مکالمہ پاکستان 2020ء: موضوعات و شرکاء کا تفصیلی تعارف

مکالمہ پاکستان 25 جنوری کو اسلام آباد میں واقع مارگلہ ہوٹل میں منعقد ہورہا ہے جس میں مکالمے کی10 نشستیں ہوں گی

839

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (pips) پاکستان کا ایک نمایاں تحقیقی اور اشاعتی ادارہ ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے ان سیاسی، سماجی اور مذہبی تنازعات کے متعلق ہمہ جہت پہلوؤں سے تحقیق و تجزیئے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے جن کے اثرات ملکی اور بین الاقوامی نوعیت کے ہیں۔ پپس یقین رکھتا ہے کہ پاکستان میں مکالمے اور دلیل کی ثقافت کی احیائے نو کی ضرورت ہے اور یہی وہ موثر ذریعہ ہے جسے بروئے کار لاتے ہوئے پاکستانی سماج میں سماجی، ثقافتی، نظریاتی، مذہبی، مسلکی، نسلی اور سیاسی و لسانی تنازعات حل کئے جا سکتے ہیں۔ پپس نے گزشتہ سال 2019ء میں پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مکالمہ منعقد کیا جس میں ملک بھر کے نمایاں پالیسی ساز، دانشور، محققین اور تجزیہ کار شامل ہوئے جنہوں نے ’’کیا پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے‘‘ کے عنوان تلے منعقد اس ایک روزہ مکالماتی نشست میں سیر حاصل گفتگو کی۔ رواں سال بھی مکالمے کی اس روایت کو جاری رکھتے ہوئے پپس مکالمہ پاکستان کے مرحلے کی دوسری نشست کا اہتمام کررہا ہے جس میں گزشتہ سال کی مانند ملکی و بین الاقوامی سطح کے دانشور و پالیسی ساز شریک ہورہے ہیں۔ پپس مکالمے کو جمہوری اقدار کی بنیاد سمجھتے ہوئے مذہب اور ریاست، آئین پسندی اور جمہوریت، معیشت، خطے کے تعلقات، آزادی اظہار رائے، فنون، ادب اور بین الادارہ جاتی مکالمے کی ضرورت جیسے اہم موضوعات پر شرکاء کو اظہار خیال کے لئے مدعو کررہا ہے۔ مکالمے کی یہ اہم نشست ہوٹل مارگلہ واقع کشمیر ہائی وے نزد کنونشن سنٹر پہ 25 جنوری 2020ء کو منعقد ہورہی ہے۔

سب سے پہلے صبح 9 بجے جناب آئی اے رحمان اور خالد احمد کے کلیدی خطبات  ہوں گے۔ اس کے بعد 9 بج کر 30 منٹ پر مکالمہ پاکستان کی ایک روزہ نشست کے پہلا مکالمہ شروع ہوگا جس  کا عنوان ’’پارلیمنٹ، آئین اور جمہوریت کے مستقبل کا مکالمہ‘‘ ہے۔  اس کے شرکاء میں شامل ہیں۔

سینیٹرافراسیاب خٹک۔ دانشور سیاست دان سابق سینیٹر عوامی نیشنل پارٹی۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان صدر نیشنل پارٹی۔

جناب ظفراللہ خان، مایر امور آئین و جمہوریت۔

ڈاکٹرپرویز ہود بھائی، ممتاز دانشور ماہر تعلیم۔

بیرسٹر شہزاد اکبر، معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان۔

شازیہ مری، ایم این اے پاکستان پیپلز پارٹی۔

اور عبداللہ دائیو پروگرام منیجر فریڈرک ایبرٹ شٹفٹنگ اس مکالمے میں بطور میزبان شریک ہیں۔

مکالمہ پاکستان 2020 کی دوسری نشست کا عنوان ہے ’’ریاست سماج اور مذہب‘‘

اس کے شرکاء میں شامل ہیں:

ڈاکٹر قبلہ ایاز۔ سربراہ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان۔

ڈاکٹر ڈائٹرِخ ریٹز۔ ماہرامور سیاسیات و مسلم ثقافت و سماج برلن یونیورسٹی جرمنی۔

ڈاکٹر خالدہ غوث۔ ماہر امور بین الاقوامی تعلقات و حقوق انسانی کراچی یونیورسٹی۔

ڈاکٹر عمار خان ناصر۔ الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ۔

اور میزبانی کے فرائض پاک انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرمحمد عامر رانا سرانجام دیں گے۔

مکالمہ پاکستان 2020 کی تیسری نشست کا عنوان ہے ’’کیا ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت چکے ہیں؟‘‘

جس کے شرکاء میں شامل ہیں:

لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ، سابق مشیر قومی سلامتی۔

طارق پرویز صاحب، سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے۔

طارق کھوسہ، سابق انسپکٹر جنرل پولیس۔

نسیم زہراء، صحافی و مصنف و اینکرپرسن۔

زاہد حسین۔ صحافی و تجزیہ کار سیکورٹی امور روزنامہ ڈان۔

اور اس کے میزبان ڈاکٹر یوخن ہپلر ہیں جوکہ  فریڈرک ایبرٹ شٹفٹنگ جرمنی کے پاکستان آفس کے سربراہ ہیں۔

مکالمہ پاکستان کی چوتھی نشست کا عنوان ہے  ’’کیاپاکستانی فضاء تخلیقی اظہار کے لئے سازگار ہے؟‘‘

جس کے شرکاء میں شامل ہیں:

جناب افتخار حسین عارف۔ ممتاز شاعر دانشور سابق سربراہ اکادمی ادبیات و مقتدرہ قومی زبان پاکستان

جناب غازی صلاح الدی ۔ ممتاز ادیب، صحافی دانشور

جناب شاہد محمود ندیم۔ ڈائرایکٹر اجوکا تھیٹر

جناب یاسر پیرزادہ۔ معروف کالم نگار روزنامہ جنگ

جناب اریب اظہر۔ موسیقار، گلوکار، ڈائریکٹر ٹی2ایف

اس مکالمے کی میزبانی  کے فرائض ڈاکٹر فوزیہ سعید  سرانجام دیں گی جو کہ آج کل  پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس

کی سربراہ ہیں۔

مکالمہ پاکستان 2020 کی پانچویں نشست کا عنوان ہے ’’معاشی اتار چڑھاؤ اور طرزحکمرانی: کیا 2020 امید کا سال ہے؟‘‘

اس اہم قومی معاملے پر جو ماہرین اور پالیسی ساز مکالمے میں شریک ہوں گے ان میں شامل ہیں:

ڈاکٹر قیصر بنگالی، معروف معیشت دان سابق سربراہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سابقہ مشیر برائے صوبائی حکومت بلوچستان و سندھ

جناب ضیاء الدین، معروف صحافی و سابق ایڈیٹر ڈان

افشاں صبوحی، ایڈیٹر اکانومی روزنامہ ڈان

رفیع اللہ کاکڑ، کوآرڈی نیٹر سی پیک حکومت بلوچستان

اور اس اہم مکالمے کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے جناب ضیغم خان صاحب۔ معروف صحافی، اینکر پرسن و تجزیہ کار

مکالمہ پاکستان کی چھٹی نشست کا عنوان ہے ’’نوجوان، طلبہ تحریکیں اور ابھرتے ہوئے سیاسی رجحانات‘‘

اس اہم قومی اور علاقائی معاملے پر جس نے برصغیر کی موجودہ سیاست میں تلاطم مچارکھا ہے۔ پپس نے جن معزز

مہمانوں کو اظہار خیال کی دعوت دی ہے ان میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر عمار علی جان۔ بائیں بازو کے معروف سیاسی و سماجی کارکن و مورخ، فارمن کرسچئن یونیورسٹی لاہور

جناب آصف محمود۔ کالم نگارروزنامہ 92 اخبار۔

جناب عمیر راجہ میر۔ مرکزی جنرل سیکرٹری اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان۔

محترمہ گلمینہ بلال۔ ڈائریکٹر انڈیوژئل لینڈ پاکستان۔

جناب اقبال حیدر بٹ۔ ماہر امور نوجوانان۔

جناب احسن حمید درانی۔ یوتھ انگیجمنٹ اسپیشلسٹ۔

اور اس اہم مکالمے کی میزبانی کے فرائض معروف صحافی سبوخ سید سرانجام دیں گے۔

مکالمہ پاکستان2020 کی ساتویں نشست کا عنوان ہے ’’جنوبی ایشیاء کا سیاسی تزویراتی منظرنامہ: کیا خطہ مسلسل تبدیلی کی زد میں ہے؟‘‘

ایک جانب ہندوستان میں مودی سرکار کی ہندوتوا کا بخار اور دوسری جانب ہمارے ہمسائے میں ایک نئی جنگ کی ہنڈیا

میں ابال۔ پاکستان کے پاس کیا طریقہ ہے کہ اپنا گھر محفوظ رکھے ۔ یہ سب کیا قصہ ہے ؟ اس اہم سیکورٹی معاملے پر

بات کرنے کے لئے تشریف لارہے ہیں۔

اشرف جہانگر قاضی، سابق سفیر مستقل مندوب پاکستان۔

میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس، سابق ڈی جی آئی ایس پی آر۔

ڈاکٹر ظفرنواز جسپال، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پولیٹکل سائنس اینڈ انٹرنینشل ریلیشنز قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد۔

محمد عامر رانا، ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد۔

اور اس اہم مکالمے کی میزبانی کے فرائض معروف صحافی اور اینکر پرسن منیزے جہانگیرسرانجام دیں گی۔

مکالمہ پاکستان 2020ء کی آٹھویں نشست کا عنوان ہے ’’آزادیء اظہار کی بحث: مسئلہ کہاں ہے؟‘‘

مکالمے میں شریک مہمانوں کا تعارف:

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ملکی سیاست کا معروف نام ہیں۔ آپ وزیر اعظم پاکستان کی مشیر خصوصی برائے امور

اطلاعات و نشریات ہیں۔

سینیٹر میر حاصل خان بزنجو، ملک میں نظریاتی سیاست کے معتبر ناموں میں سے ایک ہیں۔ آپ سینٹ آف پاکستان کے

رکن اور نیشنل پارٹی پاکستان کے مرکزی نائب صدر ہیں۔

غازی صلاح الدین پاکستان کے نامور صحافی، ادیب، مصنف اور دانشور ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کا شہرہ آفاق پروگرام

کسوٹی ہو یا جیو ٹی وی پہ آپ کا شو ’جیو کتاب‘ آپ نے ہمیشہ علم دوستی کو فروغ دینے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔

مظہر عباس، سنجیدہ صحافت کا معتبر نام ہیں۔ آپ نے ملک کے معروف صحافتی اداروں کے ساتھ کام کیا ہے۔

شہزادہ ذوالفقار، ملک کے نامور صحافی ہیں۔ آپ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وہ پہلے صحافی ہیں جو پاکستان

فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے عہدہ صدارت پہ فائز ہیں۔

منیزے جہانگیر، پاکستان کی نامور اینکر پرسن ہیں۔ آپ آج نیوز چینل پر سپاٹ لائٹ کےنام سے ایک ٹاک شو کی میزبان

ہیں۔
اس مکالمے کے میزبان خورشید احمد ندیم صاحب ملک کے معروف دانشور اور صاحب طرز کالم نگار ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ہیں۔ آپ ادارہ تعلیم و تحقیق کے سربراہ ہیں۔

مکالمہ پاکستان 2020کی نویں نشست کا عنوان ہے ’’خواتین کی حقوق کی تحریکیں: کیا صنفی امتیاز کے خاتمے کی امید ہیں؟‘‘

حال ہی میں ایک عالمی تحقیقی ادارے نے پاکستان کو دنیا بھر میں صنفی تفریق کے حوالے بدترین ممالک کی فہرست

میں تیسرے نمبر پہ شمار کیا ہے۔ ملک میں خواتین کے حقوق کے لئے اٹھنے والی آوازیں عام طور پرغیرملکی سازش

کا نام دے کر متنازعہ بنادی جاتی ہے۔ اس اہم معاملے پر مکالمے کی نشست میں شرکاء ہوں گے۔

کشور ناہید ممتاز، شاعرہ دانشور مصنفہ

ڈاکٹرسمیحہ راحیل قاضی، صدر انٹرنیشنل مسلم وومن یونین

رومانہ بشیر، ڈائریکٹر پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن ۔ پوپ فرانسس کی نمائندہ خصوصی برائے مکالمہ مابین مذاہب

ڈاکٹر فرزانہ باری، پروفیسر آف جینڈر اسٹڈیز

اور اس اہم مکالمے کی میزبانی کے فرائض ڈاکٹر فوزیہ سعید، سربراہ پی این سی اے سرانجام دیں گی۔

مکالمہ پاکستان 2020  کی آخری نشست کا عنوان ہے ’’اداروں کے درمیان مکالمہ: وقت کی ضرورت اور اہمیت‘‘

موجودہ حکومت کے عہد میں یہ سوال بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل کیا ہے؟ ریاستی

اداروں کی آئینی حدود کیا ہیں؟ کیا طاقت کے بل بوتے پر کچھ عناصر منتخب حکومتوں کو ڈکٹیٹ کرواتے ہیں؟

پاکستان میں سماجی ارتقاء مثبت ترقی کی جانب گامزن کیوں نہیں؟ ان تمام معاملات پر توجہ مرکوز کرکے بات چیت

کے لئے آخری مکالمہ جن مہمانوں کے ساتھ ہوگا ان کے نام یہ ہیں:

فرحت اللہ بابر۔ سابق سینیٹر ترجمان بلاول بھٹو و جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی

فواد چوہدری۔ وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی

سینیٹر جاوید عباسی۔ سینیٹر پاکستان مسلم لیگ نواز

ڈاکٹر خالد مسعود۔ سابق سربراہ اسلامی نظریاتی کونسل

لیفٹنٹ جنرل امجد شعیب۔ دفاعی تجزیہ کار

جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان۔ سربراہ نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس۔ سابقہ چیف جسٹس جمہوریہ گیمبیا ویسٹ افریقہ

سلیم صافی۔ سینئر صحافی اینکر پرسن جرگہ پروگرام جیو نیوز

اس اہم مکالمے کے میزبان جناب مرتضیٰ سولنگی ہوں گے جو کہ نیادور کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے سابق سربراہ ہیں۔

رپورٹ: شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...