قیامِ پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر اور حاصل ہونے والے سبق

450

آزادی کی تحریک کے دوران جداگانہ مسلم تشخص کی علامت ایک اساسی حیثیت رکھتی تھی۔ تاہم پاکستان بننے کے بعد شناخت کی تخصیص کو مختلف غیرروادارطبقات نے اپنے بیانیے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیاجس کی وجہ سے ملک کے اندر رہنے والی اقلیتیں سب سے زیادہ متأثر ہوئیں اور ان کے لیے حقوق کے مسائل پیدا ہوگئے۔ حتیٰ کہ بانیانِ پاکستان کے افکار کے متعلق بھی غلط فہمیاں پھیلائی گئیں اور آزادی کے حصول کے اغراض ومقاصد کے حوالے سے ان کے واضح ودوٹوک موقف کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔زیرنظر مضمون میں ڈاکٹرسید جعفراحمد نے یہ وضاحت کی ہے کہ قائداعظم نے چاہے مسلمانوں کے حق میں ان کے بطور اقلیت وکالت کی ہو یا بطورِ قوم، انہوں نے بہرحال اس تحریک کے دوران کبھی مذہبی منافرت کا پیغام نہیں دیا۔ڈاکٹرسیدجعفراحمد سماجی علوم کے ممتاز سکالر ہیں۔پچیس کے قریب کتب کے مصنف ہیں۔وہ 1974 ء سے جنوری 2017ء تک پاکستان اسٹڈی سینٹر،جامعہ کراچی کے سربراہ رہے ہیں۔

اگست 1947ء میں پاکستان کا قیام ان معنوں میں ایک منفرد واقعہ تھا کہ اس زمانے میں دنیا کے مختلف خطوں میں جو دیگر ممالک آزاد ہوئے وہ پنجہء غلامی میں جانے سے پہلے بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ وجود رکھتے تھے۔ ان ملکوں نے آزادی کی تحریکیں چلائیں اور کامیابی کے بعد اپنے سابقہ تشخص کو دوبارہ حاصل کرلیا۔ ان ممالک کے برعکس پاکستان 1947ء سے پہلے کبھی بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ تشخص نہیں رکھتا تھا۔ پاکستان میں شامل علاقے برصغیر کا حصہ تھے اور برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی فوج کے ذریعے ایک سو سال کے عرصے میں اپنا قبضہ مکمل کرکے اس کو سلطنت برطانیہ کے سپرد کردیا تھا۔ 1857ء میں یہ قبضہ مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی انگریزی استعمار کے خلاف برصغیر کے طول و عرض میں آزادی کے لیے آوازیں اور تحریکیں اٹھنا شروع ہوئیں۔

1857 ء سے1947ء تک کے نوے سال کے عرصے میں مسلم سیاسی شناخت ایک جداگانہ اور نمایاں پروگرام کے طور پر اجاگر ہوئی جس کے واضح سیاسی اور اقتصادی عوامل موجود تھے۔ انگریزی استعمار کی تعمیر و تشکیل کے دوران ابتدا ہی میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اب جب کہ پہلی مرتبہ ہندوستان میں استعماری مقاصد ہی کے تحت نمائندہ اداروں کا قیام عمل میں آرہا ہے اور ساتھ ہی ایسی انتظامی اور اقتصادی پالیسیاں متعارف کی جارہی ہیں جن کے نتیجے میں شہری علاقوں میں نئی سرکاری زبان یعنی انگریزی میں دسترس رکھنے والوں کی اہمیت اجاگر ہورہی ہے اور دیہی علاقوں میں ایک نئی اقتصادی اشرافیہ وجود میں آرہی ہے، ان نئے رجحانات سے خود کو لاتعلق اور غافل نہیں رکھا جاسکے گا۔

ان دونوں سماجی طبقات کے لیے ضروری تھا کہ نئے وجود میں آنے والے نمائندہ اداروں تک پہنچ حاصل کریں تاکہ اپنے طبقات کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ یہ اسی مرحلے پر ہوا کہ مسلمانوں کے بااثر طبقات کو پہلی مرتبہ ہندوستان کی مجموعی آبادی میں اپنے اقلیت ہونے کا شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ اس احساس کا اولین اظہار سرسید احمد خان کی تحریروں میں ہوا جبکہ بعد میں مسلم سیاسی قیادت کا بڑا حصہ اور 1906 ء میں بننے والی مسلم لیگ اس احساس کے ترجمان بنے۔

قائداعظم محمد علی جناح ایک جدید ذہن کے حامل سیاستدان تھے۔ انہوں نے وکالت کی تعلیم کی غرض سے جو عرصہ انگلستان میں گزارا وہ ان کے ذہن کی تشکیل اور ان کے سیاسی تصورات کی تعمیر میں بہت ممد و معاون ثابت ہوا۔ انگلستان میں اپنے قیام کے دوران وہ لبرل سیاسی مفکرین کے خیالات سے متاثر ہوئے۔انہوں نے برطانوی پارلیمانی نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ساتھ ہی انہوں نے اس نظام کی داخلی حرکیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ برطانیہ میں مذہبی مناقشات کو حل کرنے کی غرض سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور یہ کہ ریاست نے خود کو مذہبی امور کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبدار بنا کر اور ساتھ ہی مذہبی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرکے معاشرے کوکس طرح دائمی امن سے ہمکنار کردیا ہے۔

ہندوستان واپسی پر قائداعظم نے جب عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ابتدا ہی میں ایک بہت بڑا سوال ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے جب کہ کوئی نو دس صدیوں تک مسلمان بادشاہ ہندوستان پر حکمرانی کرتے رہے تھے۔ اس پورے عرصے میں ہندوستان کے مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا رجحان بھی موجود رہا تھا جب کہ اپنے مذہبی معاملات میں وہ اپنے علیحدہ طرز فکرو عمل کے بھی حامل رہے تھے۔ یہ دونوں رجحانات ہمیشہ ہی ایسے معاشروں میں پائے جاتے رہے ہیں جہاں ثقافتی تنوع موجود ہوتا ہے۔ ہندوستان بھی اس ثقافتی تنوع کا حامل تھا اور یہ کوئی غیر معمولی اور ہندوستان سے مخصوص بات نہیں تھی۔لیکن انگریز کی آمد کے بعد نمائندہ اداروں کے قیام کے نتیجے میں اب جب کہ قانون سازی اور انتظامی امور کی انجام دہی ان اداروں کے سپرد ہونے والی تھی تو پہلی مرتبہ ہندوستان کا ثقافتی تنوع سیاسی تقسیم کی بنیاد بننا شروع ہوا۔

قائداعظم کا خیال تھا کہ نمائندہ اداروں میں اگر جمہوری اصولوں کو ہندوستان کے معروضی حالات سے لاتعلق ہو کر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں ہندوؤں کی ثقافتی اکثریت ان کی سیاسی اکثریت کا راستہ ہموار کرے گی جب کہ مسلمان ثقافتی اقلیت ہونے کے ناطے سیاسی اقلیت بھی قرار پائیں گے۔ اس تضاد کے حل کے لیے انہوں نے جو حکمت عملی وضع کی اس کے دو نمایاں قانونی و سیاسی پہلو تھے۔حکمت عملی کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ قائداعظم کو معلوم تھا کہ جمہوری سیاسی نظاموں میں اس امر کی بھی گنجائش موجود ہوتی ہے کہ آبادی کے کسی حصے کی کمتر تعداد کو نسبتاً زیادہ نمائندگی دے کر اس کا اعتماد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کو قوم سازی کے عمل میں شریک بھی رکھا جاسکتا ہے۔ سیاسی زبان میں اس کو ایجابی اقدام (affirmative action) کہا جاتا ہے، یعنی ایسا اقدام جس کے ذریعے کسی حلقے کو اس کے منطقی حق سے زیادہ دے کر اس کے اعتماد کو جیتا جائے(اس کی ایک بہت اچھی مثال ہمارے موجودہ آئینی نظام سے دی جاسکتی ہے جس میں خواتین کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات میں کھڑے ہونے کے حق کے باوجود اضافی طور پر سولہ فیصد نشستیں اس لیے دی گئی ہیں کیونکہ پاکستان کے پسماندہ اور مردانہ غلبے کے حامل معاشرے میں خواتین کے لیے عام انتخابات میں اس آزادی کے ساتھ مہم چلانا ممکن نہیں ہے جس آزادی کے ساتھ مرد حضرات اپنی مہم چلا سکتے ہیں)۔قائداعظم نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے فوراً بعد ہی سے مسلمانوں کے لیے کسی بھی سیاسی دروبست میں ایک ایسی نمائندگی کی تجویز پیش کی جو ان کو انکی اقلیتی حیثیت کی بنا پرنظر انداز کردیے جانے سے محفوظ رکھ سکے۔ چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تقریباً چوبیس فیصد آبادی کے لیے وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں تینتیس فیصد نمائندگی کی وکالت کرتے رہے۔

یہ1916ء کا لکھنو پیکٹ ہو یا 1927ء میں پیش کی جانے والی ’دہلی مسلم تجاویز‘، قائداعظم کے چودہ نکات ہوں یا لندن کی گول میز کانفرنس کے اجلاسوں میں پیش کردہ دلائل، یا پھر بعد کے برسوں میں سامنے آنے والے سیاسی فارمولے، کم و بیش ان تمام مراحل میں قائداعظم کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی نمائندگی کے تناسب کی وکالت کی گئی جو ان کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرسکتی۔ انہوں نے پہلے مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے سیاسی حقوق کی وکالت کی۔ اور بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک جداگانہ قوم ہونے کا موقف اختیار کیا تاکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے جو حقوق قوموں کو حاصل ہوتے ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بھی ان کی وکالت کی جاسکے۔ لیکن خواہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک اقلیت سمجھا ہو یا ایک اگلے مرحلے پر ان کو قوم قرار دیا ہو، قائداعظم کا نکتہ نظر مذہبی منافرت پر مبنی اورفرقہ ورانہ(communal) کبھی بھی نہیں رہا۔ ان کے پورے سیاسی کیریئر کو اٹھا کر دیکھ لیں انہوں نے کبھی بھی ہندوؤں کے لیے تحقیر یا تذلیل کا کوئی ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔ تحقیر اور تذلیل تو دور کی بات انہوں نے بارہا اپنی گفتگوؤں میں اور اپنے بیانات میں ان کے لیے احترام کے الفاظ استعمال کیے۔یہاں تک کہ 7 مارچ 1947ء کو انہوں نے میمن چیمبر میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

“I assure you that I have respect for the great   Hindu community and all that it stands for.

They have their faith, their philosophy, their

great culture; so have the Muslims, but the

two are different…I am fighting for Pakistan

because it is the only practical solution for

solving the problem, and the other ideal

of a united India and a rule based on the

parliamentary system of government is a

vain dream and an impossibility.”

”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں عظیم ہندو کمیونٹی اور اس سب کا جس کی کہ وہ علمبردار ہے،احترام کرتا ہوں۔ ان کا اپنا عقیدہ ہے۔ اپنا فلسفہ ہے۔ اپنا عظیم کلچر ہے۔لیکن دونوں مختلف ہیں۔۔۔ میں پاکستان کے لیے لڑ رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے۔ اور دوسرا (حل، یعنی)متحدہ ہندوستان کا آئیڈیل اور پارلیمانی طرز حکومت پر استوار حکمرانی ایک لاحاصل خواب اور ناممکن بات ہے“۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ تقسیم ہندسے زرا قبل بھی جبکہ تقسیم نوشتہء دیوار بن چکی تھی، قائداعظم کا موقف ہندوؤں سے منافرت پر نہیں بلکہ صرف اس اصول پر استوار ہوا تھا کہ اگر ماضی میں ان کے پیش کردہ تمام فارمولوں کے برعکس ایک ایسے پارلیمانی نظام پر اصرار جاری رکھا جارہا ہے جس میں اقلیت کے لیے تحفظات فراہم نہیں کیے جارہے تو یہ نظام ہندوستان میں ناقابل عمل ثابت ہوگا۔

قائداعظم کی سیاسی جدوجہد اور ان کی حکمت عملی کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کے آغاز ہی میں انہوں نے یہ تجزیہ کرلیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے اقلیت میں ہونے کا تدارک ایک تو ان کی بہتر نمائندگی کی صورت میں ہوسکتا ہے(جس کا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے)جبکہ دوسرا اہم راستہ یہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ مسلم اکثریت کے صوبوں کی تعداد بڑھوائی جائے۔یہ پہلو ان کے ذہن میں اس لیے بھی اجاگر ہوا کیونکہ 1919ء میں متعارف ہونے والے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ جس کو مانٹیگو چیمس فورڈ ریفامز بھی کہا جاتا ہے، کو ہندوستان کی سیاسی قیادت نے صرف جزوی طور پر تسلیم کیا تھا،چنانچہ ان اصلاحات کا مرکز سے متعلق حصہ رد کردیا گیا۔

جبکہ صوبوں سے متعلق حصے پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔ معروف تاریخ دان ڈیوڈ پیج(David Page) نے بجا طور پر لکھا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں جبکہ مرکز کا نظام ہنوز وائسرائے کی کونسل کے ذریعے سے چلایا جارہا تھا، اور صوبوں میں انتخابات کا عمل شروع ہوچکا تھا، اور یہ انتخابات بھی ہر تین سال بعد منعقد ہورہے تھے، ہندوستان کی سیاست عملاً صوبوں میں منتقل ہوگئی۔تب مرکز سے متعلق آئین سازی کے کام کو کسی منزل تک پہنچانے کے لیے مذاکرات اور بحث و مباحثے میں حصہ لینے کا حق بھی انہی سیاسی جماعتوں اور قائدین کو حاصل ہوسکتا تھا جن کی صوبوں میں کوئی بنیاد پائی جاتی۔ چنانچہ قائداعظم اور مسلم لیگ کی پوری کوشش تھی کہ مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد بڑھوائی جائے تاکہ مسلم سیاسی آواز توانا اور مستحکم بن سکے اور مرکز میں خاطر خواہ حقوق حاصل کیے جاسکیں۔ 1919ء میں ہندوستان کے نیم وفاقی ڈھانچے میں مسلم اکثریتی صوبے صرف دو یعنی بنگال اور پنجاب تھے۔قائداعظم نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرنے کا موقف اختیار کیا جائے، 1919ء کی اصلاحات کو سرحد تک پہنچانے کا مطالبہ کیا جائے جس کا مطلب یہ ہوتا کہ شمال مغربی سرحدی خطہ بھی علیحدہ صوبہ بن جاتا۔ نیز انہوں نے  بلوچستان کو بھی صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ گویاان تین نئے صوبوں کے قیام کے نتیجے میں مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد پانچ ہوجاتی جو وفاقی بساط پر مسلمانوں کی آواز کو کہیں زیادہ موثر بنانے کا وسیلہ بن سکتی تھی۔ یہی نہیں بلکہ قائداعظم نے ہر ہر مرحلے پر صوبوں کی زیادہ سے زیادہ خود مختاری پر اصرار کیا۔

قائداعظم کی سیاسی حکمت عملی کے یہ دو پہلو جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کی جدوجہد کے سب سے نمایاں پہلو تھے۔اور ان پر وہ ہمیشہ یک سو رہے۔اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ انہی دو پہلوؤں سے کانگریس اور اس کی قیادت کے اغماض اور انکار نے بالآخر ہندوستان کی تقسیم کی راہ استوار کی۔ کانگریس کسی طور مسلمانوں کو ایک بہتر سیاسی و آئینی نمائندگی دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ ساتھ ہی کانگریس کے نظریہ سازوں اور عمائدین کو یہ بات کسی طور قبول نہیں تھی کہ وہ صوبائی خود مختاری کے اس دائرہ کار کو تسلیم کرتے جس کا مطالبہ قائداعظم اور مسلم لیگ کر رہے تھے۔ تقسیم ہند سے زرا قبل کانگریس کی صفوں میں اس موضوع پر بڑا اختلاف رہا کہ کیاہندوستان کے اتحاد کی قیمت مسلم صوبوں کو ان کی مطلوبہ خودمختاری دے کر ادا کر دینی چاہیے۔ کانگریس کا ایک بڑا حلقہ جس کی قیادت ولبھ بھائی پٹیل کر رہے تھے اور جس کو کانگریس کے ہمنوا صنعتی و تجارتی طبقے کی پشت پناہی بھی حاصل تھی، کا خیال تھا کہ مستقبل میں ہندوستان میں صنعتی و تجارتی سرمائے کے فروغ کے لیے ایک مضبوط مرکز کی ضرورت پیش آئے گی۔ یہ مضبوط مرکز اس حلقے کے نقطہ نظر سے ہندوستان کی وحدت کے لیے بھی ناگزیر تھا۔اس حلقے کی یہی سوچ تھی جس پر بعد ازاں جواہر لعل نہرو کو بھی قائل کیا گیا اور پھر پٹیل اور نہرو نے مل کر گاندھی کو آمادہ کیا کہ مسلم اکثریتی صوبوں کو الگ کرنے کی قیمت ادا کردی جائے اور باقی ماندہ ہندوستان کومستقبل میں ایک مضبوط مرکز کے تحت چلایا جائے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کا آئین ملک کو ایک وفاق کے بجائے ’یونین‘ قرار دیتا ہے۔

تقسیم ہند سے قبل مسلم لیگ اور قائداعظم کی سیاسی جدوجہد کا یہ پس منظر اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ اس جدوجہد سے مستقبل کے لیے کس قسم کی سوچ اور سیاسی افکار کی نمو ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اگر ماضی کی فکر سے استنباط کی کوئی اہمیت ہے اور ہم اپنے ماضی سے کچھ سبق حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ دو بنیادی سبق ہیں۔ قیام پاکستان کے مرحلے پر قائداعظم نے اپنی 11 /اگست 1947ء کی تقریر میں (جس کو بدقسمتی سے بعض لوگوں نے اپنی چِڑ بنا لیا ہے، اور ان کا بس نہیں چلتا کہ اس تقریر کو کسی طرح اوراقِ تاریخ سے حذف کردیں) بہت واضح الفاظ میں ریاست کی غیر جانبداری کے جس اصول کو انتہائی موثر انداز میں پیش کیا تھا اس کا مقصد یہی تھا کہ مذہبی تنوعات اور اختلافات سے قطع نظر ایک ایسی پاکستانی قوم کی تشکیل کی جائے جس میں سب شہریوں کو برابری کا یکساں احساس حاصل ہو۔ یہ خیال کسی بھی جدید قومی ریاست کے ریاستی اور سیاسی درو بست میں جاری و ساری ہوتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...