تکفیری سوچ نے مذہب کو نقصان پہنچایا

252

’’میں کسی عالِم کی کتب کا مطالعہ اس ارادے اور نیت سے کروں کہ ان کی کتابوں سے اخذ کردہ عبارات کی من مانی تشریح کروں اور لوگوں کو بتاوں کہ یہ صاحب کفریہ نظریات رکھتے ہیں‘‘۔

یہ روش برصغیر میں یا عالٙم اسلام میں جس نے بھی سب سے پہلے اختیار کی اس نے مسلمانوں پر بہت بڑا ظلم کیا۔ مسلمانوں میں خون ریزی، فساد، فرقہ واریت اور جنگ و جدال کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ  تکفیری سوچ اور رویے کو منبر و محراب سے عام کیا گیا۔ فروعی مسائل کے تانے بانے ارادتاََ اصولی مسائل سے جوڑے گئے اور کوشش کی گئی کہ کسی طرح مخالف کو دائرہ اسلام سے نکال باہر کیا جائے۔ کلامی مسائل جو دور رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و دورِ صحابہ کے بعد یا اُن کے آخری زمانے میں اُٹھائے گئے ان کی بنیاد پر جیّد اور عبقری علما و ائمہ پر صرف فتوے نہ لگے بلکہ اس کی پاداش میں ان کی جان بھی چلی گئی۔

یہ کام صرف ذاتی سطح پر نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ہوا۔ ریاست مذہب سے خود کو غیرجانبدار نہ رکھ سکے یا کسی ایک مذہب کی خدمت گار بن جائے تو پھر وہی قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا ہے جو ہماری تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ برصغیر میں گزشتہ دو صدیوں سے  یہی سرگرمیاں اپنے عروج پہ ہیں۔ اب تکفیری ذہن جس حد تک پروان چڑھ چکا ہے اور اس سے جو خلیج مسلمانوں میں پیدا ہوئی اُسے کم کرنے کی کوشش ناامیدی کی حد تک ناپید ہوچکی ہے. موجودہ پروردہ ذہن اِسے خدمت دین خیال کرتا ہے۔ وہ مختلف فرقوں کے علما یا جس کا کوئی فرقہ نہیں ہے لیکن وہ قرآن وسنت سے وابستہ ہے  جستجو اور کھوج میں رہے کہ کب کیسے اور کِسے کافر قرار دے سکتا ہے؟

بہترین روّیہ یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں کسی سے اختلاف ہے تو وہ اختلاف واضح کیا جائے، اس کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں کردی جائے۔ کسی شخص کو کٹہرے میں کھڑا نہ کیا جائے۔ اس کے خلاف لوگوں کو مشتعل نہ کیا جائے۔ تقریر و تحریر کے ذریعےاس پر فتوے نہ لگائے جائیں۔

ہر مسلک کے علما کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ سب نے اس اعلیٰ مقصد کے لئے زندگیاں وقف کی ہیں۔ دن رات قال اللہ اور قال قال رسول اللہ ہی پڑھا اور پڑھایا ہے۔ یہ روّیہ افسوسناک ہے کہ ہم اپنے تخلیق کردہ مسائل اور عقائد کی روشنی میں دوسروں کی تکفیر کریں یا ان کے خلاف فتوے اکٹھے کرتے پھریں۔ اس صورت حال کی اصلاح تربیت و تعلیم سے اس طرح ہوسکتی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ اس کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے کہ ہم کسی کے ایمان اور کفر کا فیصلہ کریں اور اس کے خلاف فتویٰ دیں۔ ہماری ذمہ داری صرف حق کی وضاحت و توضیح ہے اور دوسروں تک درست بات پہنچانا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...