برفباری میں نئے قوانین

135

کسی شہر میں ایک پولیس اہلکار کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ کہ اُس نے شام تک سو گاڑیوں کا چالان کرنا ہے۔ وہ کوشش کرتا رہا، مقررہ وقت ختم ہونے کو آیا مگر ایک سو چالان پورے ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اِسی اثنا میں اسے ایک شخص نظر آیا جو ہاتھ میں ہیلمٹ پکڑے فٹ پاتھ پر سے پیدل گزر رہا تھا۔ پولیس اہلکار نے اس شخص کو روکا اور کاپی نکال کر چالان کر کے پرچی تھما دی۔ پیادہ شخص پولیس اہلکار سے پوچھنے لگا آخر مجھے بتایا جائے کہ کس بات پر میرا چالان ہوا۔ پولیس اہلکار بولا ہیلمٹ تمہارے پاس ہے مگر موٹر سائیکل کہاں ہے؟ بس اسی جرم پر تیرا چالان کیا گیا ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال رواں ماہ سکردو میں پیش آئی۔ شہر میں دو دن شدید ترین برف باری ہوئی۔ اس برف باری کو ہفتہ گزر گیا مگر بازار اور اہم قومی اداروں کے سامنے سے برف نہیں ہٹائی جاسکی، جس کی وجہ سے سڑک پر نہ گاڑیاں آسانی سے چل سکتی تھیں نہ لوگ پیدل چل سکتے۔ لوگوں نے احتجاج کیا مگر اُلٹا جن کی ذمہ داری سڑکوں پر سے برف ہٹانے کی تھی وہ اپنا کام کرنے کی بجائے اس کے متبادل آپشنز پر کام کرتے نظر آئے۔ اس ضمن میں دو بڑے اقدامات کیے گئے۔ ایک تو یہ کہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ نے نے سکردو سب ڈوژن کے اندر گاڑیوں کے ٹائر پر زنجیر چڑھائے بنا سڑکوں پر لانے پہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کردی۔ اور ساتھ ہی لوگوں کو اپنے گھروں اور دکانوں کی چھتوں سے برف اٹھا کر سڑک پر پھینکنے پہ بھی دفعہ 144 عائد کردی۔ اب ہر گاڑی والا تو اپنی گاڑیوں کے ٹائروں پر زنجیر چڑھانے سے رہا، مگر قانوناََ کوئی ٹیکسی، جیپ، کار سڑک پر بغیر زنجیر لگائے نہیں آسکے گی۔ کیونکہ ٹائر کے لیے ان کے پاس زنجیر سرے سے ہے ہی نہیں، نہ ہی چھوٹی گاڑیوں کے ٹائروں پر زنجیر چڑھانا قطعی قابل قبول ہوسکتا ہے کیونکہ بھاری زنجیر اس کے ٹائروں کو دو دن میں ہی پھاڑ دیتی ہے۔ لہذا کوئی گاڑی سڑک پر نظر نہیں آئے گی۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ اب جب گاڑیاں سڑک پر آئیں گی ہی نہیں تو برف ہٹانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔

یہاں عوام بے چارے حق ملکیت، حق حاکمیت اور آئینی حقوق جیسے نعرے بھول کر اب سڑکوں سے برف ہٹانے کے جدید ترین نعرے لگاتے چوراہوں پر خوار ہوتے ہیں

عام حالات میں اگر برف پڑنے کے ایک ہفتے بعد بھی نہ ہٹائی جاسکے اور ایسے میں کوئی حادثہ پیش آجائے تو مقدمہ برف ہٹانے والے ذمہ داران پر ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں زنجیر چڑھایا ہوا ہے تو حادثے کے امکانات کم ہیں، اگر نہیں چڑھایا گیا پھر حادثہ ہوگیا تو دو مقدمات درج ہوں گے، ایک تو حادثے کا اور دوسرا ضابطہ فوجداری کا غریب ڈرائیور پر۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اب تو چھتوں سے نیچے برف پھینکنے پر بھی مقدمہ قائم ہوسکتا ہے۔ کسی ملک میں یہ قانون نہیں کہ چھتوں سے برف نیچے پھینکنے پر پابندی ہو۔ مگر یہاں کا نظام نرالا ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے سڑک پر پھینکی جانے والی برف نہیں ہٹاتے تو چھتوں سے ڈالی گئی برف کیونکر ہٹائیں گے۔ چھتوں سے سڑک پر برف پھینکنے سے پیادہ لوگوں اور گاڑیوں کو مشکلات ہوسکتی ہیں لیکن برف کو چھتوں پر ہی ڈسپوز آف کرنے کا کوئی نظام بھی تو نہیں۔ اگر ٹنوں وزنی برف چھتوں پر رہنے دی جائے تو کسی بھی لمحے چھت بیٹھ سکتی ہے اور انسانی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں جیساکہ چھت گرنے کے کئی واقعات سکردو میں ہوئے بھی ہیں۔ اگر برف چھتوں پر رہنے دی جائے تو جب موسم بدلے تو اس کا پانی بھی تو سڑکوں پر آنا ہے، سڑکوں پر نکاسی کا انتظام تو نہیں کیا گیا کہ پانی کو کہیں راستہ ملے۔ مجھے یہ خدشہ بھی ہے کہ جس طرح پھسلن سے بچنے کے لیے گاڑیوں کے ٹائر پہ زنجر چڑھانے کا حکمنامہ جاری ہوا آگے یہ فرمان بھی جاری ہوسکتا ہے کہ برف باری کی صورت میں لوگ خاص قسم کا بوٹ پہنے بغیر نہ نکلیں ورنہ مقدمہ قائم ہوسکتا ہے۔ جن شخصیات کو ان معاملات پر نظر رکھنے کے لیے عوام نے منتخب کیا وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے پھرتے ہیں۔ یہ گاڑیوں پر جھنڈا لہرانے، وزٹنگ کارڈ چھپوانے اور سوشل میڈیا پر کچھ تصویریں لگانے جیسی معصومانہ خواہشات پوری ہونے پر خوش ہیں۔

عوام بے چارے حق ملکیت، حق حاکمیت اور آئینی حقوق جیسے نعرے بھول کر اب سڑکوں سے برف ہٹانے کے جدید ترین نعرے لگاتے چوراہوں پر خوار ہوتے ہیں اور منتخب حضرات ان معاملات کو حل کرنے کے لیے قانون سازی کے لارے دے کر پانچ سال پورے کرنے جا رہے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...