پاپولزم کا بخار

سلمان طارق قریشی

571

پاپولزم کیا ہے؟ یہ دورِحاضر کے گہما گہمی کے حامل سوالات میں سے ایک ہے۔یہ کسی طبقے کا بھونڈا سماجی برتاؤہے، کج ثقافتی اثر ہے، یازبردست سیاسی حربہ۔سلمان طارق قریشی کوئی فیصلہ تو نہیں سناتے تاہم وہ اس کے تاریخی  مظاہر کی روشنی میں یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ ایک طوفانی جھکڑ کی طرح ہے جس کی میعاد طویل نہیں ہوتی لیکن یہ اپنے مختصر دورانیے میں بے شمار مسائل چھوڑ جاتا ہے۔وہ اسے شیکسپئر کے ڈرامے ”جولیس سیزر“ کے کرداروں میں بھی ڈھوندتے ہیں کہ کیسے بے رحم مثالیے کی طاقت اپنا کام کرتی ہے۔انہوں نے یہ نکتہ بھی نمایاں کیا ہے کہ پاپولسٹوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔سلمان طارق قریشی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی مجلس مشاورت کے رکن ہیں اورمتعددانگریزی کتب کے مصنف ہیں۔ ان کا یہ مضمون ہفت روزہ انگریزی میگزین”فرائیڈے ٹائمز“ سے ترجمہ کیاگیا ہے۔

طاقت کے تصور کو عظیم ڈرامہ نگار ولیم شیکسپئر سے بہتر شاید ہی کسی نے سمجھا ہو۔ سولہویں صدی عیسوی میں لکھے گئے اس کے ڈراموں میں سے اکثر کا مرکزی خیال طاقت اور اس کے کھوجانے کے موضوعات سے متعلق ہے۔ بارڈ آف ایوون (شیکسپئر کا لقب یعنی عظیم شاعر) کا قریب قریب مابعد الطبعیاتی فوکوڈئین تصوارت کے مطابق یہ اعتقاد تھاکہ طاقت ہی ہر سُو پھیلی ہوئی ہے اور اس کی بہت سی جہتیں ہیں۔

اس کے مشہور زمانہ کھیل”جولیس سیزر“ کوبطورمثال سامنے رکھا جاسکتاہے۔ اس کھیل میں طاقت کے بہت سارے چہرے ہیں۔اس میں سینیٹرز ہیں، کاسکا میٹالس سمبر،لگاریئس اور دیگرکئی کردار۔ یہ سب افراد اس وقت کی روایتی آئینی طاقت کے حامل ہیں۔ یہی طاقت آگے چل کر سیزر کے قتل کے منصوبے کی طرف لے جاتی ہے جب ”طاقت کے لیے بھوکااور نحیف ” کاسیئس اس کا پرعزم ارادہ کرتا ہے۔ تاہم یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی یہ طاقت جولیس سیزر کی طاقت کے مقابلے میں ناکافی ہے،سیزر کے پاس فوج، اپنی شخصیت کی جاذبیت اور کردار کی یکساں طاقت موجود ہے اور اسے عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔مہم کی انجام دہی کے لیے آخر کار سازشی سینیٹرز کے ساتھ ایک عالی دماغ مارکوس بروٹس شامل ہوجاتا ہے۔ یہ شخص ایک جابر کو ختم کرنے کے اس منصوبے میں اپنے سرد مہر، بے رحم اشرافیائی مثالیے کی طاقت کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔

اس قتل کے بعد قاتلوں کے حق سے حالات اس وقت بدل گئے جب کم ہمت مارک انتونی نے جولیس سیزر کے قتل پر غمزدہ غصیلے لہجے میں خود سے کہا،”میں یہ پیشگوئی کرتا ہوں کہ انسانوں کے اعضائے جسمانی پہ عذاب نازل ہونے والا ہے۔داخلی شورشوں اور شدید خانہ جنگیوں سے اطالیہ کے تمام حصے پریشاں حال ہوں گے۔” وہ

پرعزم ہوکر کہتا ہے ”اب بے شک تباہی ہو اور جنگ کے کتے آزاد ہوجائیں ”۔وہ اپنی دھوکے باز جذباتی تقریر سے مجمع کو اشتعال دلاتا ہے اور ہجوم کے تباہ کن غصے کو اُکساتا ہے جس کے سبب لوگوں کا تباہی بھرا غصہ تمام رُوم کی گلیوں میں تشدد کی صورت پھیل جاتا ہے، یہاں تک کہ شاعر ’سینا‘ بھی اس سے محفوظ نہیں رہتا۔ بالآخر جولیس سیزر کا لے پالک بیٹا اوکٹیویس اقتدار سنبھال کر نظم و ضبط بحال کرتا ہے اور رُوم کا پہلا بادشاہ بنتا ہے۔

یہ عوامیت پسند جذبات کے ظہور کی عملی صورت تھی جس کا انتونی نے مظاہرہ کیا۔ عوامیت پسندی کا بدترین مظاہرہ۔جیسا کہ شیکسپئر یا اس سے بھی پہلے افلاطون نے یہ جانچ لیا تھا کہ عوامیت پسندی بالآخر براہِ راست یا مرحلہ وار طور پر تشدد کے ذریعے لاقانونیت اور جبرکی جانب راستہ بناتی ہے۔ میراخیال ہے کہ نروان ندیم نے اپنے مضمون” عوامیت پسندوں کی پیشقدمی (دی مارچ آف پاپولسٹ)” میں غلط تجزیہ کیا تھا جس میں انہوں عوامیت پسندی کو محض ایک بھونڈا برتاؤ اورکج ثقافتی معیار قراردیا ہے۔ 1930ء کے زمانے میں یورپ کے جو نازی یا باقی فسطائی رہنما تھے،ان میں کسی بھی طرح غیر ثقافتی اور بھونڈی بات نہیں تھی، انہوں نے تواپنے بدترین نظریات کو جیکب گرن جیسے ماہر لسانیات،آرتھر ڈی گوبینو جیسے ماہر بشریات اور فریڈرک نطشے جیسے فلسفی سے اخذ کیاتھا۔

اور یہ بھی نہیں کہ عوامیت پسندی صرف دائیں بازو کے سیاست دانوں کی ملکیت ہے،بلکہ1917ء میں رُوسی نیرودنیا وولنیا یعنی ”نورودنک ”کے وارثین عوامیت پسندوں نے بھی بالشیوک انقلاب اور لینن کی مدد کی۔ 1960ء اور 70 کی دہائیوں میں بہت سے بائیں بازو کے عوامیت پسند رہنماؤں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ممالک میں قوم پرست فکر اور نوآبادیات کے خلاف تحریکو ں کی قیادت کی۔ ہمارے سامنے الجیریا کے احمد بن بیلا، انڈونیشیا کے احمد سوئیکارنو، تنزانیہ کے جولیس نیررے، زمبابوے کے رابرٹ موگابے، یوگوسلاویہ کے مارشل ٹیٹو، عراق کے صدام حسین، لیبیا کے معمر قدافی اور فلسطین کے یاسر عرفات جیسی چند مثالیں موجود ہیں۔ ان میں سے کئی رہنماؤں نے یک جماعتی آمریتیں بھی قائم کیں۔ ایک حیثیت میں بھارت کی اندرا گاندھی، بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمن اور پاکستان کے ذوالفقار بھٹو بھی اس میں شامل ہیں جنہوں نے ترقی پسند مقاصد کے لیے عوامیت پسند ہتھکنڈوں کو کامیابی سے استعمال کیا۔حتیٰ کہ گزشتہ دہائی تک بائیں بازو کے عوامیت پسند رہنماؤں کا دور دورہ رہا، جن میں وینزویلا کے ہیوگو شاویز اور برازیل کے اگناسیو لولا ڈی سلوا  کے نام قابل ذکر ہیں۔ ٹرمپ، بورس جانسن، بولسونارو،مودی، عمران خان وغیرہ ہی نہیں بلکہ ان جیسے اور بھی ہیں جنہوں نے عوامیت پسندی کا پرچم تھام رکھا ہے۔

پھر عوامیت پسندی کوئی سیاسی نظریہ یا رویہ نہیں ہے بلکہ یہ چند متعین مقاصد کے حصول کا آلہ ہے، چاہے وہ دائیں بازو سے ہوں یا بائیں بازو سے، روشن خیال ہوں یا اس کے برعکس۔ اخلاقیات کے زاویے سے دیکھیں تو یہ ایک مذموم ذریعہ ہے جس میں جذباتی تقاریر اور من گھڑت قصوں کے ذریعے کسی سماجی گروہ کو علیحدہ کرنے اور ان کے خلاف نفرت اُبھارنے کا کام سر انجام دیا جاتا ہے۔

بہت سے عوامیت پسند رہنماؤں میں نرگسیت، دماغی بیماریوں،سماج دشمنی وغیرہ جیسی علامات پائی جاتی ہیں، یا وہ ذہنی طور پر معذور ی کے قریب ہوتے ہیں۔ اگر وہ ایسے ہوں تو امریکی لغت کے مطابق وہ ”لومڑی کی مانندچالاک” کہلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی صدر ٹرمپ کو ہی لے لیجیے جن کے پاس ایک ہزار سے کم الفاظ کا ذخیرہ الفاظ ہے، ان کی اس حیثیت نے یقینی طور پر انہیں دنیا کے معروف ایوی لیگ انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ ہی نہ لینے دیا ہوتا، اگرچہ وہ اسی ادارے سے فارغ التحصیل ہیں۔بچوں کے جیساان کاذخیرہ الفاظ مکمل جعلی ہے، یہ ان کا انداز ہے۔ اپنے سے کم درجہ لوگوں سے نفرت انگیز اورتذلیل آمیز لہجے میں بات کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اپنے پیش رو باراک حسین اوبامہ کامقابل ظاہر کرتے ہیں۔وہ خود کو اوبامہ سے مختلف ثابت کرتے ہیں جو اپنی شاندار گفتگو اور بے پایاں تقریری صلاحیتوں سے اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ اوبامہ، ایفرو امریکی، جو کہ ایک افریقی مسلم باپ کے بیٹے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ افریقا اور اسلام ٹرمپ کے مسلسل نشانے پہ رہتے ہیں۔

معاصر ماہرین سماجیات میں سے ایک اطالوی ماہر ارنستو لاک لاؤ عوامیت پسندی کو نہ تو کسی فکر کی غلط تشریح یا مرض کے طور پردیکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی خاص سیاسی یا نظریاتی تفہیم کرتے ہیں۔ عوامیت پسندی ایک خاص طرح سے وجود پاتی ہے اور اس میں کسی بھی طرح کا سیاسی بیانیہ موجود ہوسکتا ہے۔ آج کل کے زمانے میں جہاں سماج کی شناخت مختلف برادریوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور ان میں سے اکثر ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں مطمئن کرناآسان نہیں ہوتا،اس صورت میں عوامیت پسند سیاستدان ایک داخلی محاذ کھول لیتے ہیں۔ یہ ایک مبہم اصطلاح ” عوام” استعمال کریں گے اور اس ”عوام” سے ایسے گروہ کو خارج کردیں گے جو ان کی دانست میں غاصب ہے۔ ”عوام ”نامی اس غیرواضح تصور کے اطلاق کے لیے اپنی مرضی کی شرائط وتحفظات کی فہرست تیار کی جائے گی، ایسی شرائط و تحفظات جن پرامکانی طور پہ کوئی ایک گروہ پورا نہیں اُتر رہا ہوگا، یہ گروہ یا تو اشرافیہ ہے یا کوئی اقلیت، جسے ”عوام” کا دشمن قرار دیدیا جائے گا۔اس ساری کتھارسس کے پیچھے نہ کوئی سومندحکمت عملی ہوتی ہے اور نہ مخصوص شرائط وتحفظات کے سماجی فوائد۔ لاک لاؤ بیان کرتے ہیں کہ یہ صورتحال عوامیت پسندی کی کمزوری نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی سیاسی تاثیر اورپالیسی ہے۔

لاک لاؤ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب اس طرز کے افراد کو اقتدار میں آکر کچھ وقت کے لیے حکومت کرنے کاموقع ملتا ہے تو پہلے پہل عوامیت پسندی ادارہ جاتی خصائص کے طور پر رچ بس جاتی ہے اور نتیجے میں ”عوامی شرائط و تحفظات” پر کسی عقلی تنقید کی گنجائش باقی نہیں ہوتی۔تاہم کچھ ہی وقت میں لوگ اس سے اُکتا چکے ہوتے ہیں،بالآخریہ تصورات آلودہ اور غیر پسندیدہ ہوجاتے ہیں۔مزید برآں عوامیت پسندی کو جلد ہی چکر کاٹ کر جبر کی نئی صورت میں ڈھلنا ہوتا ہے۔

پاپولزم اپنے دشمن بھی پیدا کرتاہے۔ یہ دشمن وقت آنے پر مدمقابل سے سخت بے رحمی سے پیش آتے ہیں۔ مثال کے طور پر مسولینی کا نصیب دیکھیے جسے اس کی موت کے بعد ایک بکرے کی صورت قصاب کی دکان پہ الٹا لٹکا دیا گیا، یا ہٹلر کو ہی دیکھ لیجیے جو اپنے بنکر میں خودکشی کے بعد جل کر راکھ ہوا، یا صدام حسین کو یاد کیجیے جو اپنی گرفتاری کے وقت  ایک بِل سے برآمد ہوا ور بعد میں پھانسی پہ جھول گیا، بھٹو کو یاد کیجئے جس کی پھانسی کے بعد جنازے میں گنتی کے افراد تھے، یا اندرا گاندھی جسے اس کے اپنے ہی محافظوں نے گولیوں سے چھلنی کردیا۔شیکسپئر کے مارک انتونی کو ہی دیکھ لیجیے جسے اوکٹیویس کی فوجوں نے گھیرے میں لیا تھا اور وہ اپنی مصری محبوبہ قلوپطرہ  کے ساتھ کیے ہوئے خود کشی کے عہد کے سبب زہریلے سانپ کے ڈسنے سے تڑپ تڑپ کے مرا۔

مترجم: شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...