جنگ کی کتابیں

ندیم فاروق پراچہ

997

کراچی، سال 1992ء میں انگریزی زبان کے ایک ہفت روزہ میگزین میں بطور رپورٹر کام کرنے کے دوران مجھے کچھ مخصوص کتابوں کے حوالے سے ایک فیچر پر کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی، یہ کتب شہر کے ایسے دو علاقوں میں واقع سکولوں میں زیرتدریس تھیں جو کم آمدنی والے تھے۔

یہ سرکاری سکول نہیں تھے۔ انہیں کچھ خیراتی تنظیمیں چلا رہی تھیں جن میں سے دو پر 2003ء میں حکومت نے پابندی عائد کردی تھی۔ میں نے کسی طرح وہاں سے اُردو کی دو درسی کتابیں حاصل کیں جو آٹھ سے بارہ سال کی عمر کے طالب علموں کو پڑھائی جاتی تھیں۔ ان میں جہاد، کفار اور فحاشی وغیرہ جیسے موضوعات پر ابواب شامل تھے۔

جب میں نے خیراتی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ایک سرگرم رکن سے کتابوں کے بارے میں سوال کیا تو اس نے بتایا کہ ان کے پہلی طباعت پاکستان میں نہیں ہوئی۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مذکورہ مواد اصل میں 80ء کی دہائی کے شروع اور وسط میں امریکا کے اندر لکھا گیا اور پہلی بار وہیں طبع ہوا تھا، پھر وہاں سے پاکستان بھیجا گیا جہاں ملک بھر کے مختلف سکولوں اور مدارس میں تقسیم ہوا۔ یہ پاکستانی سرحد سے متصلہ افغانی دیہاتوں کے تعلیمی اداروں میں میں بھی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔

یہ عمل 1980ء اور 88ء کے درمیان افغانستان میں سوویت یونین مخالف لڑائی کے دوران انجام دیا گیا تھا۔ تب افغان اور عرب لڑاکے (مجاہدین) پاکستان میں موجود تھے۔ انہیں امریکا اور سعودی عرب کی مالی مدد اور تعاون حاصل تھے۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے 23 مارچ 2002ء کے شمارے میں سٹیفنز اور ڈیوڈ بی اوٹاوے نے تحریر کیا تھا کہ لڑائی کے دوران رونالڈ ریگن کی حکومت نے پشتو، دری اور اُردو میں تصنیف کی گئی ان کتب کی طباعت پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔ ’یہ پرتششد تصاویر اور عسکریت پسندی کی تعلیمات سے بھرپور تھیں۔ مقصد سوویت قبضے کے خلاف خفیہ طور پر مزاحمت کو مہمیز دینا تھا‘۔ شورش میں سہولت کاری کردار ادا کرنے کے لیے یہ کتابیں اربوں ڈالرز کی امداد کے ساتھ پاکستان پہنچیں۔

سٹیفنز اور اوٹاوے نے مزید لکھا کہ کتابیں ’مقدس جنگ کی تعلیمات سے لبریز تھیں۔ ان میں بندوقوں، گولیوں، فوجیوں اور بارودی سرنگوں کی تصاویر شامل کی گئی تھیں‘۔ جب 80 کی دہائی کے اواخر میں سوویت افواج کا خطے سے انخلا ہوا تو اس کے بعد یہ کتب افغان تعلیمی نظم کا باقاعدہ حصہ بن گیں۔ سٹیفنز اور اوٹاوے کے مطابق یہی کتابیں 1996 میں کابل میں برسراقتدار آنے والی متشدد طالبان حکومت نے بھی استعمال کی تھیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق 2002ء میں جب امریکا نے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کیا تو اس کے چند مہینوں بعد پاکستان اور افغانستان میں قتل و غارت کی تعلیمات پر مشتمل تمام کتب کو ختم کرنے لیے ایک مہم شروع کی گئی تھی۔ یہ سٹوری 2002ء میں پاکستانی اخبار ڈیلی نیور نے شائع کی تھی۔ (اخبار اب بند ہوچکا ہے)۔ رپورٹر نے مزید لکھا تھا کہ امریکا تاریخ کی پہلی ایسی غیرمسلم طاقت ہے جس نے ایک مشترکہ دشمن کو ضرب لگانے کے لیے ’مقدس جنگ‘ کی تشہیر کا پروپیگنڈہ کیا۔ لیکن یہ دعویٰ مبنی برحقیقت نہیں ہے کہ تاریخ میں امریکا ایسی پہلی طاقت تھی جس نے یہ کام کیا۔

یہ اقدام پہلے جرمنی کر چکا تھا۔ 14 اکتوبر 1914ء کو سلطنت عثمانیہ کے دارالحکومت استنبول مں ایک ایک مذہبی عالِم نے برطانیہ، فرانس، رُوس اور سربیا کے خلاف ’مقدس جنگ‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس نے یہ کام عثمانی سلطان کی منظوری اور جرمنی کے اشارے پر کیا تھا۔

2015ء تک مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں ’مقدس جنگ‘ کے تصور کو راسخ کرنے کے لیے خطے کے تعلیمی اداروں میں ان کتب کا استعمال ہوتا رہا جو 80ء کی دہائی میں امریکا سے شائع ہوئی تھیں

دیوالیہ عثمانی سلطنت نے پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمنی کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا۔ سلطان نے لڑکھڑاتی عثمانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے جرمنی سے بھاری معاوضہ قبول کیا تھا۔ اس اتحاد کو اس نے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جس کے ذریعے ان علاقوں کو واپس حاصل کیا جاسکتا تھا جو انیسویں صدی میں اور اس کے بعد کے مرحلے میں سلطنت سے کھو گئے تھے۔

وار اِن ہسٹری نامی جریدے کے اپریل 2011ء کے شمارے میں مؤرخ مصطفیٰ اکسال لکھتے ہیں کہ جرمن مخالف قوتوں کے ہاں عثمانی جہاد کے اعلان کو جرمن خفیہ حربے کے طور پہ دیکھا گیا جس کے ذریعے جرمنی مخالف علاقوں میں مسلمان آبادی کو برانگیختہ کیا گیا تھا۔

اکسال تحریر کرتے ہیں کہ جرمن وکیل، تاریخ دان اور ماہرِ آثارِ قدیمہ میکس وان اوپین ہائیم اس ’سکیم‘ کا مرکزی کردار تھا۔ پروپیگنڈا تنظیم Nachrichtenstelle für den Orient (انٹیلیجنس بیورو برائے مشرق) کا ہیڈکوارٹر برلن میں واقع تھا۔ اس تنظیم نے جہادی مواد تیار کیا اور اسے انگریزوں کے زیرانتظام ایشیائی و افریقی ممالک کے باسی مسلمانوں میں تقسیم کیا تھا۔

جرمنی کی زیرسرپستی چھپنے والی دو تحریریں سب سے نمایاں تھیں۔ ایک تو یہودی سکالر اور ’ماڈرن اسلامک اسٹڈیز اِن جرمنی‘ نامی ادارے کے بانی یوجین میتھوچ کا ایک کتابچہ، جبکہ دوسری تحریر مسلم سکالر صالح اشریف التونسی کا رسالہ تھا۔ Making War, Mapping Europe کے مصنف سموئل کروگ کے مطابق کتابچے میں جہاد کی تعبیر و تشریح عصری سیاست کے سیاق و سباق میں کی گئی تھی۔ جبکہ تیونسی رسالے میں جہاد کو ایک لازمی مذہبی فریضے کے طور پہ بیان کیا گیا۔ یہ دونوں تحریریں جرمن سوسائٹی آف اسلامک سٹڈیز برلن سے شاثع کی گئی تھیں۔

مقدس جنگ کے فروغ کے لیے مذکورہ بالا جرمن اور امریکی، دونوں سکیموں کے نتائج البتہ ایکدوسرسے سے یکسر مختلف رہے۔ جرمنی اور عثمانی سلطنت کو جنگ میں بری طرح شکست کا سامنا ہوا، سیکولر مسلم قوم پرستی اور بائیں بازو کے نظریات نے جرمن پروپیگنڈے کے ذریعے فروغ دیے گئے جہادی بیانیے کو مکمل طور پہ مسترد کردیا۔ جرمنی اور عثمانیوں کی شکست نے مسلم ممالک میں سیکولر قوم پرست بیانیے کو مستحکم کیا اور مذہبی نظریات کو بے دخل کردیا۔

دوسری طرف، جیساکہ برطانوی مصنف جوناتھن سٹیل نے 2011ء میں اپنی کتاب Ghosts of Afghanistan میں لکھا کہ، یہ اصل میں سوویت معیشت کی ابتری تھی جس کی بنا پر سوویت افواج افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوئیں اور کابل حکومت کی امداد بھی بند کرنی پڑی، لیکن امریکا اور پاکستان نے اس انخلا کو ’کمیونزم کے خلاف ایمان کی فتح‘ سے تعبیر کیا۔

امریکی ملمع سازی سے عسکریت پسندی کا جو مقدس تصور پروان چڑھا اس نے منطقی طور پہ اس بیانیے کو خطے میں دیرپا رہنے کے لیے جواز بخشا۔ لہذا یہ تعجب کی بات نہیں کہ جب 2001ء میں امریکی افواج نے طالبان حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے کابل پر حملہ کیا تو انہیں ایسے مدارس ملے جو 1980ء کی دہائی میں امریکا کی طرف سے تقسیم کی گئی درسی کتب پڑھا رہے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ دسمبر 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2002ء کے بعد سے اب تک یونیسف افغانستان میں ایسی لگ بھگ نصف ملین کتب تلف کرچکا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں یہ ابھی تک پڑھائی جا رہی تھیں۔

سال 2015ء میں پاکستانی فوجیوں کو بھی اسی طرح کی کتابیں ان علاقوں سے ملیں جہاں کچھ وقت کے لیے شدت پسند گروہ قابض رہے تھے۔ ان گروہوں کو فوجی آپریشن کے ذریعے بے دخل کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2015ء تک مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں ’مقدس جنگ‘ کے تصور کو راسخ کرنے کے لیے خطے کے تعلیمی اداروں میں ان کتب کا استعمال ہوتا رہا جو 80ء کی دہائی میں امریکا سے شائع ہوئی تھیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایسا درسی مواد اب بھی محفوظ ہے اور امریکی افواج کے متوقع انخلا کے بعد اگر طالبان حکومت ہتھیانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ ایک بار پھر سامنے آئے گا۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...