر یہ مسئلہ بگڑ گیا اور 80 کروڑ روپے کے اس منصوبے پر کام شروع نہیں کرنے دیا گیا۔ بلتستان ڈوژن کے چار اضلاع کے واحد ہسپتال ’ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو‘ میں مریضوں کے غیرمعمولی اضافے کے باعث ہسپتال کی مشکلات سے کون واقف نہیں۔ آئے روز نت نئے اور جان لیوا امراض کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ہر کسی کی مالی استطاعت بڑے شہروں میں علاج کرانے کی اجات نہیں دیتی۔ ایسے میں ایک جدید ترین ہسپتال کا قیام وقت کی اہم ضرورت تھی۔ وزیر صحت حکومت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد مسیحا بن کر آئیں اور سکردو میں 500 بستروں کے جدید ترین ہسپتال کے منصوبے کی منظوری دی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا اس پسماندہ علاقے کے مریضوں پر یہ پہلا احسان نہیں ہے، آج سے پندرہ بیس برس قبل وہ ہر سال گرمیوں میں باقاعدگی سے سکردو آتیں اور سکردو ہسپتال میں کئی روز تک بلتستا ن بھر سے آئی ہوئی خواتین مریضوں کا علاج اور پیچیدہ امراض کے آپریشن بھی کرتیں۔ وہ ایسا وقت تھا جب پورے بلتستان ریجن میں کوئی بھی گائناکالوجسٹ ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں 250 بستروں کا ہسپتال بنے گا۔ 3 ارب روپے کی خطیر رقم سے بننے والے اس ہسپتال میں تمام شعبوں کے ماہر ڈاکٹرز تعینات ہوں گے۔ مگر بدقسمتی ہے کہ اہل بلتستان کے لیے زندگی اور موت کا درجہ رکھنے والے اس منصوبے کے لیے ابھی تک زمین کی نشاندہی کا عمل مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ سکردو سپورٹس کمپلکیس کو اس ہسپتال کے لیے سب سے مناسب ترین زمین قراردی گئی تھی۔  بلتستان کے تمام سپورٹس کلبوں نے بھی متبادل جگہ پر سپورٹس سٹیڈیم کے لیے زمین فراہم کیے جانے کی صورت میں کمپلیکس سے دستبردار ہونے کے لیے تحریر طور پر اپنی رضامندی دی ہے۔ اب پاکستا ن سپورٹس بورڈ کے حکام کو چاہیے تھا کہ بلتستان کے عوام کے لیے زندگی موت کی اہمیت کا درجہ رکھنے والے اس منصوبے کے لیے سپورٹس کمپلیکس میں ہسپتال کی تعمیر کے لیے فوری این او سی جاری کرتے، تاکہ یہ منصوبہ جو یہاں کے 5 لاکھ عوام کی صحت اور جانوں کے لیے ناگزیر ہے اس پر کام شروع ہوسکے۔ تاہم یہ کام ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔

سکردو ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت شہر میں خواتین کے لیے علیحدہ لائبریری کے قیام، شہر میں فوڈ سٹریٹ کی تعمیر، سکردو ہسپتال میں مریضوں کے تیمارداروں کے لیے انتظار گاہ کی تعمیر، ہسپتال میں سٹریٹ لائٹس لگانے اور شہر میں ٹریفک نظام کی بہتری جیسے منصوبوں کی منظوری حاصل ہوگئی ہے، جن میں ہر منصوبہ تین سے چار کروڑ روپے کے مالیت کا ہے۔ لیکن مختلف بہانوں سے ان ترقیاتی کاموں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو سکردو انتظامی حوالے سے جیسے پہلے پسماندہ تھا اسی طرح رہے گا۔ ان مسائل کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے اور عام لوگوں میں مایوسی کا احساس بھی بڑھتا جائے گا جو بلاشبہ علاقے کے مستقبل کے ٹھیک نہیں ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...