ریلوے کی کہانی، گولڑہ میوزیم کی زبانی

173

راولپنڈی سے پشاورجاتے ہوئے 14 کلو میٹر کی مسافت پر گولڑہ کا ریلوے اسٹیشن آتا ہے یہ سطح سمندر سے 1995 فٹ کی بلندی پر واقع ہے سردیوں کے موسم میں مری سے آنے والی برفانی ہوائیں سنساتی ہوئی چلتی ہیں تو جنکشن ہونے کے باوجود اس اہم اسٹیشن سے رُکے بغیر ہی گزر جاتی ہیں۔ ایک مقامی کہاوت ہے کہ اگر کوئی شخص والدین کا نافرمان ہو تو زندگی میں اس کو سردیوں کی ایک یخ بستہ رات گولڑہ کے اسٹیشن پر ضرور بسر کرنا پڑتی ہے۔ (آزمائش شرط ہے)

پلیٹ فارم پر پیپل اور بوڑھے برگد کے درختوں کی لمبی قطاریں ایک دوسرے کے ساتھ سرجوڑے سرگوشیاں کرتے دکھائی دیتی ہیں اور جنگلی پرندوں کے شوروغل سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ انجیر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ان درختوں کو 1876ء میں ریلوے اسٹیشن کی تعمیر کے دوران ہی لگایا گیا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کی عمارت کو دیکھ کر وکٹورین عہد کی یادیں تا زہ ہوتی ہیں۔ نہایت دیدہ زیب اوردلکش پتھروں کو تراش کر عمارت کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ تعمیراتی کام میں سنگِ سبز، سنگِ سیاہ، سنگِ سرخ اور چونے کے دیگر پتھروں کے علاوہ ریتلی سِلوں کااستعمال بھی کثرت سے کیا گیا ہے۔ بعض دیواروں میں انہیں اس ترتیب سے لگایا گیا ہے کہ ان پر صلیب کا گمان گزرتا ہے۔ پانی کی نکاسی کے لیے چھت کی دونوں جانب شیر کے منہ والے پرنالے لگائے گئے ہیں یوں بارش کے دوران جنگل کے ان بادشاہوں کی خوب درگت بنتی ہے جب وہ منہ کھولے ایک ساتھ قے کرتے نظر آتے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔

ریلوے اسٹیشن گولڑہ جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہم مقام پرواقع ہے یہاں سے ایک پٹڑی ٹیکسلا اور اٹک سے ہوتی ہوئی پشاور کو جاتی ہے جبکہ دوسری سمت سے کوہاٹ، میانوالی اورملتان کو راولپنڈی سے ملاتی ہے اس طرح یہ اسٹیشن ملک بھر میں اہم مواصلاتی رابطوں کا موجب بھی ہے۔ شاید اسی پس منظر یا اسلام آباد سے قربت کی وجہ سے حکومت نے 2004ء میں متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے گولڑہ اسٹیشن کو ریلوے کے تاریخی عجائب گھر میں تبدیل کر دیا اور اس محکمے سے وابستہ تمام اشیاء بشمول انجن، ٹرینیں اور دیگر متعلقہ اشیاء جوں کی توں لا کر یہاں ایستادہ کر دی گئیں جو اب سیاحوں کو زبانِ حال سے گزشتہ دنوں کے دلچسپ قصے سناتی ہیں۔ ریلوے پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ ڈیڑھ صدی قبل کے زمانے میں آ گئے ہوں یوں سیاح ایلس کے ڈرامائی کردار کی طرح ایک دم ونڈر لینڈ میں پہنچ جاتے ہیں جہاں وقت کی سوئیاں پیچھے کی جانب گھومتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ایک جگہ پہیوں والی ریڑھی پر دو اقسام کے گھڑے دھرے ہوئے ہیں جن پر ہندو پانی اور مسلم پانی کی تختیاں آویزاں ہیں۔ بٹوارے سے قبل ٹرینوں کی آمد کے موقع پر سرکاری ملازمین ہندو اور مسلمان مسافروں کو الگ الگ برتنوں میں پانی پلانے کے لیے آوازیں لگایا کرتے تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ بدیسی حکمرانوں نے بھی متحدہ ہندوستان کے لوگوں کے نسلی اورمذہبی تعصبانہ رویوں سے حکومتی استحکام کے لیے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی تنگ نظری کے اس زہر نے بالآخر اتنی خطر ناک صورت حال اختیار کی کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت لاکھوں بے گناہ لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ مذہب کے نام پر کی جانے والی اس خونریزی کو دیکھ کر کسی مفکر نے تبصرہ کیا کہ جب پاکستان اور ہندوستان آزاد ہوئے تو اس وقت یہاں کوئی انسان نہیں بستا تھا۔

باتوں باتوں میں موضوع کہاں سے کہاں نکل گیا، ذکر ہو رہا تھا ریلوے کی ان قدیم اشیاء کا جو اب گولڑہ کے اوپن ائیر میوزم میں دعوتِ نظارہ دے رہی ہیں۔ اسٹیشن کی عمارت پر نصب اس آہنی گھنٹی کا تذکرہ بھی برمحل ہو گا جو کبھی ٹرینوں کی آمد و رفت کے موقع پر بجا کرتی تھی۔ یہ وزنی گھنٹی عجائب گھر کے صدر دروازے کے سامنے دوبارہ نصب کر دی گئی ہے۔ مگر اب یہ آنے جانے والی کسی ٹرین کا نوٹس نہیں لیتی اور سرنیہوڑائے گہری سوچ میں مستغرق رہتی ہے شاید جدید زمانے کی بدلتی ہوئی قدروں نے اس کی زبان پر بھی تالا بندی کردی ہے۔ اسٹیشن کے خمیدہ چھت والے برآمدے کے نیچے جمبو سائز کی گھڑیاں آویزاں ہیں، ان کی رکی ہوئی سوئیاں اس دور کی یاد دلاتی ہیں جب ٹرینیں وقت پر پہنچا کرتی تھیں اور لوگ گاڑیوں کی آمد سے صحیح وقت کا اندازہ لگا لیا کرتے تھے۔ بڑے قطر کے پہیوں والا ایک اسٹریچر بھی دھرا ہے جو بیمار اور زخمی مریضوں کے لانے اور لے جانے کے کام آتا تھا۔ اسے ایک شخص باآسانی دھکیل سکتا ہے۔ پلیٹ فارم پر پانی نکالنے والا ایک پمپ بھی موجود ہے جس کے دونوں جانب لوہے کے گول اور وزنی دھرے لگے ہیں جنہیں دو افراد ہینڈل کی مدد سے نہایت سرعت سے گھما کر زمین سے پانی نکالتے تھے۔ یہاں ہاتھی کی سونڈ کی طرح لمبی بوم والا کرین بھی کھڑا ہے اسے تیل یا بجلی کی طاقت کے بغیر استعمال کیا جاتا تھا اوراس کی مدد سے پٹڑی سے کھسک جانے والے ٹرین کے ڈبوں کو دوبارہ اٹھا کر ریلوے لائن پر رکھنے کا کام کیا جاتا تھا، پلیٹ فارم پر ہی ریلوے سگنل سمیت پٹڑی بچھا دی گئی ہے جس پر ٹرین کھینچنے والے ڈیزل انجن، اسٹیم انجن اور مختلف ڈیزائن کے ڈبے دھرے ہیں۔ ایک لال رنگ کا ڈبا جو کہ ڈاک کے محکمے کے لیے مختص تھا بھی موجود ہے جس میں باوردی ڈاکیے کا قدِ آدم مجسمہ اوراس دور میں استعمال ہونے والی مہریں، وردیاں، ٹوپیاں اور کتوں سے ہوشیار رہنے کے لیے چوبی ڈنڈے اور دیگر متعلقہ سازو سامان بھی محفوظ ہے۔ مہاراجوں اور وائسرائے ہند کے زیر استعمال رہنے والی سیلون کاریں بھی اپنی مثال آپ ہیں ان میں باہر کھڑے ہو کر نظارہ کرنے کے لیے آہنی جنگلے، قیمتی دروازے اور شیشے کی کھڑکیاں لگائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ ان میں باورچی خانہ، غسل خانہ، کھانے کا کمرہ، مجلس گاہ اور آرام گاہ نہایت دیدہ زیب ہیں۔ اس ڈبے میں ضروریات زندگی کی تمام تر سہولتیں میسر تھیں۔ تانبے کے بنے ہوئے دو پروں والے چھت کے پنکھے، ایگزاسٹ فین، فولڈنگ کرسیاں اور بیڈ، سنگ، ٹوٹیاں، شاور، انگلش پاٹ، کمرہ گرم رکھنے والی انگیٹھی، کال بیل، رنگ برنگے قمقمے، آرام دہ گدے، تام چینی اور سرامک کے خوشنما برتن، دبیز پردے اور اندرونی دیواروں پر ساگوان کی صناع کاری دعوت نظارہ دیتے ہیں اس خواب ناک ماحول کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ امراء اور حکمران کس قدر پُرتعیش زندگی بسر کرتے تھے۔

میوزیم سے باہر نکلتے ہوئے اس وقت سیّاح دم بخود رہ جاتے ہیں جب ان کی نظر ایک جادوئی چابی پر پڑتی ہے۔ دراصل یہ وہ کرشمہ ساز چابی ہے جس سے 1947ء میں مہاجرین سے لدی ٹرین کے دروازوں کو باہر سے تالا لگا کر ناگ پور سے براستہ جبل پور اور دہلی، لاہور لایا گیا تھا

پلیٹ فارم پر ہی سرگنگارام (1857ء تا 1927ئ) کی خود ساختہ ٹرین سے بھی مڈ بھیڑ ہوتی ہے یہ چار ڈبوں پر مشتمل آہنی گاڑی تھی جسے متعدد گھوڑے کھینچتے تھے اس میں بیک وقت 40 مسافر بیٹھ سکتے تھے۔ مذکورہ ٹرین کی خاطر 3 کلو میٹر لمبی اور 2 فٹ چوڑی پٹڑی بچھائی گئی تھی یہ ”انوکھی سواری” 1905ء سے 1985ء تک گنگا پور گائوں سے بچیانہ (ضلع فیصل آباد) کے ریلوے اسٹیشن تک مسافروں کو لانے اور لے جانے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

ایک کونے میں لوہے کی پرانی ٹینکی بھی رکھی ہوئی ہے اس میں پانچ ہزار گیلن پانی سما جانے کی گنجائش تھی ٹینکی کی خاص بات یہ ہے کہ اسے بغیر ویلڈنگ کے تیار کیا گیا ہے ایسی کئی ٹینکیاں دور دراز اور بے آب اسٹیشنوں پر رکھی جاتیں اور مال گاڑیوں سے پانی لا کر انہیں بھرا جاتا تھا۔ کھلی فضا میں ایک بڑی سی چرمی دھونکنی بھی رکھی ہے جو کوئلہ دہکانے کے کام آتی تھی۔ اس کے علاوہ سامان لادنے والی ٹرالیاں اور ٹھیلے بھی مسافروں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ سستانے کے لیے پلیٹ فارم پر جا بجا سیمنٹ اور لکڑی کے بنے ہوئے پرانے بنچ بھی ایستادہ ہیں جن پر شرارتی کوئوں نے اپنے نشانِ آوارگی ثبت کر دئیے ہیں۔ ان ڈور عجائب گھر میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر ہی ٹھٹھک کر قدم رک جاتے ہیں۔ دونوں کواڑوں پر ریلوے کے ارتقا کی کہانی مختلف مونو گرامز کی صورت میں چسپاں ہے۔ 1861ء میں سندھ ریلوے اور پھر دہلی ریلوے وجودمیں آئی۔ بعد ازاں شمال مغربی ریلوے بنائی گئی تقسیم ہند کے بعد مغربی پاکستان ریلوے کا قیام عمل میں آیا جو اب سمٹتے سمٹتے محض پاکستان ریلوے رہ گئی ہے۔ ریل کی لمبائی 737 اسٹیشنوں کو شمار کر کے 8500 کلو میٹر کے قریب بنتی ہے۔

ریلوے کی پٹڑی عموماً تین اقسام کی ہوتی ہے چوڑی پٹڑی Broad Gauge) (کہلاتی ہے اور اس کا درمیانی فاصلہ ساڑھے 5 فٹ ہوتا ہے۔ درمیانی پٹڑی) (Metre Gauge کے نام سے جانی جاتی ہے اور یہ ایک میٹر چوڑی ہوتی ہے جبکہ تنگ پٹڑی یعنی (Narrow Gauge) کی چوڑائی 2.5 فٹ ہے اور یہ ماڑی انڈس سے بنوں اور کوہاٹ سے ٹل کے درمیان بچھی ہے جبکہ میٹر گیج میرپور خاص سے ہندوستان جاتی ہے اور اوّل الذکر پشاور سے کراچی تک بچھائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس پٹڑی کو بچھاتے وقت وہی راستہ منتخب کیا گیا تھا جس پر چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے ہندوکش سے بابل (عراق) براستہ بحیرہ عرب واپس جاتے ہوئے سفر اختیار کیا تھا۔

عجائب گھر کے اندر قدم رکھتے ہی کوئی سیکورٹی گارڈ تو نظر نہیں آتا، تاہم پہلاواسطہ 1901ء ماڈل کی لمبی لمبی سیون ایم ایم کی بندوقوں سے پڑتا ہے جن کے سروں پر آہنی برچھے لگے ہیں۔ چوبی اسٹینڈ پر اوّور کوٹ اور کارک کے بنے ہیٹ بھی نمائش کا حصّہ ہیں جن کی نفاست دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ابھی ابھی کوئی انہیں یہاں دھر گیا ہے۔ ذرا آگے بڑھیں تو مٹی کے تیل سے روشن ہونے والی مختلف لالٹینیں اور لیمپ قرینے سے سجے نظر آتے ہیں۔ ان کی ساخت میں پیتل، تانبا اور لوہے کا استعمال کیا گیا ہے۔ خصوصاً اٹلی اور واشنگٹن لیمپوں کے ڈیزائن خاصے دلفریب ہیں، بعض لالٹین اس طرز کے بنائے گئے تھے کہ ان پر دیگچی چڑھا کر چائے وغیرہ بھی تیار کر لی جاتی تھی اس کے علاوہ ڈی سی کرنٹ سے چلنے والے خوبصورت پنکھے اورہیٹر بھی موجود ہیں۔ ٹیلی فونوں کی بھی عجیب و غریب اقسام دکھائی دیتی ہیں، ایسا ہی ایک موبائل فون گارڈ کے زیر استعمال رہتا تھا جسے دورانِ سفر ٹرین کی خرابی کی صورت میں ریلوے لائن کے ساتھ گزرنے والی تاروں سے جوڑ کر قریبی اسٹیشن سے رابطہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مورس کوڈ کے حامل مراسلاتی ٹیلی گرافی کا سامان بھی ایک کونے میں خاموش پڑا ہے کبھی یہ انسٹرومنٹ دو اسٹیشنوں کے درمیان ابلاغ اور رابطے کا واحد ذریعہ تھے۔ اس کے علاوہ شیشے کی بڑی بڑی الماریوں میں فرسٹ ایڈ اور سرجری کا سامان اور مریضوں کے جسم میں لگائی جانے والی عجیب و غریب ڈرپ جس میں گلوکوز کو بوتل میںحل کر کے استعمال کیا جاتا تھا، بھی آنکھوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں۔ حیرت ہے کہ 1924ء میں تیار شدہ کاٹن کی پٹیاں بھی جوں کی توں موجود ہیں جنہیں استعمال کرنے کی نوبت شاید اس لیے نہ آ سکی کہ ان دنوں ریلوے حادثات کی شرح خاصی کم تھی۔

ڈاک کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے مختلف اوزان، ترازو، مہریں، لوہے اور لکڑی کے بنے ہوئے سائرن بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اعلان کرنے والا بگل، مٹی کے تیل سے روشن کی جانے والی دستی مشعلیں، میکنیکل، سول اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں استعمال ہونے والے بے شمار ہتھیار اور اوزار بھی سجا کر رکھے گئے ہیں۔ ریلوے کی مغل پورہ ورکشاپ لاہور کے تیار کردہ 25 پونڈ کے آرٹلری شیل جو 1944ء میں برٹش آرمی کے لیے تیار کیے گئے تھے انہیں بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

میوزیم سے باہر نکلتے ہوئے اس وقت سیّاح دم بخود رہ جاتے ہیں جب ان کی نظر ایک جادوئی چابی پر پڑتی ہے۔ دراصل یہ وہ کرشمہ ساز چابی ہے جس سے 1947ء میں مہاجرین سے لدی ٹرین کے دروازوں کو باہر سے تالا لگا کر ناگ پور سے براستہ جبل پور اور دہلی، لاہور لایا گیا تھا۔ یہ کارنامہ نوجوان اور پرعزم میجر رفیع نے ڈرائیور کے ہمراہ ریلوے انجن میں بیٹھ کر انجام دیا تھا جو راستے بھر بلوائیوں سے لڑتے جھگڑتے ٹرین کو باحفاظت پاکستان بھگا لانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ریلوے اسٹیشن کی مشرقی جانب ایک خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی ہے ریلوے حکام نے اس میں خوبصورت جالیاں لگا کر ماضی میں جھانکنے کی کوشش کی ہے۔ قدیم فرنیچر بھی خاص ترتیب سے سجایا گیا ہے۔ ٹرین میں سفر کرنے والے سربراہانِ مملکت کی تصاویر سے بھی دیواروں کو مزّین کیا گیا ہے۔

ریلوے کی انتظار گاہ کا بھی اپنا ہی نظارہ ہے۔ چھت سے جھولتا ہوا کپڑے کا پنکھا رّسی کی مدد سے چلتا ہے۔ سستانے اور نیم دراز ہونے کے لیے آرام دہ کرسیاں موجود ہیں۔ پرانی طرز کا پیانو بھی رکھا ہے جس کی مدھر دھنوں سے انتظار کے لمحات کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔ دیوار کے ساتھ ایک دلکش چوبی انگیٹھی بنائی گئی ہے جہاں سردیوں میں آگ جلا کر کمرے کو گرم کیا جاتا تھا۔ آتش دان کے منقش نقش و نگار اور بناوٹ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ابھی سینٹا کلاز اس میں سے تحائف سمیت نمودار ہو کر بچوں کو متحّیر کر دے گا۔ انتظار گاہ سے ملحقہ بیت الخلا میں پرانی وضع کا سینیٹری کا سامان نصب ہے جو کہ موجودہ دور کے تمام تقاضوں پر بھی ہرلحاظ سے پورا اترتا ہے۔

یوں تو ریلوے اسٹیشن گولڑہ کی عمارت نہایت شاندار طرز تعمیر کی حامل ہے مگر حکومت نے یہاں ریلوے کا عجائب گھر تعمیر کر کے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دئیے ہیں۔ سیّاحوں کی غیرمعمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ریلوے کے اعلیٰ حکام نے ”گندھارا سفاری ٹرین” کا اجراء کیا ہے جسے بھاپ سے چلنے والا انجن کھینچتا ہے۔ یہ ٹرین اتوار کی صبح راولپنڈی سے روانہ ہو کر گولڑہ جنکشن آتی ہے میوزیم کی سیر کے ساتھ پلیٹ فارم پر ہی کھلی فضا میں موسیقی کا پروگرام ترتیب دیا جاتا ہے یہ تمام منظر دیکھ کر یونان کے مشہور ڈلفی تھیٹر کا نظارہ نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ بعدازاں سفاری ٹرین قدیم گندھارا کی راجدھانی ٹیکسلا پہنچتی ہے وہاں آثارِ قدیمہ اور خان پور کی جھیل کی سیر کرنے کے بعد شام کو تمام سیاح اسی ٹرین سے واپسی کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں۔
راولپنڈی کے اسٹیشن پر قدم رکھتے ہی جب سیاح پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ ٹائم مشین میں بیٹھ کر زرتشتیوں، ہندومت، جین مت اور بدھ مت کے تاریخی اور علمی مرکز ٹیکسلا میں وارد ہوئے اور قدیم میٹروپولس کی سیر کی، جبکہ گولڑہ میں انہیں ملکہ وکٹوریہ کی پُرتکلف مہمان نوازی کا بھرپور لطف اٹھانے کا موقع ملا۔ یقینا ایسا سفر زندگی کے حسین لمحات میں خوش گوار تجربے کا باعث بنتا ہے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...