بھارت کا دستوری بحران

328

بھارت کے 71ویں یومِ جمہوریہ پر کانگریس پارٹی نے نریندر مودی کو بھارت کے دستور کی کاپی اِس پیغام کے ساتھ بھیجی ہے کہ ’’جب آپ کو ملک تقسیم کرنے سے فرصت ملے تو اِسے ضرور پڑھیے گا‘‘۔ بظاہر یہ عمل میڈیا کے عہد میں ایک اچھی شہ سرخی ہے۔ دوچار اچھے ٹویٹ بھی ہوئے لیکن یہ دراصل بہت گہرا پیغام ہے کہ آئین ہی ریاست اور شہریوں کے درمیان واحد قابلِ عمل عمرانی معاہدہ ہے۔ اِس سافٹ وئیر میں نفرت کا وائرس آجائے تو سماج میں طاقتوروں کے فسطائی رویے راج کرنے لگتے ہیں۔ یہی آج کے بھارت میں ہو رہا ہے۔ تاہم اُمید کی کرن یہ ہے کہ وہاں کی تگڑی سول سوسائٹی بلاامتیاز رنگ و مذہب ’ہندوتوا‘ کے بڑھتے فاشزم کے سامنے مزاحمت کی دیوار بنی ہوئی ہے۔ اِن مظاہروں میں ہمارے فیض اور جالب کی انقلابی شاعری کے علاوہ بھارت کے دستور کا دیباچہ باآواز بلند پڑھا جارہا ہے۔

بھارت کے  الیکشن 2019ء میں ہندوتوا کی لہر کو بڑی کامیابی ملی۔ ہندوتوا کے سیاسی پلیٹ فارم بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاپولزم کی جڑیں بابری مسجد، رام مندر، گجرات قتلِ عام کے ساتھ ساتھ ویرسوارکر کے ہندو مہا سبھا کے تصور میں ایک صدی سے موجو تھیں۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی  جناح نے انہی نظریات کے سامنے  قیامِ پاکستان کی ہندوستان کے دستوری بحران کے حل اور محض عددی اکثریت کی بنیاد پر جیت کر سب کچھ حاصل کرلینے والوں کے خلاف بطور ڈھال وکالت کی۔ آج قائداعظم کے ناقدین کی بھی آنکھیں کھل رہی ہیں۔ بھارت میں کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے تو وہاں ہونے والے واقعات کو دیکھ کر کہا ہے کہ ’’آج کے ہندوستان میں قائداعظم سچے ثابت ہو رہے ہیں‘‘۔ تاریخی طور پر قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اپنی 11 اگست 1947ء کی تقریر میں ’تقسیمِ ہند کو ہندوستان کے دستوری بحران کا واحد قابلِ عمل حل قرار دیا تھا‘ اور کہا تھا کہ اس کے بارے میں تاریخ اپنا حتمی فیصلہ دے گی اور آج تاریخ یہ فیصلہ لکھوا رہی ہے۔

دنیا میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں پر آواز اُٹھانے والے مہذب ممالک کو ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے والی اتنی بڑی نسل کشی اور زیادتیوں پر ہرگز خاموش نہیں رہنا چاہیے

بھارت کے بانیان نے اپنے کثیرالمذاہب سماج کو سیکولرزم کی لڑی سے اپنے دستور میں پرویا تھا، لیکن 71 سال بعد یہ لڑی ہندوتوا کی کلہاڑی سے ٹوٹ رہی ہے۔ نتیجتاََ آج بھارت ایک نئے دستوری بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے غلاف میں چھپا کر رکھا گیا۔ جب 5 اگست 2019ء کو اس آرٹیکل کا خاتمہ ہوا تو مقبوضہ کشمیر دنیا میں انسانوں کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ 80 لاکھ کشمیریوں کے جذبے کرفیو میں قید ہیں۔ 9 لاکھ مسلح جیلر تمام حقوق اور آزادیاں، حتیٰ کہ حقِ زندگی تک سلب کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ اِسی طرح 11 دسمبر 2019ء  کو بھارتی شہریت کے قانون میں متنازعہ ترمیم اور شہریت کے قومی رجسٹر کو بھی بھارت کے آئین کے آرٹیکل 14 جوکہ شہریت میں برابری کے بارے میں ہے، کی نفی قرار دیا جارہا ہے۔ اِس متنازعہ ترمیم نے مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ، جین، پارسی، بدھ اور مسیحی مہاجرین کے لیے شہریت کے دروازے کھولے ہیں جبکہ مسلمانوں کے لیے نازی جرمنی کی طرز پر ’کنسنٹریشن کیمپ‘ تعمیر کیے جارہے ہیں۔ دنیا آج نریندر مودی کو ’عصرحاضر کا ہٹلر‘ قرار دے رہی ہے۔ المختصر بھارت کی سماجی فالٹ لائنز میں لاوا پک رہا ہے۔ اور دستور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے سبب 200 ملین سے زائد مسلمان آبادی پریشان ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ انڈین سول سوسائٹی بھرپور مزاحمت کر رہی ہے۔ کیا یہ مزاحمت ہندوتوا کے جِن کے سامنے کوئی بند باندھ سکے گی؟ یا پھر ہندوتوا بھارت کو 21ویں صدی کا یوگوسلاویہ بنادے گی؟

نریندر مودی بھی ہٹلر کی طرح الیکٹورل ڈیموکریسی کے ذریعہ اقتدار میں ہیں۔ چائے والے کی پہچان رکھنے والے مودی کارپوریٹ انڈیا کے کاندھوں پر سوار ہیں۔ لیکن معیشت وہاں بدحال ہورہی ہے۔ بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں کی ٹوٹ پھوٹ سے علاقائی سیاسی جماعتیں اُبھریں اور کامیاب بھی رہیں۔ کیا یہ کمزور جماعتیں ہندوتوا پالیٹکس کا مقابلہ کرسکیں گی، یا پھر عددی اعتبار سے دنیا کی بڑی ڈیموکریسی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گہنا جائے گی؟ بھارتی سماج میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کا حل تو وہاں کی متبادل سیاست ہی نکالے گی، اگر نکال سکی تو۔ لیکن آج کی دنیا میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں پر آواز اُٹھانے والے مہذب ممالک کو ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے والی اتنی بڑی نسل کشی اور زیادتیوں پر ہرگز خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...