تباہی کے دہانے پر: اقتصادی نمو میں جمہوریت کی ناکامی اور اس کا حل

ڈاکٹر دامبیسافالیسیا مویو

177

اگر حالیہ عالمی نظام اور اس کے بین الاقوامی اقتصادی بند وبست کے ممکنہ انہدام کی بات کی جائے تو اس موضوع کے بارے میں جاننے کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر دامبیسا فالیسیا مویو سے زیادہ عمدہ اور بہترین انتخاب کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹرمویوکا جنم زیمبیا میں ہوا،وہ دنیا بھر میں اقتصادی اُمور کی ماہر اور مصنفہ کے حوالے سے اپنی پہچان رکھتی ہیں اور کلاں معاشیات و عالمی امور کی تجزیہ کار ہیں۔جب دنیا میں بے چینی کا چلن عام ہواور بے یقینی راج کررہی ہوتو یہ جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ غلطی کہاں ہے اور اسے کس طرح سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔زیرِ نظر مضمون ڈاکٹر دامبیسا فالیسیا مویو کی کتاب Edge of Chaos: Why Democracy is Failing to deliver Economic Growth and How to Fix It کے خلاصے کے طور پر لکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر مویو کی یہ کتاب محض ماضی کے قصوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے عملی رہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیتی ہے کہ کس طرح آزادی پسند جمہوریت اور صحت مند اقتصادی نظام کی بقا کو یقینی بنایا جا سکتا ہے تاکہ ہم اپنے آپ کو محفوظ و مطمئن رکھنے میں کامیاب ہوسکیں۔یہ خلاصہ عالمی شہریت یافتہ تجزیہ کار ڈینس براؤن کا لکھا ہوا ہے۔

اقتصادیات اور عالمی سیاسی نظم انتہائی مشکل موضوعات ہیں اور انہیں سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔یہ موضوعات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ عالمی اقتصادی نظام کو کس طرح چلایا جانا چاہیے کہ یہ بات یقینی ہو جائے کہ اس نظام کی فعالیت ہر ایک فرد کے مفاد میں ہے۔مزیدیکہ ان کی مدد سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آج کل کیا غلط چل رہا ہے اور تحفظ پسند(Protectionist)، عالمگیریت مخالف اور عوامیت پسند قوتیں ان مسائل کو مزید گھمبیر بنانے میں کس طرح اپنا حصہ ڈالیں گی۔اس مضمون میں چین کی اقتصادی حالت، امریکیوں کی ریاضی بینی اور 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں اکٹھی کی گئی رقم کے بارے میں بات کی گئی ہے۔

اقتصادی نمو معیارِ زندگی کو بہتر بناتی ہے جبکہ سیاسی عدمِ استحکام اور قلیل المدتی پالیسیاں معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اقتصادیات ایک دلچسپ مگر مشکل مضمون ہے۔جب کبھی آپ کوئی خبر پڑھتے یا سنتے ہیں کہ کوئی ملک یا کمپنی کس طرح کی صورتِ حال کا سامنا کررہی ہے تو یہ مضمون انتہائی آسان بن جاتا ہے۔خبروں میں زیادہ تراقتصادی نمو کی بات کی جاتی ہے، ہم اس کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی ملک کی اقتصادی نمومیں جمود کی خبر سامنے آنے پر کوئی نہ کوئی سیاستدان اس پر تنقید کرتا نظرآرہا ہوگا۔ لیکن نمو میں اضافے کی خواہش اس قدر کیوں ہے؟ یقینی بات ہے کہ نمو میں اضافے کے باعث معاشی مواقع پیدا ہوتے ہیں، نقل و حرکت میں اضافہ ہوتا ہے اور معیارِ زندگی میں بلندی آتی ہے۔

چین اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔اس کی شرح نمو گزشتہ چالیس برسوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے اور چین اب دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔2014ء میں چین کی مساوی قوتِ خرید17 اعشاریہ 6 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جبکہ امریکا کی مساوی قوتِ خرید اس برس 17اعشاریہ 4 ٹریلین ڈالر تھی۔ چین میں اقتصادی نمو کے باعث معاشی مواقع میں بھی اضافہ ہوا اور بالخصوص دیہی غریبوں کے لیے نئی نوکریاں پیدا کی گئیں۔محض ایک نسل کی مسافت کے دوران چین میں 300 ملین افرادکو خطِ غربت سے اُوپر لایا گیا۔2013ء میں چینی ریاستی کونسل کے تقسیمِ آمدنی منصوبے سے واضح ہوچکا تھا کہ چینی معیشت کی آئندہ سمت کیا ہوگی۔چین آمدن میں عدمِ مساوات کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے اُجرت میں کمی، تعلیمی اخراجات میں اضافہ اور قابلِ برداشت رہائش کی فراہمی جیسے اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کی اقتصادی نمو میں کمی کا نقصان کیا ہوتا ہے۔ارجنٹائن کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ جب اقتصادی نمو سکڑ کر رہ جاتی ہے تو نتیجتاً سیاسی عدمِ استحکام اور قلیل المدتی منصوبہ بندی جیسے عناصر جنم لیتے ہیں۔ 1913ء میں ارجنٹائن فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کا دسواں بڑا ملک تھا لیکن1930ء سے ستر کی دہائی کے وسط کے دوران ملک کو6 بارفوجی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ تین دفعہ ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 500فیصد سے بھی تجاوز کر گئی اور کئی سالوں تک اقتصادی شرح نمو صفر سے بھی کم رہی۔ ارجنٹائنی حکومت اس دوران اپنے ملک کے فائدے کے لیے کسی بھی طرح کی طویل المدتی پالیسی کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ وہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے میں ناکام رہی اور اقتصادی کامیابی کے حصول کی غرض سے سستی اور غیر معیاری تعلیم کی حامل زرعی افرادی قوت پیدا کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر توجہ مرکوز رکھی۔درحیقیقت ارجنٹائن 40 کی دہائی میں ثانوی تعلیمی اداروں میں حاضری کی شرح کے لحاظ سے دنیا کا آخری ملک تھا، اس قدر دگرگوں تعلیمی حالت کا نتیجہ کسی بھی طرح کی مسابقانہ سرگرمیوں اور ایجاد و ندرت کے شوق اور قابلیت میں کمی کی صورت میں سامنے آیا۔ارجنٹائن میں اقتصادی و سیاسی زبوں حالی اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ 1998ء سے2002ء کے دوران نمودار ہوئی جب بے روزگاری25فیصد کی بلند ترین شرح تک پہنچ گئی، ملکی کرنسی کی قدر 75 فیصد تک گر گئی اور شرح غربت2001ء میں 35 فیصد کی نسبت 2002 ء میں 54 اعشاریہ3 فیصد تک بڑھ گئی۔

معیشت کو مستحکم کرنا ایک فن ہے، تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس میں شرح نمو کا کردار یقینی ہے۔ حکومتی قرضے، محدود وسائل اور شرح آبادی جیسے عوامل اقتصادی نمو کے لیے خطرہ کا باعث بنتے ہیں۔ اگر آپ اپنے گھر کا بجٹ ترتیب دیتے ہوئے مقروض ہوجاتے ہیں تو یہ ایک تکلیف دہ بات ہے لیکن قومی اقتصادیات میں صورتِ حال کافی مختلف ہو جاتی ہے۔آپ یقین نہیں کریں گے مگر یہ سچ ہے کہ ملک اگر مقروض ہوجائے تو اس سے اقتصادی

شرح نمو میں بہتری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ہم امریکا کی مثال لیتے ہیں، دوسری جنگِ عظیم کے بعد ملک نے تعلیم، تحفظِ صحت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ایک بڑی رقم قرض لی۔1956ء میں بین الریاستی شاہراتی نظام کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا مہنگامنصوبہ بنایا گیا،اسی طرح 1944ء میں جی آئی بل پاس کیا جو سابق فوجیوں کو تعلیم اور کاروبار کی فراہمی کے حوالے سے تھا۔اس طرح 20 لاکھ فوجیوں نے کالج میں داخلہ لیا اور55 لاکھ نے ٹریننگ حاصل کی جس سے امریکا کی افرادی قوت کی مہارت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

لیکن کہا جاتا ہے کہ مقروض ہونا ہمیشہ اچھا نہیں ہوتا۔ اگر قرضے کا حجم بہت زیادہ بڑھ جائے تو مشکلات سر پر آن کھڑی ہوتی ہیں۔ 2007ء کا عالمی اقتصادی بحرا ن اس کی واضح مثال ہے۔ یونان، اٹلی اور آئرلینڈ قرضوں کے بے بہا حجم تلے دب گئے اور اقتصادی نمو کی شرح کم تر ہو کر رہ گئی، یہاں عوامی قرضوں پر سود کی رقم ٹیکس محصولات سے بھی 10 فیصد زیادہ تک پہنچ گئی، نتیجتاً متعلقہ حکومتوں کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ اپنی زیادہ سے زیادہ رقم تعلیم وغیرہ جیسے شعبوں میں لگانے کی بجائے قرضوں کے حجم میں کمی کے لیے استعمال کریں۔اس طرح اقتصادی نمو میں مزید کمی واقع ہونے لگی۔

تاہم اس کے علاوہ بھی کئی دیگر عوامل ایسے ہیں جو شرح نمو پر انتہائی برا اثر ڈالتے ہیں۔مثال کے طور پردنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی سے قدرتی وسائل کی طلب میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور یہ وسائل کم ہوتے جارہے ہیں۔ 1950ء میں دنیا کی آبادی 2 اعشاریہ 5 بلین تھی، جو گزشتہ 60 سالوں کے دوران بڑھ کر 7بلین تک آن پہنچی ہے اور اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 2050 ء تک دنیا کی آبدی کا حجم 9 بلین تک پہنچ جائے گا۔ظاہری بات ہے کہ قدرتی وسائل لامحدود نہیں ہیں اور وقت کے ساتھ طلب و رسد میں اضافے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا، یہ اضافہ معیشت میں سرایت کرتا چلا جائے گا جس کا یقینی نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آئے گا اور اس کے نہ صرف معیشت بلکہ لوگوں کے معیارِ زندگی پربھی خاطر خواہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

پانی ایک عمدہ مثال ہے۔یہ بات بالکل بجا ہے کہ زمین کی70 فیصد سطح پانی سے ڈھکی ہوئی ہے، لیکن اس پانی کا 97 فیصد حصہ نمکین اور کھارے پانی پر مشتمل ہے جو پینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے نہ زراعت کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔آبادی میں اضافے کے ساتھ پانی کی طلب میں اضافہ ہو گا اور پانی کی کمی سے کئی ممالک میں زراعت اور آبی بجلی گھروں کی فعالیت بری طرح متاثر ہوں گے۔ پانی کی اس کمی سے عالمی پھل منڈی اور اقتصادی نمو پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے۔

خود کار مشینوں کی بہتات اور عالمی سطح پر افرادی قوت کی کمی کے باعث ملکی معیشتیں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔معیشت کا مسئلہ انتہائی نازک ہوتا ہے، کوئی ایک غلطی کی اور ساری کی ساری محنت پرپانی پھر گیا۔یہ انتہائی عجیب بات لگتی ہے لیکن یہ سچ ہے کہ کسی بھی معیشت کے لیے سب سے خطرناک چیز لوگ یا افراد ہوتے ہیں اوربالخصوص کام کرنے والے لوگ، کہا جا سکتا ہے کہ یہ افرادی قوت ہی ہوتی ہے جو کسی بھی معیشت کی نمو میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ترقی یافتہ دنیا میں ایک یہی چیز نہ صرف تعداد بلکہ استعدادِ کارکے حوالے سے بھی تنزلی کا شکار ہے اور یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔مسئلہ پھر ایک وہی ہے:آبادی،جسے اقوامِ متحدہ نے عالمی مسئلہ کے طور پر پیش کر رکھا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق 2050 ء میں ہر چھ افراد میں سے ایک فرد کی عمر 65 سال سے زائد ہو گی جبکہ یہی شرح 2012ء میں ہر 12افراد میں سے ایک فرد کے عمر رسیدہ ہونے کی تھی۔

عمر رسیدہ افراد کی کثرت کے باعث ہمیں کام کرنے والے افراد کی بجائے ریٹائر ڈافر اد پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور یہ چیز کسی بھی معیشت کی پیداواری صلاحیتوں میں کمی کا باعث بنتی ہے۔جب لوگ زیادہ عمر تک جئیں گے تو ہم مدتِ ملازمت کو بڑھادینے کی توقع رکھیں گے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں صحت کے تحفظ اور پنشنز پر زیادہ رقم خرچ کرنا ہوگی، اور یقین مانیے یہ بہت بڑا بوجھ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اس وقت ایسے دور سے گزررہے ہیں کہ انہیں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مسئلہ درپیش ہے۔جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ایک تخمینے کے مطابق 2060 ء میں 40 فیصد آبادی 65 سال سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہو گی،یعنی کام کرنے والے جوانوں کی کمی ہو جائے گی اور اس سے جاپان کو لیبر میں کمی، پیداوار میں کمی اور اقتصادی شرح نمو میں انجماد کے مسائل کا سامنا ہوگا۔

مسئلہ صرف تعداد میں کمی نہیں ہے۔افرادی قوت کی استعدادِ کار میں بھی تنزلی آئے گی۔ہمیں مشکور ہونا چاہیے امریکا میں تعلیم پر کم سرمایہ کاری کی طویل المدتی پالیسی کاکہ امریکا میں ابھی سے یہ مسئلہ سر اٹھانے لگا ہے۔ 2015ء میں Programme for International Student Assessment (PISA) کے امتحان میں پندرہ سالہ امریکی طالب علم نے 35ممالک کے طالب علموں میں سے 13 ویں پوزیشن حاصل کی۔یہ نسل جب افرادی قوت کا حصہ بنے گی تو امریکا ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔

معیشت کو ایک اورخطرہ بڑھتی ہوئی مشین کاری سے ہے۔ٹیکنالوجی تیزی سے ملازمتوں کو بے کار بنائے جارہی ہے، جس کے باعث آمدن کے حوالے سے عدمِ مساوات کا گھمبیرمسئلہ سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ آکسفورڈ مارٹن اسکول کی رپورٹ 2013ء کے مطابق امریکا میں کل ملازمتوں کا 47 فیصد حصہ مشینوں کی زد میں ہے۔بغیر ڈرائیور گاڑیوں کا آنا ایک بڑا چیلنج ہے۔تصور کیجیے کہ صرف امریکا میں ٹرک صنعت34 سے 45 لاکھ افرادکو روزگار فراہم کرتی ہے۔ بغیر ڈرائیور گاڑیوں کی آمد سے ٹرک، بس اور ٹیکسی ڈرائیورز کی ناقابلِ یقین تعداد کے متأثر ہونے کا خدشہ ہے۔ٹیکنالوجی سب سے پہلے کم آمدنی والی نچلی ملازمتوں کے خاتمے کا باعث بنے گی جس سے معاشی عدمِ مساوات کا مسئلہ سر اُٹھائے گا، یہ حالات سماجی و سیاسی عدمِ استحکام اور انتشار کی طرف لے جائیں گے کیوں کہ حکومتوں اور معاشی نظام پر سے عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔

اس وقت عالمی منظر نامے پر تحفظ پسندانہ (پروٹیکشنزم) رجحانات کاسامنے آنا بین الاقوامی اقتصادیات کے لیے خطرے کا باعث ہے۔2016ء میں دو مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ عالمی اقتصادی اتفاقِ رائے پسِ منظر میں جانے والا ہے۔ایک تو اس وقت جب برطانیہ نے بریگزٹ ریفرنڈم میں یورپی یونین کو خیر باد کہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ ان واقعات سے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ دنیا ایک بار پھر عالمگیریت سے تحفظ پسندی کی طرف واپس جارہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان تحفظ پسندانہ اقدامات سے نہ صرف عالمی بلکہ ملکی معیشتوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔عالمی معیشت کے لیے بڑا مشکل مرحلہ ہو تا ہے جب درآمدی اشیا پر تحفظ پسندانہ محصول اورکوٹہ کا اطلاق کیا جاتا ہے، اس سے بین الاقوامی تجارت سکڑ کر رہ جاتی ہے اور سرمایے کی گردش میں تعطل آجاتا ہے۔

بلا شبہ یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے، لیکن تحفظ پسندی کا دوسرا شکار خود داخلی معیشت ہوتی ہے۔ذرا1930ء کے سموٹ ہالے ٹیرف ایکٹ کو دیکھیے جس میں امریکا نے3200 اشیا کی درآمدات پر محصولات کی شرح 60 فیصد تک کر دی تھی۔ نظری طور پر تحفظ پسندی اس لیے اپنائی جاتی ہے کہ مقامی کاروبار اور تجارت کو تحفظ ملے اورداخلی معیشت میں استحکام آئے لیکن سموٹ ہالے ایکٹ اپنے مقصد میں بری طرح ناکام ہوا۔ اس کے برعکس دیگر ممالک نے امریکی اشیا پر ٹیکس لگا کر اس ایکٹ کا جواب دیا۔ جس کے نتیجے میں امریکا میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا، لوگوں کا معیارِ زندگی تنزلی کا شکار ہوا اور ملک کی شرح جی ڈی پی 1929 ء میں 104 اعشاریہ 6 فیصد سے کم ہوکر 1933ء میں محض 75اعشاریہ 2 رہ گئی۔

لیکن سب سے بڑا مسئلہ جو تحفظ پسندانہ رجحانات کی وجہ سے سامنے آیا وہ ترقی پذیر ممالک کے پیش کاروں پر اس کے منفی اثرات تھے، امریکا اور برطانیہ کی جانب سے اپنے کاشتکاروں کو سبسڈی دینے کی مثالیں اسی نوعیت کی ہیں۔اگرچہ یہ سبسڈی اپنے کاشتکاروں کو قومی منڈی میں فائدہ پہنچانے کے لیے دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود جنوبی امریکا، افریقا اور ایشیا کے کاشتکار بھی فطری طور پر ان منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔تحفظ پسندی کے تناظر میں یہ بات انتہائی اہم ہے۔ترقی پذیر ممالک میں زرعی تجارت اس قدر مستحکم نہیں ہے کہ ملکی ڈھانچے کی تعمیرو ترقی کے لیے مطلوب وسائل مہیاکرنے کا بوجھ اٹھا سکے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ترقی پذیر ممالک دنیا کی آبادی کے 80 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔

تحفظ پسندی کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے عالمی سطح پر لیبر توازن برقرار نہیں رہ پاتا۔عالمی ادارہ لیبر کی ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا میں 73 اعشاریہ 4 ملین لوگ بے روزگار ہیں جن کی عمریں 18 سے 24 سال کے درمیان ہیں، دوسری طرف کئی ترقی یافتہ ممالک کو لیبر میں کمی کا مسئلہ درپیش ہے، جاپان میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوصف لیبر میں کمی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔لیبر میں کمی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے نقل مکانی کے موثر نظام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔کینیڈا اور آسٹریلیا نے اسی خطرے کے پیشِ نظر اپنے امیگریشن قواعد وضوابط میں نرمی کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کے افراد کو ان کی تعلیمی قابلیت اور کام کے تجربے کی بنیاد پرآسان ویزے جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

چینی ریاست کے زیرِ انتظام چلنے والی معیشت مستحکم شرح نمو کے لیے مثال قرار دی جاسکتی ہے لیکن اس پر ریاستی اختیارات طویل المدتی معاشی خطرات و خدشات کا باعث بن رہے ہیں۔کروڑوں اربوں لوگ اس وقت دنیا میں ایسے موجود ہیں جن کی یومیہ آمدن ایک  ڈالر سے بھی کم ہے۔جب آپ کو اس طرح کے لالے پڑے ہوں کہ شام کی روٹی بھی پوری ہوپائے گی کہ نہیں، اس وقت جمہوری آزادیوں کا ثانوی حیثیت اختیار کرجانا سمجھ میں آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے متعدد افراد ایک شفاف اور مکمل جمہوریت کی بجائے اقتصادی نمو کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔چین اس کی بہترین مثال ہے۔وہ ایک ایسا مستبد سرمایہ دارانہ معاشی نظام قائم کرچکا ہے جوملک میں اقتصادی نمو کی بہتری کے لیے نہایت اہم کردار ادا کررہا ہے۔اس میں اس نے انفرادی آزادیوں اور حقوق کی بجائے اجتماعی بہتری پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔اقتصادی نمو کی ریکارڈ شرح کے باعث وہ غربت میں خاطر خواہ کمی کرنے میں کامیاب رہا ہے اور یہ کامیابی اپنی مثا ل آپ ہے۔

آمدن میں عدمِ مساوات کا مسئلہ حل کرنے کی سب سے اہم چینی حکمتِ عملی تعلیم اوررہائش میں سرمایہ کاری کرنا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی یہ ضروریات آسانی سے پوری کر سکیں۔چین میں اس وقت ثانوی تعلیمی اداروں میں داخلوں کی شرح 94 فیصد ہے، یہ کس قدر حیران کن امر ہے کہ یہی شرح 1970ء میں محض 28 فیصد تھی۔حکومت نے بھی ملکی ڈھانچے کی موثر تعمیر و ترقی پر توجہ مرکوز کیے رکھی، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ پندرہ سالوں کے دوران شاہراہوں کی تعمیر کا کبھی نہ رکنے والاسلسلہ اس قدر کامیاب رہا ہے کہ چین سڑکوں اور شاہراہوں کی تعداد کے حوالے سے امریکا کی نسبت بڑا ملک بن چکا ہے۔

تاہم ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، چینی کامیابیاں پہلی نظر میں جس قدر سنہری اور خیرہ کن لگتی ہیں، حقیقتاً حکومتی اختیار اور اثرو رسوخ کے باعث اس قدر قابلِ بھروسہ ہیں نہیں، کیوں کہ یہ ریاستی اثرورسوخ طویل المدتی معاشی نمو کے لیے خطرے کا باعث بن سکتاہے۔ جارج واشنگٹن بش کی انتظامیہ بھی ایسے ہی مسئلے سے دوچار ہوچکی ہے۔”گھر سب کے لیے“ پالیسی کے ذریعے امریکی حکومت نے اپنے عوام سے اسٹاک مارکیٹ، اشیاے ضروریہ و خوردو نوش اور نقد رقم میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے گھروں کی تعمیر میں سرمایہ لگانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ایسا کرنے کے لیے ابتدا ً امریکی انتظامیہ نے بطور قرض خواہ معاشی منڈیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور دو کمپنیوں،فینی مے اور فریڈی میک کے ذریعے آسان اقساط پرقرضوں کی فراہمی کی پیشکش کی۔لیکن کئی امریکیوں

نے زمین خریدنے سے انکار کردیا کیوں کہ وہ اس کی قیمت کی تاب نہیں لاسکتے تھے اور اپنے آپ کو قرضوں کے بوجھ تلے دبتا محسوس کررہے تھے۔امریکی کاروباری صنعت میں اس طرح کی تبدیلی معیشت کی بربادی کا عنوان بنی اور 2008ء کے تباہ کن معاشی بحران کو جنم دیا۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والے معاشی نظام کی خامیوں سے آگاہ ہوں اوریہ بھی کہ ایسا معاشی نظام جس میں ریاستی اثرو رسوخ اور اختیارات زیادہ پائے جاتے ہوں ہمیشہ کے لیے روپیہ بناتے رہنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

ان حالات میں معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ طویل المدتی پالیسیاں بنائی جائیں۔ضروری ہے کہ انتخابی مہمات میں چندہ کے ذریعے سرمایہ کاری اورحکومتی اداروں میں بھاری تنخواہوں کے آگے بند باندھا جائے۔ گذشتہ دہائی میں ہم نے سیاست میں عوامیت پسند(پاپولسٹ) رجحانات اور اقتصادی غیریقینیت کا نظارہ کیا۔ ایسی صورتِ حال سے بچنے کے لیے یہ لازمی ہے کہ ہم مغربی جمہوریت کو اپنائیں۔ ہمیں ایسی بنیادی اصلاحات کا بیڑا اٹھانا ہو گا تاکہ اچھی فیصلہ سازی کو مغربی جمہوریتوں کا بنیادی ستون بنایا جاسکے۔سب سے پہلے ہمیں پالیسی ساز حلقوں کے لیے قانونی تبدیلیوں کو مشکل بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔موجودہ حالات میں پالیسی سازوں کے لیے یہ امر انتہائی آسان ہے کہ وہ اپنے پیش روؤں کی پالیسیوں کو مسترد کردتے ہوئے کالعدم قرار دے دیں، پالیسیوں کے اس عدمِ تسلسل کے باعث غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کا سبب بنتی ہے اور نتیجتاً طویل المدتی معاشی نمو میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔

ماحولیاتی تغیر کے پیرس معاہدے کی مثال لیجیے جس پر دسمبر 2015 ء میں باراک اوباما نے بڑی دھوم سے دستخط کیے لیکن صرف دوسال کے عرصے کے بعد2017ء میں ان کے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے مکر گئے۔لازمی ہے کہ عالمی معاہدات پرکوئی ملک ایک بار دستخط کردے تو اس سے پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ عالمی تنظیم تجارت(WTO) کے تجارتی معاہدوں اور نیٹو سکیورٹی معاہدوں کے لیے بھی درج بالا اصول لاگو کیا جانا چاہیے۔دوسری چیز یہ کہ ہمیں انتخابی معاہدات میں سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے لیے اصول و ضوابط بنانے ہوں گے، اس طرح ہم انتخابات پر بعض دولت مند مفاد پرست گروہوں کی اجارہ داری کے آگے روک لگا سکتے ہیں۔کس قدر حیران کن بات ہے کہ 2016 کی امریکی صدارتی انتخابی مہم میں 2 بلین ڈالرز اکٹھے کیے گئے تھے، ان انتخابات کے نتیجے میں امریکا کے اندر ایک ایسے نظام کی بنیاد پڑی جس میں دولت ہی کا سکہ چلتاہے۔سیاستدان عوامی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسی پالیسی سازیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جوصرف انتخابی مہم میں پیسہ بہانے والے دولت مند افراد کے مفادات کی آبیاری کرتی ہیں۔

تیسری اہم بات یہ کہ پالیسی سازوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔اس طرح ذہین افراد کے اندر سرکاری اداروں میں کام کرنے کا شوق پیدا ہو گا۔موجودہ حالات میں اگرسرکاری اور نجی اداروں میں تنخواہوں کے فرق کو مدِ نظر رکھا جائے تو سرکاری ادارے انتہائی غریب نظر آتے ہیں، جن میں ہنر مند افراد کی کمی پائی جاتی ہے۔اگر ہم تقابلی جائزہ لیں تو آپ حیران ہوں گے کہ 1979ء سے 2013ء کے دوران نجی اداروں کے سربراہوں کی تنخواہیں 1 اعشاریہ 5 ملین ڈالر سے بڑھ کر 15ملین ڈالر ہوئی ہیں، یعنی اس دوران ان تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس آپ اندازہ کریں کے امریکی صدر کی تنخواہ جو 1969ء میں ایک لاکھ ڈالر تھی، 2001ء تک محض 4 لاکھ ڈالر تک ہی بڑھ سکی۔

مدتِ عہدہ میں اضافہ اور حقیقی دنیا کا تجربہ سیاستدانوں کی قابلیت کو نکھار سکتا ہے جبکہ رائے دہندگی کو لازمی قرار دینے سے سیاست بہتر طور پر پھل پھول سکتی ہے۔اگرچہ سیاسی نظام میں اصلاحات لانا بڑے جی گردے کاکام ہے لیکن یہ لازمی ہے۔تین مزید چیزیں ہیں جنہیں ہم مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے بہتر بنا سکتے ہیں۔ابتداً ہمیں صدارتی مدت بڑھا دینی چاہیے، لیکن ساتھ ہی ہمیں اس کے لیے کچھ حدود بھی مقرر کرنی چاہییں۔عہدوں پر زیادہ عرصے تک متمکن رہنے سے جوابدہی کا احساس بڑھے گا اور سیاسی رہنماؤں کو طویل المدتی پالیسی سازی کا موقع میسر آئے گا۔میکسیکو اس کی عمدہ مثال ہے جہاں فرانسسکو ماڈرو نے 1910ء کے صدارتی انتخابات میں ”ازسرِ نو انتخابات کی نفی اورجائز انتخابی عمل“کے نعرے کے ساتھ حصہ لیا اور کامیاب ہو گئے۔اس کے بعد سے اب تک میکسیکو میں کوئی بھی فرد چھ سال کے لیے زندگی میں صرف ایک بار صدر کے عہدے پر فائز ہو سکتا ہے۔اس عمل کا نتیجہ ہے کہ میکسیکو ہمسایہ لاطینی امریکی ریاستوں کی نسبت سیاسی طور پر زیادہ مستحکم ہے اور اس کی اقتصادی نمو کی شرح بھی دیگر ممالکی کی نسبت کافی زیادہ ہے۔

دوسرے نمبر پر ہمیں صدارتی امیدوار کے لیے بالخصوص’حقیقی دنیا کے تجربے‘کے حوالے سے کچھ اہلیت کا معیار مقرر کرنا چاہیے۔ برطانوی دارالعوام کے کتب خانے کی جاری شدہ رپورٹ2012ء کے مطابق دارالعوام میں 1983ء سے 2010ء کے درمیان ایسے پارلیمانی نمائندوں میں 45فیصد کمی واقع ہوئی جو جسمانی مشقت کے پیشے سے منسلک تھے۔ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ حقیقی دنیا کے تجرنے سے نہیں گزرتے ان کے اندر لوگوں کی معاشی مشکلات کو سمجھنے اور ان سے ہمدردی کرنے کی صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔وہ زیادہ تر ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو امراء کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں یا پھر جن کے باعث ان کی پارلیمانی نمائندگی باقی رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا ہم صدارتی دفتر چلانے کے لیے یہ لازمی قرار دے سکتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا فرد اس کا اہل ہو سکتا ہے جو کم از کم دس سال تک سیاسی میدان سے باہر کی دنیا میں کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہو۔

آخری اور اہم بات یہ کہ رائے دہندگی کو ہرصورت یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔جمہوریت اور انتخابی معاونت کے عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2014ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں رجسٹرڈ رائے دہندگان میں سے صرف 36فیصد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی تاریخ کی یہ کم ترین شرح رائے دہندگی ہے۔رائے دہندگان، یعنی عوام سیاستدانوں کے انتخاب اور حکومتی اقدامات کے ذمہ دار ہوتے ہیں، اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو۔ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے جرمانوں کا اطلاق بھی کیا جاسکتا ہے۔ جیساکہ آسٹریلیا میں پہلی بار حقِ رائے دہندگی استعمال نہ کرنے پر کسی بھی فرد کو 20 ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے اورہر انتخابات میں اگر آپ نے حقِ رائے دہی استعمال نہیں کیا تو آپ کو 50ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا میں ٹرن آؤٹ 90 فیصد سے بھی زائد ہے، یاد رہے ایسا صرف آسٹریلیا میں نہیں ہے بلکہ سنگا پور اور بلجیم بھی ان ممالک میں شامل ہیں جو رائے دہندگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہ ممالک اس کوشش میں ہیں کہ ان کے ہاں جمہوریت کا مستقبل یقینی بن جائے۔

ہمیں معاشی شرح نمو میں طویل المدتی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ہم معیارِ زندگی بہتر بنا سکیں۔ اس کے لیے ہمیں اجرت میں اضافہ اور بہتر تعلیم کی فراہمی سے لے کر آمدن میں عدمِ مساوات کے خاتمے اورتحفظِ صحت تک رسائی جیسے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔تاہم حالیہ لبرل جمہوریتیں قلیل المدتی پالیسی سازی اور تحفظ پسند رجحانات کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں، ہمیں انہیں اس ڈھب سے واپس لانا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو معاشی انجماد اور معیارِ زندگی میں ابتری جیسے عوامل کا جنم یقینی ہو جائے گا۔

مترجم: حذیفہ مسعود

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...