کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

اداریہ روزنامہ ڈان

169

گزشتہ چند دہائیوں سے یومِ کشمیر پاکستانی کیلنڈر میں باقاعدہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم اِس سال چیزیں ذرا مختلف بھی ہیں، کیونکہ اگست 2019ء میں بھارت کی جانب سے متنازعہ علاقے کی خودمختار حیثیت کی منسوخی کے بعد پہلی دفعہ یومِ کشمیر منایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد سے کشمیر کی خوبصورت سرزمین پر اس کے لوگوں کے خلاف مصائب و سفاکیت کی داستان رقم ہو رہی ہے جس کا ذمہ دار دِلی حکومت کا متعصب و تنگ نظر گروہ ہے۔

بھارت نے مقبوضہ خطے کا جبری محاصرہ کر رکھا ہے جس کے باعث وہاں ذرائع مواصلات اور تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پہ بندش کا شکار ہیں، کریک ڈاؤن کے وقت سے اب تک ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں وہ قانون ساز بھی شامل ہیں جو کسی وقت دِلی سرکار کے نہایت قریبی حلیف سمجھے جاتے تھے، جن کی وہ خدمت بجا لاتے رہے انہی عناصر سے اب ناانصافی کا سامنا ہے۔ اس جدوجہد کے روح رواں عام کشمیری ہیں جنہوں نے نئی دِلی کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا ہمیشہ مقابلہ کیا، سکیورٹی فورسز آدھی رات کے اوقات میں ان کے گھروں پر چھاپے مارتی ہیں اور اِن نہتے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہیں۔

منگل کے روز پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس سنگین صورتحال پر ردعمل کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دی۔ قانون سازوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مضبوضہ کشمیر میں ’اپنی غیرقانونی سرگرمیوں کو ختم کرے‘ اور ’غیرملکی حکومتوں و عالمی حقوق کے اداروں کو انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے اور اس کی رپورٹ کرنے کی اجازت دے‘۔

بلا شبہ جب سے بھارت نے متنازعہ علاقے کا غیرقانونی طور پہ الحاق کیا ہے تب سے پاکستانی ریاست اور سول سوسائٹی کشمیریوں کے لیے آواز اٹھارہے ہیں۔ حکومت نے اہم دارالحکومتوں سے رابطہ کرکے ایک مہم چلائی ہے، انہیں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال سے آگاہ کیا اور نریندر مودی کا سخت گیر دائیں بازو کا حامل اصلی چہرہ اور اس کے عزائم کو بے نقاب کیا ہے۔

ان کوششوں کے کچھ نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں جیساکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے حقوق کے سرکردہ اداروں نے مقبوضہ کشمیر کی بدحالی کے خلاف بیانات دیے، تاہم یہ ایک ناروا حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر بعض طاقتور عناصر نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے جوکہ تشویشناک ہے۔ ملائیشیا جیسے چند ملکوں کے استثنا کو چھوڑ کر کئی مسلم ریاستوں نے بھی آنکھیں موندنے کو ترجیح دی۔

درست ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں حقیقت پسندانہ زاویہ نظر زیادہ حاوی ہوسکتا ہے لیکن عالمی برادری کے وہ عناصر جو حقوق اور آزادی کی اقدار کے چیمپیئن ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں انہیں کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے اور بھارت کو خبردار کرنا چاہیے کہ خطے میں وحشیانہ سلوک روا رکھنے کا عمل ناقابل قبول ہے۔

پاکستان کو کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھنی چاہیے۔ کشمیر کے ساتھ  اِس ملک کے مذہبی، ثقافتی اور خون کے رشتے ہیں، اگر بھارت خطے کے لوگوں پر مظالم جاری رکھتا ہے تو ایسے میں نہ پاکستانی ریاست خاموش رہے گی نہ اس کے عوام۔

فی الوقت منظرنامہ غبار آلود اور مایوس کن ہوسکتا ہے لیکن کشمیریوں کو اُمید نہیں چھوڑنی چاہیے، انہیں حقوق کے لیے اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ وہ جب وقار، بنیادی حقوق اور آزادی کے لیے بھارتی بربریت کے مقابل سینہ سپر ہیں تو انہیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ آزمائش کی گھڑی میں پاکستان اور اس کے عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...