مودی کے بھارت میں گاندھی کا قاتل ہیرو ہے

جوں جوں ہندو قوم پرستی کا بخار بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے نتھورام گوڈسے نام کےاس انتہاپسند ہندو قوم پرست کی شخصیت پرستی بڑھتی جارہی ہے جس نے گاندھی کو قتل کیا تھا

233

بھارت کے شہر میروت میں برگد کے ایک درخت کے نیچے چند لوگ اکٹھے ہوکر سنسکرت میں ایک منتر پڑھتے ہوئے پوجا کررہے ہیں۔ ان میں سے دو افراد آگے بڑھ کر آگ جلاتے ہیں۔ پھر وہ سب جذب و مستی کی کیفیت میں ایک بت کی جانب آگے بڑھتے ہیں۔ کچھ اس بت پر پھول چڑھاتے ہیں۔ یہ بت نتھورام گوڈسے کا ہے جس نے بھارت کی قومی آزادی کے باپ اور دنیا بھر میں عدم تشدد کی علامت موہن داس کرم چند گاندھی کو قتل کیا تھا۔ بھارتی قوم کی اکثریت گاندھی کو اپنی قوم کا باپ تصور کرتی ہے۔

لیکن وزیر اعظم مودی کی قیادت میں موجودہ قوم پرست حکمران جماعت بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد انتہاپسند عقائد کو ماننے والے سر اٹھا چکے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان گاندھی کے قاتل نتھورام گوڈسے کے ساتھ عقیدت کا اظہاراب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی پانچ سالہ اور چھے مہینے کی حکومت میں بھارت کا سماج کس حد تک تیزی سے تبدیل ہوگیا ہے۔

گاندھی کے یوم وفات پر ہونے والی وہ تقریب جس میں نتھورام گوڈسے کی پوجا کی گئی وہاں موجود پُوجا شکن پانڈے کہتی ہیں۔

“گاندھی دیش کا غدار تھا”۔

“اس کے سر میں گولی مارنی چاہیے تھی”۔

معروف ہندو قوم پرست ابھی بھی گاندھی کا احترام کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر وہ اپنے اعمال میں گاندھی کے تصورات کے بالکل الٹ ہیں۔ ان کی پالیسیاں تقسیم پر مبنی ہیں جو کہ گاندھی کے عقائد کے یکسر برعکس ہیں۔ جس کی ایک مثال حالیہ دنوں میں لایا گیا شہریت کے قوانین میں ترمیمی بل ہے۔ اس بل کے ناقدین کا خیال ہے کہ یہ بل مسلم مخالف ہے اور اس کے اثرات بھارت کے سیکولر تشخص کے خلاف ہوں گے  یوں بھارت کا وہ چہرہ بگڑ جائے گا جس کا تصور گاندھی نے دیا تھا۔

دیگر بعض ہندوقوم پرست کھلے عام گاندھی پر تنقید کے نشتر چلاتے ہیں حالانکہ گاندھی کو دنیا بھر میں امن کے مسیحا کے روپ میں دیکھا جاتا ہے۔

بھارت کے شمال میں واقع میروت شہر میں قاتل نتھورام گوڈسے کے بت سے عقیدت کا اظہار آج کل کے بھارت میں گوڈسے کے احترام کی ایک اکیلی مثال نہیں ہے۔ پورے ملک میں گوڈسے کے درجن بھر سے زائد مجسمے نصب کئے گئے ہیں۔  بہت سے مندروں کے نام گوڈسے کے نام پر رکھ دیئے گئے ہیں۔

ودھائیک نتھورام گوڈسے

گزشتہ سال  اترپردیش صوبے میں جس کے وزیر اعلیٰ ایک انتہاپسندہندو یوگی ادتیہ ناتھ ہیں، نےتجویز پیش کی تھی کہ میروت شہر کا نام تبدیل کرکے گوڈسے سٹی رکھ دیا جائے۔ سال 2016 میں میروت شہر میں ہی سب سے پہلے گوڈسے کا بت نصب کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بھارت بھر سے ایسی درخواستیں موصول ہورہی ہیں کہ شہری گوڈسے کی یادگاریں تعمیر کروانے کے خواہشمند ہیں۔

رام چندرا گوہا جنہوں نے گاندھی کی سوانح عمری لکھی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ گاندھی کے قاتل گوڈسے کے عقیدت مند اب کوئی بکھرا ہوا گروہ نہیں ہیں۔ وہ خوفزدہ لہجے میں بتاتے ہیں کہ گوڈسے کے عقیدت مند اب ملک کی ہندو آبادی کا ایک بڑا طبقہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ “یہ فریب ہے۔ مکروہ ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے جس میں اضافہ ہورہا ہے”۔

حالیہ مہینوں میں انتہاپسند ہندو جتھوں نے گاندھی کی تصاویر پہ غلاظت پھینکی ہے اور ان کی یادگاروں کو نقصان پہنچایا ہےاور ان کی تصویروں پہ “غدار” لکھا ہے۔ گزشتہ سال جون میں مشرقی بھارت کے ایک شہر میں گاندھی کے مجسمے کو مسمار کردیا گیا تھا۔

یوگی ادتیہ ناتھ، بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے وزیراعلیٰ، ان کی تجویز ہے کہ میروت کا نام بدل کر گوڈسے سٹی رکھ دیا جائے

گوڈسے کے ساتھ بڑھتی ہوئی عقیدت کی جڑیں اسی مسلح ہندوانتہاپسند سوچ میں پیوست ہیں جس سے متاثر ہوکر گوڈسے نے جنوری 1948 کی ایک سرد شام کو پورے ہوش و حواس کے ساتھ منصوبے کے تحت گاندھی کو قتل کیا تھا۔

اس روز بھارت کے دارلحکومت دلی میں واقع اپنی رہائش گاہ برلا ہاؤس میں گاندھی دو نوجوان لڑکیوں کے سہارے آہستگی سے شام کی چہل قدمی کررہے تھے۔ ان کے گرد عقیدت مندوں کا ایک ہجوم تھا۔ گوڈسے بھی اس ہجوم میں شامل تھا وہ آگے بڑھا اور جھک کر گاندھی کے پاؤں چھوئے اور پھر بریٹا پستول نکال کر 78 سالہ نحیف گاندھی کے سینے میں 3 گولیاں داغ دیں۔

گوڈسے کی پیدائش وسطی بھارت کے ایک گاؤں میں ایک اونچی ذات کے ہندو خاندان میں ہوئی۔ اس کے پہلے تین بھائی پیدائش کے بعد نوزائیدگی میں ہی کسی نامعلوم بیماری کے ہاتھوں مر چکے تھے۔ اس کے والدین نے اس خوف کے تحت کہ کہیں یہ بچہ بھی مر نہ جائےاس کی پرورش لڑکیوں کی طرح کرنا شروع کردی۔ اس کی ناک چھدوا کر اس میں ایک نتھلی پہنا دی۔ گوڈسے کی ایک لڑکی طرح پرورش اس وقت تک ہوتی رہی جب تک اس کا ایک اور بھائی پیدا نہیں ہوا۔

ناک میں نتھنی ہونے کے سبب گوڈسے کو نتھورام کہا جاتاہے۔ جس کا مطلب ہوتا ہے کہ نتھلی والا رام۔ اپنے ایام جوانی میں نتھورام گوڈسے نے آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کرلی جو کہ ایک انتہاپسند ہندوسماجی تحریک ہے۔ موجودہ حکمران جماعت بی جے پی کے بہت سے رہنما بشمول وزیر اعظم مودی اس تحریک کے رکن رہ چکے ہیں۔

گوڈسے دیگر ہندو انتہاپسندوں کی مانند یہ یقین رکھتا تھا کہ گاندھی نے مسلمانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرکے ہندوؤں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور گاندھی نے ہی 1947 میں بھارت کی تقسیم کرکے پاکستان کا قیام ممکن بنایاہے۔ گوڈسے کے عقیدت مند بھی اسی نظریے کے ماننے والے ہیں۔ اس انتہاپسند سوچ کے حامل گوڈسے کو ہیرو اور گاندھی کو غدار سمجھتے ہیں۔

دلی 1948 گاندھی جی آخری رسومات کا منظر

ذرائع ابلاغ میں جدید ٹیکنالوجی آجانے کے سبب تاریخ کی اس تشریح کے پھیلاؤ مین بہت آسانی ہوئی ہے اور گوڈسے کی شبیہہ تبدیل کرنے میں اس کے سبب بہت معاونت میسر آئی ہے۔ سستے موبائلوں کی اور ڈیٹاچِپوں کی ملک کے طول وعرض میں باآسان دستیابی کے سبب ایسا ماحول بن چکا ہے کہ اب سچ اور جھوٹ میں تفریق کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ دیہاتوں میں وٹس ایپ پر ایسے پیغامات ہزاروں کی تعداد میں گردش کررہے ہیں کہ اگر گوڈسے نے گاندھی کو قتل نہ کیا ہوتا تو بھارت بھی سوویت یونین کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ دوسرے ایسے کئی میسجز بھی ہیں جن میں گاندھی کو عورتوں کا شیدائی بنا کر پیش کیا گیاہے۔

گاندھی کے قاتل کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے رکھی گئی محفلو ں کے سبب بھی جھوٹ پھیلانے میں اور گوڈسے کی پوجا میں اضافہ ہورہا ہے۔

آگرہ میں رہنے والے امیت جسوال جین اشتہارات کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ گوڈسے ایک ہیرو تھا ۔” اگر وہ گاندھی کو قتل نہ کرتا تو گاندھی نئے قائم ہونے والے پاکستان کو مزید امداد کرتے رہتے۔”

“گاندھی کا احترام کرنا چاہیے لیکن اب بھارت میں گوڈسے کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔”

اڑتیس سالہ جین نے پرعزم لہجے میں کہا۔

جین اور اس کے دیگر قوم پرست ساتھی اترپردیش کی سرکار پر زور دے رہے ہیں کہ وہ نصاب کی کتب میں نتھورام گوڈسے کی شخصیت پر ایک خصوصی باب شامل کریں۔ اس کوشش کا مقصد ہے کہ نئی نسل کو یہ علم ہو کہ گوڈسے ایک وژنری ہندو رہنما تھے جنہوں نے ہندو قوم کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ہندو قوم پرستی، یہ وہ تصور ہے جسے بھارتی جنتا پارٹی اور وزیر اعظم مودی اپنا سیاسی نظریہ قراردیتے ہیں۔ یہ یقین رکھتی ہے کہ بھارت ایک ہندو قوم کا ملک ہے اور اس کی اقلیتیں خاص طور پر مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہندوؤں کو خود سے برتر سمجھیں۔

دلی میں گاندھی جی کی موت کے روز ان کی یاد میں ایک خاموش مارچ جس کا مقصد بھارت کی حکومت کے خلاف پرامن احتجاج تھا

مِس پانڈے جنہوں نے حال ہی میں میروت میں واقع نتھور ام گوڈسے کے بُت پر حاضری دی، شمال مغربی بھارت میں واقع اپنے گاؤں کی سب سے پڑھی لکھی خاتون ہیں جنہوں نے ریاضیات میں پی ایچ ڈی کررکھی ہے اور وہ ایک یونیورسٹی میں استاد ہے۔ وہ اس کے علاوہ ہندو مہا سبھا کی رہنما بھی ہے۔ یہ تنظیم ایک سو سال پہلے انتہاپسند ہندو مسلح تحریک کے عنوان سے شروع ہوئی تھی۔

گزشتہ سال مس پانڈے کو گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے گاندھی کے قتل کو ایک ڈرامائی انداز میں دہرایا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ گاندھی کے بُت میں گولیاں برسا رہی ہیں اور اس بُت سے جعلی خون بھی بہہ رہا ہے۔

مِس پانڈے میروت میں واقع ہندو مہاسبھا کی مقامی تنظیم کو ایک اور ہندو انتہاپسند قوم پرست اشوک شرما کے ہمراہ چلاتی ہیں۔ وہ اترپردیش میں واقع مندروں میں دعائیہ تقریبات کا انعقاد کرواتے ہیں اور وہاں مقامی لوگوں کو ابھارتے ہیں کہ اب مودی جی کی حکومت میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ بھارت کو اب ایک ہندو ریاست میں تبدیل کردیا جائے۔

کچھ دن پہلے میروت میں واقع ایک مندر میں صبح کے وقت اشوک شرما بھگوان ہنومان کی پوجا کے لئے بیٹھے جنہیں ہندو دیومالا میں بندر بھگوان کہا جاتا ہے تو انہوں نے دعا مانگی کہ “گاندھی کی روح کو بھسم کردیا جائے”۔

انہوں نے آگ کی جانب چہرہ موڑ کے یہ الفاظ ادا کئے۔

“اے ہوا کے بیٹے، گاندھی کی ناپاک روح سے بھارت کی سرزمین کو پاک کردے”۔

مس پانڈے کہتی ہیں کہ اگر گوڈسے زندہ ہوتے تو وہ ان کےپاؤں دھو کر پی جاتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ “ہمارے ہیرو نے گاندھی کے زہریلے عزائم خاک میں ملا دیے۔ اگر میں گوڈسے سے پہلے پیدا ہوئی ہوتی تو میں نے خود گاندھی کے سر میں گولی ماردی ہوتی۔”

مس پوجا ، نتھورام گوڈسے کے مندر میں پوجا کررہی ہیں

مصنف: سُمیر یاسر

مترجم: شوذب عسکری. بشکریہ: نیویارک ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...