’پاکستانی میڈیا دنیا کا سب سے آزاد میڈیا ہے‘ وزیراعظم کا فارن پالیسی کو دیا گیا انٹرویو

312

عمران خان 2018ء میں ایک پاپولسٹ تحریک کے ذریعے برسرِ اقتدار آئے۔ تب سے ان کی حکومت کو تشدد، معاشی بحران، انتہاپسندی، اور بھارت کے ساتھ کشیدگی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔  22 جنوری کو  انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں فارن پالیسی کے ایڈیٹر اِن چیف جوناتھن ٹیپرمین سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اہم امور پر رائے دی۔

جوناتھن ٹیپرمین: آپ کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی آج کی ملاقات کیسی رہی؟

عمران خان: سب سے اہم چیز جو اس وقت امریکہ اور پاکستان کے لیے یکساں طور پہ اہمیت کی حامل ہے وہ افغانستان کا مسئلہ ہے۔ افغانستان کے بعد دوسرا ملک جو اس 40 سالہ تنازعہ سے چھٹکارا چاہتا ہے وہ پاکستان ہے، کیونکہ افغانستان میں رونما ہونے والے تمام واقعات ومشکلات سے ہم براہ راست متأثر ہوتے ہیں۔ افغانستان سے متصلہ قبائلی علاقے نائن الیون کے بعد سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ان علاقوں کی تعمیر نو کا واحد رستہ افغانستان میں امن کا قیام اور دونوں ممالک کے مابین تجارت کا فروغ ہے۔ ہمارے لیے افغانستان کی ایک اور اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ وسط ایشیائی معاشی راہداری کا حصہ ہے۔

ماضی قریب تک امریکا کا خیال تھا کہ افغانستان کا فوجی حل کارگر رہے گا۔ میں نے ہمیشہ اس نقطہ نظر کی مخالفت کی۔ میری ہمیشہ سے یہ رائے تھی کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ غلط سمت میں لڑی جارہی ہے۔ اس کی وجہ سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوا۔ قابئلی علاقوں میں تجربہ یہ ہوا کہ جتنے ڈرون حملے ہوئے اتنے زیادہ لوگ عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہوتے گئے۔ میں نے اس کی مخالفت کی تھی تو مجھے طعنے دیے گئے۔ اب صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ مذاکرات اور سیاسی تصفیہ کا حل درست ہے۔ یوں دونوں ملک اب ایک پیج پر ہیں اور پہلی بار پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات معتدل ہیں کیونکہ مقاصد یکساں ہیں۔

قبائلی علاقوں میں جتنے ڈرون حملے ہوئے اتنے زیادہ لوگ عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہوتے گئے

ماضی میں امریکا نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت کرے، ہمیں اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا کیونکہ ایک تو ہماری قوم تقسیم ہوئی، 70 ہزار لوگ مارے گئے، اور جنگ میں ناکامی کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہرا دیا گیا۔ تاہم اب ہمارے درمیان اختلاف نہیں ہے، ہم سب امن چاہتے ہیں۔

جوناتھن ٹیپرمین: پچھلی دفعہ صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی، آپ نے بھی اس قضیے کا عالمی سطح پر اٹھانے کا عندیہ دیا تھا، تاہم بھارت نے اس سب کی مخالف کی، کیا ایسا ہونے کا کوئی امکان ہے؟

عمران خان: میرا ایمان ہے کہ عسکری آپشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ بطور ایک سابق کرکٹر میں بھارت کو زیادہ بہتر جانتا ہوں اور میری وہاں دوستیاں بھی تھیں اسی لیے میں نے حکومت ملنے کے بعد سب سے پہلے نریندرا مودی سے امن کے لیے رابطہ کیا، لیکن مجھے ان کے ردعمل نے حیرت زدہ کردیا۔

برصغیر میں دنیا کی بڑی غریب آبادی بستی ہے، لہذا دونوں ممالک کی بہتری اس میں ہے کہ وہ تنازعات سے باہر نکل کر باہمی تجارت کو فروغ دیں۔ یہی بات میں نے بھارتی وزیراعظم سے بھی کہی لیکن مجھے مایوسی ہوئی۔ اس کے بعد پلوامہ حملہ ہوا تو میں نے بھارتی ہم منصب سے کہا کہ ہمیں ثبوت دیں تو ہم کاروائی کریں گے لیکن انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے الٹا ہماری حدود میں بمباری کردی۔ نریندر مودی نے دوسری دفعہ انتخابات جیتنے کے بعد کشمیر کا بھارت سے الحاق کردیا تب سے حالات تباہی کی جانب مائل ہیں۔

بھارت میں موجودہ واقعات کی جو ترتیب ہے اس کی جرمنی نازی عہد کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے

بھارت میں جو ہورہا ہے وہ لوگوں کے لیے تباہی لائے گا، بالخصوص کشمیریوں کے لیے جنہیں 9 لاکھ فوجیوں نے پانچ ماہ سے محصور کررکھا ہے۔ ہندوستان کثیرالثقافتی سیکولر ملک تھا، یہی گاندھی اور نہرو کا وژن تھا۔ یہ ملک اب خطرات سے دوچار ہے۔

جوناتھن ٹیپرمین: پچھلے سال پاکستان اور بھارت تقریباََ جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے، کیا اب بھی کوئی ایسا خطرہ منڈلا رہا ہے، اور دنیا اس کے وقوع کو روکنے کے لیے کیا کرسکتی ہے؟

عمران خان: فی الحال ہم کسی ایسے حادثے کے دہانے پر تو نہیں ہیں تاہم اقوام متحدہ اور امریکا اپنا کردار ادا کریں۔ بھارتی وزیراعظم نے اپنی پچھلی انتخابی مہم پاکستان کے خلاف نفرت کے نعرے پر چلائی تھی لہذا یہ خدشہ موجود ہے کہ حالات مزید خراب ہوں۔ شہریت بل کے ذریعے مسلمانوں کی شہریت کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ اپنے لوگوں کی اس سے توجہ ہٹانے کے لیے کنٹرول لائن پر بمباری کی جارہی ہے۔ اگر وہاں حالات مزید بگڑتے ہیں تو بمباری میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسی لیے اقوام متحدہ اور امریکا کو مداخلت کرنی چاہیے۔ وہ اپنے مبصرین لائن آف کنٹرول پر کیوں نہیں بھیج رہے؟

جوناتھن ٹیپرمین: صدر ٹرمپ اب مودی کے قریب ہیں، کیا آپ کو ’ہاؤڈی مودی‘ سے کوئی پریشانی اور ناگواری تو لاحق نہیں؟

عمران خان: ’ہاؤڈی مودی‘ بالکل پریشان کن نہیں۔ امریکا بھارت تعلق قابل فہم ہے، کیونکہ بھارت ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ میری تشویش کا سبب وہ سمت ہے جس کی جانب بھارت بڑھ رہا ہے۔

پچھلے ساٹھ سالوں میں پاکستانی معیشت 13 مرتبہ کریش ہوئی ہے اور ہر بار آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔

بھارت میں واقعات کی جو ترتیب ہے اس کی جرمنی نازی کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ 1930 سے 1934 کے درمیانی عرصہ میں جرمنی ایک آزاد خیال جمہوریت سے ایک فاشسٹ، غاصب، نسل پرست نظم کی طرف منتقل ہوگیا تھا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں بی جے پی کی حکومت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر نظر ڈالیں تو آپ کو پریشانی ہوگی۔ آپ ایک ایسے ملک کی بات کر رہے ہیں جو 1.3 ارب کی آبادی رکھتا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے۔

جوناتھن ٹیپرمین: چونکہ آپ ورلڈ اکنامک فورم میں آئے ہیں اس لیے کچھ سوال معیشت پر کر لیتے ہیں۔ پچھلے ساٹھ سالوں میں پاکستانی معیشت 13 مرتبہ کریش ہوئی ہے اور ہر بار آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ Fitch ایجنسی نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان کی کمزر ترقی اور گورننس کی نوعیت سے پتہ چلتا ہے کہ ملکی اقتصادی نظم ساختیاتی بنیادی مسائل کی زد میں ہے۔ پاکستان سری لنکا، بنگلادیش اور بھارت سے بہت نیچے ہے۔ آپ نے معیشت کی بہتری کے وعدے کیے تھے۔ آپ ایسی کونسی بنیادی اصلاحات متعارف کرا رہے ہیں کہ سرمایہ کار ماضی کے مقابل آپ پر زیادہ اعتماد کریں؟

عمران خان: ساٹھ کی دہائی میں پاکستان ساؤتھ ایشیا میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والا ملک تھا، اس کے ماڈل کی کئی ممالک نے کاپی کی۔ میرا خیال ہے وسائل سے زیادہ نظام کی شفافیت اہم ہوتی ہے، بدعنوانی اور کرپشن تباہی لاتے ہیں۔ پیسہ کمانے کے لیے حکومتی ذمہ داران انصاف کے نظام کو متأثر کردیتے ہیں۔

جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے اس کا موازنہ ایغور مسئلے کے ساتھ کرنا ٹھیک نہیں

ناجائز کا لوٹا ہوا پیسہ منی لانڈرنگ سے باہر لے جایا جاتا ہے اس سے کرنسی متأثر ہوتی ہے، نتیجتاََ مہنگائی بڑھتی اور غربت پھیلتی ہے۔ کرپشن کا پیسہ اگر اس کی بجائے انسانوں پر خرچ ہوتا تو ترقی نظر آتی۔

ہم کئی سطح پر کوشش بروئے کار لا رہے ہیں۔ ریاستی اداروں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ احتساب کی مہم چلا رکھی ہے جو ملک میں پہلے کبھی نہیں چلی۔ منی لانڈرنگ کے قوانین سخت کردیے گئے ہیں۔ سب سے ہم کہ ملک کی سمت بدلی ہے۔ پہلے شرح نمو مصنوعی تھی، اب ایسا نہیں۔ جو خسارہ ہمیں پچھلی حکومتوں سے ملا اس کا 70 فیصد ہم نے کم کردیا ہے۔ صرف دو سالوں میں سرمایہ کاری 200 فیصد بڑھ گئی ہے۔

جوناتھن ٹیپرمین: فوج بہت طاقتور ہے اور معیشت میں اس کا بڑا حصہ ہے، ایسے میں آپ آزاد اصلاحات کیسے نافذ کرسکتے ہیں؟

عمران خان: یہ پہلی حکومت ہے جسے فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں۔ پہلے حکومتوں کے ساتھ عسکری اداروں کے تصادم کی وجہ یہ تھی کہ سیاستدان پیسہ لوٹتے تھے، فوج کی خفیہ ایجنسیوں کو اس کا علم ہوجاتا تھا جس کے بعد تصادم کی کیفیت بن جاتی تھی۔ ماضی کا تصادم فوجی مداخلت کی وجہ سے نہیں تھا۔

جوناتھن ٹیپرمین: آپ کشمیر سمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن چین کے ایغور مسلمانوں کے مسئلہ پر خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟

عمران خان: پہلی بات تو یہ ہے کہ میں ایغور مسئلے کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتا، دوسرا یہ کہ جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے اس کا موازنہ ایغور مسئلے کے ساتھ کرنا ٹھیک نہیں۔

پاکستانی میڈیا دنیا کا سب سے آزاد میڈیا ہے

جوناتھن ٹیپرمین: بہت احترام کے ساتھ، ہم ایک سے دو ملین مسلمانوں کی بات کر رہے ہیں جنہیں حراستی کیمپس میں قید کیا گیا ہے؟

عمران خان: لیکن کشمیر کے مظالم کا دائرہ بہت وسیع ہے، پانچ ماہ سے آٹھ ملین لوگ حصار میں ہیں اور پچھلے 30 سالوں میں ایک لاکھ کشمیری مارے گئے۔ کشمیر کی ساری اعلیٰ قیادت جیل میں ہے۔

ایک رُخ یہ بھی ہے کہ چین نے ہماری اس وقت مدد کی جب ہم سخت مشکل میں تھے۔ ہم چینی حکومت کے شکرگزار ہیں۔ پاکستان نے طے کیا ہے کہ چین کے ساتھ جڑے مسائل کو نجی سطح پر حل کرے گا اور انہیں منظرعام پر نہیں لائے گا۔

جوناتھن ٹیپرمین: امریکا نے پاکستان چین تجارتی ربط بارے کئی مرتبہ تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ پاکستان کو قرضوں کے جال میں پھنسا دے گا، سری لنکا کی مثال سامنے ہے، آپ اس پہ کیا کہیں گے؟

عمران خان: میرے وزیر خزانہ ساتھ ہیں وہ اس کی وضاحت کریں گے۔

عبدالحفیظ شیخ: چین پاکستان میں ترقیاتی منصوبے لگا رہا ہے، سب سے اہم کہ بندرگاہ تعمیر اور فعال کر رہا ہے۔ جس کا مقصد افریقا تک ایکسپورٹ کو بڑھانا ہے۔

جوناتھن ٹیپرمین: لیکن چین نے سری لنکا میں بندرگاہ پر قبضہ جمالیا ہے۔

عبدالحفیظ شیخ: بندرگاہ عوام اور پاکستان کی ملکیت ہے۔ اسے فعال بنانا مقصد ہے، عالمی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ پرائیویٹ کمپنیاں اگر اسے چلائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ سڑکوں کا جال پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ہم سرمایہ کاروں کو مدعو کررہے ہیں کہ وہ آئیں اور یہاں کام کریں، امریکا کو بھی دعوت دیتے ہیں۔

پاکستان نے طے کیا ہے کہ چین کے ساتھ جڑے مسائل کو نجی سطح پر حل کرے گا اور انہیں منظرعام پر نہیں لائے گا

جوناتھن ٹیپرمین: کیا حقانی نیٹ ورک جیسے گروپ اب بھی پاکستان میں کام کررہے ہیں؟

عمران خان: بالکل بھی نہیں۔ جب میں وزیراعظم منتخب ہوا تو بھارت نے کہا کہ یہ گروپ پاکستان میں فعال ہیں، میں نے کہا آپ شواہد دیں کہ کہاں ہیں۔ یہی بات ہم نے امریکا سے کہی جب اس نے یہ الزام لگایا۔ میں فخریہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ شدت پسند گروپ ماضی کا قصہ ہیں۔

جوناتھن ٹیپرمین: فریڈم ہاؤس نے اس سال پاکستان میں صحافت کو ’جزوی آزاد‘ قرار دیا۔ وہاں کے صحافیوں کو شکایت ہے کہ سکیورٹی ادارے انہیں پریشان کرتے ہیں۔ آپ کیا کردار ادا کررہے ہیں اس مسئلے میں؟

عمران خان: میں آپ کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ صحافت کے شعبے کی طرف سے حکومت اور وزیراعظم نے سخت تنقید برداشت کی۔ میں آپ کو یقین سے کہتا ہے کہ کوئی جمہوریت اس سب کی اجازت نہیں دے گی۔ میں نے برطانیہ میں وقت گزارا، وہاں ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک شخص ٹیلی وژن پہ آئے اور کہے کہ ’وزیراعظم کی اہلیہ اسے چھوڑ رہی ہے‘ تنقید پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا، اسی سے جمہوریت اور آمریت میں فرق ہوتا ہے۔ تاہم میڈیا کے لیے کچھ ضابطہ کار ہونا چاہیے۔ جس کا سامنا ہمیں ہے وہ پروپیگنڈا ہے۔ پچھلے ایک سال سے میں واچ ڈاگ باڈی سے انصاف مانگ رہا ہوں، یہاں وزیراعظم کو انصاف نہیں ملتا۔ ماضی میں کچھ مسائل شاید تھے لیکن اب یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی میڈیا دنیا کا سب سے آزاد میڈیا ہے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: فارن پالیسی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...