گورننس کا جبر: چند معاشی مغالطے

860

پاکستان میں معاشی ابتری روزافزوں ہے اور اس حوالے سے عوام پر بوجھ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اقتصادی شرحِ نمو میں کیسے بہتری لائی جائے، یہ سوال پاکستان میں ایک معمہ ہے جس کے مختلف جوابات دیے جاتے ہیں اور عملاََ متنوع تجربات کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ تاہم ایک تصور جو غالب ہے اور اس پر عوام کی ایک بڑی تعداد یقین بھی رکھتی ہے یہ ہے کہ اگر معاشی نظم مرکزیت کاحامل تو وہ خوشحالی وترقی لاسکتا ہے، یا یوں کہیے کہ ترقی وخوشحالی اُوپر سے نیچے آتی ہے،جیساکہ ایک عسکری نظم ہوتا ہے یا مارشل لاء کے ادوار میں جس طریقے سے معیشت کو چلایا جاتا ہے۔ایسے سینٹرالائزڈ معاشی نظم کو ایک طبقہ کامیابی کی ضمانت خیال کرتا ہے اور سول حکومتوں میں بھی بعض اوقات ایسے ہی نمونے پر عمل کی کوشش کی جاتی ہے۔زیرنظرمضمون میں  اس پر بات کی گئی ہے کہ یہ غالب تصور خوشحالی کا ضامن نہیں،بلکہ ایسا نظم ترقی کا ذریعہ ہوتاہے جو معاشی آزادیوں پر یقین رکھتا ہو اور مرکزیت کا حامل نہ ہو۔مضمون نگارذیشان ہاشم لندن سے اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں،انہیں کئی بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے۔اُردو میں ان کی کتاب”غربت اور غلامی: خاتمہ کیسے ہو؟“ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔

جنگِ عظیم اول اوردوم اقوامِ مغرب بالخصوص یورپ کے لیے بہت سارے اہم اسباق چھوڑ کر گئی، جیسا کہ اگر خطے میں امن کا استحکام یقینی نہ بنایاگیا تو اس سے سیاسی، سماجی اور معاشی ترقی کے تمام امکانات معدوم ہو جائیں گے،سخت گیرنیشنلزم یاآمرانہ نظامِ حکومت (Authoritarianism) اگر خطے کے کسی ایک ملک میں بھی جڑ پکڑلیں تو یہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں، اور یہ کہ ایک ایسا لبرل آرڈر انتہائی ناگزیر ہوتاہے جو خطے کے تمام ممالک کے شہریوں کے درمیان تعاون و تبادلہ (Exchange and Cooperation) کی اقدارکو فروغ دے۔

تاہم اس کے ساتھ بیسیوں صدی کی عظیم جنگوں نے اہل علم کے درمیان کچھ غلط فہمیوں کو بھی جنم دیا، جیسا کہ یہ تصور کہ جنگ کی معیشت کے اصول امن کی معیشت پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔ اس اصول سے مشہور معیشت دان جان کینز نے اپنے مجموعی (aggregate) ڈیمانڈ کے تصورات کو قائم کرنے میں مدد لی۔اسے ملٹری کینزین ازم کہتے ہیں جس کی رو سے جب کوئی معیشت بحران کا سامنا کرنے لگے تو حکومت فوجی اخراجات میں اضافہ لا کر مجموعی ڈیمانڈ کو مصنوعی طور پر بڑھا سکتی ہے۔ یعنی یہ کہ جنگیں ڈیمانڈ میں اضافہ کرتی ہیں اور جنگ کے بعد کا دور اکنامک گروتھ لاتا ہے(1)۔اس کے علاوہ یہ غلط فہمی بھی پیدا ہوئی کہ حالتِ جنگ میں وسائل کی تقسیم و تفویض (Allocation) جس طرح ملٹری پلاننگ سے ممکن ہو پاتی ہے ویسی ہی تفویض حالتِ امن میں سنٹرل پلاننگ سے بھی ممکن ہے۔

اس مضمون میں ملکی معیشت پر فوجی طرز منصوبہ بندی کے اطلاق کو زیر بحث لایا گیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ کی معیشت کا بنیادی دارومدار مارکیٹ میں موجود ڈیمانڈ اور سپلائی کی معلومات پر مبنی ہوتا ہے، نیز یہ کہ یہ معلومات کسی ایک ادارے یا حکومت کے کل ڈھانچے کی گرفت میں نہیں آ سکتیں، اس لیے کسی بھی قسم کا سینٹرلائزڈ نظام چاہے وہ عسکری بنیادوں پرقائم ہو یا مرکزی پلاننگ کمیٹی کی بنیاد پر یا پھر آئی ایم ایف کی سطح پر متعارف کرایاگیا ہو، وہ معاشی بہبود و ترقی پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

اگر کسی ملک پر حملہ ہوجائے اور جنگ کی صورت میں ایمرجنسی کانفاذہو جائے تو وہاں زمانہ امن کے سول قوانین کا ایک بڑا حصہ معطل ہو جاتا ہے۔ تقریبا سارے بنیادی نوعیت کے وسائل فوج کے پاس چلے جاتے ہیں۔ فوج اپنے سینٹرلائزڈ سسٹم کو استعمال میں لاتے ہوئے ان وسائل کی تفویض ممکن بناتی ہے، جیسے لوگوں تک راشن پہنچانا، بنیادی نوعیت کے اسٹریٹجک مقاصد کی تکمیل کو اہمیت دیتے ہوئے وسائل کا زیادہ حصہ ان پر خرچ کرنا، ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے پیداواری عمل کو تیز کر کے فوراََ سپلائی کا انتظام کرنا،وغیرہ۔جب تک جنگ رہتی ہے ملکی پیداواری وسائل اسی بندوبست کے تحت خرچ ہوتے رہتے ہیں اور زمانہ امن کے آتے ہی سول قوانین بحال ہو جاتے ہیں اور فوج بیرکوں میں واپس چلی جاتی ہے۔

جنگ عظیم اول تقریباََ پانچ سا ل تک جاری رہی اور جنگ عظیم دوم کادورانیہ لگ بھگ سات برس رہا۔ اس مرحلے میں جنگ سے متأثرہ ممالک میں وسائل کی تفویض وتقسیم کا زیادہ تر کام فوج سے کروایا گیا، یوں اس کے بعد ایک تأثر پیدا ہوا کہ آخر یہ کام زمانہ امن میں کیوں ممکن نہیں ہوسکتا؟ اسی طرح جرمن آمر ہٹلر نے اپنے آمرانہ مقاصد کی تکمیل کے لیے زیادہ تر فوج اور نظریاتی طور پر ہمنوا بیوروکریسی کو استعمال کیا۔ ہٹلر ’جرمن ورکر پارٹی‘ کا ممبر بننے سے پہلے ایک فوجی پس منظر کا حامل انسان تھا۔ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی اس کا طرزِ حکومت و گورننس فوجی طریقہ کار سے انتہائی حد تک متأثر ومماثل تھا جس میں ملٹری بیوروکریسی تمام ریاستی امور میں پیش پیش تھی۔ ہٹلر نے فوجی مشینری کو استعمال کر کے جس طرح ملکی پروجیکٹس تیز رفتاری سے مکمل کیے اور گورننس کے جبر سے ملکی حالات کو کنٹرول کیا اس نے اقوامِ مغرب کے ان دانشوروں کو مسحور کر دیا جو لبرل ازم اور کیپیٹلزم سے نہ صرف خائف تھے بلکہ گورننس کے جبر کو ہی تمام ملکی مسائل کا حل سمجھتے تھے۔

ملٹری اکنامک پلاننگ کا طریقہ کار بظاہر سادہ ہے۔ فوج میں جو اہمیت ایک سپاہی (سولجر) کی ہوتی ہے، اس میں راشن و آلات حرب پہنچانے کے لیے جو طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے اور جس طرح ڈیمانڈ و سپلائی کو اس ضمن میں مینیج کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ایک ملک میں تمام شہری بھی سولجرز کی طرح ہیں اور انہیں بھی بالکل اسی طریقے سے ضروریاتِ زندگی کی چیزیں اور کام کرنے کے لیے وسائل مہیا کیے جا سکتے ہیں۔ اس آئیڈیے نے اپنی نظریاتی بنیادیں اور عملاََ اپنی فعالیت کی جڑیں سوویت یونین بالخصوص سٹالن کے عہد میں قائم کیں۔ اس طریقہ کار کا سوویت معیشت کے تناظر میں تفصیل سے مطالعہ سملسن، باربر اور ہاریسن(2) کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق سوویت یونین میں ایک اعلی درجے کی حکومتی کمیٹی قائم تھی جس میں تمام اہم فیصلے کیے جاتے، اس کمیٹی میں تمام اہم شعبوں کے سربراہان ہوتے تھے جو سونپی گئی ذمہ داریوں کو بالکل اسی طرح تحلیل کر کے نچلے درجے تک پہنچاتے تھے– یہ ڈھلوانی (Top to Bottom)طریقہ کار مکمل طور پر سینٹرلائزڈ تھا جس میں تمام اہم فیصلے اُوپر سے نیچے تک بتدریج آتے تھے۔ یاد رہے کہ یہ طریقہ کار سینٹرلائزڈ حکومتوں کے اس طریقہ کار سے بھی ملتا ہے جس میں کابینہ تمام اہم ملکی فیصلے (بشمول معیشت کے) کرتی ہے اور پھر یہ فیصلے اوپر سے نیچے تک من وعن لاگو کیے جاتے ہیں۔ تاہم فرق یہ ہے کہ ایسی کابینہ کے نظم میں سیاست دان کام میں لائے جاتے ہیں اور سول اداروں کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ملٹری اکنامک پلاننگ میں ملٹری طرز کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم لاگو کیا جاتا ہے جو زیادہ تر کام فوج سے کروایا جاتا ہے۔

عصرحاضر کے تین اہم محققین (3)ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ملٹری اکنامک پلاننگ کا سارا نظام ناکارہ تھا اور مثبت نتائج دینے میں ناکام رہا (4)۔سوال یہ ہے کہ اس کی بنیادی وجہ کیا تھی؟ اس کا جواب ہمیں فریڈرک ہائیک دیتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک جامع معاشی نظم قائم کرنے کے لیے تین چیزوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے:

اول: ملکی معیشت سے متعلق ہر ہر شہری کی بنیادی ضروریات و خواہشات اور وسائل و ہنر سے متعلق مکمل معلومات کا ہونا۔

دوم: ہر شہری کی پسند و ناپسند سمیت اس کی تمام ترجیحات (Preferences)کا علم ہونا۔

سوم: یہ علم، وقت اور جگہ (Time and Place) میں تبدیلی کے باوجود بھی پرفیکٹ رہے،یعنی اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے(5)۔

ہائیک لکھتے ہیں کہ ڈیمانڈ و سپلائی، وسائل و ہنر،شخصی ترجیحات اور ان میں وقت و مقام کے لحاظ سے تبدیلی کا یہ سارا نظام معروضی (Objective) نہیں بلکہ شخصی (Subjective) ہے، اس لیے کوئی بھی ایک ادارہ، پوری سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یا کابینہ اس پر مکمل کنٹرول نہیں کر سکتی۔لہذااس بناپرکسی بھی قسم کا سنٹرالائزڈ نظام ناکام ہے اور وسائل کے ضیاع کا سبب بنتا ہے(6)۔

پاکستان میں بھی معیشت کے سدھارکے لیے پیش کی جانے والی زیادہ تر تجاویز اسی قسم کی ہیں، یعنی کہ سنٹرالائزڈ۔ اس سلسلے میں سماجی سطح تین طرح کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔

اول: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر عسکری طریقہ کار استعمال کیا جائے تو پاکستان میں گورننس کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں اور معیشت بھی ترقی کر سکتی ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے وہ فوجی مارشل لاؤں کے دور میں ہونے والی معاشی شرحِ نمو کے گراف دکھاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح شاید فوج میں کچھ لوگ بھی یہ گمان رکھتے ہیں کہ جیسے وہ ایک ملین کے قریب سولجرز کی ضروریات و خواہشات کی تکمیل کے لیے وسائل تقسیم و تفویض (Allocate) کر رہے ہیں بالکل اسی طریقے سے دو سو ملین انسانوں کے لیے بھی ایسا کر سکتے ہیں اور ان کا مخصوص نظم اپنا کام ٹھیک طرح سے کرے گا۔

یہاں یہ نکتہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ فوج دولت پیدا نہیں کرتی، دولت پرائیویٹ سیکٹر پیدا کرتا ہے۔ حکومت اس دولت کا کچھ حصہ (ٹیکس کی شرح کے حساب سے)  ٹیکسز کی صورت میں شہریوں اور کمپنیوں سے وصول کرتی ہے جس کا کچھ حصہ فوج خرچ کرتی ہے۔ یوں دولت کے پیدا کرنے میں فوج کی اہلیت اور قابلیت بالکل بھی نہیں ہوتی۔عسکری ادارے کے منتظمین معاشیات کی بنیادی سمجھ سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ دولت پیدا کرنا انتہائی پیچیدہ اور مشکل کام ہے جبکہ دولت خرچ کرنا انتہائی آسان۔ مارکیٹ میں دولت پیدا کرنے کے لیے وسائل کی انتہائی بہترتقسیم و تفویض کی صلاحیت ضرورت ہوتی ہے جو بغیر اس خاص علم کے یقینی نہیں بنائی جاسکتی جو صارفین کی ضروریات و خواہشات اور وقت و جگہ کے معیار سے ڈیمانڈ و سپلائی سے متعلق ہوتا ہے۔ جبکہ دولت خرچ کرنے کے لیے ایسے علم کی ضرورت انتہائی کم اور محدود ہوتی ہے(7)۔

دوم: پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے خیال میں تبدیلی اوپر سے آتی ہے۔ اگر سیاسی قیادت ایماندار ہو اور کابینہ کا انتخاب درست کیاجائے تو نتیجتاََ معاشی تبدیلی آجائے گی۔ اس سوچ کے نتائج بھی پاکستان کے لیے اب تک بہتر ثابت نہیں ہوئے۔

سوم: ایک تصور یہ بھی پایاجاتا ہے کہ اگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی تجاویز کو اپلائی کیا جائے تو اس سے معاشی نظم بہتر ہو جائے گا اور معاشی ترقی کا سفر شروع ہو جائے گا، یہ تصور بھی سنٹرلائزیشن ہی کی ایک شکل ہے،تجرباتی طور پہ یہ بھی تعمیری وکارگر ثابت نہیں ہوا۔پاکستان نے پہلی بار آئی ایم ایف سے 1958ء میں قرض لیا تھا اور تب سے یہ 22 ویں بار ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی معاشی اصلاحات کے ضمن میں شرائط مان کراس سے قرض لیا ہے۔اب تک اس کے کیا معجزاتی یا مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں؟کچھ بھی نہیں۔

ملکی معیشت اور ترقی کے حوالے سے اوپر بیان کیے گئے تینوں تصورات بڑی حد تک ملٹری اکنامک پلاننگ کی ہی ایک صورت ہیں۔ میرا مقدمہ جو کہ فری مارکیٹ کیپیٹلزم کے تصورات سے ماخود ہے،وہ یہ ہے کہ معاشی ترقی گراؤنڈ لیول سے پھوٹتی ہے۔ یعنی یہ ڈھلوانی انداز کی سنٹرالائزڈ اکنامک پلاننگ کی بجائے ڈی-سینٹرلائزڈ (Decentralized) ہو۔ ترقی کے آثار تبھی نمایاں ہوتے ہیں جب تمام شہری اور نجی ادارے باہمی لین دین اور تعاون و تبادلے میں نہ صرف آزاد ہوں بلکہ ان کے ان بنیادی حقوق کا تحفظ ریاستی سطح پر بھی کیا جائے۔ اس میں یقینا حکومتی انتظامات، قانون کی حکمرانی اور حقِ ملکیت (پراپرٹی رائٹس) کا تحفظ جیسے اقدامات انتہائی اہم ہیں۔ اس پورے پیکج کو معاشی آزادیوں کے ضمن میں سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے(8)۔ ذیل میں دیے گئے چارٹ سے یہ واضح ہوتا ہے  کہ ملک میں جتنی معاشی آزادی ہوگی وہ اتنا ہی معاشی طور پر خوشحال اور ترقی یافتہ ہوگا (9)۔

خلاصہ کلام یہ کہ پاکستان میں معاشی ترقی پرائیویٹ سیکٹر کی ترقی سے ممکن ہوگی اور خوشحالی پاکستان شہریوں کے حق انتخاب (Freedom to choose) سے پھوٹے گی۔ بہترین حکومتی پلاننگ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ نجی اداروں اور تمام شہریوں کی پرائیویٹ پلاننگز کے حق کو نہ صرف تسلیم کرے بلکہ انہیں سہولیات بہم پہنچائے۔

حوالہ جات

1- Keynes, John Maynard (1993) “Am Open Letter to President Roosevellt” Retrived from

http://www.la.utexas.edu/…/hcleaver/368/368KeynesOpenLetFDR

پاکستان میں کچھ لوگ یہ خیالات بھی رکھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام جنگی معیشت کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔ یہ بات فری مارکیٹ کیپیٹلزم کے بارے میں غلط ہے، فری مارکیٹ کیپیٹلزم جنگوں کی تباہی سمجھتا ہے اور اسے معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ سمجھتا ہے۔ اس میکنزم کو سمجھنے کے لیے یہ ویڈیودیکھی جاسکتی ہے:

کینزین ازم ہے یہ سمجھتا ہے کہ جنگیں مجموعی ڈیمانڈ کو بڑھا دیتی ہیں اور جنگ کے بعد کا دور اکنامک گروتھ لاتا ہے۔

2- Samuelson, L., 2000. Plans for Stalin’s war machine: Tukhachevskii and military-economic planning, 1925-1941. Palgrave Macmillan.

Barber, J. and Harrison, M. eds., 1999. The Soviet Defence Industry Complex from Stalin to Krushchev. Springer.

Harrison, M., 2001. Providing for defense. Behind the Façade of Stalin’s Command Economy, pp.81-110.

3- Ibid

-4 مشہور آسٹریلین معیشت دان میزز بھی جو جنگ عظیم اول کے دوران فوجی خدمات دیتے رہے، نے جنگوں کے درمیان ملٹری پلاننگ کا محققانہ جائزہ لیا کہ آیا کیا واقعی جنگ کے دنوں کی ملٹری پلاننگ امن کے دنوں میں سول پلاننگ سے بہتر ہوتی ہے؟ وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ملٹری پلاننگ کسی درجے میں بھی بہتر نہیں ہوتی۔تفصیل کے لیے دیکھیے

Von Mises, L., 1966. Human action. Ludwig von Mises Institute.

5- Hayek, F.A., 1945. The use of knowledge in society. The American economic review, 35(4), pp.519-530.

6- Ibid

-7  اس موضوع کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے کتاب ’غربت اور غلامی:خاتمہ کیسے ہو‘ پڑھی جاسکتی ہے۔

-8  اس موضوع کو بھی مکمل تفصیل کے ساتھ کتاب’غربت اور غلامی: خاتمہ کیسے ہو‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں دیئے گئے مضمون کا لنک بھی مددگار ہے

Lawson, Robert (nd). Economic Freedom. The Library of Economics and Liberty. Retrieved from https://www.econlib.org/library/En c/EconomicFreedom.html

-9  یہ چارٹ ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔تفصیل کے لیے ذیل کے لنک میں دیکھیے

https://www.heritage.org/index/book/chapt

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...