مذہب و ریاست دو جڑواں بھائی: مسلم کلاسیکی سیاسی فکر

958

مسلم دنیا میں سیاسی نظمِ اجتماعی کے ڈھانچے کی تشکیل کا مسئلہ ابھی تک عملی سطح پر حل نہیں کیا جاسکا۔اسلامی ریاست، جمہوریت اور سیکولرزم جیسی اصطلاحات ابھی تک مبہم ومتنازعہ ہیں اور ان کے تشخص واثرات پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ڈاکٹر خالدمسعود کا نام محتاجِ تعارف نہیں،ان کا شمار اسلامی قانون پر دسترس رکھنے والی چندنمایاں شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیرنظرمضمون میں انہوں نے اس مسئلے کا ماضی اور حال کے سیاسی فقہی ادب اور ریاستوں کے عملی تعامل کے تناظر میں جائزہ لیا ہے۔ان کے مطابق ماضی کی مسلم ریاستیں حقیقت پسند رہی ہیں اور عصرحاضر میں بعض مسلم مفکرین مذہب کا دائرہ کاربڑھا تے ہوئے اسے طاقت یااقتدار کی ایک آئیڈیالوجی کے طور پرپیش کرتے ہیں۔

مسلم معاشروں میں جمہوریت سے گریز کی موجودہ روش زیادہ ترایسے اسلامی سیاسی نظریات کی بنیاد پرقائم ہے جو کسی طور سیاست اور مذہب کے مابین علیحدگی کے قائل نہیں ہیں۔انتہا پسندحلقے عموماً جمہوریت کو کلیتاً مسترد کرنے پراصرار کرتے ہیں، ان کے خیال میں جمہوریت ایک’مذہب مخالف‘نظام ہے۔اس مضمون میں ہم کلاسیکی اسلامی سیاسی فکر کی اس جہت کو زیرِ غور لائیں گے جو مذہب اور ریاست کو ’جڑواں بھائیوں‘ کی طرح ایک دوسرے کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔ساسانی دور اور دسویں صدی میں رائج مسلم فکرکو سامنے رکھتے ہوئے اس نقطہِ نظر کی بنیادوں کو تلاش کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سیاسی حوالے سے مسلم فکر عمومی طور پر حقیقت پسندانہ رہی ہے۔ مسلم فقہاکی جانب سے تسلسل کے ساتھ جاری کیے گئے ایسے فتاویٰ جات ہمیں باآسانی میسر ہیں جن میں مذہب و ثقافت کے مابین تمیز موجود ہے۔ بدعت اور تشبہ بالکفر کے موضوعات سے متعلق فقہی آرا جس کی عمدہ مثالیں ہیں۔بلاشبہ ایسے تمام افکار وخیالات جن میں مذہب اور ریاست کو لازم و ملزوم قرار دیا جاتا ہے، جدید طرزِ فکر کامظہر ہیں جوسیکولرازم کے بالمقابل مذہب کوسیاسی اقتدارکی ایک آئیڈیالوجی کے طور پر متعارف کرواتاہے۔عباسی دور سے لے کر موجودہ زمانے تک سامنے آنے والی اس فکر کی متنوع شروحات کا اگر جائزہ لیا جائے توہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ جڑواں بھائیوں کی طرح سیاست اور مذہب کی بنیادایک ہی ہے لیکن ان کے دائرہِ کار مختلف ہیں۔ اگر ہم سیاسی و مذہبی دائروں کے ساتھ ساتھ اجماع کی سماجی جہت (عوامی اتفاقِ رائے)اور معاشرے میں اس کے کردار کو تسلیم کریں تو یہ نقطہِ نظر جدیددورکے تناظر میں زیادہ معقول و بامعنیٰ نظر آتا ہے۔

اس مضمون میں ہم سیکولر، اسلام پسند اور انتہا پسند حلقوں کے مابین تناؤ کے تناظر میں معاصر مسلم معاشروں کے اندر جمہوریت سے متعلق پائے جانے والے ابہام و شبہات اور اس سے گریز و انکار کی وجوہات کو جاننے کی کوشش کریں گے۔ سیکولر حلقوں کے نزدیک اسلام کی بنیادیں چونکہ غیر جمہوری اقدارپر استوار ہیں، لہٰذا ان کا اصرار ہے کہ ایک اسلامی ریاست کا قیام قطعی طور پر نا ممکن ہے۔اسلام پسند وں کے لیے جمہوریت اگرچہ قابلِ قبول ہے لیکن ان کے ہاں سیکولرزم کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، ان کا یقین ہے کہ سیکولرزم سماج میں مذہب کے کردار کو تسلیم نہیں کرتا۔ان دونوں کے برعکس انتہا پسند حلقے جمہوریت اوردستوریت جیسے عوامل کو مغرب سے درآمد شدہ نظریات کے طور پر دیکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ایسی اسلامی ریاست کا نقشہ پیش کرتے ہیں جو سراسر جمہوری اقدارسے خالی ہے اور وہ دہشت و تشدد بروئے کار لاتے ہوئے اس کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں۔

ان متنوع بیانیوں کی تفہیم کی کوشش میں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاصر تقابلی ادب اورمناہجِ تحقیق، مخصوص معیارات و اعمال کو اسلامی، مذہبی یا سیکولر میں تقسیم کرتے ہوئے انہیں متعلقہ بیانیے کا جزوِ لازم قرار دیتے ہیں اوراس طرح مسلم سیاسی فکر اور عملی سیاست کے عملیت پسندانہ خصائل نظر اندازہو جاتے ہیں۔مثال کے طور پرارنسٹ گیلنر(م:1995ء)اسلام کو سیکولر زم سے متصادم بتاتے ہیں اور دیگر کئی محققین فقہِ اسلامی اورمسلم قانونی فکر کو منجمد قرار دیتے ہیں، گویا ان کے نزدیک مسلم معاشروں کے طرزِ عمل میں موجود تنوع ”غیر اسلامی“ ہے۔

الفریڈ سٹیپن (م:2012ء) گیلنر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق مغر ب میں ”متعدد سیکولرزم“ موجود ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مسلم معاشروں میں عرب بہارکے بعد جمہوریت کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ان کا مشاہدہ ہے کہ مذہبی قیادت نے ریاستی اختیارات پرمنتخب نمائندگان کے حق کو تسلیم کرنے کی روش اپنائی ہے۔ دوسری طرف ریاستی اداروں نے بھی سماجی و سیاسی دائروں میں مذہبی گروہوں کی شمولیت کے لیے اقدامات کیے ہیں۔وہ اس دوطرفہ رواداری کے عمل کو ”برداشتِ باہمی“ کا نام دیتے ہیں جس کی وضاحت کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ ”مذہبی قیادت، افراد یا گروہوں اور سیاسی اداروں کوایک دوسرے کے مقابلے میں مطلوب وہ کم از کم آزادی جو بہتر طریقے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہے انہیں میسر ہونی چاہیے۔“

مسلم سیاسی فکر کا کلاسیکی نظریہ دین و سیاست کو جڑواں بھائی قرار دیتا ہے جس کے مطابق دین اور سیاست باہم متحد مگر جدا جدا ہیں۔اگرچہ سیاسی معاملات میں اسلامی سیاسی فکر ہمیشہ عملیت پسنداوصاف کی حامل رہی ہے۔اس ضمن میں یہ جاننا اہم ہے کہ یہ عملیت پسندی کس طرح مسلم فقہا کو اس بات پر مائل کرنے میں مددگار رہی ہے کہ وہ دین و سیاست کے مابین تمیز روا رکھیں،اس طور کہ ہر دو اگرچہ باہم متحد ہیں اور ان کی بنیاد ایک ہی ہے لیکن ان کا دائرہِ کارجدا ہے۔ہم اس عمل کی توضیح بدعت، تشبہ بالکفار، سیاست اور سیکولرازم جیسے چار تصورات کے حوالے سے پیش کریں گے جو سیاست و مذہب کی حدود متعین کرنے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

مضمون کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے حصے میں ہم اس نظریے پر طائرانہ نگاہ ڈالیں گے جو اقتدار و اختیار کی مذہبی و سیاسی جہتوں کے مابین تعلق کو جڑواں بھائیوں کے درمیان تعلق سے تشبیہ دیتا ہے۔ دوسرے حصے

میں مذہبی جہت پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے اور اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ بدعت اور تشبہ(مشابہت) کے باب میں فقہا نے مذہب کی حدود کس طرح متعین کی ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ حدود سماجی و سیاسی ارتقا کے پیشِ نظر بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ تیسرے حصے میں سیاست کے کلاسیکی نظریے اور سیکولرزم سے متعلق حالیہ مباحث کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انتشارو افتراق کے ادوارمیں یہ حدود کس طرح موافق بنائی گئیں۔چوتھے حصے میں اسلامی سیاسی فکر کے تناظر میں یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ سیاسی و مذہبی جہتوں پر زیادہ توجہ مرکوز رکھنے کے باعث اس موضوع سے متعلق مطالعات میں ایک اہم جہت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ نظر انداز کی گئی یہ جہت سماج سے تعلق رکھتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلم سیاست کے حوالے سے لکھے گئے ادب پر مذہبی اور سیاسی دائرے اس قدر حاوی رہے ہیں کہ ان میں سماج، یعنی ماں خود کہیں کھو کر رہ گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس حصے میں اجماع (اتفاقِ رائے) کی اہمیت اور اس کے کردارکو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہاں اجماع سے متعلق امام الجوینی(م:1085ء) کی رائے کاحوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے جوسیاست اور مذہب میں عوام (سماجِ عامہ) کی شمولیت پر اصرار کرتی ہے۔ گذشتہ صدیوں میں باہمی تنازعات کا حل اجماع کے ذریعے عمل میں لایا جاتا رہا ہے۔ ماضی قریب میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم معاشروں کے اندر سیاست میں جمہوریت یا عوامی شمولیت کی بنیادیں بھی اجماع ہی کے توسط سے پڑی ہیں۔

مذہب اور سیاست: دو جڑواں بھائی

سیاست اور مذہب کے درمیان تعلق کا موضوع نیا نہیں ہے۔ مسلم سماج میں ابتدا ہی سے یہ پہلو توجہ کا حامل رہا ہے۔مذہب و سیاست کے معین کردار اور اس کی حدود کی بحث خوارج کے سیاسی و مذہبی مباحث کا حصہ رہی ہے۔خوارج مذہبی وسیاسی، ہر دو قسم کے معاملات میں حاکمیتِ مطلق کے قائل تھے، سیدنا علی المرتضیٰؓ کا موقف ان سے مختلف تھا۔ خارجیوں کا دعویٰ تھا کہ حاکم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جبکہ خلیفۃ المسلمین سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس بات کی وضاحت کی کہ انسانی اور الوہی حاکمیت میں فرق رکھنا لازم ہے اور ان دونوں کے دائرہِ کار کو کسی طور خلط ملط کرنا ٹھیک نہیں۔گیارہویں صدی عیسوی میں امام غزالی کے استاد امام الجوینی نے یہ موقف پیش کیا کہ ریاست کے قیام کی ضرورت مذہبی نہیں بلکہ سماجی نوعیت کی ہے۔انہوں نے رائے دی کی امام (حاکم/خلیفہ) کا تعین قرآن و حدیث کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ مسلم سماج کے اجماع کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ہاں البتہ حاکم یا خلیفہ کی اطاعت ایک مذہبی فریضہ ہے۔

دوسری طرف اموی خلفا حاکمیتِ مطلقہ کا دعویٰ رکھتے تھے۔ اولین خلفا کے برعکس اموی اور عباسی خلفا عوامی انتخاب کی بنیاد پر حکومت میں نہیں آتے تھے۔ عباسی خلفا حکومت کرنا اپنا الوہی حق سمجھنے لگے تھے۔عباسی خلفا نے عقائد و فقہ میں بھی خلیفہ کے اختیار کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے اہلِ بدعت کو سزا دینے اوریکساں قوانین کے اطلاق کے لیے عدالتوں کو استعمال کرنا شروع کردیا۔ فقہا کا اصرارتھاکہ حکومتی اختیارات اور تشریحِ قوانین کے اختیارات میں فرق ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ اولاً اسی باعث وہ عباسی خلفاکے زیرِ خلافت بطور قاضی کام کرنے سے انکاری رہے لیکن بتدریج انہوں نے قوانین کے اطلاق میں خلیفہ کا اختیار تسلیم کرلیا اوراس طرح عدالتوں میں قاضی کے عہدوں پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے۔

خلیفہ منصور (754 تا775ء)کے کاتب ابن المقفع(م:759ء)نے محسوس کیا کہ مذہبی اختلافات کے اثرات خلافت پر پڑنے لگے ہیں۔ فقہی آزادی کے باوصف ایک ہی مسئلہ میں مختلف الفیہ فتاویٰ سامنے آرہے تھے اور عدالتی فیصلوں میں تضادات پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ابن المقفع نے خلیفہ کو مشورہ دیا کہ ایسی صورتِ حال کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ یکساں قوانین کا اطلاق عمل میں لایا جائے۔ خلیفہ منصور نے مدینہ میں امام مالک رحمہ اللہ(م:795ء)سے اجازت چاہی کہ ان کی تصنیف الموطا ئ کو حکومتی سطح پر یکساں قانون کے طور پر لاگو کر دیا جائے لیکن امام مالک نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ایسا کرنے سے متونِ دین کی تشریح و تعبیر کے حوالے سے فقہا کو میسر آزادی ختم ہو کر رہ جائے گی۔

الدین و الملک توأمان(حکومت اور دین جڑواں بھائی ہیں)کا نظریہ بیسویں صدی میں اس وقت نمایاں ہوکر سامنے آیا جب سلطان اور خلیفہ کے مابین اختیارات کے تنازعے نے سر اٹھایا اور سپہ سالارِ فوج کی جانب سے خلیفہ کے مقابلے میں زیادہ بااختیار ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔فوجی سپہ سالار وں نے اپنے لیے سلطان کا لقب اختیار کیا اور خلیفہ کومذہبی ضرورت سمجھتے ہوئے نمائشی حیثیت دے دی اور یوں خلیفہ کے پاس اختیارات برائے نام رہ گئے۔

درج بالا نظریہ عباسی دورِ خلافت کے اس12سالہ دورکی یادگار ہے جسے احیائے خلافتِ عباسیہ(920 تا932ء) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس دوران عباسی خلفا اپنے سیاسی اختیارات کی واپسی کے لیے کوشاں تھے۔اس قلیل دور میں علم العقائد، سیاست، تاریخ، اخلاقیات، تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں یہ نظریہ اساسی اصول کے طور پر ذکر کیا جاتا رہا ہے۔قدامہ بن جعفر(م:948ء)، جواس زمانہ میں عباسی خلفا کے قریبی ساتھی رہے تھے،وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس تصور کو ایک باقاعدہ سیاسی نظریے کے طور پر اپنایا۔قدامہ نے اس نظریے کو ساسانی سلطنت کے بانی شہنشاہ اردشیر(224تا241ء)سے منسوب کیا جس نے اپنے اختیارات کے تعین کے لیے زرتشت مذہب کی تعلیمات سے استفادہ کیا تھا۔قدامہ نے مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ کے پاس مذہبی و سیاسی، ہر دو اختیارات بیک وقت ہوتے ہیں کیوں کہ کوئی بھی سلطنت بغیر دین کے قائم نہیں رہ سکتی اور کوئی بھی مذہب بغیر ریاست یا حکومت کے قابلِ عمل نہیں رہ سکتا۔ یہ نظریہ عباسی خلافت کے احیا میں مددگار ثابت ہوا اور عباسی خلفا کو نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی اختیارات بھی واپس مل گئے۔

تاہم احیا کا یہ زمانہ کافی مختصر رہا اور گیارہویں صدی میں فوجی سپہ سالاروں کی جانب سے مذہبی و سیاسی اختیار کا تقاضہ دوبارہ  سامنے آنے کے ساتھ ہی یہ دور اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔بعض مسلم فقہا نے عوامی مفاد کے پیشِ نظر اس طرزِ حکومت (طاقت کے ذریعے حکمرانی) کے جواز کا فتویٰ دیا اور سلاطین کی حکومت کے لیے استیلاء کی اصطلاح پیش کی۔جواز کے اس فتویٰ سے مسلم سماج میں انتشار و افتراق نے جنم لیا۔ مصر کی فاطمی حکومت اور بغداد کی عباسی حکومت کے مابین دشمنی؛ بغداد اور دیگر شہروں میں باطنی گروہ کی سرگرمیاں؛سنی سلاطین ِ سلجوق اور شیعہ سلاطین آل بویہ کے مابین کشمکش اور مختلف مسلم فرقوں کے مابین تنازعات وہ عوامل تھے جو اس دور میں عباسی خلافت کو کمزور کرنے میں کردار ادا کررہے تھے۔ یہ حالات متقاضی تھے کہ سنی خلافت کی بقا کے لیے سلجوق سلاطین کی اعانت کو جواز دیا جائے اور ایک مضبوط حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔

نظام الملک طوسی(م:1092ء)کی کتاب’سیاست نامہ‘ (جو الدین والملک توأمان نظریے کے حوالے سے معروف ہے)اس نظریے کی مختلف تعبیر پیش کرتی ہے۔قدامہ بن جعفر دین و حکومت پر خلیفہ کا اختیار تسلیم کرتے تھے جبکہ ان کے برعکس طوسی اس بات کے قائل تھے کہ یہ اختیارات سلطان کاحق ہیں۔ طوسی نے سلجوق سلاطین ملک الپ ارسلان(1063تا1072ء) اور ملک شاہ اول(1072تا1092ء) کے وزیر کے طور پر خدمات سرانجام دیں، یہ دونوں سلاطین خلیفہ قائم بامراللہ(1031تا1057ء) اورخلیفہ المقتدی بامراللہ(1075تا1094ء) کے ہم عصر تھے۔نظام المک طوسی نے نظریہ توأمان کو مختلف سیاسی پسِ منظر کے ساتھ پیش کیا۔ان کی کتاب نے انتشار کے اس زمانے میں سیاسی بندوبست کی بصیرت فراہم کی۔طوسی نے واضح کیا کہ توأمان(جڑواں بھائی) کی اصطلاح دین اور سیاست کے مابین تعلق کو فطری اصول اور حیاتیاتی حقیقت کے طور پر متعارف کرواتی ہے جس کا مطلب ہے کہ دین و سیاست، ہر دو تصورات کا بنیادی ماخذ ایک ہی ہے اور یہ باہم جدا ہیں، نہ ان میں فرق روا رکھا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں، ان کا مقام و مرتبہ اور اہمیت بھی ایک جیسی ہی ہے، یعنی سلطان کے پاس دونوں اختیارات موجود رہتے ہیں۔ ان کی نظر میں اس وقت کے معروضی حالات اختیارات کے اجتماع کے متقاضی تھے۔

نظام المک طوسی نے اس نظریے کے استحکام کے لیے تین اقدامات کیے اور سیاست و مذہب، دونوں کے اختیارات سلطان کو تفویض کرنے میں کردار ادا کیا۔اولاً انہوں نے سیاست نامہ لکھی، اس کتاب میں انہوں نے سلطان الپ ارسلان کو مذہب کا بنیادی اور مناسب علم حاصل کرنے کی تلقین کی کہ اس کی روشنی میں وہ صحیح اسلامی تعلیمات اور بدعات کے مابین تمیز کرنے کا اہل ہو جائے تاکہ مخالف فاطمی حکومت کے حریفانہ پروپیگنڈے سے اپنے آپ کو اور اپنی سلطنت کو محفوظ رکھ سکے۔ثانیاً مذہبی علما، مفتیان، قاضیان اور دیگر حکامِ سلطنت کو مذہبی حوالے سے تربیت دینے کی غرض سے انہوں نے مدارسِ نظامیہ کی بنیاد ڈالی۔جارج ماکدیسی (1981ء)کے مطابق ان مدارس میں قاضیوں اور دیگر افسرانِ سلطنت کو قانون اور فقہ پڑھانے پر توجہ دی جاتی تھی۔ اس کے برعکس نجی مذہبی تعلیمی اداروں میں دینیات، یعنی علم العقائد وغیرہ پڑھائے جاتے تھے۔ تاہم مدارسِ نظامیہ میں امام الحرمین الجوینی اور امام الغزالی جیسے معروف علما ے دین کو دینیات کے اسباق پڑھانے کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ثالثاًطوسی نے امام غزالی(م: 1111ء)کو باطنیوں کی بدعات کے بارے میں کتاب لکھنے کا کام سونپا۔ اس کتاب میں باطنیوں کے سدِ باب کے لیے ایک مکمل دینی بنیاد پیش کی گئی اور نظریہ توأمان کا حوالہ بھی دیاگیا۔ امام غزالی غالباً وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے اس نظریے کے جواز میں حدیث نقل کی کہ سیدنا ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ رسولِ مکرمﷺ نے فرمایاکہ ”اسلام اور سلطان دو جڑواں بھائی ہیں“۔بارہویں صدی کے دوران یہی حدیث معمولی فرق کے ساتھ احادیث کے مجموعوں اور تفاسیرِ قرآن میں بھی نقل کی گئی۔الساغانی اس روایت کو من گھڑت بتاتے ہیں۔

طوسی کی طرف سے پیش کردہ نظریہ توأمان کی یہ تشریح، جس میں سلطان کو دونوں اختیارات کا مالک بتایا گیا تھا، سلجوقیوں کے بعد باقی نہ رہی۔ طوسی کو سزائے موت دے دی گئی، امام غزالی منظرِ عام سے غائب ہوگئے اور ملک الپ ارسلان کوپراسرار حالات میں قتل کردیا گیا۔سیاسی و مذہبی جہت کے باہم جڑواں ہونے کی بحث بعد ازاں بھی جاری رہی لیکن اس بحث میں ہر دو جہتوں کے مابین باہمی انحصار اورمتوازن تعلق کی موجودگی پر اصرار موجود رہا۔

مذہب

اسلام مذہبی تنوع کو تسلیم کرتا ہے۔دامن کی یہ فراخی مذہب کے اندر اختلاف کے لیے بھی برقرار رہتی ہے۔تنوع کے اعتراف کے لیے ضروری ہے کہ مذہب کی حدود کا تعین کیا جائے کہ کیا چیز مذہب کے دائرے میں آتی ہے اور کیا چیز، کب اور کس طرح ”غیرِ مذہب“ ہو جاتی ہے۔درج ذیل دو نظریات سے اس کی مناسب تفہیم سامنے آسکتی ہے: اول بدعت اور دوم، تشبہ بالکفار۔یہ دونوں اصطلاحات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ کیا چیز دین ہے اور کیا نہیں۔فقہا کی جانب سے پیش کیے گئے فتاویٰ میں بیان شدہ قانونی توجیہات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ان حدودنے کس طرح سماج میں ثقافتی آزادی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ دین اورغیرِ دین کایہ فرق رسولِ مکرمﷺ کو حاصل ان مخصوص مذہبی اختیارات کے تعین میں ممد و معاون ہوسکتا ہے جو بطور پیغمبر انہیں حاصل تھے اور کسی غیرِ پیغمبر کو وہ اختیارات کبھی حاصل نہیں ہوسکتے۔

یہ حدود جدید دور میں کافی دھندلا گئی ہیں، کیوں کہ اب ریاست کا قیام ایک مذہبی ضرورت سمجھا جانے لگا ہے اور مذہب کی حدود کو پھیلا کر اس میں سیاست کو بھی شامل مانا جانے لگا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جدید دور کے کچھ مذہبی رہنماؤں نے ریاست کے سیاسی دائرے کو اس قدر وسیع کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس میں مذہب بھی سما جائے۔مثلاً مولانا ابو الاعلیٰ مودودی(م:1979ء)نے دین کی اصطلاح کو تصورِ ریاست کا تقریباً متبادل قراردیا۔اگرچہ ان کے مطابق دین کی اصطلاح اس قدر جامع اور اس درجہ منفرد ہے کہ اسے کسی بھی دوسری زبان میں اپنے تمام تر معنی و مفہوم کے ساتھ ترجمہ کرنا ناممکن ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ جدید لفظ ’ریاست/اسٹیٹ‘ اس کے قریب تر ہے، ان کے اپنے بقول اس میں بھی مگرلفظِ دین کی تمام تر جزئیات نہیں سما پاتیں۔

بدعت

بدعت کا تصور رسولِ مکرمﷺ کی اس حدیثِ مبارکہ کی بنیاد پر وجود میں آیا کہ ”ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت کا ٹھکانہ جہنم ہے“۔یہ تصور انتہائی اہم ہے کہ اس کی بنا پر ہم مذہبی عقائد و اعمال میں جائز و ناجائز کے مابین تمیز کر سکتے ہیں۔ابو اسحق الشاطبی(م:1388ء)ایسے چار عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے باعث کوئی بھی نئی چیز بدعت کہلاتی ہے: 1۔ اس بات کا ارادہ یا یقین رکھنا کہ وہ دین کا حصہ ہے،2۔ یہ دعویٰ کرنا کہ وہ چیزدینی فرائض میں شامل ہے، 3۔ اس کی مذہبی حیثیت پر بے حد اصرار کرنا، اور ۴۔ اس پر عمل پیرا ہوکر خدا کی خوشنودی کی خواہش رکھنا۔نتیجتاًوہ بیان کرتے ہیں کہ بدعت کا تعلق عقائد وعبادات کے ساتھ ہے، معاملات کے ساتھ نہیں۔ مثال کے طور پرجھونپڑیوں میں رہنے کی بجائے جدید طرزکے گھروں میں رہنا بدعت نہیں ہے کیوں کہ اس بات کا تعلق عقیدے یا عبادت کے ساتھ نہیں ہے۔وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اکثر بدعات عبادات کے طور پر متعارف کرائی گئی تھیں۔ وہ اپنے زمانے کے حساب سے بعید از قیاس مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”اگر کوئی شخص پانی پر چل کر یا ہوا میں اُڑ کر فریضہِ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ کی جانب عازمِ سفر ہے تواسے بدعت کا مرتکب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کا مقصد حج کے لیے مکہ پہنچنا تھااور وہ بقائمی ہوش و حواس کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کر چکاہے۔“ بدعت کا تعین کرنا فقہی دائرہِ کار میں آتا ہے تاکہ دینی و غیر دینی عقائد و عبادات میں فرق بروئے کار لایا جاسکے۔

تشبہ بالکفار

کفارکی مشابہت اختیار کرنے سے ممانعت بھی دین میں جائز و ناجائز کے مابین تمیز پر اصرار کرتی ہے۔یہ ممانعت دیگر مذاہب کے مقابلے میں مسلمانوں کی الگ شناخت کے نقطہِ نظر کے حوالے سے انتہائی اہم قرار پاتی ہے۔اس تصور کی بنیا د بھی رسولِ مکرمﷺ کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ ”جس نے جس کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے“۔ کتب احادیث میں اس مضمون کی متعدد روایات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ تصور اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ الگ مذہبی شناخت کو کس طرح سامنے لایا جائے۔ اس ضمن میں پہلی بات تویہ ہے کہ دیگر مذاہب کی مشابہت سے ممانعت کے ذریعے مسلم شناخت کی باقاعدہ کوئی تصویر سامنے نہیں آتی، ایسا ہوتا ہے کہ ثقافتی و سیاسی شناخت کی علامات مذہبی شعائر سے علیحدہ ہو جاتی ہیں؛جبکہ غیر مسلموں کے ساتھ سماجی سانجھے داری تشبہ بالکفار کے زمرے میں نہیں آتی۔ ہم دورِ وسطیٰ اور ماضی قریب کی مثالوں سے اس بات کی وضاحت کریں گے کہ اس ممانعت میں عمومیت، اس کی تشریحات میں تنوع، اوراس کے اطلاق میں توسع دراصل بدلتے ہوئے ثقافتی، سیاسی اور مذہبی پسِ منظرکے باعث در آئے۔

امام غزالی مدینہ کے تاریخی تناظر میں اس ممانعت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمان مذہبی مشترکات کو یہودیوں کے سامنے بیان کرنے سے نہ صرف یہ کہ ہچکچاتے نہیں تھے بلکہ وہ اس کے لیے پر جوش رہا کرتے تھے، لیکن یہودیوں کو مسلمانوں کا ایسا کرنا پسند نہیں تھا کیوں کہ وہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت سے خائف تھے۔جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو حکم ہوا کہ چونکہ یہودیوں کا مذہب الگ ہے، اسی لیے مسلمان ان سے فاصلہ رکھا کریں۔ ان کے مطا بق یہ حکم سیاسی نقطہِ نظر سے دیا گیا تھا۔امام ابنِ تیمیہ(م:1328ء) نے بعد ازاں اس سیاسی منشا کو مسلم شناخت کی اساس کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے تشبہ کے مذہبی معانی کا دائرہِ کار سماجی وثقافتی سطح تک بڑھا دیا۔ان کی رائے میں غیر مسلموں کے ساتھ کسی بھی طرح کی مشابہت مسلمانوں کے اندر غیر مسلموں کی فاسقانہ رسومات کی طرف رغبت کا باعث بن سکتی تھی۔

انیسویں صدی عیسوی کے دوران نو آبادیاتی ہندوستان میں حالات مزید پیچیدہ ہو گئے جہاں مسلمان اقلیت تھے اور ایک غیر ملکی عیسائی حکومت کے ماتحت رہ رہے تھے۔ابھی تک مسلم فقہا مذہبی و سیاسی اغراض میں فرق روا رکھے ہوئے تھے۔شاہ عبد العزیز (م: 1823ء) کا فتویٰ ہے کہ ایسے رسوم و رواج اور خوراک و لباس یا کوئی بھی ایسی چیز جسے غیر مسلم اپنا مذہبی شعار سمجھتے ہوں، اس کا مسلمانوں کے لیے اپنا نا نا جائز ہے۔مذہبی شعار کی نیت سے ان میں سے کسی بھی چیز سے مشابہت اختیار کرنا مسلمانوں کے لیے کسی طور درست نہیں ہے لیکن اگر مسلمان ان میں سے کوئی بھی چیز موزونیت اورآسانی کے لیے استعمال کریں تو یہ کوئی ناجائز بات نہیں ہو گی۔مثال کے طور پر سردی سے بچنے کے لیے غیر مسلموں کا گرم لباس پہننا مذہبی عمل نہیں ہے، اس لیے ایسا کرنا ممنوع نہیں ہے۔مولانا رشید احمد گنگوہی(م: 1905ء)کا فتویٰ ہے کہ صلیب کا نشان پہننا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ عیسائیوں کی مذہبی علامت ہے۔ ہاں البتہ چونکہ ہیٹ، کوٹ اور پتلون ان کی مذہبی علامات نہیں ہیں لہذا ان کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔۔۔ اور یقینا انگلستان میں بسنے والے مسلمان یہ چیزیں پہنتے ہوں گے۔

اس دور میں کئی مفتیانِ کرام نے فتویٰ دیا کہ انگریزی سیکھنا اور بولنا بھی تشبہ کے زمرے میں آتا ہے لیکن مفتی عبدا لحی نے اپنے فتویٰ میں لکھا کہ انگریزی سیکھنا اور بولنا تشبہ کے زمرے میں نہیں آتا کیوں کہ یہ ممانعت مخصوص رسوم و رواج اور عادات کے لیے ہے جن کا تعلق کسی غیر مسلم مذہب کے ساتھ خاص ہو۔ ان میں کوئی بھی مخصوص خوراک، مشروب یا لباس شامل ہے، زبان نہیں۔اسی طرح کی ایک اور مثال بھی دیکھیے کہ ایک فتویٰ میں مفتی عبد الحی لکھتے ہیں کہ لکڑی سے بنے چپل مسلمانوں کے لیے پہننا حرام ہیں کیوں کہ یہ ہندو یوگیوں کا امتیازی نشان ہے ۔اس کے برعکس شاہ عبد العزیز فتویٰ دیتے ہیں کہ ایسے چپل اب صرف ہندو یوگیوں کے ساتھ مخصوص نہیں رہے، اسی لیے مسلمان بھی انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔

ان فتاویٰ کا مختلف فیہ ہونا دراصل مسلم شناخت کے سیاسی تصورات میں اختلاف کے باعث ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی پسِ منظر میں تبدیلی کے جواب میں مذہبی حدود میں مسلسل تبدیلی آتی رہی ہے۔

سیاست

اسلامی فقہ اور سیاسی فکر میں سیاست اور شریعت ہمیشہ سے دو بالکل مختلف تصورات کے طور پر موجود رہی ہیں۔سیاست کا تعلق حاکمِ وقت یا خلیفہ کے دائرہِ اختیار سے تھااور یہ آزاد اور متحرک تصور کی جاتی تھی، جبکہ شریعت کو منجمد اور غیر متغیر سمجھا جاتا تھا۔سیکولرزم کوعموماًایسے طرزِ سیاست سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں شریعت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس حصے میں ہم سیاست اور سیکولرزم پر بحث کریں گے۔

نظریہء سیاست

اسلامی فقہ میں سیاست و شریعت کے مابین حدود کے تعین کی بحث نویں صدی میں اس وقت پیدا ہوئی جب عباسی خلفانے نئی عدالتیں متعارف کروائیں اورعدالتوں میں مفادِ عامہ کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی بنا ڈالی۔نتیجتاً ابن النجیم (م:1563ء) نے سیاست کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ”حاکمِ وقت کا کوئی بھی عمل جواس نے مفادِ عامہ کے پیشِ نظر سرانجام دیا ہو، اگرچہ اس کے لیے متونِ دین سے کوئی ثبوت میسر ہو نہ ہو۔“ رفتہ رفتہ نظام ِ سلطنت انتشار کا شکارہونے لگا، اسی باعث سیاست کا موضوع زیرِ بحث آنا شروع ہوا اوربتدریج اہمیت حاصل کرتا چلا گیا۔

اسلام کی سیاسی و قانونی فکر ی تاریخ کو سیاست کے معانی میں تبدیلی کے لحاظ سے پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

1۔ آٹھویں سے نویں صدی: سیاست بطور تعزیر

پہلا سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا جب عباسی خلیفہ منصور نے یکساں قوانین کے اطلاق کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کی شروعات کیں اور خلافتی اختیارات کا دائرہِ کار اسلامی قوانین کی توضیع و نفاذ تک بڑھانا چاہا۔امام شافعی(م:820ء)اسلامی قوانین کے لیے لازمی قرار دیتے ہیں کہ وہ بہر صورت قرآن و سنت سے ماخوذ ہوں اور اسی سبب وہ احناف کے اصولِ استحصان کے سخت ناقد تھے۔ انہوں نے حکمرانِ وقت کے لیے ایسی کسی رعایت کو سختی سے رد کردیا۔ان کے نزدیک ایسا کرنا صرف اسی وقت جائز اور روا ہے جب استحصان کی بنیاد قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔

دیگر فقہا، جو حاکم کو عوامی مفاد میں ایسی رعایت دینے کے قائل تھے اور جنہوں نے سیاست کو اسی پسِ منظرکے ساتھ آگے بڑھایا، ان فقہا نے اللہ تعالیٰ کے اختیارات اور انسانی اختیارات کی حدود کا تعین کیا اور ان میں فرق کے بارے میں رہنمائی کی۔ ایسے جرائم اور گناہ، جن کی سزائیں قرآن و سنت میں موجود ہیں، ان کا تعین اور ان کی توضیح اللہ تعالیٰ کا حق قرار دے کر انہیں حدود کا نام دیا اور ان میں کسی بھی طرح کے ردوبدل کو حرام قرار دیا۔ باقی ماندہ جرائم اور گناہوں کی سزاؤں کا تعین انسانی دائرہِ اختیار میں تسلیم کرتے ہوئے انہیں تعزیرات کا نام دیا اور اان کی مقدار و کیفیت کو حاکمِ وقت کی صوابدید پر چھوڑ دیا۔

2۔ گیارھویں تا بارھویں صدی: سیاست بطور مفادِ عامہ

دوسرے سیاسی بحران نے بارھویں صدی کے دوران اس وقت جنم لیا جب طاقت پکڑتے سلاطین کی جانب سے خلیفہ کے مقابلے میں سیاسی اختیارات کا دعویٰ سامنے آیا۔جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ یہی وہ دور تھا جس میں ’تصور توأمان‘ریاستی نظریے کے طور پر مستحکم ہوا، اس کے ذریعے خلیفہ کوامام کا رتبہ دے کر سلاطین کے وجود کو جواز بخشاگیا۔تاریخی طور پر اس دوران عباسی خلفا کو ہمسایہ ریاستوں کی جانب سے خطرات لاحق تھے اور اپنے دفاع کے لیے فوجی سپاہیوں پر انحصار کرنا ان کی مجبوری تھی، ان فوجی دستوں کے سربراہوں کی خواہش تھی کہ وہ اپنے آپ کو سلطان کہلوائیں اور انہیں سیاسی اختیارات میسر ہوں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق خلیفہِ وقت کو معزول یا تعینات کرنے کا حق بھی رکھتے ہوں۔ان حالات میں خلیفہ کی حیثیت محض نمائشی ہو جاتی ہے۔

امام غزالی سلطان کے اس تصور کوسیاست کے ذریعے منطقی بنیادیں فراہم کرتے ہوئے اسے دو جہتوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ وہ اس کے سیاسی تناظر کو اس کے مذہبی کردار سے الگ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذہبی سیاست کا تعلق پیغمبرانہ سیاست کے ساتھ ہے جو مسلمانوں کو مذہبی ضابطوں کا پابند بناتی ہے جبکہ اس کی سیاسی جہت کا تعلق حاکمِ وقت کے مطلق سیاسی اقتدار کے ساتھ ہے۔ وہ سیاسی اقتدار کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں ”ایسا سماجی بند وبست اور تعاون کا نظام جو معاشی وسائل اور ان کی تنظیم کے لیے قائم کیا جائے۔“

3۔ تیرھویں تا چودھویں صدی: سیاست بطورنظم و ضبط

تیسرا سیاسی بحران اس زمانے میں پیدا ہوا جب منگولوں نے بغداد پر یلغار کر کے عباسی خلافت کو ختم کردیا جس کے بعد مملوکوں نے اپنا دارالخلافہ بغداد سے مصر میں منتقل کردیا، مگر اس دوران وہ مسلسل حالتِ جنگ میں رہے۔اس کے نتیجے میں نو تنظیم شدہ خلافت میں سلاطین کو مزید اختیارات تفویض کر دیے گئے اور یوں انتظامی حوالے سے خلیفہ کی حیثیت مزید کم ہو کر رہ گئی۔یہ دور قانونی انتشار، بالخصوص جنگ کا دور تھا۔ اس دوران رخصت کے اصول و قواعد اور سخت ترین سزاؤں کی ضرورت پیش رہی، اسی لیے اس دور میں سیاست قانون کی عملداری کو یقینی بنانے اور نظم و ضبط کا قیام عمل میں لانے کے لیے ضروری سیاسی اختیارات کا احاطہ کیے دکھائی دیتی ہے۔

ان حالات میں امام القرفی(م:1285ء)نے ایک منظم سیاسی نظریہ تشکیل دیا۔ اس نظریے کی رو سے امام، مفتی اور قاضی کے اختیارات میں حدود کا تعین کیا گیا تھا۔مفتیانِ کرام مذہبی اقتدار کے حامل تھے اور خدا کو جوابدہ، قاضی امام کو جوابدہ تھے، جبکہ مجموعی اختیارات امام کو حاصل تھے۔امام ابن تیمیہ نے مذہبی و سیاسی اقتدار کو اپنی تصنیف السیاسۃ و الشریعۃ میں باہم منسلک کردیا۔ انہوں نے مذہبی و سیاسی، دونوں اختیارات شریعت کے تحت حاکمِ وقت کو تفویض کر دیے کیوں کہ ان کے نزدیک ریاست کا قیام ایک مذہبی ذمہ داری تھا تاکہ شریعت کا نفاذ عمل میں لایا جا سکے۔

4۔ پندرہویں تا سترہویں صدی: سیاست بطور توازن

چوتھا سیاسی مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب ہندوستان میں مغل فرماں روا تھے، ایران میں صفویوں کی حکومت تھی اور باقی مسلم دنیا خلافتِ عثمانہ کے زیرِ نگین تھی۔اس دور میں سیاست طاقت میں توازن کے طور پر سامنے آئی۔اس دور میں فقہا ریاستی افسران کے طور پر کام کرتے تھے۔ اسلامی قانونی نظام کی تنظیم اورقوانین کومرتب کرنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا(عثمانیوں کے ہاں ملتقی الابحر اور مغلوں کے ہاں فتاویٰ عالمگیری اس کی نمائندہ مثالیں ہیں)۔جبکہ شریعت کے ساتھ ساتھ سربراہانِ ریاست کی جانب سے بھی قوانین لاگو کیے جاتے تھے(عثمانی خلافت میں قانون اور مغلیہ ہندوستان میں فرمان یا آئین اسی نوعیت کے قوانین میں شامل تھے)۔ یہ قوانین بعض اوقات فقہ سے متصادم بھی ہوتے تھے۔

تقی الدین المقریزی (م:1441ء)کی رائے میں سیاست کی یہ صورت منگول ’یاسا‘ کی طرز پر ترتیب دی گئی تھی جس سے ”اس دنیا اور اگلے جہان میں عوام کی کامیابی کی غرض سے ان کی فلاح کی کوشش کرنا“ مرادتھا۔وہ کہتے ہیں کہ سیاست دو طرح کی ہوتی ہے: پیغمبرانہ اور استبدادی، پہلی قسم میں شریعت رہنما ہوتی ہے۔مغلیہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے شاہ ولی اللہ(م:1762ء)نے بھی سیاست کو طاقت کے مابین توازن سے تعبیرکیا۔متعدد فلسفیانہ اور فقہی سیاسی نظریات کی بنیاد پروہ پرانے نظام کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے شدت سے ایک ایسے نئے نظام کی تشکیل و تعمیر کی ضرورت محسوس کی جو توازن اور مفادِ عامہ کی بنیادوں پر قائم ہو۔

5۔ اٹھارہویں تا اکیسویں صدی: سیاست بطور سیاسی حقیقت

یہ بات انتہائی دلچسپ ہے کہ نوآبادیاتی ہندوستان کے انگریز حکمرانوں نے بھی نظریہ سیاست سے استفادہ کیا۔اٹھارہویں صدی کے دوران ہندوستان میں تعینات برطانوی گورنر وارن ہاسٹنگزنے نواب گورنر جنرل ہاسٹنگز کا عہدہ اپنا یاتاکہ وہ اسلامی ضابطہ فوجداری میں اصلاحات کی غرض سے ایک مسلم حکمران کے اختیارات اپنے پاس رکھ سکے۔ گورنر جنرل ہاسٹنگز نے نظریہ سیاست کی بنیاد پر ہی ان اصلاحات کو جواز دینے کی کوشش کی۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر معمولی سیاسی ادب تخلیق ہواجس میں سیاست کا لفظ شریعت کی بجائے قانونِ عامہ کے لیے استعمال ہونے لگا۔ قانونِ عامہ سے مراد شخصی قانون لیا جاتا تھا۔ رفاعہ ا لطہطاوی (م:1873ء)، عبد الوہاب خلف اور احمد فتحی البھنسی نے سیاست کو ایک سیکولر قانون کے طور پر پیش کیا جو حکومتی معاملات کی تنظیم،فلاحِ عا مہ اور خطرات سے بچاؤکے بندو بست کے ساتھ ساتھ آفاقی اصولوں اور (حدود کے علاوہ)دیگرسزاؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس نئے تصور کے تحت عالمی امن معاہدے اور قوانین بھی سیاست کے زمرے میں ہی آتے تھے۔

آئندہ صفحات میں ہم جدید مسلم سیاسی فکرکے آئینے میں سیکولرزم کو دیکھنے کی کوشش کریں گے اور جائزہ لیں گے۔ مسلم علما نے سیکولرزم کی تشریح ایک غیر مذہبی سیاسی فکر کے طور پرکس طرح کی کہ اسے مذہبی سیاسی فکر کے بالکل متوازی تصور سمجھ لیا گیا۔

سیکولرزم

بعض جدید مسلم مفکرین سیکولرزم کے مسئلے کو حاکمیتِ اعلیٰ سے جوڑ دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیکولرزم کی بنیاد الوہی حاکمیت کی نفی پرہے، جبکہ آئرش ماہرِ سیاسیات کیتھلین کوانا کے مطابق سیکولرزم سے ہٹ کر بھی حاکمیت کی بات کرنا ممکن ہے۔اس طرح ہم مختلف طرح کی حاکمیتوں کے مابین فرق کر نے کے قابل ہو جاتے ہیں؛ ریاست کی حاکمیت، کسی فرد کی حاکمیت، کسی برتر،آزاد اور مقتدر قوت کی حاکمیت جو ریاست یا سماج کی طرف سے تسلیم کر لی جائے۔جدید مسلم مفکرین کے ہاں حاکمیت کی بحث انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران مغر ب میں ابھرنے والے تصوررِ ریاست کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ترک ماہرِ سماجیات نیازی برکس سیکولرزم کی ریاستی یا مذہبی بنیادوں کی نفی کرتے ہوئے اس کو ماڈرنائزیشن کا مسئلہ بتاتے ہیں۔ماقبل زمانہ جدید عیسائی معاشروں میں سماج و سیاست مذہب سے اس قدرہم آہنگ نہیں تھے، چنانچہ وہاں سیاسی و مذہبی دائروں کو الگ کرنا انتہائی آسان ثابت ہوا۔ اس کے برعکس مسلم معاشروں میں ابتدا ہی سے مذہب و سیاست کو باہم منسلک تسلیم کیا جاتا رہا جس کے باعث مسلمان معاشرے روایت پرست قدامت پسندوں، جدت پسندوں اور مذہبی اصلاح پسندوں کے مابین تقسیم ہو کر رہ گئے۔روایت پسند مسلمان اگرچہ کٹر مذہبی ہوتے ہیں لیکن کسی حد تک ان کے اندر حالات سے موافقت پیدا کرنے کی خاصیت پائی جاتی ہے۔ جدت پسند مذہب بیزار ہوتے ہیں اور سیکولرزم کے لیے ذہن و دل کھلے رکھتے ہیں، جبکہ اصلاح پسند مذہبی طبقات جدید اور جدت کے مقابلے کے لیے مذہب کے احیا کی ضرور ت پر زور دیتے ہیں۔

جدید تناظر میں سیکولرزم کی بحث مسلمان علما کے ہاں بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔1924ء میں سقوطِ خلافت کے بعدیہ رجحان قابلِ ذکر حد تک بڑھا ہے۔جدید پسِ منظر میں سیکولرزم کو تین مختلف زاویوں سے زیرِ غور لایا جاتا رہا ہے۔ یہ زاویے سماجیاتی، کلامی اورآئیڈیالوجیکل جہتوں پرمشتمل ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا میں مذہبی، ثقافتی اور نسلی تنوع کے باعث سیکولرزم کلامیاتی مسئلہ کے طور پر سامنے آیا۔نقیب العطاس نے ’علم کو اسلامیانے‘ کی تحریک اٹھائی۔ ان کے نزدیک مسلم شناخت کی تعریف کے لیے مطلوب علمی بنیادیں مذہب اور ثقافت سے میسر ہوتی ہیں۔العطاس کے نزدیک دو خصوصیات، وقت اور مقام سیکولرزم کا لازمہ ہیں، وقت سے مراد ابھی، اورمقام سے مرادفقط دنیا۔وہ سیکولرائزیشن اور سیکولرزم کے مابین فرق ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”مغرب میں سیکولرائزیشن سے مرادایسی سماجی تبدیلی ہے جو پہلے پہل فرد کو مذہب سے آزاد کردے، اور بعدازاں اس کی زبان و منطق پر حاوی مابعد الطبیعاتی احساس کو کھرچ دے۔“ وہ سیکولرازم کو ایک مذہب کے طور پربیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسی آئیڈیالوجی ہے جو انتہائی محدودنقطہِ نظر اورمطلق مجموعہِ اقدارپیش کرتی ہے اور ایک ایسے آخری تاریخی مقصد سے روشناس کرواتی ہے جسے انسان کے لیے سب کچھ قرار دیا جاسکتا ہے(یعنی اس کی کامیابی و ناکامی کا پیمانہ بنایاجاسکتا ہے)۔

مصر میں سیکولرزم سے متعلق بحث کا آغاز سقوطِ خلافتِ عثمانیہ کے بعد ہوتا ہے۔ علی عبد الرازق (م:1966ء)لکھتے ہیں کہ مسلمان خلافت کے ازسرنو قیام پر آمادہ نہیں تھے۔ الازہر کی جانب سے خلافت کا عہدہ مسترد کردیا گیا تھا۔ تاہم 1928ء میں اخوان المسلمین کی بنیاد رکھی گئی اور انہوں نے مذہب و سیاست کے مابین کسی بھی طرح کی تقسیم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کریں۔اخوان المسلمین سے وابستہ عالم یوسف القرضاوی سیکولرزم کو مغربی، مذہب مخالف اور ملحدانہ  آئیڈیالوجی قرار دیتے ہیں۔انہوں نے سیکولرزم کے حامی مسلمانوں کے خلاف ارتداد کا فتویٰ بھی جاری کیا۔

تیونس کی اسلام پسندسیاسی جماعت النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے حال ہی میں سیکولرزم کے حوالے سے اپنے موقف پر نظرِ ثانی کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ سیکولرزم کوئی نظریہ ہے نہ ہی آئیڈیالوجی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکولرزم صرف ایک نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں۔مثال کے طور پر مغربی سیکولرزم محض ایک انتظامی حل ہے۔”سیکولرزم کوئی ملحدانہ آئیڈیالوجی نہیں ہے بلکہ یہ ایک انتظامی بند وبست ہے جس کا مقصد عقائد و افکار کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔“اسلام نے اپنی ابتدا ہی میں میثاقِ مدینہ کے ذریعے مذہب و سیاست کو باہم منسلک کر کے مختلف مذاہب وعقائد کے افراد کو ایک سیاسی کمیونٹی کی شکل میں اکٹھا کردیا تھا۔ راشد الغنوشی کے نزدیک”کوئی بھی ریاست اسلامی ہو سکتی ہے اگر وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے تمام تر افعال و اعمال اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں، اس کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی مذہبی ادارے کے تحت کام کرے، ایسی کوئی بھی چیز اسلام میں نہیں ہے۔کوئی بھی ریاست رائے عامہ کی روشنی میں متعلقہ اداروں کے ذریعے اپنے فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہوتی ہے۔“اسلام کے اندر مذہب و سیاست کے مابین علیحدگی کی بجائے ان کے درمیان فرق یا تمیز روا رکھنے کی بات کی جاتی ہے۔سیکولرزم سے مراد سیاست سے مذہب کی علیحدگی نہیں ہے۔ اگر ایسا کیا جائے تو خطرناک صورتِ حال پیدا ہو جائے گی اور ریاست کسی اخلاقی حد بندی کے بغیر ایک مافیا کی صورت اختیار کر لے گی۔سماجی ہم آہنگی دراصل توازن کی متقاضی ہوتی ہے اور ”یہ توازن حاصل کرنے کے لیے ہمیں مذہب و سیاست کے مابین تمیزقائم رکھنے کے مسئلہ کی جانب واپس لوٹنا ہو گا اور ہمیں پیمانہ مقرر کرنا ہو گا کہ کیا چیز مذہب میں متغیر ہے اور کیا چیز مطلق۔“

جنوبی ایشیا میں سیکولرزم کو روایتی، تاریخی اورآئیدیالوجیکل، تین طرح کے مختلف تناظر ات میں دیکھا گیا۔قاری طیب کی کتاب فطری حکومت روایتی نقطہ نظر کی وضاحت کرتی ہے۔ان کے مطابق ایک ’الوہی سلطنت‘ کا قیام عین تقاضہ فطرت ہے اور یہ متوازن نظام کی ایک عمدہ ترین مثال ہے۔زمین پر حکومت دراصل اللہ تعالیٰ کی نیابت(خلافت) ہے۔ ایک ایسا نظامِ حکومت جو الٰہیانہ حکومت کے فطری ڈھب پر قائم ہوتا ہے۔نظامِ خلافت میں قانون سازی کی مالک و مختار اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے جبکہ دیگر طرز ہائے حکومت میں انسان اپنے آپ کو حاکمِ مطلق سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے دیگر حکومتی نظام آمرانہ و مستبدانہ بادشاہتوں میں بدل جاتے ہیں جبکہ خلافت میں شورائی اصول کسی بھی طرح کے آمرانہ یا شخصی اقتدار میں مانع رہتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نظام ِ خلافت میں قانونی اور فیصلہ سازی کے دیگر ریاستی اعمال میں صرف علمائے دین شریک ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ فقہ پر عبوررکھتے ہیں اور دین کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔اس نظام میں عام افراد کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اگرچہ وہ کسی مسئلہ میں اتفاقِ رائے ہی کیوں نہ پیدا کرلیں۔

علامہ محمد اقبال(1938ء) سیکولرزم کو تاریخی نقطہِ نظر سے دیکھتے نظر آتے ہیں۔وہ وضاحت کرتے ہیں کہ مذہب و سیاست کے مابین علیحدگی دراصل انتظامی تقسیمِ کار کے سلسلے میں سامنے آتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ”ہمیں سیاست و مذہب کی تقسیم کے اسلامی تصور کو چرچ اور ریاست کے مابین علیحدگی کے مغربی تصور سے گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔اسلام میں اس کی وجہ محض تقسیمِ کار ہے جبکہ مغرب میں یہ تقسیم مادہ و رُوح کی دوئیت کے مابعد الطبیعاتی تصور سے جڑی ہوئی ہے۔“

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی سیکولرزم کو ایک ملحدانہ آئیڈیالوجی سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے لادینیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ان کے نزدیک اسلام کی بنیاد دو اساسی اصولوں پر قائم ہے، ۱۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور۲۔ نفاذِ شریعت، اسی سبب انہوں نے سیکولرزم کو اسلام سے متصادم قرار دیا۔مولانا مودودی نے اسلامی ریاست کو مذہبی جمہوری ریاست کانام دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ”ایک اسلامی ریاست لادینی جمہوریت کی بنیاد پر قائم نہیں ہوسکتی کیوں کہ ایک اسلامی ریاست میں اقتدارِ اعلیٰ کا مالک عوام نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے۔“ان کے نزدیک اسلام کے اندر عوام کوقوانین وضع کرنے کی آزادی میسر نہیں ہے۔یہ بات پہلے بھی ذکر کی گئی ہے کہ مولانا مودودی کا ماننا ہے کہ دین کی اصطلاح اس قدر جامع اور اس درجہ منفرد ہے کہ اسے کسی بھی دوسری زبان میں اپنے تمام تر معنی و مفہوم کے ساتھ ترجمہ کرنا ناممکن ہے لیکن وہ لکھتے ہیں کہ ”جدید لفظ ’ریاست/اسٹیٹ‘ اس کے قریب تر ہے تاہم یہ لفظ بھی دین کی تمام تر جزئیات کا کامل احاطہ نہیں کرپاتا۔“

سماجی جہت

ان مباحث میں امام الحرمین الجوینی کی تصنیف غیاث الامم فی التیاث الظلم کا حوالہ کافی موزوں معلوم ہوتا ہے۔اس کتاب کے لکھنے کا مقصد حکمرانوں اور ریاستی افسران کے جبر و استبداد کے خلاف عوام کی مدد کرنا تھا۔اس کتاب میں الجوینی لکھتے ہیں کہ رسولِ مکرمﷺ کی وفات کے بعد مذہبی اختیار کو قرآن و سنت تک محدود کردیا گیا اور دیگر تمام معاملات سماجی اتفاقِ رائے سے حل کیے جاتے تھے۔الجوینی اس بات کے قائل تھے کہ ریاست کا قیام ایک مذہبی فریضہ نہیں ہے اور وہ علما کی اس رائے سے اختلاف رکھتے تھے کہ یہ نظریہ قرآن و سنت سے ماخوذہے۔وہ اس نظریے کے باطل ہونے کے بارے میں کافی تفصیل سے لکھتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ ضرورت سماج کی جانب سے محسوس کی گئی تھی اور اجماع کے ذریعے اس کو جواز دیا گیا تھا۔ لہٰذا یہ محض ایک سماجی بندوبست تھا۔ مذہبی طور پر جو چیز واجب تھی وہ امام، خلیفہ، امیر یا حکمران منتخب کرلیے جانے کے بعد اس کی اطاعت کرنا تھا۔وہ اپنے اس موقف کی حمایت میں مذہبی استدلال پیش کرتے ہوئے اولاً لکھتے ہیں کہ اگر ریاست کے قیام کا مقصد الوہی احکامات کی روشنی میں زمین پر نظم و ضبط قائم کرنااورلوگوں پر سزاؤں کا اطلاق عمل میں لانا ہوتا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مستقل طور پر انبیا بھیجے جاتے رہتے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، یہاں تک رسولِ مکرمﷺ پر سلسلہِ رسالت ختم ہو گیا۔تاریخی طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ کئی زمانے ایسے گزرے ہیں جن میں ایک طویل عرصے تک کسی بھی نبی کی بعثت نہیں ہوئی۔ثانیاً وہ لکھتے ہیں کہ لوگوں کو عذاب سے بچانا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری نہیں ہے، حتیٰ کہ رسولِ مکرمﷺ کو بھی لوگوں کی نجات کے لیے نہیں مبعوث کیا گیا تھا، آپﷺ کی ذمہ داری محض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچانے کی تھی۔ رسولِ مکرمﷺ نے معاشرے کو منظم کیا، اسے ایک سماجی بند وبست میں پرویا اور انہیں اپنے معاملات چلانے کے لیے رہنمائی دی۔آپؐ نے لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کیا، نہ ہی نافرمانی کرنے والوں پر سزا کا کوئی اطلاق عمل میں لائے۔آپؐ نے صرف ان لوگوں کی رہنمائی کی جنہوں نے آپؐ کی بات ماننے پر آمادگی ظاہر کی۔اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ بات بتائی کہ رسولِ مکرمﷺ کوئی آمر یا مستبد حکمران نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو بدلنے پرمائل نہیں ہوگئے۔اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے آخر میں الجوینی لکھتے ہیں کہ انبیا و رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے چنے جاتے تھے جبکہ ائمہ کا انتخاب سماج کرتاہے، یعنی امامت کے جواز کا ذریعہ سماج بنتا ہے۔

لیکن چونکہ کمیونٹی سربراہ کے طور پر امام کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے اور امامت ایک جامع ادارہ کے طور پروجود رکھتاہے جو جملہ ریاستی افعال (سرحدات اورزیرِ نگیں علاقے کا تحفظ، رعایا کی حفاظت اور دیکھ بھال، اسلام کی طرف دعوت کا انتظام، اور مجبور و مقہور لوگوں کو جبر و استبداد سے آزادی وغیرہ) کا ذمہ دار ہوتاہے۔ قانوناًامام کا اختیار دو طرح کے قوانین پر ہوتا ہے: ۱۔قانونِ عامہ، جس کا تعلق امام اور اس کے گورنروں سے ہوتا ہے جو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا اختیار رکھتے ہیں،اور ۲۔ سماجی قوانین،بہ الفاظ ِ دگر ایک امام کے قانونی اختیارات قانونِ عامہ اور انتظامی امور سے وابستہ ہوتے ہیں۔مسلم سماج کا فرد ہونے کے ناطے فقہاعوام اور حکمرانوں کے درمیان واسطے کا کردار ادا کرتے ہیں۔وہ قوانین کی توضیع و تکمیل کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔علم و تقویٰ کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونے کے سبب انہیں اجتہاد کا حق حاصل ہوتا ہے۔

الجوینی کے نزدیک نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی اقتدار کا منبع سماج ہوتا ہے جس میں اختیار ات کو بروئے کار لانے کے لیے اجماع سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ان کے نزدیک اجماع سے مراد محض فقہا کا اتفاقِ رائے نہیں ہے بلکہ عوامی اتفاقِ رائے بھی اجماع ہی کی ایک شکل ہے، گویا الجوینی امام یا فقیہ کو مطلق اقتدار تفویض کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ وہ فقہا کے مابین اختلاف کو فقہی آرا، تصورات اوراداروں کے ارتقا کا باعث سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ فقہی اختلافات کے مثبت یا منفی اثرات کا حل اجماع کے ذریعے نکالاجاتا ہے۔ اجماع کی بہترین مثالیں عرف اور عادت (رسوم و رواج) کے مسئلہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی عادات و اطوار اور پسندنا پسند کی بنا پرمختلف رسوم ورواج اپنائیں، کیونکہ یہ ان کے طرزِ بودوباش کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں۔ نسل در نسل لوگ ان رسوم ورواج پر متفق چلے آرہے ہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ یہ باقی رہتی ہیں۔افکارو خیالات اور توقعات و خواہشات میں فرق کے باوجود یہ رسوم و رواج انہیں باہم متحد رکھتے ہیں۔یہ ایک فطری سماجی عمل ہے کیوں کہ انسان کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ تنہا زندگی بسر کرے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی طرح کا اتفاقِ رائے یا اجماع سیاسی نظام سے متعلقہ معاملات کے حوالے سے بھی سامنے آنا چاہیے۔

نتیجہ

اس ساری بحث کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ جمہوریت کے حوالے سے مسلم دنیا میں پائی جانے والی ہچکچاہٹ کی وجوہات کو حالیہ مسلم سیاسی فکر کے تصورِ ریاست کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ زمانہ وسطیٰ کی مسلم فکر عملیت پسند خواص کی حامل تھی جس میں ریاست کے قیام کو مذہبی طور پر واجب نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ حکومتی اصول کے طور پر قانون کی عملداری اور حاکم ِ وقت کے اقتدا کو مذہبی فریضہ تسلیم کیا جاتا تھا۔نظریہ توأمان اور سیاست سے متعلق درج بالا مختصر بحث سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم سیاسی فکر نے سیاسی بحران کے لیے معقول جوابی طرزِ عمل فراہم کیا اور انصاف، مفادِ عامہ اور قانون کی حکمرانی جیسے تصورات کے تناظر میں سیاسی و مذہبی اختیارات کی حدود میں ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کی۔ریاست و مذہب کو جڑواں بھائی قرار دینے والا تصور مذہب و سیاست کی جداگانہ حیثیت کا معترف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے مابین باہمی انحصار کے تعلق پر زور دیتا ہے۔اگرچہ ایک مسلم سماج میں مذہبی تعلیمات سے رُو گردانی کسی طور جائز نہیں ہے، تاہم کوئی بھی ادارہ یا فرداُن مذہبی اختیارات پر اپنے استحقاق کا دعویٰ نہیں کرسکتا جو رسولِ مکرم ﷺ کو بحیثیت پیغمبر حاصل تھے۔ یہ ضروری ہے کہ مذہبی و سیاسی معاملات میں اختلاف کے مسئلہ کا حل مسلم سماج کے اتفاقِ رائے یا اجماع کے ذریعے نکالا جا نا چاہیے۔تاہم کچھ جدید مسلم مفکرین مذہب کا دائرہِ کاربڑھا تے ہوئے اسے طاقت یااقتدار کی ایک آئیڈیالوجی کے طور پرپیش کرتے ہیں، اس طرح وہ مذہب کو عوامی عمل سمجھتے ہیں اور جمہوری تغیرپرا ثرا نداز ہوتے ہیں۔

تجاویز و سفارشات

ذیل میں چند سفارشات و تجاویز پیش کی جاتی ہیں:

1۔ سیاست سے متعلق حالیہ مغربی و مسلم ادب میں مسلم سیاسی عملیت پسندی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔بعض جدید مسلم مفکرین تصورِ ریاست کے دام میں ایسے پھنسے ہیں کہ وہ مذہب کو اس کے ہم پلہ قرار دینے سے ذرا بھر نہیں ہچکچاتے، جبکہ اس طرح مذہب و سیاست کی حدود گہنا جاتی ہیں۔تاہم مسلم سماج کو اس چال میں نہیں آنا چاہیے۔ حالیہ تاریخ میں یہ فکری روش مسلم معاشروں میں جمہوریت بیزاری اور آمریت پسندانہ آئیڈیالوجی کو جنم دینے کا باعث ہے۔

2۔ اجماع کو نظر انداز کردیا گیا ہے، جبکہ مسلم کلاسیکی فقہی فکرکے تناظرمیں ہم دیکھتے ہیں کہ سماجی اتفاقِ رائے کی تشکیل میں اجماع کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔آج کل حاکمیت کا تصور انتہائی مبہم طریقے سے پیش کیا جاتا ہے، جس سے مذہبی وسیاسی حاکمیت یا ریاست کی حاکمیت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے دائرہِ کار میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس ابہام میں مذہبی علما بطور غیر ریاستی عناصربنیادی کردار ادا  کررہے ہیں۔ابہا م کی اس کیفیت نے قانون کی حکمرانی کے مشترکہ معاہدے اور تصورِ قانون کو دھندلا دیا ہے، ہمیں اس کیفیت سے باہر نکلنا چاہیے۔

3۔ ضرورت ہے کہ مسلم سیاسی نظام میں سیاست اور دیگر بنیادی تصورات کے مقاصد کے درمیان فرق کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر بنیادی انتظامات، بنیادی حقوق، قانون کی حکمرانی، ریاستی اختیار، انصاف کی تنظیم اورقانون کے سامنے برابری وغیرہ جیسے بنیادی تصورات جو تمام معاشروں اور مذہب میں مشترک ہیں اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ان بنیادی تصورات سے آگاہی اور ان کے سماجی نفوذ کے لیے ثقافتی، اخلاقی اور مذہبی اقدار بروئے کار لائی جانی چاہییں۔

4۔ سماجی و قانونی تبدیلی کبھی بھی قانون کے زبردستی نفاذ سے عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اجماع کوبطور سماجی اتفاقِ رائے،جامعات اور تحقیقی اداروں میں روشناس کروایا جائے اور بحث مباحثوں، تنقید ی تجزیاتی مطالعوں اور دیگر موزوں سرگرمیوں کے ذریعے عوام کو اس سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے۔

مترجم: حذیفہ مسعود

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...