بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم پر سرِعام پھانسی

351

آج قومی اسمبلی سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو سرِعام پھانسی دینے کی قرارداد کثرتِ رائے کے ساتھ منظور کر لی گئی ہے۔ یہ قرارداد حکمران جماعت کے رکن کی جانب سے پیش کی گئی۔

پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی شرح میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے پہلے صوبائی و وفاقی سطح پر کئی پالیسیاں اور قوانین متعارف کرائے جا چکے ہیں۔ اس جرم میں موت کی سزا کی سفارشات بھی متعدد بار سینٹ اور قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئیں جنہیں مسترد کیا جاتا رہا۔ تاہم آج کی اسمبلی کاروائی کے دوران اسے منظور کرلیا گیا جس پر پیپلزپارٹی اور چند حکومتی ارکان نے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ وزارت انسانی حقوق کی چیئرپرسن کا کہنا ہے کہ یہ ایک انفرادی عمل ہے۔

دنیا کے چند ممالک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔ اس سزا کی حمایت کا مقصد ان واقعات میں ملوث افراد کو پیغام دینا ہوتا ہے کہ وہ سماج میں کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سخت سزا کے ذریعے خوف پیدا کرکے بچوں کو ایسے عناصر کا شکار ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ پچھلے سال بھارت میں بھی اسی طرح کا ایک بِل تیار کیا گیا تھا۔

پاکستان میں 31 فیصد آبادی 14 سال سے نیچے کی عمر سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہے جن میں ایک بڑی تعداد کو ہراسانی یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کئی تجاویز و پالیسیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ لیکن قانون سازوں اور سیاستدانوں کا ایک طبقہ یہ خیال کرتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے قانون کی خلاف ورزی سے قطع نظر اس نوع کے واقعات میں کمی لانے کا وسیلہ پھانسی نہیں ہے۔ بلکہ یہ امکان ہے کہ اس سے زیادہ مسائل پیدا ہوں گے۔ ایران میں اس جرم کی سزا موت ہے لیکن رپورٹس کے مطابق وہاں اس میں کمی واقع نہیں ہوسکی۔ ان ماہرین کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ پھانسی کی سزا کے نفاذ سے زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں اضافہ ہوجائے۔ موت کی سزا سے زیادہ انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور پہلے سے منظور کی گئی پالیسیوں پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ کئی ماہرین ضلعی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام اور ان کی درست فعالیت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کہ ایسے حقیقی و عملی اقدامات میں سنجیدگی دکھائے بغیر جنسی زیادتی کے جرائم میں کمی کا آنا مشکل ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...