سماج کا وجودِ نامی اور تہذیبِ نفس کا آبِ حیات

ادریس آزاد

269

تاریخ کا ہر انسانی سماج بقائے باہمی کی غرض سے اور اپنی ضروریات کے پیش نظر ایک مخصوص نظمِ اجتماعی تشکیل دیتا رہا ہے۔اس کی مختلف شکلیں رہی ہیں تاہم ان سب میں شر وخیر کے محرکات کے حوالے سے تصورات میں ایک طرح کی فکری ہم آہنگی رہی ہے جسے ’بشری اخلاقیات‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اخلاقیات فطری دائرے میں مصنوعی نہیں ہوتی ہیں،لیکن جدید عہد میں ’نظریہ افادیت‘ ایک تسلیم شدہ اخلاقی حقیقت کے طور پہ سامنے آیا ہے جو بشری فطری ساخت کو متأثر کررہا ہے اور باہمی تعلقات میں مفاد پرستی کو اہم ترین بنا رہا ہے۔ادریس آزاد نے اسی قضیے پر فلسفیانہ پہلو سے روشنی ڈالی ہے کہ کیسے انفرادی وقومی تہذیبِ نفس کے عمل کو اس کی حقیقی قدروں پر استوار کیا جانا چاہیے۔مصنف بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں فزکس کے پروفیسر ہیں،سماجیات میں گہرا شغف رکھتے ہیں اور ایک درجن سے زائد کتب تصنیف کر رکھی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے انسانوں کے کسی گروہ کو سماج کہتے ہیں۔ لیکن ہم  یہ تصورکرنے سے قاصر ہیں کہ سماج ایک زندہ وجود کی مانندہے۔’’جارج۔ آر۔ میکلے (George. R. Maclay) ‘‘نےاپنی کتاب،’’سماجی جاندار: سماج کے وجودِ نامی کے تصورکی مختصرتاریخ ‘‘میں ارسطو اورکامتے سمیت متعدد مفکرین کے حوالے سے انسانی سماج کو ایک زندہ وجود قراردیاہے۔ (1)   اِس تصورکو انیسویں صدی میں فرانسیسی ماہرِ سماجیات’’ایمائل درخیم (Emile Durkheim) ‘‘کے کام سے مزید استحکام ملا۔درخیم نے کہا کہ کوئی سماج بطور ایک وجودِ زندہ جس قدراعلیٰ فّعالیت کا حامل ہوگا اُسی قدراسے استحکام اور سربلندی نصیب ہوگی۔(2)۔

عام طورپر ثقافت، سیاست اور معیشت، کسی سماج کی بنیادی سرگرمیاں سمجھی جاتی  ہیں۔کسی سماج کی صحت کا اندازہ اِن تینوں سرگرمیوں کے باہم تعلق کی صحت پر منحصر ہے۔سماجی صحت کےتصورکو ’’روڈلف سٹائنر(Rudolf Steiner) ‘‘ نے اپنے لیکچرز، مضامین اور کتابوں میں   مسلسل موضوع بنایا اور نکھارا(3)۔  سماج  ایک زندہ وجود ہے، کے موضوع  پر ’’ہربرٹ سپنسر(Herbert Spencer)  ‘‘ کے مضمون ’’سماجی جاندار(The Social Organism)  میں  تفصیلی   بحث  موجود ہے(4)۔یہ سوال کہ ہم کس طرح سماج کے وجودِ نامی میں بطورفرد اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں، ہمیشہ سے اِس نظریے کے ماننے والوں کے لیے بنیادی سوال رہاہے۔ سٹائنر اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتاہے:

’’ہمیں یہ سیکھناہوگا کہ ہم اپنی ’’مَیں(خودی)‘‘ کو معاشرے میں کیسے داخل کرسکتے ہیں۔ سماج کی نئی ساخت فطرت کی طرف سے وارد نہیں ہوگی بلکہ اب یہ صرف انسانی’’مَیں‘‘ میں سے برآمد ہوگی۔فردسے فردتک ’’مَیں‘‘ کی حقیقی تفہیم اُس وقت ممکن ہے جب ہم دوسروں کی ضروریات کو اپنے تجربات کی روشنی میں سمجھ سکتے ہوں‘‘۔(5)

’’ڈیوڈسلون وِلسن (David Sloan Wilson) ‘‘ اپنی کتاب ’’ڈاروَن کا گرجا(Darwin’s Cathedral) ‘‘ میں اپنے تہہ دارنظریۂ قدرتی انتخاب   کاانطباق انسانوں کے سماجی گروہوں پر کرتاہے اوردلائل کے ساتھ تجویز کرتاہے کہ انسانی سماج کو ایک وجودِ زندہ تصورکیاجاناچاہیے۔ اس کے بقول انسانی سماج الگ الگ افراد کے مجموعی کاموں کانام نہیں بلکہ  یہ ایک ہی وجوداورایک ہی اکائی  ہے۔وہ کہتاہے کہ نظریۂ ارتقأ کے بقول ’’ انواع ہمیشہ ایک مخصوص ماحول میں ہی افزائشِ نسل کے قابل اورجہدِ للبقأ کے عمل میں شریک ہوتی ہیں اوردیکھاجائےتو عام انسانی گروہ عمومی طورپرجبکہ مذہبی گروہ خصوصی طورپر اِس فطری قانون کی شرائط پر پورا اُترتے ہیں‘‘۔6)

لیکن سماج کو ایک زندہ وجود قراردینےوالی پہلی ہستی پاک پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ بخاری و مسلم کی ایک حدیث ہے کہ:

مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ؛ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى۔(7)

ترجمہ:باہمی مودت، صلی رحمی اور ہمدردی کے معاملے میں مؤمنوں کی مثال ایسے ہے جیسے ایک  زندہ جسم۔اس کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہوتوسارے جسم کو بخاراوربے آرامی سہنا پڑتی ہے۔

چنانچہ سماج اگرایک وجودِ زندہ ہے تواس کا جسم افراد کی مشترکہ ثقافت(کلچر)، معیشت اورسیاست ہے جبکہ اس کی رُوح  افراد کی وہ  مشترکہ اخلاقیات ہے، جو مودت، صلہ رحمی اورہمدردی کے خمیر سے اُٹھتی ہے۔افراد کی ذاتی حیثیتوں کی مجموعی شکل  سماج کی ذاتی حیثیت میں ظاہرہوتی  ہے۔توانا سماج کے قوٰی ایک توانا  نامی وجود کے قویٰ کی طرح فعّال اور تخلیقی ہوتے ہیں۔جبکہ ایک تخلیقی سماج  کی اخلاقیات (یعنی رُوح) کلیۃً  فطری، بایں ہمہ خود تخلیقی ہوتی ہے۔تخلیقی ہونے کے  سبب  وہ ایک آرٹ ہے اور فطری ہونے کی وجہ سے وہ کسی غنچے کی چٹخ  ، کسی جھرنے کے ترنم یا   کسی ساحل پرکھیلتے پرندوں کے   پنجوں سے ریت پربن جانے والے قدرتی شہکار جیسی بے ساختہ چیز  ہے۔ایک تخلیقی سماج کو مصنوعی اخلاقیات سے کوئی غرض نہیں ہوسکتی کیونکہ مصنوعی اخلاقیات  اُس سماج کے تخلیقی ذہن سے برآمد نہیں ہوتی بلکہ  وہ کسی فردِ واحد کی لکھی ہوئی تحریر ہوتی ہے۔تخلیقی سماج اپنے تفاخر میں ایسی مصنوعات کو جگہ دینے کا عادی نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود قدرت کی سب سے حسین آرٹ  یعنی ’’ تہذیبِ نفس‘‘  کا خالق ہے۔ جبکہ تہذیبِ نفس ایک  زندہ سماج  کے درخت کا وہ  پھل ہے جس کی مٹھاس افرادِ معاشرہ  کو مشترکہ فعّالیت  میں  مست رکھتی ہے اور اُن کے غرورعشق کو ماند نہیں پڑنےدیتی۔ حقیقی معنوں میں مہذّب سماج وہی ہے جو تہذیبِ نفس کی دولت سے مالامال ہےکیونکہ  ایسے سماج کے لیے ’’کارآمد اخلاقی اُصول‘‘ اعلیٰ تہذیب نفس کی  نگرانی میں خودکارطریقے پرتشکیل پاتے ہیں۔نئےاُصول غیرمحسوس طریقے پر اپنی جگہ بناتے اورپرانے اصول خودبخودمعاشرے کے کینوس سے غائب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مستقل اخلاقی قدروں کی حفاظت اور قابلِ مرمت اصولوں کی تشکیلِ نَو کاکام تخلیقی سماج کا مدافعتی نظام (Immune system)   اپنے آپ ہی انجام دیتاہے۔

روڈلف سٹائنر اور ہربرٹ سپنسر کے نزدیک ثقافت، معیشت اورسیاست وہ تین بنیادی اجزأ ہیں جن کے اشتراک سے ایک معاشرے کی صحتِ جسمانی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔لیکن اخلاقیات وہ واحد جزو ہے جو انسانوں کے کسی گروہ میں رُوح ڈال کر اُسے مُردہ معاشرے سے زندہ سماج بناتی ہے۔ چنانچہ جب کسی سماج کا جسم مضمحل ہوجائےلیکن اُس کی رُوح تابندہ رہے تواُس کا کچھ نہیں بگڑتا لیکن اگرکسی سماج کی رُوح مضمحل ہوجائے تو وہ آسانی سے تندرست نہیں ہوسکتا، چاہے اُس کا جسم کتنا ہی تنومند کیوں نہ ہو۔کیونکہ رُوح کے مضمحل ہوجانےکا دوسرا مطلب ہے کسی معاشرے کا تہذیبِ نفس سے عاری ہوجانا۔

سماج کی علمیاتِ اخلاق(Epistemology of Ethics)

اب ہم  انسانی سماج کی علمیاتِ اخلاق پر ایک نظرڈالتے ہیں تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ آخرتہذیبِ نفس جیسے انمول قدرتی تحفے کا جنم  اورپرورش کسی سماج میں کیونکر ممکن ہوپاتی ہے۔ روزمرّہ مشاہدے سے ثابت ہے کہ  فرد جب اکیلا ہوتاہے تو اس کی شخصیت کا غالب حصہ مثالی (Ideal)  جبکہ مغلوب حصہ مادی (Material)   ہوتاہے۔ لیکن جب فرد، اجتماع میں ہوتا ہے تو اس کی شخصیت کا غالب حصہ مادی جبکہ مغلوب حصہ مثالی ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکیلا انسان اپنی ذاتی زندگی میں مادی کائنات کے بہت کم اجزأ سے منسلک رہتاہے۔ ایک انسان کے مقابلے میں دیگر حیوانات کی انفرادی زندگی کا غالب حصہ مادی کائنات کے ساتھ مکمل طورپر جُڑاہواہے۔ ایک چوپائے یا ایک درندے کی تمام  تگ و دو مادی کائنات کے اجزأ کے حصول تک محدود رہتی ہے۔ جبکہ ایک انسان کے، کھانے پینے اور دیگر جسمانی حاجات کے رفع کرنے کا کُل وقت اُس انسان کی باقی ماندہ حاجاتِ شخصی کے مقابلے میں اتنا کم ہے جیسے آٹے میں نمک۔ یاد رہے کہ ’’خودی کے لیے استراحت کا سامان‘‘ مثالی دنیا سے تعلق کی مثال ہے۔ پیسے کے حصول کے لیے کی گئی سوچ بچاربھی شخص کی حیاتِ مثالی کی مثال ہےنہ کہ حیاتِ مادی کی کیونکہ پیسے کے خواب دیکھنا بھی خواب دیکھناہی ہے۔ ایک شخص جو ہروقت کاروباری سوچیں سوچ سکتاہے، مثالی دنیا میں مقیم ہے۔ اسی طرح ایک کھلاڑی، ایک سپاہی، ایک دکاندار، ملازم، مزدور حتیٰ کہ بھکاری بھی اپنی ذاتی زندگی میں خیالات کی دنیا کا باشندہ ہے، بایں ہمہ مثالی دنیا میں جیتا ہے۔ جانور اپنی یاداشتوں کے سہارے اپنے خیالات کے تانے بانے بُننے کا اہل نہیں ہے چنانچہ جانور کی ذاتی زندگی بھی مادی ہے اور اجتماعی زندگی بھی۔ لیکن ایک انسان کی ذاتی زندگی اپنی ماہیت میں مثالی جبکہ اجتماعی زندگی مادی ہے۔ چنانچہ یُوں کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ایک انسان کی انفرادی زندگی پر روحانیت جبکہ معاشرتی زندگی پر مادیت غالب رہتی ہے۔ یہاں رُوحانیت کی اصطلاح سے یہ التباس نہ پیدا ہونا چاہیے کہ رُوحانی سے لازمی طورپر الوہی بھی مُراد ہے۔ یہاں رُوحانی سے فقط مثالی یا تصوراتی مُراد ہے۔

غرض اکیلے فرد کی شخصیت کی تدوین ہوتی ہے تو اس کی شخصیت کے مثالی پہلُو سے۔ وہ تنہائی میں کیا سوچتاہے۔ وہ اپنے آپ کے ساتھ رہتے ہوئے کن خیالات میں مگن رہتاہے۔ وہ اپنے آنے والے کل کے لیے کیا منصوبہ بندی کرتاہے۔ ایک مقولہ ہے کہ ’’ہماری تنہائی کی سوچیں ہمارے مستقبل کی گونج ہوتی ہیں‘‘۔(8) اسی مقولے کے مصداق، ہم اپنے معاشی یا جنسی حالات سے بڑھ کر اپنی سوچوں کا پرتَو ہوتے ہیں۔ دنیا میں جرم وسزا کی داستانیں انفرادی انسانی سوچوں کی تکسید ہوتی ہیں نہ کہ معاشی یا جنسی احتیاجات کی۔کسی ایک انسان کے قتل سے لے کربڑے بڑے فاتحین کے مجرمانہ حملوں تک، جیب کاٹنے کے عمل سے لے کر دوسرے ملکوں کے معدنی ذخائر لوٹنے کے عمل تک، گلی محلے کے لڑائی جھگڑے سے لے کر جنگی جرائم تک تمام دنیائے فساد میں انفرادی انسانی سوچ کی کارفرمائی ہوتی ہے نہ کہ اجتماعی انسانی سوچ کی۔

انسانی اجتماع یا معاشرہ چونکہ کم خیالی (مثالی) اور زیادہ مادی بنیادوں پر اُستوار ہوتاہے، اس لیے بنیادی احتیاجات کی شراکت افراد کو جرائم کرنے میں مانع ہوتی ہے۔یوں گویا  کسی بھی اجتماع یا معاشرے کا مدافعتی نظام ضرررساں اخلاقیات کو خودکارطریقے پر منسوخ کرتارہتاہے۔ ایک ایسا معاشرہ  بھی جس کے پاس کوئی مذہبی اساس موجود نہ ہو، منطقی اعتبار سے بہت سی اخلاقی قدروں پر متفق ہوتاہے۔ کسی بھی انسانی اجتماع کا بہت سی مشترکہ اخلاقیات پر متفق ہونا ایک سائنسی عمل ہے۔ یہ عمل خودکار طریقے پر انجام پاتاہے۔

کوئی بھی انسانی اجتماع جب اپنے لیے اخلاقی اُصول مرتب کرتاہے تووہ اُصول دراصل چند ایسی ممانعتیں ہوتی ہیں جن کی موجودگی میں انسانی اجتماع تادیر قائم رہ سکتاہے۔ یہ بنیادی اصول دراصل وہ مشترکہ اخلاقی نکات ہوتے ہیں جن پر افراد کا کوئی اجتماع متفق ہوتا اور چلتا رہتاہے۔ ایسے مشترکہ نکات کے تشکیل پانے کی واحد وجہ انسانی اجتماع کاوجود ہے۔ اگر انسانی اجتماع نہ ہو تو ایسے اخلاقی نکات کا پیدا ہوجانا ناممکن ہے۔ ایک اکیلے فرد کو اجتماع ِ انسانی کی اخلاقیات سے اُس وقت تک کوئی سروکار نہیں جب تک اس کا اپنا معاملہ باقی انسانوں کے ساتھ نہ پیش آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ فرد کی انفرادی اخلاقی زندگی اور اس کی اجتماعی اخلاقی زندگی دراصل دو الگ الگ زندگیاں بن کر چلتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ فرد کی انفرادی اخلاقی زندگی اور اجتماعی اخلاقی زندگی کے اُصول بھی دو مختلف ذرائع سے مرتب ہوتے ہیں۔

انسانی معاشروں کے بعض اخلاقی اُصول ایسےہوتے ہیں جوتقریباً تمام معاشروں میں ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔مثلاً کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص کے منہ سے نوالہ چھین کر خود کھالینا ایک ایسا عمل ہے جس پر دنیا میں انسانوں کا ہراجتماع یقیناً متفق ہوگا کہ یہ ایک بُرائی ہے اور اِس کی ممانعت  ضروری ہے۔ کسی کی مرضی کے خلاف کسی کے ساتھ کوئی جنسی حرکت کرنا بھی ایسا ہی ایک عمل ہوسکتاہے جس کی ممانعت پرامکانِ غالب ہے کہ  تمام معاشرے متفق  ہوں گے۔ایسی اقدار کو مستقل اقدار  کہاجاتاہے، جن پر تمام معاشرے متفق ہوں۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔مستقل اخلاقی اقدار کی موجودگی میں پوری زمین کا ایک مشترکہ سماج وجود میں آتاہے۔ ایسے سماج کو قران کی  زبان میں ’’اُمت‘‘ کہتے ہیں۔ (9)

الغرض فرد کی انفرادی ذاتی زندگی زیادہ خیالی (مثالی)  اور کم جسمانی ہے تو معاشرے کی اجتماعی زندگی زیادہ جسمانی اورکم خیالی (مثالی) ہے۔ فرد اور اجتماع کے موازنے میں روحانیت اور جسمانیت کی شرح اُلٹ جاتی ہے تو انطباق بھی الٹ جاتاہے۔ بالکل اسی طریق پر فرد اور اجتماع کے لیے زندگی کے اخلاقی اصول بھی مرتب ہوتے ہیں۔ یعنی فرد کو اپنی ذاتی زندگی میں جن اخلاقی اُصولوں کی ناگزیریت کی حد تک ضرورت ہے وہ اس کی جسمانی زندگی سے مرتب ہوتے ہیں جبکہ معاشرے کو اپنی حیاتِ اجتماعی کے لیے جن اخلاقی اصولوں کی ناگزیریت کی حد تک ضرورت ہے وہ اُس کی رُوحانی(مثالی) زندگی سے تشکیل پاتے ہیں۔ فرد اور اجتماع ہردوصورتوں میں اخلاقی اُصول جن ذرائع سےا ٓرہے ہیں ان کا دخل حیاتیاتی سطح کی زندگی میں کم ہے۔ حیاتیاتی سطح کی انسانی زندگی انفرادی ہویا اجتماعی ہردوصورتوں میں فقط مادی ہے۔ جبکہ اخلاقی اصولوں کو مادیِٔ محض میں دخل انداز ہونے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آتی۔ جنگل کے قانون میں اخلاقی اصولوں کی کیا ضرورت؟ اخلاقی اصولوں کی ضرورت فقط انسانی معاشرے کو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاقی اُصول، جو حیاتِ انسانی کو مستحکم بنانے کےلیے ہردوسطحات پروجود میں آتے ہیں فی الاصل ارتقائے حیات کا ہی خاصہ ہیں چنانچہ اِن اُصولوں کو کوئی ذی شعور مرتب نہیں کرتا بلکہ یہ اُصول فطرت کے بطن سے نمودار ہوتے اور حیاتِ انسانی کو قائم و دائم رکھنے کے لیے ازخودسرگرمِ عمل رہتے ہیں۔

فرد کی سطح پر انفرادی اخلاقی اُصول کسی برترنصب العین کی موجودگی کے بغیر بھی قائم رہ سکتے ہیں لیکن معاشرے کی اجتماعی زندگی ہمیشہ کسی نہ کسی برترنصب العین کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ وہ برترنصب العین کچھ بھی ہوسکتاہے۔ مثلاً ایک قوم کے افراد فقط اپنے دورِ غلامی میں زندہ رہنا چاہتے یا فقط آزادی کے خواہاں ہیں تو یہ بھی ایک برترنصب العین ہے۔قابلِ توجہ امریہ ہے کہ ایک آزاد معاشرے کے افراد کا برترنصب العین جہدللبقأ کے برعکس تمکن فی الارض ہوتاہے اور وہ اپنے عہد میں آسمانوں کو چھونے کے خواب اور پھر اُن کی تعبیریں  دیکھتے ہیں۔

چونکہ فرد کی سطح پر انفرادی اخلاقی اُصول کسی برتر نصب العین کی موجودگی کے بغیر بھی قائم رہ سکتے ہیں۔ اِس لیے ایک شخص فقط اس لیے اپنے آپ پر بعض حرکتیں ممنوع قرار دے سکتاہے کہ وہ حرکتیں اسے اپنے لیے پسند نہیں ہیں اور جب تک وہ خود کو مجبور نہیں پاتا وہ ایسی حرکتیں انجام نہیں دیتا۔ مثال کے طورپر ایک شخص کو ’’ہَپ ہَپ‘‘ کرکے کھاناپسند نہیں ہے۔ وہ اکیلے کمرے میں بھی ایسا نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اسے ایسا کرنا پسند نہیں ہے۔ یا کوئی شخص، جب تک مجبور نہ ہو، اکیلے کمرے میں بھی میز پر گری ہوئی غذا یا مشروب کو زبان سے چاٹ کر پینا پسند نہیں کرےگا۔ تو ایسی حرکتیں جو اکیلا شخص اپنی تنہائی میں بھی اپنے لیے پسند نہیں کرتا، وہ فرد کی ذاتی اخلاقیات ہے۔ فرد کی ذاتی اخلاقیات کا کسی برترنصب العین کے ساتھ منسلک ہونا ضروری نہیں ہے لیکن یہ منسلک ہوبھی سکتی ہے۔ فردکی یہی ذاتی اخلاقیات  کبھی کبھار استمرار کےساتھ مذہبی اخلاقیات میں بدل جاتی ہےاوردھیرے دھیرے افراد کی ایسی ذاتی اخلاقیات برتر نصب العین کی سی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔

ایک بات جس سے ’’مَزدکی فکر‘‘ ہمیشہ چشم پوشی کرتی رہی ہے وہ یہ ہے کہ روٹی اکیلے انسان کا مسئلہ نہیں بلکہ اُس انسان کا مسئلہ ہے جو اکیلا نہیں، یعنی معاشرے کا حصہ ہے۔ اکیلا انسان بھوک سے خوفزدہ نہیں ہوسکتا کیونکہ اکیلے انسان کی بھوک کا مسئلہ غیر فطری ہے۔ مثلاً  اگروہ مال جمع بھی کرنا چاہے تو جلد ہی اس پر عیاں ہوجائےگا کہ اس عمل سے اُسے کچھ فائدہ نہیں۔ کوئی بھی انسان جب بھوک سے خوفزدہ ہوتاہے تو تحفظِ خویش کے جذبہ سے خوفزدہ ہوتاہے اورخویش ہی تو کسی انسان کا سب سے پہلا معاشرہ ہیں۔ خویش کا دائرہ کار بڑھ کر ہی قبیلے یا معاشرے میں تبدیل ہوتاہے۔چنانچہ اکیلا انسان یا فردِ معاشرہ جب  مذہبی اخلاقیات یا بالفاظِ دِگر اپنی ذاتی اخلاقیات کو خودکار طریقے پر سنوارتا چلا جاتاہے تو اُس کی یہ کوشش بھی عین ارتقائی عمل ہے۔ لیکن اس کی یہ کوشش پورے معاشرے کی نفسیاتی زندگی کو ترتیب دیتی ہے۔ اگر فردِ معاشرہ اپنی ذاتی اخلاقیات میں احساسِ کمتری کا شکارہے تو معاشرہ مجموعی طورپرجرائم پیشہ افرادسے بھرجاتاہے۔

ہم فرد کی اِسی ذاتی اخلاقیات کو’’ نجی اخلاقیات‘‘  بھی کہہ سکتے ہیں۔ فردکی یہی نجی اخلاقیات نفسِ واحد کا وہ ممنوعہ علاقہ ہےجہاں  تہذیبِ نفس  کسی نازک پودے کی طرح جنم لیتی ہے۔نفسِ انسانی کا یہ ممنوعہ علاقہ وہی ہے جسے وزیرآغا نےہنری ملّر کے حوالے سے وجودکاجزیرہ کہاہے۔ جہاں اکیلا انسان اُس ملّاح کی طرح قید ہوکر رہ گیاہے جس کا جہاز تباہ ہوچکاہو۔(10)

فرد کی نجی اخلاقیات میں تہذیب  نفس کی پیدائش کا خودکار عمل کیوں کرشروع ہوتاہے؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ  دراصل  انسان اپنی بے بسی پر کُڑھنے والی مخلوق ہےاور تہذیبِ نفس کا پودا بے بسی کی اِسی کھاد  کی موجودگی میں   پھُوٹتاہے۔لیکن اپنی بے بسی پر تو  پنجرے میں قید پرندہ یا شیر بھی کڑھتا ہے ۔ ماہرین حیاتیات بتاتے ہیں کہ چڑیاگھروں کےجانورجنگلی جانوروں کی نسبت نفسیاتی دباؤ کا شکاررہتے ہیں۔وہ بورہوتے، تھک جاتے ہیں اور  اُداس رہتے ہیں، لیکن وہ پنجرے سے نکلنے کے لیے کچھ کرنہیں سکتے۔ اس کے برعکس  انسان کی کُڑھن تخلیقی ہے۔اُس کی جبلّت کڑھن کا مقابلہ کرنے کے سوطریقے جانتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہیں اور خود کو اتنا بے بس نہیں پاتا جتنا اپنے آپ کے سامنے خود کو بے بس پاتاہے۔وہ جانتاہے کہ وہ بہت کمزورہے۔ شہوت اور اشتہأ کی شدت میں وہ اپنے آپ  کو مجبورپاتاہے کہ اپنے اُوپرعائد تمام پابندیوں کو توڑدتے۔

لیکن پھر اگر بغورمطالعہ کیا جائے تواپنی خواہشات پر قابُو پانا بھی فطری ہے۔بالکل ویسے جیسے  خواہشات کا بے قابُو ہوجانا  فطری ہے۔لیکن اِس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے  ہمیں ارتقأ کے ذریعے ملنے والی جبلتوں کی سائنس پرتھوڑاسا غورکرنا پڑیگا۔اشتہأ اور شہوت سے متعلق ہماری ’’فوری خواہشات‘‘ کو اِمپلس (Impulse)  یا  ریفلیکس ایکشن  (Reflex action)کہاجاتاہے۔ اُردو میں ایسے جسمانی ری ایکشن کو اضطراری عمل کہتے ہیں۔ایسے اضطرار یا ریفلیکس ایکشن(اِمپَلس) پر قابُو پانا ممکن نہیں ہوتا  لیکن ریفلیکس ایکشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرابی  اوراُس خرابی کے نتیجے میں ملنے والی سزا کی تنبیہ بھی چونکہ فطری ہے اِس لیے وقت کے ساتھ ساتھ خودپرقابُوپانے کی جبلّت نمودارہوکرجانداروں کے گروہوں کو منظم کردیتی  ہے۔

کسی ریفلیکس ایکشن یا اِمپلس پر مسلسل اور متواتر ملنے والی سزا کا خوف بھی بالآخر  اِمپَلس بن جاتاہے۔’’پانچ بندروں‘‘ والے نام نہاد سماجی تجربے سےیہی ثابت ہوتاہے کہ سزا کی مسلسل اور متواتر تنبیہ بالآخر ایک اِمپلس یا ریفلیکس ایکشن  بن جاتی ہے۔پانچ بندروں کا مشہورتجربہ کیا ہے؟ اگر آپ پانچ یا کچھ بندروں کو ایک کمرے میں بند کردیں اور اُنہیں بھوکا رکھیں۔لیکن شدید بھوک کے عالم میں جب آپ اُنہیں کھانے کی کوئی چیز فراہم کریں تو ساتھ ہی اُن پر ٹھنڈے پانی کا  شاورکھول دیں یا کسی اورطرح کی سزادیں۔ وہ پانی سے ڈر کر بھاگیں گے اور کھانا چھوڑدیں گے۔آپ مسلسل اورمتواتر یہ عمل اُن پر دہراتے رہیں تو ایک دن سزاکاخوف اُن کی اِمپلس بن جائےگا۔ظاہر ہے اس دوران آپ اُنہیں کسی اور طرح سے کھانا تو کھلاتے رہینگے۔ اب آپ اُن میں سے کچھ بندر نکال کر نئے بندرکمرے میں لے آئیں تو چونکہ وہ سزا سے واقف نہیں ہیں، اس لیے وہ کھانے کی طرف لپکیں گے۔لیکن جونہی وہ کھانے کی طرف لپکیں گے، پرانے بندرآگے بڑھ کر اُنہیں روکیں گے اور ماریں گے۔ یہ گویا  نئے بندروں کے لیے سزا ہوگی۔ اب یہ  عمل پرانے بندرچونکہ اُن کےساتھ مسلسل اور متواتردہرائیں گے  اِس لیے نئے بندروں میں بھی سزا کی  تنبیہ اِمپلس بن جائےگی۔اوراگرپرانے بندروں کو نکال دینے اور نئے نئے بندروں کو لاتے رہنے کا عمل بھی مسلسل اور متواترجاری رہے تو سزا کی تنبیہ بھی مسلسل جاری رہے گی اور اس تنبیہ کی وجہ سے پیدا ہوجانے والی اِمپلس یا ریفلیکس ایکشن بھی۔یعنی اب کھانے کو دیکھ کر تمام بندروں کا جی تو للچاتا رہے گا لیکن  اب وہ سزا کے خوف سے  اپنی خواہش پر قابُو پانا بھی سیکھ چکے ہونگے چنانچہ وہ اپنی شدید خواہش کو بھی دبا لیں گے۔یوں اُن میں سے ہربندراپنی ذاتی کمزوری یعنی کھانے کو دیکھ کر للچانے کی اِمپَلس سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی کھانے کی طرف نہ لپکے گا، کیونکہ اُس کی دوسری اِمپَلس اس کی جبلت پر حاوی ہوجائےگی۔ لیکن جب وہ کسی اور بندرکو دیکھےگاکہ وہ کھانے کی طرف لپک رہاہے تو گویا وہ اس کی اِمپَلس کے مظاہرے پر برافروختہ ہوجائےگا۔

ہم جانتے ہیں کہ افرادِ معاشرہ اپنی ذاتی کمزوریوں سے تو آگاہ ہوتےہیں لیکن وہی کمزوریاں کسی اور شخص میں دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ہرفردجبلی طورپر یہ خواہش رکھتاہےکہ جس طرح وہ اپنی ذاتی کمزوریوں کو چھپالیتاہےباقی افرادِ معاشرہ بھی اُسی طرح اپنی کمزوریوں کو چھپائیں۔ایسا فرد جو اپنی کمزوریوں کو چھپا نہیں سکتا، دیگرافرادِ معاشرہ کی نظر میں مَردُود ہوتاہے۔ اپنی کمزوریوں کو چھپالینے کی مہارت بھی ارتقا کا عطاکردہ تحفہ ہے۔اورجوکوئی بھی اس تحفے سے محروم ہوتاہے وہ دوسروں کی نظروں میں حقیر ٹھہرتاہے۔

پانچ بندروں کے تجربہ میں ’’سزاکی تنبیہ‘‘ کاجو تصورہم نے  دیکھا ، اُسے باقی حیات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بھیڑیوں میں بھی سزاکی تنبیہ کی جبلّت موجود ہے۔ جب غول کا کوئی نَر بھیڑیا شہوت سے مجبورہوکر کسی مادہ بھیڑیا کے نزدیک جاتاہےتو اُسے سزا کا خوف بھی لاحق ہوتاہے۔ کیونکہ غول کے عام نَروں کو جنسی عمل کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ غول کی اجتماعی جبلّت میں ہے کہ فقط غول کا سردار ہی نسل کو آگے بڑھائےگاتاکہ تمام غول ایک ہی باپ کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہمیشہ منظم رہے ۔غول کی تمام مادائیں سردار  کی ذاتی مادائیں ہوتی ہیں۔لیکن جب کبھی غول کا کوئی عام نَر شہوت سے مجبورہوکر اپنی اِمپَلس پر قابُو نہیں پاسکتا  اورکسی مادہ کے نزدیک چلا جاتاہےتو  غول کا سردار یااس کے ہرکارے(یعنی غول کے دیگر نَر) اُس گمراہ بھیڑیے کو غول کی اخلاقیات یاد دلاتےاوراُسے سزادیتے ہیں۔ یہی جبلّت  شیروں، چیتوں، اورکتوں بلّوں کی بھی ہے۔

ماہرینِ جنگلی حیاتیات کے لیے یہ بات ہمیشہ تجسس کا باعث رہی ہے کہ بعض جانوراپنے بچوں کو کیوں ماردیتے ہیں۔ جنگلی جانورں میں شیر، بھیڑیااوردیگرکئی درندے اپنے بچوں کا قتل کرتے ہیں۔ ہم گھروں میں پالتو بلیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بلّوں کے ڈر سے چھپاتی پھرتی ہیں کیونکہ بلّے اُنہیں قتل کردیتے ہیں۔سمندر میں کئی قسم کی مچھلیاں اپنے بچوں کو ماردیتی ہیں۔یہاں تک کہ  بہت زیادہ ارتقأ یافتہ جانور مثلاً چمپانزی اورگوریلا میں بھی دیکھاگیاہے کہ وہ  بعض اوقات اپنے ہی بچوں کا قتل کرتے ہیں۔ ماہرین ِ حیاتیات نے اس قسم کی حیوانی جبلتوں پر تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ زیادہ ترجانوروں میں ’’نَر‘‘ ایسا کرتے ہیں کہ کسی مادہ کے بچوں کو ماردیتے ہیں۔ اُن کے ایسا کرنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ دراصل اُس ’’مادہ‘‘ کو بچوں کی پرورش کے کام سے آزادکرکے اُنہیں دوبارہ جنسی عمل کے تیار کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جن بچوں کو وہ مارتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ بچے اُن کے نہیں ہیں۔ماہرین حیاتیات بتاتے ہیں کہ بچوں کو قتل کرنے کا عمل زیادہ تر گوشت خورجانوروں میں دیکھاگیاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گوشت خور جانوریعنی درندے جو غولوں میں رہتے ہیں ہمیشہ اپنے غول کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ایسا فقط اُس وقت ممکن ہے جب سارے کا سارا غول ایک ہی باپ کی اولاد ہو۔

درندے شکاری جانورہیں۔ مضبوط غول کی صورت ایک جگہ رہنا اُن کی ارتقائی مجبوری ہے۔ کیونکہ وہ اپنے شکار پر کسی لشکرکی صورت حملہ آورہوتے ہیں۔ اگروہ اپنے شکار پر متحدہوکر حملہ نہ کریں تو بھوکے مرجائیں۔ لیکن ایک  غول ہمیشہ مضبوط غول رہے اِس بات کے لیے فطرت نے اُن میں خودکارطریقے پر یہ  نظام نافذ کررکھاہے کہ غول کا سردار  پورے  غول کا دراصل اصلی  باپ  بھی ہے۔چونکہ غول کا سردار،  غول کا باپ ہے بایں ہمہ تمام  ماداؤں  کا واحد شوہربھی۔ اب قابلِ توجہ امریہ ہے کہ غول کے تمام نَربھیڑیے جبلّی طورپر اس بات سے آگاہ ہیں کہ جب وہ کسی مادہ کو لُبھائیں گے تو سردارباپ کی طرف سے اُنہیں سزا ملے گی۔یہ ہے سزا کی تنبیہ جو اُنہیں یادہے۔ پھر بھی  جب کبھی کوئی بھیڑیا ایسی غلطی کرنے لگتاہے  تو صرف سردار ہی نہیں بلکہ دیگر نَربھیڑیے بھی اس پرحملہ کردیتے ہیں۔ یہ جبلت کُتوں میں عام مشاہدے کی بات ہے۔ارتقأ کے دروان تقریباً تمام درندوں میں اس جبلت نے نشوونما پائی ہے۔

درندوں میں موجود غیرت کی اِس جبلت کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتاہے کہ جنسی خواہش کی تسکین کا عمل جانوروں میں بھی نہایت ذاتی نوعیت کی چیز ہے۔یہ جانوروں میں بھی ایک پرائیویٹ سرگرمی  ہے کیونکہ ایسی انواع میں جنسی عمل انجام دینے والے جوڑے کو  اپنی نسل کے دیگر جانوروں خصوصاً نَروں سے حملے کا خطرہ ہوتاہے۔ارتقأ کے دوران پروان چڑھنے والی ایسی جبلتوں کے مشاہدے سے  کسی حدتک انسانی جبلتوں کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔ ایسے انسانی سماج جو قبائل کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں آج بھی غول کے اُصولوں پر مستحکم ہیں۔

انسانی معاشروں میں موجود غیرتِ جنسی بھی ارتقا کے دوران پروان چڑھی ہے۔جنسی عمل جیسا خالص پرائیویٹ اور نجی عمل کوئی  دوسروں کے سامنے کرنے لگے تو ہمیں بُرا کیوں لگتاہے؟اِس سوال کا جواب بھی ارتقأ میں موجود ہے۔ہم بھی  جسمانی طورپر حیوان ہیں اورجبلی طورپر مجبورہیں کہ دوسروں کے جنسی معاملات پرمشتعل ہوجائیں۔یہی وجہ ہے کہ  ہروہ شخص جو اپنی کمزوریوں پر قابُو پانے میں  ہم سے بہترہےہمیں اچھا لگتاہے۔کیونکہ ہم خود اپنی کمزوریوں پر قابُو پاتے ہوئے جینا چاہتے ہیں۔

الغرض وجودیت کی گود سے جنم لینے والے تمام افادیت پسند فلسفوں کا یہ خیال درست نہیں ہے کہ ’حقیقت  میں توہر انسان اپنی حیوانی خواہشات کی تسکین حیوانی انداز میں ہی چاہتاہےلیکن سماجی دباؤکی وجہ سے وہ ایسا  نہیں کرسکتا‘۔  اس کے برعکس یہ خیال درست ہے کہ انسان اپنی حیوانی خواہشات کو چھپاکررکھناچاہتاہے،  کیونکہ حیات الحیوان کے مطالعہ  سے یہی ثابت ہوتاہے کہ اس طرح اپنی ایک جبلّت یعنی فطری خواہش  پر قابُو پانا ایک اور جبلت یعنی سزاکی تنبیہ کو یاد رکھنے کی جبلّت کی وجہ سے ہوتاہے۔الغرض ہمارا اپنی   نفسانی  خواہشات کو لوگوں کی موجودگی میں چھپالینا بھی فطری  یعنی اِمپلس کی وجہ سے ہوتا ہے۔لیکن فرد ذاتی طورپر یہ بات اپنے دل میں جانتاہے کہ اُسے اپنی   خواہشات پر قابُو نہیں ہے۔ وہ جانتاہے کہ وہ لوگوں کے سامنے کتنی مشکل سے خودپرقابُورکھتاہے۔ وہ اپنے غصے، اپنے خوف،  اپنے ہیجان، اپنی شہوت اور اپنی بھوک میں خود کو بے قابُو  دیکھتاہے تو اُسے اندازہ ہونے لگتاہے کہ وہ بنیادی طورپربہت کمزوراور بے بس ہے۔یہی وہ بے بسی ہے جس پر اُس کی کڑھن جبلّی ہے نہ کہ عقلی۔ تنہائی میں تو وہ اور بھی زیادہ  لاچار  ہوجاتاہے کیونکہ تنہائی میں اسے اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین کے لیے آزادی بھی  حاصل ہے۔یوں وہ ہمہ وقت   اپنی ایسی نجی کیفیات کی وجہ سے جان جاتاہے  کہ وہ   بہادر(Hero) نہیں ہے۔قران نے بھی انسان کو اِسی بنا پر  کمزور کہاہے۔(11)

ہم جب کسی شخص کو اپنا ہیرو ماننے لگتے ہیں تو  دراصل ہم اپنی کمزوریوں کو تسلیم کررہے ہوتے ہیں۔ ہروہ بات ہماری نظرمیں دوسروں کو ہِیروبنادیتی ہےجوخودہم میں موجود نہیں۔ایک شخص جو جانتاہے کہ وہ بھوک پر قابو نہیں رکھتا،اُس کے لیے ایسا شخص جو بھوک پر قابُو رکھتاہے، بہادر ہے۔گویا فرد کی نجی اخلاقیات اس کی سماجی اخلاقیات کے اُصول وضع کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔اِسی عمل سے معاشرے کی اخلاقی خوبصورتی جنم لیتی ہے۔افراد اپنی نجی اخلاقیات میں اپنی  جن کمزوریوں سے آگاہ ہوتے ہیں معاشرے میں خودبخود اُن پر پابندی عائد ہوتی چلی جاتی ہے۔وہ جن جن اعمال کو حقیقی بہادری مانتے ہیں  وہی اعمال اُن کے معاشرے میں احسن شمارہونے لگتے ہیں۔فرد کے ایسے تمام اعمال فی الاصل  فردکی تہذیبِ نفس سے پھُوٹتے ہیں۔ آنر، آبرُو، وسعتِ قلبی، وسعتِ نظری، بڑادِل، حوصلہ، صبر، استقامت، شرافت، متانت اور شجاعت ایسے ہی احسن اعمال ہیں جن کا ماخذ فرد کی تہذیبِ نفس  ہے۔غالباً اِسی لیے احادیث میں نفس کے جہاد کو جہادِ اکبرکہاگیاہے۔(12)

مغرب ہویامشرق، جسمانی اعتبار سے تمام انسان ایک جیسے ہیں جبکہ  انسان کی جسمانی حاجات ذاتی نوعیت کی شئے ہیں۔اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ فقط عقل کے ذریعے اخلاقی اُصول وضع کرکے انسانوں کے سپرد کردیے جائیں، جیسا کہ نظریہ افادیت پسندی کے تحت  کیاگیاہے۔افرادِ معاشرہ اپنی ذاتی کمزوریوں سے واقفیت کی بنا پربعض اعمال کو پسند اور بعض کو ناپسند کرتے ہیں۔یہ عمل خودکار طریقے سے انجام پاتاہے۔ اسے ہم ’’سماج کی جبلت‘‘  بھی کہہ سکتے ہیں۔بایں ہمہ معاشرتی اخلاقیات کی تدوین و تشکیل کسی اکیلے مفکر کاکام نہیں بلکہ  سماج کی یہی جبلت اخلاقیات کوہمیشہ اپنے مخصوص نیچرل طریقے پر جنم دیتی ہے۔

افرادِ معاشرہ کی  اجتماعی پسند ناپسند سےبرآمد ہونے والی سماجی اخلاقیات کودیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتاہےکہ تہذیبِ نفس  کسی معاشرے کے لوگوں میں بہت بنیادی سطح پر ہی جنم لیتی ہے ۔ تہذیبِ نفس، نفس کی تہذیب و شائستگی ہے۔عہدِ حاضر کے  متمدن معاشروں کی اخلاقیات کا نمایاں حصہ چونکہ مصنوعی ہےاِس لیے عہدِ حاضر کے اکثر معاشروں میں تہذیبِ نفس کا فقدان ہے۔ لیکن کوئی بھی معاشرہ چاہے وہ کتناہی  جدید کیوں نہ ہوجائے، قدرتی اخلاقیات سے مکمل طورپر کبھی بھی محروم نہیں ہوسکتا۔دراصل عامۃ الناس  اپنی حیاتِ جسمانی   میں جبلتوں سے مغلوب رہتے ہیں اوراِس لیے فرد کی ذات کی گہرائی تک مصنوعی اخلاقیات ویسا نفوذ نہیں رکھتی جیسا کہ قدرتی اخلاقیات کا خاصہ ہے۔یادرہے کہ مصنوعی اخلاقیات کی سب سے بڑی مثال جیرمی بینتھم (Jeremy Bentham)    اور جان سٹورٹ مِل (Jan Stuart Mill) کا  نظریۂ افادیت پسندی ہے۔

اب یہ سوال گویا حل ہوچکاہے  کہ فرد کی حیاتِ مثالی میں تہذیبِ نفس کس وقت جنم لیتی ہے؟یہ اُس وقت جنم لیتی ہے جب فرد اپنی بے بسی پرکڑھتاہےاوراپنے لیےتصوراتی طورپرایک زیادہ مضبوط اورقابلِ بھروسہ شخصیت  گھڑنا شروع کرتاہے۔ایک ایسی شخصیت جس  پر سب سے پہلے وہ خود بھروسہ کر سکے۔اِس نئی شخصیت کا وجود  اُس کا ’’ہِیرووجود‘‘ہے۔ ہم جب  کوئی فلم دیکھتےہیں تو ہیروکوپسند اورولن کو ناپسند کیوں کرتے ہیں؟کیونکہ ہِیرو کی شخصیت میں وہ کمزوریاں مفقود ہیں جو ہماری شخصیت میں موجود ہیں۔جبکہ ولن کی شخصیت میں وہ کمزوریاں موجود ہیں۔ ہم خود ہیروجیسا بننا چاہتے ہیں۔ ہم خوداپنی انسانی کمزوریوں کو پسند نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ ہم ولن کو پسند نہیں کرتے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور یہی دلیل واضح کرتی  ہے کہ عقل کے ذریعے اخلاقیات تشکیل نہیں دی  جاسکتی۔اخلاقیات معاشرے میں کسی پودے کی طرح  پھُوٹتی ہے۔ بالفاظِ دیگر  یہ ذہنِ سماج پر ’’وحی‘‘ کی طرح سے نازل ہوتی رہتی ہے۔

تصریحاتِ بالا سے ثابت ہوتاہے کہ انسان بطورفردِ واحد اپنی ذاتی زندگی جیتاہے تو وہ اپنے آپ کے ساتھ اکیلا ہوتاہےلیکن جب وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ رابطے میں آتاہے تو وہ  معاشرےکے مشترکہ وجود کا حصہ ہوتاہے۔ اپنی ذات کے ساتھ اکیلا انسان اپنی ذاتی کمزوریوں سے واقف ہونے کی وجہ سے اپنی بے بسی پر کڑھتاہےاورخودسے بہترانسانوں کو پسند کرتاہے۔معاشرے میں رہنے کا اُس کا یہی طریقہ ہے۔ وہ یونہی فرداً فرداً  اپنے وجود کی عمق سے معاشرے کے لیے نئے نئے طوراطوار  برآمد کرتااور’’توحیدِ معاشرت‘‘  کی طرف رواں دواں رہتاہے۔

قومی  تہذیب نفس(National Nobility of Self)

فرد کی بجائے قوم کے حوالےسے تہذیبِ نفس کی اصطلاح حسن عسکری نے   اپنی کتاب ’’وقت کی راگنی‘‘ میں جن معنوں میں استعمال کی ہے، وہی معنی ہمارے بھی  پیشِ نظر ہیں۔ حسن عسکری لکھتے ہیں:

’’انسانی تاریخ کی عظیم ترین اور مکمل ترین روائتی تہذیبیں تین ہیں، چینی ہندو اور اسلامی۔   یونانی، یہودی اور ازمنۂ  وسطیٰ کی عیسوی تہذیبیں اپنی اپنی جگہ قابل قدر ہیں، لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے نا مکمل ہیں۔ موجودہ مغرب کسی طرح روایتی تہذیب کے دائرے میں آتا ہی نہیں، کیونکہ اس میں روایت کا وجود ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بات بھی مشکوک ہے کہ جس معاشرے میں تہذیب نفس کا کوئی مرکزی اصول نہ ہو اُسے تہذیب کہہ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔بہر حال ان تین بڑی تہذیبوں میں طرح طرح  کے اختلافات کے باوجود ایک چیز مشترک ہے، توحید کا نظریہ۔‘‘(13)

جب امریکہ نے 1945 میں  جاپان کے شہروں، ہیروشیمااورناگاساکی پر ایٹم بم گراکرلاکھوں نہتے اور بے گناہ  شہریوں  کو ہلاک کیاتویہ ایک ایسا عمل تھا جسے  کسی بھی  اخلاقیات کی رُو سے ایک  مہذب قوم کا اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔امریکہ کے اِس عمل میں قومی تہذیبِ نفس مفقود تھی۔ کسی قوم  کی تہذیبِ نفس سےمُراد اُس کی وہ اخلاقی عظمت ہےجس کی بناپرقوموں کو اقوامِ عالم میں عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔مثلاً   اِسی سال  یعنی 2019 میں  نیوزی لینڈ کی حکومت اور شہریوں نے بھی ایک  طرح کی  تہذیب کا مظاہرہ کیا،  جب نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں پچاس سے زیادہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو نیوزی لینڈکی حکومت نے صرف اپنے ملک کے مسلمانوں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں  کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہارکیا اوراُنہیں محبت اورخیرسگالی کا پیغام بھیجا۔ یہ تھی ایک مہذب قوم کی تہذیبِ نفس۔

ابتدائی عہد کی اسلامی فتوحات میں اِس طرح کی تہذیبِ نفس کے متعدد واقعات تاریخ میں رقم ہیں۔ مثلاً حضرت خالدبن ولیدؓ کا ایک واقعہ اِس تصور، یعنی ’’تصورِ تہذیبِ نفس‘‘ کی تفہیم میں مددگارثابت ہوسکتاہے، جو کچھ یوں ہے:

’’مسلمانوں نے یرموک کی طرف روانگی سے پہلے ایک حیرت انگیز کام کیا کہ جس کی تاریخ انسانی میں مثال نہیں ملتی۔چونکہ جنگ یرموک کیلئے تمام علاقوں سے مسلمانوں کو جمع کیا گیا تھا ،لہذا مسلمانوں نے اس وقت یہ محسوس کیا کہ اب وہ شاید ان تمام علاقوں کی حفاظت نہ کرسکیں کہ جو وہ اس سے پہلے شام میں فتح کرچکے تھے۔ لہذا اُنہوں نے حمص کے عیسائیوں کو یہ کہہ کر جزیہ واپس کردیا کہ ہم آپ کی حفاظت نہیں کرپائیں گے اور معاہدے کے تحت لی گئی رقم واپس لوٹا دی گئی۔ آج تک تاریخ انسانیت میں ایسا نہیں ہوا کہ ایک فاتح قوم، مفتوح قوم کے غریب اور مسکین لوگوں کے ساتھ اس قدر غیرت اور عزت کا برتاؤ کرے۔حمص کے عیسائی مسلمانوں کے اخلاق اور کردار سے اتنے متاثر ہوئے کہ دعا کرنے لگے کہ مسلمان جلد فتح یاب ہو کر واپس لوٹیں۔یہ واقعہ یقیناً مسلمانوں کے عظیم اخلاقی کردار کی ایک زندہ تصویر ہے۔‘‘ (14)

لیکن کوئی  قوم اگر نظریاتی طورپر افادیت پسند (Utilitarian)  ہے تواُن کی اجتماعی اخلاقیات کا مرکزی نکتہ’’عظیم ترمفاد (Greater Good)  ‘‘ کا حصول ہوگا۔ جبکہ نظریۂ  افادیت پسندی (Utilitarianism)    کے پاس  کسی نہتی اوربےگناہ آبادی پر ایٹم بم گِرانے کا جواز بھی موجود ہوسکتا ہے۔عظیم ترمفاد کےحصول کے لیےایسی آبادیوں کو ماردینا  نظریۂ افادیت پسندی کے نزدیک’’ناگزیرنقصان یا کولیٹرل ڈیمیج (Collateral Damage)‘‘ کہلاتاہے۔کولیٹرل ڈیمیج  وہ نقصان ہے جو کسی بڑے اورعظیم ترمقصد کے حصول کے لیے انسانوں کو مجبوراً اُٹھانا پڑتاہے۔منطقی اعتبار سے نظریۂ افادیت پسندی (Utilitarianism)  ہزار خوبیوں کا مالک اور جدید سہی، لیکن اِس  کے پاس نفسِ اجتماعی  کی آراستگی کا کوئی سامان موجود نہ ہونا فطری امر ہے، کیونکہ یہ نظریۂ افادیت پسندی ہے نہ کہ استفادیت پسندی۔نفس کی آراستگی سے مالامال قومیں مستقل اخلاقی اقدار کاخون ہوتے نہیں دیکھ سکتیں۔ ایسی اقوام کے ہاں اقدار کی قدروقیمت افراد کی جانوں سے زیادہ سمجھی جاتی ہے۔یہیں سے ایک منفرد سوال جنم لیتاہے۔

ایک انسانی جان زیادہ قیمتی ہے یا ایک اعلیٰ اخلاقی قدر؟ اس سوال کے ساتھ ہی دوطرح کے نظریات نمودار ہوجاتے ہیں۔نمبرایک یہ کہ، ’’انسانی جان زیادہ قیمتی ہے فلہذا  اخلاقی قدر (اعلیٰ و ادنیٰ) کوقربان کردیاجاناچاہیے‘‘۔ نمبردویہ کہ، ’’اعلیٰ اخلاقی قدر زیادہ قیمتی ہے چنانچہ انسانی جان کو قربان کردیناچاہیے۔‘‘

لیکن اِس سےپہلے کہ ہم اس سوال پر مزید غورکریں، ہمیں دیکھ لینا چاہیے کہ دونوں صورتوں میں انسانی جان کی قربانی بہرحال ناگزیر ہے۔کیونکہ اگرہم ثانی الذکر نظریہ کی حمایت کا اعلان کرتے  اوراعلیٰ اخلاقی قدر پرانسانی جان کو ترجیح دیتے ہیں توگویا ہم نےنظریۂ افادیت پسندی کی تائید کی۔نظریۂ افادیت پسندی روایتی اخلاقی قدروں کو تو قربان کردیتاہے لیکن عظیم ترمفاد کے حصول کی خاطر انسانی جانوں کےخرچے کا پھربھی کہیں زیادہ قائل ہے۔اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے امریکہ نے پورے افغانستان پر ’’بمباربی  ففٹی ٹُو‘‘  طیّاروں کے ذریعے ڈیزی کٹربم گرائے۔ ڈیزی کٹربم کارپٹ بمباری کے لیے گرائے جاتے ہیں۔ اِس کارپٹ بمباری سے پورا افغانستان چند دنوں میں اُڈھڑ کررہ گیا۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور ان گنت لوگ کبھی اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹ سکے۔اِس موقع پر امریکہ کا مؤقف یہ تھا کہ اسامہ بن لادن کو پکڑنا زیادہ ضروری ہے، چاہے اُسے پکڑنے کے لیے لاکھوں بے گناہ جانوں کا نذرانہ ہی پیش کیوں نہ کرنا پڑے۔ کیونکہ وہ دہشت گردوں کا سردار ہے اور دہشت گرد پوری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔ امریکہ کے اِس مؤقف کی تائیدساری مہذب دنیا نے کی۔ گویا تمام مہذب دنیا بھی عظیم ترمفاد کے اِس نظریہ کی قائل ہے کہ بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹا نقصان برداشت کرلیاجائے۔

یہ سچ ہے کہ آج کی پوری مہذب دنیا اخلاقی اقدارکوعظیم ترمفاد کے تناظرمیں ہی  مرتب کرتی ہے۔ لیکن کسی  زندہ تہذیب  کی مخفی دولت فقط اُس کے افرادِ معاشرہ کی تہذیبِ نفس پر منحصر ہے۔جبکہ نفس کی آراستگی یاتہذیبِ نفس کسی معاشرے کی اخلاقیات کا سب سے خوبصورت پہلُوہے۔تہذیبِ نفس سے آراستہ معاشرےبُری رسموں سے پاک ہوتے ہیں۔ضروری نہیں کہ ایک معاشرہ جو تمدن کی بلندیوں پر فائز ہے، تہذیبِ نفس سے بھی آراستہ ہو۔ہم  عام طورپر تہذیب و تمدن کے درمیان موجود فرق کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ تہذیب اورتمدن میں بہت بنیادی سا فرق پایا جاتاہے۔تمدن کا تعلق نت نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے بدلتے ہوئے بڑے بڑے شہروں اور ان کی زندگی سے ہے۔ لیکن تہذب کا تعلق اس سے نہیں۔ ایک امیر کبیر شخص جو اعلیٰ لباس اور عمدہ گاڑی میں سوار ہے، متمدن ہے، لیکن عین ممکن ہے کہ مہذب ہونے میں وہ کسی عام سے غریب آدمی سے بھی مات کھاجائے۔تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے سب سے متمدن ملک امریکہ نے خود کو ہمیشہ دنیا کا سب سے غیر مہذب ملک ثابت کیا ہے۔

جیسا کہ ہم نے علمیاتِ اخلاق کے باب میں دیکھا کہ نفس کی آراستگی یا تہذیبِ نفس کے   تصور سے عامۃ الناس بھی واقف ہیں، بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ کسی قوم کے مہذب ہونے کی نشانی یہ ہے کہ اُس قوم کے عام افراد تہذیبِ نفس کی دولت سے مالامال ہوں۔ لیکن عام لوگ اِسے فقط فرد کی ذاتی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔مغربی قوموں میں فرد کی ’’آنر‘‘ کا جو تصورموجود ہے، وہ دراصل یہی تہذیبِ نفس کا تصورہی ہے۔یورپ کافرد ’’آنر‘‘ کے جس تصورکے لیے ہمیشہ سے کٹتا مرتاآیاہے، ہمارے ہاں اسے ’’آبرُو‘‘ کہاجاتاہے۔ ایک مقولہ ہے، ’’مال صدقۂ جان، جان صدقۂ آبرُو‘‘۔ یعنی اگر مال اور جان میں سے ایک کو چُننا ہو تو ظاہرہے جان کو چُنا جائےگا اور مال کی قربانی قبول کرلی جائےگی۔ لیکن اگر جان اور آبرُو میں سے ایک کو چُننا ہوگا تو آبرُو کو چُنا جائےگا اورآبرُو کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کردیاجائےگا۔ یاد رہے کہ یہاں آبرُو سے مراد تہذیبِ نفس  ہےنہ کہ غیرتِ جنسی۔

لیکن نظریۂ افادیت پسندی (Utilitarianism)   آنر، آبرُو یا تہذیبِ نفس جیسی اصطلاحات کو سِرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا جبکہ نظریۂ افادیت پسندی یعنی یوٹیلیٹیرینزم  ہی عہدِ حاضر کا سب سے مقبول فلسفہ ہے۔جان سٹورٹ مِل  کی آزادی فی زمانہ سب کی پسندیدہ آزادی ہے، جس کے مطابق، مجھے آپ کی ناک کے پاس تک ہاتھ گھمانے کی اجازت ہے۔اگر  میرا  ہاتھ آپ کی  ناک کو چھولےگا تو میں نے  گویا اپنی حدودِ آزادی سے تجاوز کیا اورآپ کی حدودِ آزادی میں مداخلت کردی۔لیکن کیا یہ اخلاقیات فطرتِ انسانی سے میل کھاتی ہے؟ کیا فی الواقعہ آپ مجھے اپنی ناک کی نوک تک ہاتھ گھمانے کی اجازت دے پائیں گے؟ کیا آپ کی جبلت آپ کو یہ واقعہ برداشت کرنے دے گی کہ آپ مجھے کچھ نہ کہیں اور میں آپ کی ناک کے پاس ہاتھ گھماتا  رہوں؟

دراصل اخلاقی قدریں جدلیات   کے ذریعے  مرتب نہیں کی جاسکتیں۔ہم دیکھ چکے ہیں کہ  اخلاقی قدریں جسدِ معاشرہ پر کسی عضؤ کی طرح  نمودار ہوتی ہیں۔اخلاقیات لکھے نہیں جاتے، اخلاقیات ارتقأ کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں بایں ہمہ یہ وجدانی ہیں۔ پودے کی شاخ پر پھوٹنے والی کونپل کے وجدان کی  طرح اخلاقی قدریں بھی،   معاشرے کے  درخت کی شاخوں پر اُگنے والے پھول   اورپتے ہیں۔ اُصول،قدریں،  اعمال، رسمیں، رواج، عادات اورروایات، یہ سب  سقراطی طرزِ فکر سے طے نہیں کیے جاسکتے۔ یہ معاشرے کی اجتماعی وحی ہے۔ کسی معاشرے میں بُری یا اچھی رسمیں خودکار طریقے سے داخل ہوتی ہیں۔معاشرے میں بُری رسموں کی بُہتات ہوجائے تو خودبخود معاشرے کی ریفارمیشن ہونے لگتی ہے۔کوئی نہ کوئی ریفارمر پیدا ہوجاتاہے جو معاشرے کی بُری رسموں کو تنقید کا نشانہ بناتاہے۔اگروہ ریفارمر ہے تو اس  میں قائدانہ صلاحتیں ہوتی ہیں۔ کسی ریفارمر کے پیغام میں جتنی زیادہ طاقت ہوتی ہے، اپنے معاشرے سے بُری رسموں کے خاتمے کا وہ اتنا زیادہ اہل ہوتاہے۔سماج میں ریفارمر کی حیثیت، باغ میں مالی جیسی ہے۔مالی کا کام ہے باغ میں اُگ آنے والی خودرَو جھاڑ جھنکارکو صاف کرے۔ معاشرے کے باغ میں بُری رسمیں خودرَو جھاڑیوں کی طرح ہی اُگتی ہیں۔باغ کی جھاڑ جھنکار میں ایسی بیلیں بھی اُگ آتی ہیں جو توانا درختوں کے وجود پر پلتی  اور اُن کاخون پیتی رہتی ہیں۔ایسی بیلوں اور جھاڑجھنکار کی بُہتات سے باغ دھیرے دھیرے تباہ ہونے لگتاہے۔یہ بُری رسموں کی جھاڑجھنکار ہے۔بُری رسموں کوعربی میں ’’بدعات‘‘ کہاجاتاہے۔وہ عمل جو بدعات کا موجب بنتاہے، عربی میں ’’افترأ‘‘ کہلاتاہے۔بُری رسموں کی بُہتات  کسی معاشرے میں اِفترأ کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ افترأ ایک خودکارعمل ہے۔ جب کسی معاشرے میں ریفارمیشن  کا عمل کچھ عرصے تک رُکا رہے  تو افترأ کے دروازے چوپٹ کھل جاتے ہیں کیونکہ تبدیلی خودکار ہے اور اُسے روکنا ممکن نہیں ہے۔ریفارمیشن کے عمل کو عربی میں اجتہاد بھی کہاجاسکتاہےجبکہ ایک ریفامر شارع بھی ہوسکتاہےاور مجتہد بھی۔

اختتامیہ

ہم نے دیکھا کہ سماج ایک زندہ وجود کی طرح ہے۔ اُس کاجسم، ثقافت، معیشت اورسیاست کی مثلث سے بنتاہےجبکہ اُس کی رُوح اُس کی اخلاقیات ہے۔چنانچہ سماج کسی بھی نامیاتی صداقت کی طرح خودرَوبایں ہمہ فطری ہے۔ اگرسماج کے جسم میں رُوح موجود ہے تو وہ ایک زندہ سماج ہے۔زندہ سماج فعّال اور تخلیقی ہوتاہے۔تخلیقی سماج کی اخلاقیات کسی قدرتی آرٹ سے مشابہہ ہوتی ہے کیونکہ اس میں فطرت کا حسن بشکل ِ تہذیبِ نفس نمودارہوتاہے۔

لیکن سماج کی علمیاتِ اخلاق کے مطالعہ سےمعلوم ہوتاہے کہ انسانی سماج کی حیاتِ مادی کے تمام تر اُصول فردِ واحد کی حیاتِ روحانی یا مثالی  سے برآمد ہوتے ہیں۔جبکہ فرد کی حیاتِ روحانی یا مثالی کی کُل دولت فرد کی وہی  تہذیب نفس ہے جواُس کی ذات کے عمق سے یوں پھوٹتی ہے جیسے کسی شاخ پر پھول۔ چنانچہ معاشرے کی اعلیٰ اخلاقیات کا  ماخذ’’خودی‘‘ ،  فردِ واحد کی ذات یا بقول  روڈلف سٹائنر ’’مَیں‘‘ کا وجود ہے۔

الغرض، چونکہ سماج کی حیاتِ مادی کے تمام اُصول فرد کی حیاتِ مثالی سے نازل ہوتے ہیں اِس لیے،  بالآخر فرد کے نفس کی آراستگی ، قوم کے نفس کی آراستگی کی  شکل اختیار کرکے سماج کے مادی وجود میں ظاہر ہوتی ہے ۔نفس کی یہی آراستگی آخرالامر قوموں کی حیاتِ جاوداں کی ضامن ہے۔قدرت کے اس سارے منصوبے میں جوحقیقت ہرقدم پر اپنےہونے کا اظہار کرتی رہتی ہے، وہ ہے، ’’سماج کا تخلیقی وجود‘‘۔ چنانچہ یہ طے ہے کہ سماجی اخلاقیات کی تشکیل فردِواحد کے سوچنے کا کام نہیں ہے۔بُری رسموں کی بہتات پرکسی ریفارمر کا وجودفی الاصل سماج کے اپنے مدافعتی نظام کا نتیجہ ہے نہ کہ کوئی مفکر بزعم ِ خود ریفارمربن سکتاہے۔

حوالہ جات

  1. MacLay, George R. (1990). The Social Organism: A Short History of the Idea That a Human Society May Be Regarded as a Gigantic Living Creature. North River Press.
  2. Durkheim, Émile, and George Simpson. 1964. The division of labor in society.
    [New York]: The Free Press; London; Collier Macmillan Publishers, [1964]
  3. Rudolf Steiner, Towards Social Renewal, 1996 by Rudolf Steiner Press
  4. Simon, Walter M. “Herbert Spencer and the “Social Organism“.” Journal of the History of Ideas 21, no. 2 (1960): 294-99.
  5. The Social Organism (1860)
    This essay was first published in The Westminster Review for January 1860 and was reprinted in Spencer’s Essays: Scientific, Political and Speculative (London and New York, 1892, in three volumes).
  6. Steiner, Rudolf (2011). The Fundamental Social Law (Catherine E. Creeger). SteinerBooks 610 Main Street, Great Barrington: 2

Wilson, David Sloan. 2002. Darwin’s cathedral: evolution, religion, and the nature of society. Chicago: University of Chicago Press.

7۔ صحيح البخاري، برقم: (6011)، وصحيح مسلم، برقم: (2586)۔

  1. Editorial Staff, Debates and Competitions. “We Are Happier Then Our Fathers.” Desktop Class, November 4, 2014. https://www.desktopclass.com/debates-and-competitons/happier-fathers-anti.html.

9- قرآن پاک، پارہ ۴، سورۃ البقرہ، آیت: ۲۱۳،  پارہ ۱۱، سورۃ یونسؑ، آیت: ۱۹

10- وزیر آغا۔ تنقید اور مجلسی تنقید۔ سرگودھا:مکتبہ اردوزبان، ۱۹۷۶۔ ص:۲۰۵

11- قرآن پاک، پارہ ۵، سورۃ النساء، آیت: ۲۸

12- الترمذی:۱۶۲۱وقال:   حدیث حسن صحیح’’ وسندہ حسن و صححہ ابن حبان /موارد: ۱۶۲۴او الحاکم علی شرط مسلم۲/۷۹ و وافقہ الذھبی

13- محمد حسن عسکری، وقت کی راگنی، مکتبہ محراب لاہور، ۱۹۷۹:ص ۹۳

14- فتوح الشام ، علامہ واقدی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...