’سہ ماہی تجزیات‘ کا نیا شمارہ شائع ہو گیا ہے

453

سہ ماہی تجزیات کا نئے سال کا پہلا شمارہ (جنوری تا مارچ 2020ء) شائع ہو کر منظر عام پر آگیا ہے۔ تازہ شمارے کو اداریے سمیت أٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کا مختصر تعارف اس طرح ہے:

اداریہ ’مذہبی سیاست اور کرنے کا کام‘ کے نام سے معنون ہے۔ اس میں حالیہ برسوں کے دوران مذہبی جماعتوں کے نئے ابھرتے سیاسی رجحانات، فعالیت کی سمت اور ان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق کی نوعیت کے تناظر میں بات کی گئی ہے کہ سماج میں ان کے لیے کیا حقیقی کردار ہے جو ادا کیا جاسکتا ہے اور جو ان جماعتوں کا انجام کار مطمع نظر بھی ہے۔

مضامین کے پہلے حصے کا عنوان ’آئین و حقوق‘ ہے جس کے ذیل میں دو مضامین شامل ہیں:

’جوگیندراناتھ منڈل، علامتی تکثیریت اور عملی مشکلات‘ یہ مضمون پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ظفراللہ خان کا ہے۔ اس میں انہوں نے قیام پاکستان کے مرحلے میں نئی ریاست کی پوسٹر بوائے بن کر ابھرنے والی شخصیت جوگیندراناتھ منڈل کے بارے میں بات کی ہے کہ انہوں نے پاکستان میں رہتے ہوئے کیا کردار ادا کیا اور کیا ملک چھوڑ کر بھارت جانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور راستہ تھا؟

دوسرا مضمون سماجی علوم کے ممتاز سکالر پاکستان سٹڈی سینٹر جامعہ کراچی کے سابق ڈائریکٹر سید جعفر احمد کا ہے جس کا نام قیامِ ’پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر اور حاصل ہونے والے سبق‘ ہے۔ انہوں نے جداگانہ مسلم تشخص کی حیثیت کے حوالے وضاحت کی ہے کہ قائداعظم نے چاہے مسلمانوں کے حق میں ان کے بطورِ اقلیت وکالت کی ہو یا بطورِ قوم، انہوں نے بہرحال آزادی کی تحریک کے دوران کبھی مذہبی منافرت کا پیغام نہیں دیا۔

دوسرا حصہ ’قومی منظرنامہ‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں دو مضامین شامل کیے گئے ہیں:

پہلا مضمون ’بلوچستان: نیشنل ازم، شورش، مذہب اور ترقی کے نئے رجحانات‘ ہے۔ یہ محمد عامر رانا نے لکھا ہے۔ بلوچستان وسائل و محل وقوع کے اعتبار سے اہم اور امن و سیاسی حرکیات کے لحاظ سے پیچیدہ صوبہ ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ وہاں کیا تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں  اس بارے ذرائع ابلاغ میں بہت کم بات کی جاتی ہے اور قومی سیاست کے ایوانوں میں بھی اس کا ذکر مفقود ہے۔ انگریزی روزنامہ ڈان سے ترجمہ شدہ اس تفصیلی مضمون میں صوبے میں اثرانداز عوامل اور اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اقتصادی شرح نمو میں کیسے بہتری لائے جاسکتی ہے؟ ایک غالب تصور ملٹری طرز کے مرکزیت کے حامل معاشی نظم کے انتخاب کا ہے۔ ماہرِ معاشیات ذیشان ہاشم نے اپنے مضمون ’گورننس کا جبر: چند معاشی مغالطے‘ میں اس تصور کے مغالطے پر بات کی ہے۔

شمارے کا تیسرا حصہ ’فکرونظر‘ ہے جس میں تین مضامین شامل کیے گئے ہیں:

پہلا مضمون ’مذہب و ریاست دو جڑواں بھائی: مسلم کلاسیکی سیاسی فکر‘ ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود کا ہے۔ اس میں مسلم دنیا کے سیاسی نظمِ اجتماعی کا ماضی اور حال کے سیاسی فقہی ادب اور ریاستوں کے عملی تعامل کے تناظر میں جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اسے انگریزی سے ترجمہ کیا گیا ہے۔

تیسرا مضمون محمد عمار خان ناصر کا ہے جس کا عنوان ’مسلم قومی ریاست میں غیرمسلموں کی حیثیت، برصغیر کی مذہبی سیاسی فکر کا جائزہ‘ ہے۔ اس میں انہوں نے برصغیر کے مسلم عہد اور تقسیم کے بعد پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل ہونے والی حیثیت اور درپیش حقوق کے مسائل پر بات کی ہے۔

تیسرے مضمون کا نام ’سماج کا وجودِ نامی اور تہذیبِ نفس کا آبِ حیات‘ ہے۔ اسے پروفیسیر ادریس آزاد نے لکھا ہے جس میں انہوں نے بشری اخلاقیات اور نظریہ افادیت پر فلسفیانہ گفتگو کی ہے کیسے انسانوں کے باہمی تعلقات میں مفادپرستی مجاز محور بن گئی ہے۔

چوتھا حصہ ’مدارس‘ کے عنوان سے ہے اس میں پاکستان مدرسہ بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد عامر طاسین نے ’دینی مدارس کے نظمِ تعلیم اور مسائل کا تاریخی جائزہ‘ لیا ہے اور حالیہ عرصے میں حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اور ممکنہ حل پر کلام کیا ہے۔

’سیاست، سماج اور تاریخ‘ کے نام سے معنون پانچویں حصے میں چار مضامین شائع کیے گئے ہیں:

پہلا مضمون ڈاکٹر عرفان شہزاد کا ’قومی و مذہبی اظہاریوں کا خلطِ مبحث اور مصنوعی بیانیہ‘ ہے۔ اس میں اس نظریاتی و ثقافتی مصنوعی بیانیے کو موضوع بنایا گیا ہے جسے اپنانے کی وجہ سے پاکستان کا متنوع شناختوں کا حامل سماج ایک سرزمین پر رہنے کے باوجود تقسیم کا شکار ہے۔

دوسرا مضمون سینئر صحافی سجاد اظہر کا ہے جس کا نام ہے ’راولپتڈی فسادات: 1926ء سے 2013ء تک، کیا کچھ بدلا ہے‘ اس میں انہوں نے تقسیم سے قبل راولپنڈی میں مسلمانوں اور سکھوں کے مابین ہونے والے ایک ایسے سانحے پر روشنی ڈالی گئی ہے جس نے خطے میں صدیوں کی رواداری کی ثقافت بدل کر رکھ دی۔

تیسرا مضمون انگریزی سے ترجمہ شدہ ’تباہی کے دہانے پر: اقتصادی نمو میں جمہوریت کی ناکامی اور اس کا حل‘ کے نام سے کلاں معاشیات اور عالمی امور کی ماہر ڈاکٹر دامبیسا فالیسیا مویو کی کتاب کا خلاصہ ہے۔ اس میں بات کی گئی ہے کہ کس طرح آزادی پسند جمہوریت اور صحت مند اقتصادی نظام کی بقا کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

چوتھا مضمون ہے ’پاپولزم کا بخار‘۔ یہ سلمان طارق قریشی کا فرائیڈے ٹائمز سے ترجمہ ہے۔ اس میں دورِحاضر کے گہماگہمی کے موضوعات میں سے ایک پاپولزم بارے فکشن اور اس کے حقیقی سیاسی کرداروں کے تناظر میں بات کی گئی ہے۔

چھٹا حصہ ’سفرنامہ‘ ہے۔ اس میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے سربراہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی ’اصفہان نصف جہان‘ کے عنوان سے ایران کے شہر اصفہان کے سفرنامے کی دلچسپ رُوداد ہے۔

ساتواں حصہ ’ادب‘ کا ہے۔ یہ تین مضامین پر مشتمل ہے:

پہلا مضمون صحافی و مصنف مجاہد بریلوی کا ہے جس کا عنوان ہے فہمیدہ ریاض: جو ’تا عمر نہ ہر گز پچھتائی‘۔ اس میں لامحدودیت کی استعارہ شخصیت فہمیدہ ریاض کی زندگی سے جڑے کچھ اہم واقعات و حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

دوسرا مضمون ’معاصر سیاسی و سماجی صورتحال میں شاعر اور ادیب کا کردار‘ کے نام سے پروفیسر و نقاد ڈاکٹر مزمل حسین کا ہے جس میں رائے دی گئی ہے کہ ہمارا موجودہ ادب کیسے کارپوریٹ کلچر کے زیراثر تشکیل پا رہا ہے۔

اس کے بعد ’میں ہوں نجود: دس سال عمر اور مطلقہ‘ ناول کی چوتھی قسط پیش کی گئی ہے جس کا ترجمہ عاطف ہاشمی کر رہے ہیں۔

شمارے کا آٹھواں حصہ ’تبصرہ کتب‘ کا ہے۔ اس میں ڈاکٹر خالد مسعود نے رچرڈ کرسپ کی کتاب ’سماجی دماغ: جدید ذہن کی تشکیل میں تنوع کے مثبت کردار کی اہمیت‘ پر وقیع اور جامع تبصرہ کیا ہے۔ کتاب یہ سوال اٹھاتی ہے کہ تہذیبوں میں تصادم کو ناگزیر کیوں سمجھا جا رہا ہے؟

شمارے کے آخر میں مدیر کے نام ڈاک کے دو خطوط اور عابد سیال کی ایک نظم ’کھرے کھوٹے سِکے‘ شامل کی گئی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...