’وَن سائز، فِٹ آل‘ ماڈل کیسے چلے گا؟

286

پاکستان بظاہر ایک ملک ہے لیکن اس میں دراصل کتنے ملک آباد ہیں؟ اس سوال کی تفہیم ہمیں پاکستانی حقیقت اور خواب کو بہتر انداز میں سمجھنے کا راستہ فراہم کرسکتی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان آبادی کے اعتبار سے دُنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور بعض اعدادوشمار تو بتاتے ہیں کہ شاید اب ہم پانچواں بڑا ملک بن چکے ہیں۔ 21 ارب روپے سے زائد خرچ کرکے ہم نے سالوں کی تاخیر کے بعد 2017ء میں مردم شماری کرائی لیکن اس کے حتمی نتائج باقاعدہ طور پہ جاری نہیں کیے جاسکے اور وہ سرکاری فائلوں میں ہی پڑے پڑے پرانے ہو رہے ہیں۔ انہی نتائج کی روشنی میں قوم کی سیاسی دولت تقسیم ہوتی ہے اور قومی مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کے حصہ کا 82% تعین ہوتا ہے۔ یہ کتنے دُکھ کی بات ہے کہ ہم عوام کے اربوں روپے خرچ کرکے ٹھوس اقتصادی، سماجی اور سیاسی منصوبہ بندی کے لیے سب سے اہم چیز، حقیقی اعدادوشمار سے محروم ہیں۔

تاہم اگر میسر اعدادوشمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب رقبے کے اعتبار سے بیلوروس، ایتھوپیا، فلپائن، ترکی، برطانیہ، ایران اور فرانس سے بڑا ہے۔ اگر یہ ملک ہوتا تو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 86واں بڑا ملک ہوتا، جبکہ آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو یہ دنیا میں 12اں بڑا ملک ہوتا۔ اسی طرح سندھ رقبے کے اعتبار سے تو دنیا کا 96واں اور آبادی کے اعتبار سے اسپین اور کولمبیا سے بڑا ہے۔ خیبرپختونخوا رقبے کے لحاظ سے کیوبا اور ساؤتھ کوریا سے بڑا جبکہ آبادی کے تناسب سے 41واں ملک ہوتا۔ بلوچستان کا رقبہ جرمنی کے برابر جبکہ آبادی روانڈا سے زیادہ ہے۔ اور تو اور وفاقی دارالحکومت رقبے کے اعتبار سے بحرین، مالدیپ اور مالٹا سے بڑا ہے۔ اگر آپ پاکستان کے حالات بہتر کرنا چاہیں تو یہ ٹاسک دنیا کے کئی ملکوں کو ٹھیک کرنے کے برابر بنتا ہے۔

 اگر آپ پاکستان کے حالات بہتر کرنا چاہیں تو رقبے اور آبادی کے تناظر میں یہ ٹاسک دنیا کے کئی ملکوں کو ٹھیک کرنے کے برابر بنتا ہے

تاریخی سرزمین کے اعتبار سے پاکستان میں شامل علاقوں کی تہذیب صدیوں پرانی ہے لیکن موجودہ پنجاب 1947ء کی تقسیم ہند کے بعد کی انتظامی حقیقت ہے۔ سندھ 1936ء میں بمبئی سے الگ ہوکر صوبہ بنا۔ خیبرپختونخوا 1901ء میں صوبہ بنا، جبکہ بلوچستان کو یہ درجہ 1970ء میں ملا۔ اور اسلام آباد 1960ء میں دارالحکومت کے طور پر بسایا گیا۔ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ ہر صوبے میں انتظامی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کی تاریخ مختلف ہے۔ ون یونٹ کے زمانے میں تو خیبرپختونخوا اسمبلی کی عمارت تک پشاور ہائی کورٹ نے لے لی تھی۔ جبکہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت تو بنی ہی 1970ء کے عشرے میں تھی۔

پاکستان کی ان تمام وفاقی اکائیوں میں دیہی اور شہری آبادی کا تناسب مختلف ہے، حتیٰ کے آبادی میں اضافے کا گراف بھی سب سے اونچا اسلام آباد اور سب سے نیچے پنجاب میں ہے۔ فی مربع کلومیٹر آبادی اسلام آباد اور پنجاب میں سب سے زیادہ جبکہ بلوچستان میں سب سے کم ہے۔ کچھ یہی حال ہر علاقے کی معاشی سرگرمیوں کا ہے۔ ایسی صورتحال میں کیا ہم پاکستان کے لیے ترقی کا ’ون سائز، فِٹ آل‘ ماڈل اپنا سکتے ہیں؟

میرے خیال میں ہرگز نہیں۔ ہر وفاقی اکائی کی حقیقت مختلف ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بانیانِ پاکستان نے ریاست کی تنظیم کے فیڈرل ماڈل کو ترجیح دی تھی۔ اسلام آبادی کی عینک سے دیکھیں تو ’ون سائز فِٹ آل‘ ماڈل کو ہی نسخہء کیمیا کہا جاتا ہے لیکن اگر زمین پر جاکے دیکھا جائے تو صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔

2020ء میں 18ویں ترمیم کو ایک دہائی ہو چلی، کیا ہی اچھا ہو کہ ہم کامیابیوں اور ناکامیوں کی ایک جامع رپورٹ بنائیں اور عوام کو سچ بتائیں کہ کیا کھویا کیا پایا؟ ہمارا آئین پتھر پر کندہ نہیں بلکہ ایک زندہ دستاویز ہے اور اسی کے اندر آئینی ترمیم کا طریقہ درج ہے۔ تحقیقی کیجیے، حقائق سامنے لائیے اور آئینی ترامیم کا راستہ اپنائیے۔

اِس وقت دُکھ کی بات یہ ہے کہ آئین میں کچھ لکھا ہے، کر ہم کچھ اور رہے ہیں اور زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ اِس روش کے ساتھ ہم پاکستان کو قانون کی حکمرانی سے عبارت سماج کبھی نہیں بنا پائیں گے۔ بلکہ کوئی ادارہ مستحکم نہیں ہوسکے گا اور اختیارات کی جنگ جاری رہے گی۔ کیوں نہ ہم 21 کروڑ پاکستانیوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے ایک بھرپور قومی ڈائیلاگ شروع کریں کہ ہمارے ایسے کثیرالجہت، کثیرالقومی سماج کے لیے کونسا راستہ بہتر ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...