ایف اے ٹی ایف: کیا پاکستان گرے لسٹ سے نکل پائے گا؟

294

ان دنوں ایف اے ٹی ایف کے معاملے  پر حکومت پاکستان کافی دباؤ کا  شکار ہے۔ پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں تو نہیں چلا جائے گا؟ اس بات کا فیصلہ رواں ہفتے پیرس میں ہونے والے ایف ٹی ایف کے اجلاس میں ہوگا۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے سے قبل یہاں کے مالیاتی نظام کا گہرائی سے جائزہ لیا تھا۔ پاکستان کے 2 بینکوں حبیب بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے اپنے نیویارک میں آپریشنز انہی الزامات کی بنیاد پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ اسٹیٹ بینک نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانس سے متعلق جو ضوابط جاری کیے تھے وہ صرف اسی سے لائسنس حاصل کرنے والے 34 کمرشل بینکوں، 5 اسلامی بینکوں، 11 مائیکرو فنانس بینکوں پر لاگو ہوتے تھے تاہم جون 2018ء کے بعد 52 ایکسچینج کمپنیوں پر بھی ان قوانین کا اطلاق کیا گیا۔ مگر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ماتحت کام کرنے والے 227 بروکریج ہاؤسز، 70 ڈی ایف آئیز، 50 انشورنس کمپنیوں اور 29 مضاربہ کمپنیوں پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے اس کے علاوہ محکمہ پوسٹ اور قومی بچت اس دائرہ کار سے باہر رہے۔

پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات پر جاری کی جانے والی میوچؤل ایولیشن رپورٹ کو اگست 2019ء میں مشترکہ طور پر منظور کیا گیا۔ یہ ضخیم رپورٹ 8 ابواب اور 227 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اس رپورٹ میں اکتوبر 2018ء تک پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو شامل کیا گیا  تھا۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 40 تجاویز پیش کی تھیں جس میں اس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانس کے لیے کرپشن، اسمگلنگ، منشیات، دھوکہ دہی، ٹیکس چوری، اغوا برائے تاوان اور بھتے کے ذریعے حاصل ہونے والا پیسہ نقد لین دین، ریئل اسٹیٹ، قیمتی دھاتوں (سونا) اور زیورات کی صورت میں محفوظ کیا جاتا ہے اور اس کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ایف اے ٹی ایف کے تحت پاکستان کو اپنی سرحدوں میں ہونے والے سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے علاوہ دیگر ملکوں میں منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری، دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی دولت کی پاکستان منتقلی کے خلاف بھی اقدامات کرنے ہیں۔ جس میں جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری میں مدد کے علاوہ غیر قانونی پیسے سے حاصل کردہ جائیداد یا نقد رقم کی ضبطگی بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف نے اپنی سابقہ رپورٹ میں تحریر کیا تھا کہ برطانیہ اور دیگر ملکوں سے مالیاتی جرائم میں ملوث افراد اور ان کی جائیداد سے متعلق متعدد کیسز پاکستان کے حوالے کیے۔ یہ کیسز وزارتِ خارجہ کے ذریعے ایف آئی اے، نیب، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیے گئے مگر ان پر خاطر خواہ کارروائی نہ ہوسکی اور معاملات عدالتوں میں آکر رُک گئے ہیں۔

ایف اے  ٹی ایف کیا ہے۔؟

کسی بھی جرم سے کمائی گئی دولت ابتداً چھپائی جاتی ہے اور پھر اس کو صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ اسے عام استعمال میں لایا جا سکے۔ ترقی پذیر ممالک سے اس طرح کی دولت ترقی یافتہ ممالک میں خفیہ کھاتوں میں جمع کرادی جاتی تھی۔ بعد ازاں ان کھاتوں سے اس دولت کو مختلف ممالک اور کھاتوں میں منتقل کیا جاتا تھا تاکہ کسی کو ابتدائی صورت تک پہنچنا ناممکن ہو جائے۔ متعدد چکّروں کے بعد دولت کو صاف اور محفوظ سمجھا جاتا ہے اور عام استعمال میں لایا جاتا ہے۔ لانڈری کا لفظ صفائی کے عنوان سے آیا ہے کیونکہ ابتدائی صورت میں یہ دولت گندی اور ناپاک شکل میں ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے بینک باہمی طور پر ایک دوسرے سے اس بات میں مقابلہ کرتے تھے کہ کون اس قسم کے اثاثوں کو چھپانے، محفوظ اور خفیہ رکھنے اور انتقال کی آسانیوں اور سہولتوں سے بھرپور خدمات مہیا کرسکتا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنے میں مشکل نہیں ہونی چاہیے کہ یہ دولت ٹیکس نظام سے بھی باہر ہوتی تھی لہذا ان ممالک کو اپنی ترقی کیلئے درکار وسائل کی کمی کا بھی سامنا رہتا تھا۔

80 کی دہائی میں جب یہ بیماری اتنی پھیل گئی کہ خود ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں نے اس طرح کی خفیہ اور ٹیکس سے مستثنیٰ آمدنی اور دولت والے کھاتے کھولنا شروع کر دئیے اور ان ممالک کی ٹیکس وصولیوں میں کمی ہونے لگی تو اس کے تدارک کیلئے قانون سازی کا عمل شروع ہوا۔ امریکہ نے سب سے پہلے 1986ء میں اینٹی منی لانڈرنگ کا قانون بنایا۔ اس عمل کو وسیع کرنے کیلئے 1989ء میں جی-سیون ممالک نے ایک  نئی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ جسے ایف اے  ٹی ایف( فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) کا نام دیا گیا۔ یہ ادارہ اب  چالیس  ممالک پر مشتمل ہے۔ اس ادارے  کی ذیلی تنظیمیں علاقائی بنیادوں پر بنائی گئی ہیں۔ پاکستان ایشیا پیسفک گروپکا ممبر ہے، جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کے بیشتر بین الاقوامی ادارے بھی فیٹف کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، خصوصاً آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک۔

ایف اے ٹی ایف شروع میں منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے اقدامات تجویز کرتی ہے اور ممبر ممالک ان پر عملدرآمد کے پابند ہوتے  ہیں۔ وہ معیار بن چکے ہیں جن سے کسی بھی ملک کی اینٹی منی لانڈرنگ کی اہلیت کو پرکھا جاتا ہے، اور ان کی عدم موجودگی میں کسی بھی ملک کو بین الاقوامی مالی معاملات میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں فیٹف نے ایک ماڈل قانون بنایا ہے۔ جس میں منی لانڈرنگ کو نہ صرف ایک جرم قرار دیا گیا ہے بلکہ وہ تمام  جرائم جن میں مالی منفعتشامل ہو، اس منفعت پر منی لانڈرنگ کا اضافی جرم بھی لگایا جائے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی اہتمام ضروری ہے کہ بینکنگ اور مالی  نظام منی لانڈرنگ کیلئے استعمال نہ ہوسکے۔ لہٰذا ان تمام اداروں پر یہ قانونی پابندی ہے کہ نہ صرف اپنے کھاتہ داروں کے پس منظر کی اچھی طرح چھان بین کریں بلکہ ان کے لین دین پر کڑی نظر رکھیں اور اگر کوئی مشتبہ لین دین نظر آئے تو اس کی اطلاع ایک رپورٹ  جسے ایس۔ٹی۔آر کہا جاتا ہےاس ادارے کو بھیجیں جسے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ادارہ اس رپورٹ کو ان متعلقہ اداروں کو بھیجتا ہے جو ممکنہ جرم کی تحقیقات کرنے اور مقدمے قائم کر  کرنے کے مجاز ہیں۔

نائن الیون کے بعد فیٹف کو یہ ذمہ داری بھی مل گئی کہ وہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا سدباب کرے۔ بعدازاں اس میں وسیع تباہی پھیلانے ہتھیاروں میں مالی معاونت کا بھی سدِباب کرنے کے اقدامات تجویز کرے۔

فیٹف نے اپنے دائرے کو آہستہ آہستہ ساری دنیا میں پھیلا دیا ہے جو ایک مثبت تبدیلی ہے کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں منی لانڈرنگ کی لعنت بہت نقصان دہ شکل اختیار کرتی جا رہی تھی۔

پاکستان اور ایف اے ٹی ایف

پاکستان نے اس کام کا آغاز نسبتاً تاخیر سے 2007ء میں کیا جب ایک آرڈینینس کے ذریعے ماڈل قانون بنایا گیا، جو ایکٹ کی صورت میں 2010ء میں نافذ کیا گیا۔ اس ابتدائی قانون میں کچھ خامیاں رہ گئی تھیں اور فیٹف ہم سے اس کی اصلاح کے تقاضے کرتا رہا۔ قانون میں فراہم کردہ جو فریم ورک بننا تھا اس میں بھی تاخیر ہوئی۔ علاوہ ازیں بہت سے جرائم کو منی لانڈرنگ کی فہرست میں شامل ہونا تھا اس میں بھی لیت و لعل سے کام لیا جا رہا تھا، خصوصاً ٹیکس قوانین کے جرائم میں منی لانڈرنگ کو شامل کرنے کے کی سخت مخالفت ہوتی رہی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس قانون کی سیاسی اور انتظامی مخالفت بھی پُرزور تھی کیونکہ اس کے تحت جرائم کی نئی تعریفیں اور ان کی سزائیں تجویز ہو رہی تھیں اور ایسے کاموں پر جو کاروباری اور سماجی زندگی میں عموماً کرتے رہتے ہیں۔ ایک اور علاقہ جس میں ہم نے مطلوبہ سرعت سے کام نہیں کیا وہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے وسائل کو روکنا اور دہشت گردی کے واقعات میں مالی معاونت منی لانڈرنگ کے جرائم کی شمولیت۔ ان کوتاہیوں کا بالآخر یہ نتیجہ نکلا کہ 2012ء میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست (واچ لسٹ) میں شامل کردیا گیا جن کے ساتھ معاملات میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کے خطرات موجود ہیں۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال تھی اور اس کا تدارک ضروری تھا۔ حکومت  پاکستان نے ان معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کرکے مالی معاونت کا جرم شامل کرنا لازمی کردیا۔ پھر سلامتی کونسل کی قرارداد میں جن تنظیموں اور افراد کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ان کے کھاتوں کو ضبط کرنا لازمی کردیا اور مالی نظام میں ان کی شرکت پر پابندی لگادی۔ جرائم کی فہرست، جن میں منی لانڈرنگ کا جرم بھی شامل ہوگا، اس کو مزید وسیع کردیا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ٹیکس نظام سے وابستہ جرائم جن کو استثنیٰ حاصل تھا وہ بھی ختم کردیا گیا۔ ان اصلاحات کے بعد قانون اور فریم ورک سے متعلق کمزوریاں بھی دور کردی گئیں اور اب بات ان کے موثر نفاذ اور مستقل نگرانی کی طرف منتقل ہوگئی۔

2015ء میں پاکستان کو واچ لسٹ سے نکال دیا گیا اس تاکید کیساتھ کہ کمزوریوں کو دور کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ ان کمزوریوں کو دور کرنے کیلئے دو اہم اقدامات ضروری تھے۔ ایک یہ کہ دہشت گرد تنظیموں اور افراد کے مالی نظام سے باہر اثاثوں کو ضبط کرنا، ان کے چندہ جمع کرنے پر پابندی لگانا اور دیگر فلاحی کاموں کی سختی سے نگرانی اور روک تھام کرنا، ان پر سفری پابندیوں کا اطلاق اور ان کو غیر مسلح کرنا۔ دوسرا اندرونی صلاحیتوں کو پیدا کرنا تاکہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اس قابل ہوجائیں کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے جرم کی تحقیقات کرسکیں اور اس پر سزا دلواسکیں۔

فیٹف نے جون 2018ء میں اسلام آباد کا نام  دوبارہ ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کرتے ہوئے ایک پلان آف ایکشن پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا تھا بصورت دیگر ایران اور شمالی کوریا کی طرح پاکستان کا نام بھی بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کا خطرہ درپیش تھا۔ اکتوبر 2019ء میں ’’فیٹف‘‘ نے گرے لسٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے 27 نکاتی پلان پر عملدرآمد کے لئے مزید وقت دیا۔

پاکستان کے حوالے سے اپنے اعلامیے میں ایف اے ٹی ایف نے 10 ایسے نکات کی نشاندہی کی جس پر پاکستان کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق اپنے قوانین اور طریقہ کار عالمی معیار کے مطابق بناسکے۔ وہ  دس  نکات یہ ہیں:

دس نکات

  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے لاحق دہشت گردی کی فنانسنگ کے ممکنہ خطرات کا مناسب فہم رکھتا ہے اور پھر ان خطرات کے پیش نظر اس قسم کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ/ ٹیرر فناسنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تدارکی اقدامات کیے جاتے ہیں اور ان پر پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں، اور یہ بھی کہ مالیاتی ادارے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق معاملات میں ان اقدامات کی تعمیل کرتے ہیں۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے بااختیار ادارے پیسوں کی غیر قانونی منتقلی یا ویلیو ٹرانسفر سروسز کی نشاندہی کرنے میں تعاون کر رہے ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی میں مصروف ہیں۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے ادارے کیش کوریئرز پر نگرانی رکھے ہوئےہیں اور نقد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
  • ممکنہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی اداروں سمیت تمام اداروں کے باہمی تعاون کو بہتر بنایا جائے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمیوں پر تحقیقات کر رہے ہیں اور تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی نامزد لوگوں، اداروں یا پھر ان کے نمائندے کے طور پر کام کرنے والے لوگوں یا اداروں کے خلاف ہورہی ہے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمی کرنے والوں کےخلاف قانونی کارروائی کے نتیجے میں مؤثر، مناسب اور مزاحم پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور پاکستان وکیل استغاثہ اور عدلیہ کی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد دہشگردوں اور ان کے سہولت کاروں پر (جامع قانونی اصولوں کے ذریعے) اہدافی مالی پابندیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ انہیں چندہ اکھٹا کرنے اور ان کی منتقلی کی روک تھام کی جا رہی ہے، ان کے اثاثوں کی نشاندہی اور انہیں منجمد کیا جا رہا ہے اور انہیں مالی امداد اور مالی سروسز تک رسائی سے باز رکھا جا رہا ہے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملات کو انتظامی اور ضابطہ فوجداری کے تحت قانون کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے اور قانون کے اس نفاذ میں صوبائی اور وفاقی ادارے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد افراد اور ان کے سہولت کار جن سہولیات اور سروسز کے مالک ہیں یا پھر کنٹرول کرتے ہیں ان کے وسائل ضبط کرلیے گئے ہیں اور وسائل کا استعمال ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

اس وقت پاکستان کو گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں جانے کے لیے مزید سات ووٹوں کی ضرورت ہے جس کے حصول کے لیے پاکستان مختلف ممالک سے رابطے کر رہا ہے خبروں کے مطابق اس وقت تک پاکستان کو چین، ترکی، سعودی عرب، ملائیشیا اور خلیجی ممالک کی جانب سے ووٹ ملنے کی یقین دہانی کرائی جا چکی ہے۔ پاکستان کو امید ہے اسے  تین سے چار ماہ کے لیے وائٹ کردیا جائے۔ لیکن  دستیاب حقائق کے مطابق ممکن ہے کہ پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھا جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...