صدی کی ڈِیل: فلسطین تنازع کا حقیقت پسندانہ دو ریاستی حل؟

211

گزشتہ شب امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم نتنیاہو کی معیت میں فلسطینی تنازع کا مستقل حل پیش کرتے ہوئے منصوبے کے تفصیلی نکات سے آگاہ کیا جس کے تحت فلسطین اور اسرائیل کی حدود کا تعین اور ان کے لیے ضابطہ کار  واضح کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں یروشلم کو اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت تجویز کیا گیا ہے۔ اس ڈِیل کو صدی کی سب سے بڑی ڈِیل کہا گیا۔ فلسطینی صدر اور عوام نے امریکی منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔

اس منصوبے کی حمایت اور اختلاف میں پوری دنیا میں ردعمل سامنے آرہا ہے۔ امریکی صدر نے ڈٍیل کو اس شرق اوسطی تنازع کا آخری قابل عمل حل قرار دیا ہے اور اس پر مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سعودی عرب، امارات اور اُردن کی سرکاری خبررساں ایجنسیوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے اس سعی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جبکہ کئی ماہرین اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس ڈِیل کی تیاری اور اعلان کے وقت کہیں بھی فلسطینی فریق کو شامل نہیں کیا گیا۔ یہ اعلانِ بالفور کی طرح کا منصوبہ ہے جس کا فلسطینی سرزمین سے دُور ایک اور ملک میں اعلان کیا گیا۔

دیگر مسلم ممالک میں سے مصر نے اس کی حمایت کی ہے، قطر نے کوششوں کو سراہا لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ دوریاستی حل 1967ء کی حدود  پر ہوتا تو بہتر تھا۔ ایران، ترکی اور تنظیم حزب اللہ نے منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں امن مزید خراب ہوگا۔

یورپی یونین کے ترجمان نے اس مسئلے پر اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک قابلِ عمل دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں، تاہم امریکا نے جو نکات پیش کیے ہیں ہم ان پر غور کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تنازع کے حل میں فریقین کے جائز مطالبات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد جرمن وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ بعض نکات پر تحفظات ہیں جن پر یورپی یونین کے ساتھ بات کریں گے۔ جبکہ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم پہلے ہی دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں جس پر تنظیم قائم ہے۔ ان کے مطابق فریقین کو 1967ء کی حدود پر اتفاق کرنا چاہیے۔

اسرائیلی میڈیا میں بھی بعض آراء اس ڈِیل کے خلاف آئی ہیں۔ ہاآرتز میں صحافی امیر تیبون نے لکھا ہے کہ اس منصوبے میں صرف ایک شِق پر فوری عمل ہوگا کہ متنازعہ بستیاں اسرائیل کے لیے قانونی حیثیت میں چلی جائیں گی۔ منصوبہ لکھا ہی ایسے گیا ہے کہ فلسطینی اسے مسترد کردیں، اس کے بعد اسرائیل مزید اراضی پر بھی قبضہ کرتا جائے گا۔ جبکہ اخبار المانیٹر میں شلومی الدار نے اس ڈِیل کے عمل میں فلسطینیوں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے اسے ان کی توہین سے تعبیر کیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...