مسلم دنیا کے سینما اور مذہبی تشخص کی صورت گری

197

مذہب اور فنونِ لطیفہ کا تعلق اتنا قدیم ہے جتنا کہ یہ دونوں شعبے۔ قدیم دور سے دینی شعائر اور اس کے مختلف عملی و اخلاقی  مظاہر و تعلیمات کا فنونِ لطیفہ کی متنوع صورتوں میں اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ بلکہ آرٹس کی چند نمایاں شاخیں مذہبی میلانات و رجحانات کی فنی تعبیر کے ساتھ ہی وجود میں آئیں، یا کم ازکم ان کا غالب محور کسی نہ کسی حیثیت میں مذہب رہا۔ جدید دور میں فلم اور سینما کی ایجاد کے بعد مذہب بھی اس کے موضوعات میں شامل رہا ہے۔ مسلم دنیا میں سینما کو خصوصاََ سماجی اخلاقی تربیت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے اور مذہب کے روایتی یا روحانی پہلوؤں کو زیادہ تر مثبت اور جاذب شکل میں پیش کیا گیا۔

مسلم دنیا میں سینما کے شعبے میں اسلام اور اس کے شعائر کو بطور مذہب کبھی منفی حیثیت میں پیش نہیں کیا گیا، نہ ان پر کبھی تنقید ہوئی۔ جزوی طور پہ ماڈرن سمجھے جانے والے مسلم معاشرے بھی قطعاََ اسے قبول نہیں کرتے۔ تاہم ایک دوسرا رُخ مذہبی طبقے کی سماجی فعالیت، تعبیرات اور اس کا کردار ہے جو متنوع سطح پر اپنا نفوذ اور اثرات رکھتے ہیں۔ یہ رُخ فرقہ وارانہ بھی ہے، سیاسی آئیڈیالوجیکل بھی ہے، ہم آہنگی و رواداری کے معاملات سے بھی تعلق رکھتا ہے، شدت پسندی بھی اس کا حصہ ہے، معاشرے کے ساتھ ربط کی نوعیت اور اسے دیکھنے کا مخصوص روایتی پیچیدہ زاویہ، جدیدیت اور قومی امور میں اس کی رائے، اور پھر نچلی سطح پر دیہات و قصبات میں اس طبقے کی کشمکشانہ روایت، یا اخلاقی مسائل  وغیرہ جیسے بیشتر پہلو ایسے ہیں جو براہ راست مذہب کے جوہر سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ مذہبی حلقے کا یہ عملی معاشرتی رُخ نہ تو ایک جیسا ہے اور نہ اس کے حدود اربعہ پر اس کا آپسی اتفاق پایا جاتا ہے۔ یہ پہلو بطور ایک سماجی مسئلے کے دنیا بھر میں فنونِ لطیفہ اور فلموں کا موضوع ہے۔ گوکہ ان معاملات کو مذہبی طبقے کے اندر داخلی حیثیت میں باقاعدہ مکالمے و بحث وتمحیص کا موضوع نہیں بنایا جاتا، نہ اس پر کسی اور کے بات کرنے کو پسند کیا جاتا ہے۔ بالخصوص پاکستان میں یہ مسئلہ زیادہ گمبھیر ہے۔

باقی دنیا کی طرح مسلم ممالک میں بھی وقتاََ فوقتاََ مذہبی طبقے کے سماجی پہلو اور اس کے رویے کو فلموں میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اس کا مقصد مجموعی حیثیت میں بطور طبقہ اسے چیلنج کرنے یا اس کے ذریعے کسی خاص نظریاتی نظام پر سوال اُٹھانا نہیں رہا لیکن دینی حلقے اسے مذہب پر تنقید یا سیکولرزم کے بیانیے سے تعبیر کرتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق عرب ممالک کے جدید میڈیا میں 28 فیصد ٹی وی چینل مختلف مذہبی حلقوں کے ہیں۔ یوں باقی پروگرامز کی طرح فلم کے شعبے میں ان کا کچھ نہ کچھ حصہ موجود ہے۔ ان کی اپنی کمپنیاں ہیں یا وہ دینی پس منظر کی حامل فلموں کے بنانے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اخوان المسلمون نے بھی مذہبی تشخص کو مثبت پیش کرنے کے لیے 2010ء میں ایک فلم کمپنی کا افتتاح کیا تھا اور اگلے سال حسن البنا پر فلم مکمل بھی کی گئی جو 2012ء کے شروع میں ریلیز ہونی تھی لیکن حالات پلٹا کھاجانے کے سبب یہ پروجیکٹ درمیان میں رہ گیا اور فلم بھی اب تک ریلیز نہیں کی گئی۔ باقی مسلم ممالک میں مذہبی فلمیں، خصوصاََ تاریخی موضوعات پر بہت زیادہ بنتی ہیں، رمضان کے مہینے میں تو ’مسلسلات‘ پیش کی جاتی ہیں جنہیں عوام میں خوب پسند کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسی فلمیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

باقی دنیا کی طرح مسلم ممالک میں بھی وقتاََ فوقتاََ مذہبی طبقے کے سماجی پہلو اور اس کے رویے کو فلموں کا موضوع بنایا جاتا رہا ہے۔ تاہم اس کا مقصد مجموعی حیثیت میں بطور طبقہ اسے چیلنج کرنا یا اس کے ذریعے کسی خاص نظریاتی نظام پر سوال اُٹھانا نہیں رہا

محمود قاسم کی کتاب ’’مصری سینما میں مذاہب کی تصویر‘‘ دو برس قبل شائع ہوئی جس میں انہوں نے بالعموم عرب ممالک جبکہ خاص طور پہ مصری سینما میں مذہبی تشخص کی نوعیت کا جائزہ لیا ہے کہ فلموں میں اس کی کیسی تصویر گری کی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق عرب دنیا میں پحھلی صدی کے وسط سے مذہبی مظاہر پر بہت سی فلمیں بننا شروع ہوئیں۔ ان کے بنانے والے وہی تھے جو دوسرے عام موضوعات پر بنارہے تھے۔ یہ سب بہت مثبت تھیں اور ان کے ہیرو دینی تشخص کے حامل ہوتے تھے۔ طویل فہرست میں چند نام یہ ہیں، جیساکہ اللہ اکبر، لیلۃ القدر، ہجرت رسول، بلال مؤذن رسول اللہﷺ، وغیرہ۔ 1967ء میں بننے والی فلم ’الرسالہ‘ نے خوب شہرت حاصل کی جس کا اُردو ترجمہ بھی ہوا۔ تاریخی اسلامی کے علاوہ جدید سماجی حوالے سے بھی ایسی کثیر فلمیں سامنے آئیں جن میں مذہبی کردار مرکزی تھے اور نہایت جاذب و مثبت بھی۔

تاہم اس کے ساتھ ساٹھ کی دہائی کے اواخر سے عرب ممالک میں متعدد فلمیں اس طرح کی بنائی گئیں جن میں مذہبی طبقے کے سماجی و سیاسی مظاہر و اثرات کے منفی پہلو کو موضوع بنایا گیا۔ یہ دہشت گردی کے حوالے سے تھیں، اخلاقی تنزلی پر، یا بعض نفسیاتی مشکلات پر جو شدت پسندی یا سخت رویے اپنانے پر آمادہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک فلم ’الزوجہ الثانیہ‘ 1967ء میں سامنے آئی جس کا موضوع دوسری شادی تھا۔ اس میں ایک مذہبی کردار غلط تعبیر کرکے دوسری شادی کرتا ہے اور دوسرا مذہبی کردار اس کی مخالفت کرتا ہے جسے مثبت پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے اگلے سال ایک فلم ’عم دردیری‘ کے نام سے ریلیز ہوئی۔ ایک نوجوان باہر سے پڑھ کر واپس آکے اپنے علاقے میں آنکھوں کا کلینک کھولتا ہے۔ اسے پتہ چلتا ہے کہ یہاں لوگوں کی بنائی یا تو کمزور ہے یا بڑی تعداد میں نابینا ہیں۔ جانچ پر معلوم ہوتا ہے کہ لوگ برکت کے طور پر وہاں کے ایک مزار کے دِیوں سے تیل لے کر آنکھوں میں ڈالتے ہیں۔ اس پر مزار کے گدی نشین کے ساتھ اس کا تناؤ ہوجاتا ہے۔ نتیجتاََ لوگ اس معاملے کو سمجھ لیتے ہیں۔ 1992ء میں مصر میں ایک فلم ’الارھاب والکباب‘ بنائی گئی، یعنی دہشت گردی اور کباب۔ فلم کا انجام غیرمعقول سا تھا۔ پچاس سال سے زائد کی عمر کا ایک مذہبی شدت پسند اپنے اوپر اعتراض کرنے والوں کو بات بے بات دین دشمن کہہ دیتا ہے اور چھوٹے موٹے حملے کرتا رہتا ہے۔ فلم کے آخر میں وہ ایک جگہ سکیورٹی گارڈ سے بندوق چھین لیتا ہے، بالآخر پولیس آتی ہے، مذاکرات میں کردار یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے کباب کھلائے جائیں۔ اس سے دو سال بعد ایک فلم ’الارھابی‘ (دہشت گرد) ریلیز ہوئی جو خاصی مقبول ہوئی۔ اس کا کردار مشہور ایکٹر عادل امام نے نبھایا۔ یہ مذہبی تشخص کا فرد ویڈیو اور فلموں کی دکانوں پر حملے کرتا ہے، غیرملکی سیاحوں کو قتل کرتا ہے، لیکن یہ کردار خلوت میں قریبی دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتا ہے اور خواتین کے ساتھ مجلسیں لگاتا ہے۔ ایسے ہی ایک فلم ’انفجار‘ (دھماکہ) آئی۔ ان کے علاوہ بھی عرب ملکوں میں کثیر تعداد میں ایسی فلیمں بنائی گئیں جن کا موضوع مذہبی تشخص کا سماجی کردار تھا۔ 2017ء میں مصر میں ایک فلم ’مولانا‘ کی ریلیز سے قبل جامعہ ازھر کی مداخلت پہ وزارت داخلہ پابندی عائد کردی تھی جو بعد میں اٹھالی گئی تھی۔ اس کا مرکزی مذہبی تشخص کا کردار میڈیا کا استعمال کرکے سخت گیر رویوں کو فروغ دیتا ہے اور لوگوں کے جذبات پر اثرانداز ہوکے اپنا حلقہ وسیع کرتا ہے۔ لیکن اپنے قریبی حلقے میں یہ کہتا ہے کہ اس سب کا مقصود طاقت اور شہرت کا حصول ہے، کیونکہ بچپن میں اسے بہت زیادہ اذیت و مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی ایسی فلمیں بنائی گئیں جن میں مذہبی تشخص کے سماجی منفی پہلو کو پیش کیا گیا۔

پاکستان میں اگرچہ مذہبی فلمیں نہیں بنتی رہی ہیں جیسے عرب ممالک میں سامنے آتی ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہبی تشخص کے متنازع سماجی و سیاسی پہلوؤں کو بھی سینما کی سکرینوں پر نہیں دکھایا گیا جیساکہ ان ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ماحول ہمیشہ اس کے لیے ہموار و سازگار رہا ہے کہ اسے اپنی عام کلاس کی سطح پر صحافت، ادب اور فلم کے شعبوں سمیت فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں میں کبھی غیرمعمولی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ’زندگی تماشا‘ شاید اس نوع کی پہلی فلم ہے جس کی ریلیز میں مشکلات حائل ہیں۔ دیگر مسلم ممالک کی اکثریت کے مقابلے میں پاکستان کے مذہبی طبقے کا سماجی نفوذ اور اس کے متنوع الجہات اثرات و نتائج بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود اسے موضوع بنانا آسان نہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...