پولیو کے بڑھتے کیسز، کوئی ذمہ داری قبول کرے گا؟

199

دو دن قبل ملک میں پولیو کے چار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد اس بیماری سے متأثرہ معذور بچوں کی تعداد 144 ہوگئی ہے۔ ان میں سے ستانوے کیسز صوبہ خیبرپختونخوا سے ہیں۔ واضح رہے کہ 2018ء میں اس مرض میں مبتلا بچوں کی کل تعداد 12 تھی جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں پولیو مہم کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ پولیو ورکرز پر حملے بھی ہیں۔ 13 جنوری کو پولیو مہم کا دوبارہ آغاز کیا گیا تھا لیکن پچھلے ہفتے ہی ایک مسلح شخص نے پولیو کے قطرے پلانے والی دو خواتین ورکرز کو قتل کردیا تھا۔ اس کے علاوہ پروپیگنڈا بھی ایک وجہ ہے۔ پچھلے سال خیبر پختونخوا میں 68 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جانے تھے جن میں سے سولہ لاکھ کا تعلق پشاور سے تھا لیکن صرف پشاور شہر میں سرپرستوں نے چھ لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کردیا۔ کچھ لوگ شدت پسندوں کے خوف سے بھی ویکسین پلوانے سے منع کردیتے ہیں۔

پوری دنیا میں اس مرض کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 80 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ ملک میں اس کے پھیلاؤ کے کئی اسباب اور متعدد رکاوٹیں ہیں، لیکن بنیادی طور پہ مستحکم سیاسی عزم کا فقدان اس کی بڑی وجہ ہے۔ یہ بیماری ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں اس کے حوالے سے سماجی سطح پر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور اس بنا پر ذمہ دار سیاسی طبقے پر اس کو ختم کرنے کا بہت زیادہ عوامی دباؤ نہیں ہوتا نہ ویکسین کی فراہمی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اس لیے یہ پروگرام سست روی کا شکار بھی رہتا ہے اور اسے تجربہ کار افراد کے ہاتھ سونپنے کی بجائے من پسند تعلق دار عناصر کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو ناتجربہ کار افراد کی نئے سرے سے بھرتیوں کی وجہ سے پہلے سال اس کے کیسز میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ گزشتہ دسمبر میں بین الاقوامی مانیٹرنگ بورڈ کے دباؤ کے بعد حکومت نے انسدادپولیو پروگرام کے سابق سربراہ کو واپس لانے کا عندیہ دیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ذمہ دار سیاسی طبقہ اس مہلک مرض کے خاتمے کے لیے کتنا سنجیدہ ہے کہ اگر عالمی دباؤ نہ ہو تو مناسب وضروری اقدامات کرنے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔ دسمبر میں راولپنڈی کے اندر انتظامی نااہلی کے سبب بعض بچوں کو زائدالمیعاد ویکسین پلا دی گئی تھی۔

تاہم رکاوٹیں جو بھی ہوں پاکستان کے لیے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے۔ انسداد پولیو پروگرام کا دعویٰ ہے کہ وہ تندہی سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کیسز میں اضافہ کیوں ہوتا جارہا ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...