راولپنڈی فسادات: 1926ء سے 2013ء تک، کیا کچھ بدلا ہے؟

933

بعض اوقات تاریخ کے کسی مرحلے میں ایک ایسا واقعہ رُونما ہوتا ہے جو صدیوں کی روایت بدل ڈالتا ہے۔13جُون1926 ء کی شام راولپنڈی میں بھی ایک ایسا ہی سانحہ پیش آیاجس کے اگلے دن آدھا شہر راکھ کا ڈھیر تھا۔ اس واقعے نے سیاسی وسماجی سطح پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں پر محیط قربت کا تعلق بکھر گیا جس کی شدت کی جھلک تقسیم کے فسادات میں بھی نظرآئی۔ اس واقعے کی تفصیلات عام تاریخی کتب میں کم دستیاب ہیں۔سجاداظہرنے پرانی آرکائیوز اور متأثرہ خاندانوں کے افراد سے انٹرویوز کے ذریعے اس کی تفصیلات جمع کی ہیں۔مضمون نگاراسلام آباد مقیم صحافی ہیں۔ پاکستان سے باہر لندن اور نیویارک میں بھی صحافت سے منسلک رہے ہیں۔

قیامِ پاکستان سے قبل راولپنڈی میں ہونے والے مذہبی فسادات کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ہماری تاریخ کی کتابوں میں اس زاویے کو نظر انداز کیا گیا ہے حالانکہ اس ایک حادثے کے اثرات نے آنے والے سالوں میں سیاسی و معاشرتی سطح پر بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔

13 جُون 1926 ء کوشام سات بجے راولپنڈی میں فسادات شروع ہوئے۔اگلے دن آدھا شہر تقریباََ راکھ کا ڈھیر تھا۔وجہ تنازعہ ایک سینما بنتا ہے جو مسجد کے قریب بنایا گیا تھا۔حالات اتنے خراب ہوئے کہ شہر کو گورکھوں اور گورے فوجیوں کے حوالے کرنا پڑگیاجنہوں نے بڑی مشکل سے صورتحال پر قابو پایا۔1947 ء میں تقسیم کے وقت فسادات کی ابتدا بھی اسی شہر سے ہوئی تھی۔اس کا پس منظر  1926ء کے انہی فسادات کو بتایاجاتا ہے۔

راولپنڈی کے 1926ء کے فسادات کے محرکات پر غور کیا جائے تو یہ سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے کہ مذہبی یا فرقہ وارانہ تنازعات کیسے جنم لیتے ہیں اور کس طرح معاشرے پر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں۔جس وقت یہ سانحہ وقوع پذیرہوا اس وقت مسلمان شہر کی کُل آبادی کا تقریباً 43 فیصد تھے۔اس میں ہندوؤں اور سکھوں کا تناسب بالترتیب 33 اور 17 فیصد تھا۔ یہاں مذہبی رواداری کا یہ عالم تھا کہ تینوں مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں پر شیرینی تقسیم کرتے تھے۔مگرایک واقعہ نے باہمی تعلقات میں جو دراڑ ڈالی اس کی شدت نے پورے خطے کے جغرافیے اور مستقبل کی سماجی ہیئت کو بدل کر رکھ دیا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ 1896ء میں جب راولپنڈی شہر کے وسط میں ایک بڑی جامع مسجد کا سنگ ِبنیاد رکھا جانے لگا تو اس وقت مسلمانوں اور سکھوں کے مابین مسجد کی تعمیر پر اختلاف پیدا ہوگیا۔باغ ِ سرداراں کا علاقہ جہاں سکھ اکثریت میں تھے،وہاں ایک بڑا گوردوارہ بھی موجود تھا،اس لیے سکھ نہیں چاہتے تھے کے ا س کے قریب مسلمان اپنی مسجد بنائیں۔اس تنازعہ کو گولڑہ شریف کے پیر مہر علی شاہ نے گفت و شنید سے حل کروا دیا۔18کنال پر مشتمل اس مسجد کی تعمیر 1903ء میں مکمل ہوئی جس کے لیے افغان بادشاہ کے بیٹے امان اللہ خان جو بعد ازاں افغانستان کے صدر منتخب ہوئے تھے، کا دست ِ تعاون بھی حاصل رہا۔

مسجد بن گئی اور بظاہر کشیدگی کی فضا بھی ختم ہو گئی۔حسب ِ روایت سکھوں کے سالانہ تہواروں کے جلوس جامع مسجد روڈ سے گزرتے توپھول برسانے اور رستے میں سبیلیں لگانے میں مسلمان بھی پیش پیش ہوتے۔لیکن اس دوران مسجد سے ملحق زمین پر ایک سینما بن گیا۔ اس کی زمین سردار موہن سنگھ کی ملکیت تھی جو ا س وقت راولپنڈی کی میونسپل کمیٹی کے چیئرمین مقرر تھے۔سینما اور مسجد کے درمیان ایک اونچی دیوار کھڑی کی گئی تھی لیکن مسلمانوں اور مسجد کے امام کا موقف تھا کہ سینما گرایا جائے۔ ا س کے لیے عدالت میں کیس چلا۔مسلمان کیس ہار گئے۔جذبات گرم تھے لہٰذا منافرت بڑھتی گئی اور حالات آہستہ آہستہ خراب ہونے لگے۔

راجہ نریندر ناتھ اور گوپال چند نارنگ جو کہ ہندو سبھا لاہور کی طرف سے 16 جُون کو راولپنڈی پہنچے تھے،انہوں نے فسادات پر اپنی انکوائری رپورٹ میں لکھا کہ اس حادثے کاسبب مسلمانوں کا یہ مطالبہ بنا کہ مسجد کے ساتھ موسیقی نہ بجائی جائے۔چونکہ بنگال میں ایسا ہی قانون نافذ تھا اس لیے یہاں بھی مسلمانوں نے اسی طرح کا مطالبہ کردیا۔اس دوران سکھوں کے پانچویں گرو ارجن سنگھ کی یاد کی مناسبت سے 13جُون 1926 ء کو جلوس نکالا گیا۔یہ جلوس ہر سال جامع مسجد کے باہر سے میوزک بجاتے ہوئے گزرتا تھا لیکن کبھی کوئی تصادم یا اختلاف رُونما نہیں ہوا۔البتہ اس سال سینما کی وجہ سے موسیقی کامسئلہ شدت اختیارکرگیا تھا۔ مسجد کا امام اور باہر سے آنے والے علما حضرات مقامی آبادی کو اُکسا رہے تھے۔سکھ بھی صورتحال سے باخبر تھے اس لیے اب کی بارجلوس کے لیے سکھوں نے غیرمعمولی جذبہ دکھایا۔پہلے اس جلوس میں دوسے تین ہزار لوگ شریک ہوتے تھے مگر اس دفعہ ان کی تعداد پندرہ ہزار تک پہنچ گئی۔ اکالی دل کے مسلح نوجوان بھی اس کا حصہ تھے۔جلوس ابھی مسجد سے ذرا فاصلے پر ہی تھا کہ کچھ مسلمانوں نے آگے بڑھ کر مسجد کے سامنے میوزک بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔سکھوں نے انکارکیا تو وہاں کھڑے مسلم نوجوانوں نے جلوس پر سنگ باری شروع کردی۔

حالانکہ اس سے پہلے جب یہ جلوس مسجد کے پا س سے گزرتا تو مسلمان پھول برساتے اور گرو گرنتھ کے ساتھ پھل رکھتے۔شرکاء کی تواضع مٹھائیوں اور مشروبات سے کرتے مگر اس سال ماحول یک لخت ایک اور منظر پیش کررہا تھا۔مسلمانوں نے جب جلوس کے ساتھ ہسپتال کی گاڑی دیکھی تو وہ اور زیادہ سیخ پا ہو گئے۔ انہوں نے سمجھا کہ سکھ شاید حملے کی تیاری کے ساتھ آئے ہیں۔ بعد میں ڈپٹی کمشنر مسٹر فرگوسن کے سامنے جو رپورٹ پیش ہوئی اس میں بتایا گیا کہ یہ گاڑی کسی نے نیلامی میں ہسپتال سے خریدی تھی۔اس میں چینی کی دو بوریاں،برف کا ایک بلاک اور شربت بنانے کا سامان لاداگیاتھا۔رپورٹ کے مطابق شرکاء کی تعداد اس لیے زیادہ تھی کہ یہ تہوار اتوار کے دن آگیا تھا۔پولیس پر بھی یہ الزام لگا کہ ا س نے کشیدگی کااندازہ ہونے کے باوجود کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ڈپٹی کمشنر کے سامنے پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ مسجد کے نیچے ایک ہندو تاجر کی دوکان سے مسلمانوں نے ایک دن پہلے ساڑھے تین سو کی کلہاڑیاں خریدی تھیں۔تاہم پولیس نے موقف اختیار کیا کہ آرمز ایکٹ کے تحت کلہاڑی اسلحہ میں شمار نہیں ہوتی۔ 13 جُون کی رات کو ہونے والے اس واقعہ کے بعد اگلے دن حالات مزید سنگین ہوگئے۔مسلمان لاٹھیاں اور کلہاڑیاں لے کر شہر بھر میں پھیل گئے جن میں شہر کے نواح سے بڑی تعداد میں آنے والے دیہاتی بھی شریک تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ مسلح مسلمانوں کی بڑی تعداد گوردوارے کے باہر اکٹھی ہونی شروع ہو گئی جہاں سکھوں کا اجتماع جاری تھا۔مسلمانوں نے اللہ اکبر کے نعرے بلندکیے تو سکھ گوردوارے سے باہر آگئے اورانہوں نے بھی نعرے بازی شروع کردی۔کچھ ہی دیر میں فریقین ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔مسلمانوں نے گنج منڈی جو ہول سیل کی بڑی منڈی تھی،اس کی 172 دوکانوں کو نظر آتش کر دیا۔نقصان کا تخمینہ تین کروڑ کا تھا۔زیادہ تر دوکانیں ہندو تاجروں کی تھیں لہٰذا وہ بھی آگ بگولہ ہوگئے،لیکن پولیس نے ہندوؤں کو آگے جانے سے روکے رکھا،جس پر انہوں نے پولیس پر جانبداری کا الزام لگایا۔ تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ اگر روکا نہ جاتاتو جانی نقصان زیادہ ہوسکتا تھا۔ 14 جُون کے فساد ات کے دوران مرنے والوں میں 11 مسلمان،2 سکھ اور ایک ہندو شامل تھے۔ جبکہ 50 سے زائدلوگ زخمی ہوئے تھے۔زیادہ تر مسلمان آتش زدگی کے نتیجے میں ہونے والی مزاحمت میں مارے گئے۔جب دمدمہ صاحب کو آگ لگائی گئی تو ٹکا سنگھ بیدی نے فائر کھول دیاتھا جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔

اس سانحے میں انتظامیہ کا مجموعی موقف یہ رہا کہ سکھوں نے مسلمانوں کو اُکسایا۔ اگر اکالی دل کے مسلح نوجوان جلسے میں شامل نہ ہوتے تو فساد رُونما نہ ہوتا۔ سکھوں کا کہنا تھا کہ اگر ان کی نیت لڑائی کی ہوتی تو جلسے میں 15 سو سے زیادہ عورتیں اور بچے کیوں شریک ہوتے؟ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ راولپنڈی کے دیہات میں 80 فیصد آبادی مسلمانوں کی تھی ا س لیے انتظامیہ نے مسئلے کودبانے کے لیے یہ موقف اختیارکیا۔ اگر فساد پھیل جاتا تو دیہات میں ہندو اور سکھ اقلیت کو سخت خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

اس پورے واقعہ کی ترتیب میں تمام مؤرخین نے جس رپورٹ سے استفادہ کیا اسے امرتسر میں شیرومانی گوردوارہ کی بندھک کمیٹی کی جانب سے سردار بہادر مہتاب سنگھ نے مرتب کیا جو فساد کے اگلے دن ہی راولپنڈی پہنچ گئے تھے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ سینما اور موسیقی کا نہیں تھاجیساکہ ظاہر کیاگیا۔ سانحے کی فضا ہموار کرنے میں سب سے زیادہ کردار ایک ایسے مولوی کا تھا جسے صوبہ سرحد سے حکام نے صوبہ بدر کیا ہوا تھا۔ اس نے راولپنڈی کے مسلمانوں کو اُکسا کر معاملہ سنگین بنا دیا۔ ورنہ مسجد کی جو دیوار سینما کی طرف تھی وہ دو سو فٹ لمبی اور 25 فٹ اونچی تھی جس میں کوئی دروازہ یا روشن دان نہیں تھا۔ اس دیوار کے بعد 45 فٹ تک رہائشی مکانات تھے جو مسجد کی ملکیت تھے اوران کے تمام کرایہ دار ہندو تھے۔ان مکانات کے آگے 20 فٹ چوڑی سڑک بھی تھی۔اس سڑک کے دوسری جانب سینما بنایا گیا تھا جس کے پیچھے 20 فٹ کھلی جگہ چھوڑی گئی تھی جس کے ارد گرد دوکانیں تعمیر تھیں۔اس لیے سینما میں اگر میوزک چلتا بھی تھا تو اس کی آواز مسجد تک نہیں پہنچتی تھی۔

تاریخ کی کتب سے پتہ چلتا ہے کہ 13 جُون سے پہلے مئی میں بھی مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ایک خون ریز جھڑپ ہو چکی تھی۔ سید غلام شاہ خالد گیلانی کا شمار راولپنڈی کے معروف ناموں میں ہوتاتھا۔’ماہنامہ افکار‘راولپنڈی نے 1962 ء میں نامور مسلم شخصیات پر خصوصی نمبر نکالا تو اس کے صفحہ 32 پر انہوں نے لکھا کہ ”مئی 1926ء کی رات غنڈوں نے بڑا کام کیا۔ساری رات کمر بستہ کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ہاکیاں اور ڈنڈے اٹھا کر جامع مسجد کی حفاظت کی۔میرا ہادیہ اور گولڑہ شریف سے بھی پارٹیاں پہنچ گئیں۔جامع مسجد سے ہی نصف شب کے وقت دو تین نوجوان نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے نکلے اور راجہ بازار کے گوردوارے میں جہاں سکھوں نے مورچہ بندی کر رکھی تھی بے دھڑک گھس کر گیس پھوڑی اور اور چپکے سے باہر نکل گئے۔روشنی گل ہو گئی۔سکھوں نے سمجھا مسلمانوں نے منظم حملہ کیا ہے۔کرپانیں نیام سے نکل آئیں اور آپس میں ہی چلنے لگیں۔کچھ دیر میں جب جوش فرو ہوا اور روشنی کی گئی تو معلوم ہوا کہ واہ گرو کے دو درجن خالصے کٹے پڑے ہیں۔صبح دم لاشوں سے بھرا ہوا چھکڑا لے کر گئے اور اٹک کی لہروں کے سپرد کر آئے ”۔عزیز ملک کی کتاب’راول دیس‘ جسے شہر کی تاریخ و تہذیب کے حوالے سے اُردو میں سب سے مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے، اس کے صفحہ 522 پر فسادات کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ”ہندو مسلمانوں کو لڑانا اور دونوں کو لڑا کر حکومت کرنا انگریز حکمرانوں کا سب سے محبوب مشغلہ تھا۔لہٰذا ہندو مسلمانوں کے تعلقات 1926ء میں بڑے کشیدہ تھے۔کانگریس اور خلافت کی تحریکوں کو ناکام بنانے کے لیے فرقہ وارانہ فسادات کی آگ ہندوستان کے کسی نہ کسی حصے میں اچانک بھڑک اٹھتی تھی۔چنانچہ اس مکدر فضا میں 13 جون 1926ء کو راولپنڈی میں سکھ مسلم خونریز فسادات شروع ہوگئے۔ورکشاپی محلہ اور ہملٹن روڈ پر اس زمانے کے جلے ہوئے مکانات آج بھی شہادت دے رہے ہیں کہ یہ فسادات نہایت مہلک اور خطرناک تھے۔جانی و مالی نقصان توہندو اور سکھوں کا کافی ہوا تھا مگر پکڑ دھکڑ، گرفتاریوں اور لمبی سزا کی قیدکے سلسلے میں مسلمانوں کا بھی کچومر نکال دیا گیا تھا۔موجودہ باغ ِسرداراں فسادات کی تفتیش کنندہ پولیس کا مرکز بنا ہوا تھا ”۔ صفحہ 410 پر درج ہے کہ” ان فسادات میں شیخ چراغ دین قدرت اللہ نام کی فرم بھی راکھ کا ڈھیر بن گئی اور ایک رات میں شیخ صاحب امیر سے فقیر بن گئے”۔انڈیا آف دی پاسٹ ڈاٹ آرگ نامی ویب سائٹ پر کنور جیت سنگھ ملک کی یاداشتیں دی گئی ہیں جو 1930ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے وقت ہجرت کر گئے۔انہوں نے ویب سائٹ کو بتایا کہ جامع مسجد کے ساتھ والی زمین سردار سجان سنگھ کی ملکیت تھی جس پر ہرنام سنگھ کا لکشمی سینما تھا۔”ہسٹری آف دی یونائیٹڈ پنجاب”: بی ایس نجار مطبوعہ 1996 ء،نئی دہلی،کے صفحہ 151 اور 152 پر درج ہے کہ اپریل میں کلکتہ کے فسادات کے بعد سب سے پرتشدد حادثے راولپنڈی میں 13 اور 14 جُون 1926ء کو ہوئے جس کی وجہ مسجد کے پیچھے واقع سینما اور تھیٹر کی عمارت بنی۔

محمد عارف راجہ اپنی کتاب تاریخ ِ راولپنڈی و تحریکِ پاکستان کے صفحہ 41 پر لکھتے ہیں کہ راولپنڈی کے فسادات سے پہلے برصغیر میں میلادکے جلوس نہیں نکلتے تھے۔جب ڈپٹی کمشنر نے جامع مسجد کے فسادات پر کشیدگی کم کرنے کے لیے ہندو، سکھ اور مسلمان رہنماؤں کا اجلاس بلایا تو فیصلہ ہوا کہ جس طرح ہندو اورسکھ اپنے اپنے تہواروں کو منانے کی غرض سے جلوس نکالتے اور جامع مسجد کے آگے سے گزرتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی جلوس نکالیں اور ہندوؤں وسکھوں کے مندروں اور گوردواروں کے سامنے سے گزریں۔لہٰذا اس فیصلے کے بعد 1927ء کی بارہ ربیع الاوّل کو عید میلاد کا پہلا جلوس راولپنڈی میں نکالا گیا جس میں پورے پنجاب سے دس لاکھ مسلمانوں نے شرکت کی۔اس کے بعد یہ روایت پورے برصغیر میں شروع ہو گئی۔حال ہی میں منظر عام پرآنے والی علی خان کی کتاب ”راولپنڈی فرام دی راج ایئرز”کے صفحہ 61 پر راولپنڈی کے ایک رہائشی رفیق احمد خان کی یاداشتیں شائع کی گئی ہیں جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ” فسادات والی رات انہوں نے والد کے ہمراہ مسجد کے قریب حکیم عبد الخالق کے گھر پناہ لی تھی۔یہ بہت خون آشام فسادات تھے جو مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان مسجد کے سامنے میوزک بجانے اور مسجد کے قریب لکشمی سینما کی وجہ سے شروع ہوئے تھے۔ان دنوں مسجد میں ہندوستان بھر سے علما آتے تھے اور بہت اشتعا ل انگیز تقریریں کرتے تھے ”۔

1926ء کے بعد 2013ء میں اسی مقام پر ایک بار پھر منافرت کا مظاہرہ سامنے آیا۔ علاقہ وہی ہے مگر اس بار یہ فسادات مذہبی کی بجائے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہوئے۔محرم الحرام کا جلوس راجہ بازار میں ایک مسجد کے سامنے سے گزر رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق نماز جمعہ کا خطبہ جاری تھاکہ اس دوران مسجد کی چھت سے جلوس پر سنگ باری ہوئی جو بعد ازاں فرقہ وارانہ فسادات میں بدل گئی۔اس بار بھی دوکانوں کو آگ لگی،مارکیٹیں نظر آتش ہوئیں،دس افراد مارے گئے اور 90 سے زائد زخمی ہوئے۔راولپنڈی کے فسادات کی وجہ سے پنجاب کے کئی شہروں کے حالات کشیدہ ہوئے جنہیں کنٹرول کرنے کے لیے فوج طلب کرنی پڑی۔اس واقعہ کے پانچ سال بعد فوج نے ایک دس رکنی گروہ کو گرفتار کیا جس نے ان فسادات کی منصوبہ بندی کی اور اس کے لیے دس محرم کا دن منتخب کیاتھا۔دونوں جانب سے یہی دس شرپسند ملوث تھے۔انہوں نے ہی مسجد کی چھت سے شرکاء پر سنگ باری کرائی تھی اور نیچے املاک کو بھی نذرآتش کیا۔ مگر سانحے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ملک میں فساد کرانے کی کوشش کی گئی۔ 1926ء سے 2013ء تک 87 سال بیت گئے مگر مذہب کی آڑ میں شرپسندی پھیلانے کی خُو زندہ ہے۔

1926 ء کے فسادات کی راکھ کی چنگاریاں 1947ء میں بھی ایک بار پھر راولپنڈی میں ہی بھڑکیں جنہوں نے سرحد کے آر پار نفرتوں کی جودیوار کھڑی کی اسے آج تک نہیں پاٹا جا سکا۔2013ء میں راولپنڈی میں مذہبی فسادات کی سازش تو بے نقاب کر دی گئی، ملزمان بھی پکڑے گئے مگر فرقہ واریت کا زہر اُسی طرح گلی گلی پھیلا ہوا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر نفرت نے کل ہماری سرحدوں کو بدلا تھا آج ہم فرقہ واریت کی بنیاد پر محلے اور شہر بدل رہے ہیں۔

یہ 1923ء کے راولپنڈی کا نقشہ ہے جس میں آپ جامع مسجد اور اس سے ملحق گوردوارے کو دیکھ سکتے ہیں۔ مسجد کے پیچھے جو سڑک نظر آ رہی ہے اس کے دوسری جانب وہ سینما تھا جو تنازعے کی وجہ بنا، نہرو روڈ کو اب باغ سرداراں روڈ کہا جاتا ہے، ہملٹن روڈ ک انام اسی طرح برقرارہے، کرشن پورہ کو اب امام باڑہ محلہ کہتے ہیں۔
جامع مسجد راولپنڈی، جہاں سے یہ فسادات شروع ہوئے تھے،1898ء میں اس مسجد کا سنگ بنیاد جس جگہ رکھا گیا اس کے قریب سکھوں کا گوردوارہ تھا اس لئے سکھ نہیں چاہتے تھے کہ یہاں مسجد بنے

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...