فرقہ واریت کی جغرافیائی سیاست

پاکستان پر مشرق وسطیٰ کے تنازع کی تپش پہنچ رہی ہے بڑی پریشانی یہ ہے کہ غیر جانبداری کیونکر اختیار کی جائے۔

565

مشرق وسطیٰ کے تنازع کی سب سے اہم تزویراتی جہت یہ ہے کہ اس کی جڑیں خطے کےفرقہ وارانہ تقسیم میں پیوست ہیں اور  اس کی سیاسی تعبیرات بشمول متشدد واقعات کو عام طور پر اسی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان اس کا براہ راست فریق نہیں ہے تاہم اس تنازعے کی تپش یہاں بھی پہنچتی ہے خاص طور پر مشکل یہ درپیش ہے کہ اس معاملے میں غیر جانبدار کیسے رہا جائے تاکہ اپنے ہاں فرقہ وارایت کا جن قابو میں رہے۔

مذہبی سطح کے سرگرم سیاسی ماحول اور متنوع پس منظر میں کسی ملک کے لئے سب سے اہم معاملہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے عروج پر اپنے ہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے۔ فرقہ واریت کا خوف پاکستان کی تزویراتی حکمت عملی کے امکانات کو محدود کرتا ہے اسی لئے  کسی ایک جانب کے لئے کوئی واضح موقف اختیار کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔  یہ  اس سب کے باوجود ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں تزویراتی ، سفارتی اور معاشی امداد کے حصول کے لئے  اپنی مسلم شناخت کوپورے زور سے منوایا ہے ۔اگرچہ اس سارے عمل میں کسی قدر سیاسی قیمت اداکرکے پاکستان کو  معاشی امداد ضرور ملی ہے۔

امریکی افواج کے ہاتھوں ایران کے اعلیٰ سطحی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی موت نے ایک بار پھر پاکستان کو ایسی صورتحال میں ڈال دیا ہےجہاں اسے اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ فی الحال ہم نے کامیابی سے فریقین کو اپنی غیرجانبداری کا یقین دلایا ہے لیکن اگر ایران اور امریکہ کے مابین براہ راست جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ بار گراں اٹھانا مزید مشکل ہوجائےگا۔

نام نہاد مسلم امہ اگرچہ سماجی، ثقافتی اور فکری حوالوں سے مربوط نہیں ہے اور یہ اس امر میں اس لئے بھی حق بجانب ہے کہ اس کےرکن ممالک ان میدانوں میں متنوع اقدار کے حامل ہیں لیکن مشرق وسطیٰ میں ہونےوالی سیاسی سرگرمیوں سے سبھی متاثر ہورہے ہیں۔  خطے میں نے والی کسی بھی سیاسی تبدیلی سے مسلم اکثریتی ممالک یہ خطرات لاحق ہیں کہ اس کے سبب مذہبی انتہاءپسندی میں اضافہ ہوجائے گااور فرقہ وارانہ تقسیم بہت گہری ہوجائے گی۔  اس کے نتیجے میں اس دلیل کو بھی تقویت ملتی ہے کہ انتہاء پسندی ایک سیاسی مظہر ہے جو مذہبی احساسات سے پروان چڑھتی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ خلیجی ممالک نے خاص طور پر سعودی عرب اورایران نے دیگر مسلم معاشروں میں اپنا اثرورسوخ فرقہ وارانہ خطوط پہ قائم کیا ہے اور وہاں اپنی پراکسیز بھی انہی خطوط پہ ترتیب دی ہیں۔ یہ پراکسیاں ان معاشروں میں اپنی پروردہ ریاستوں کے مفادات کو عوام الناس کے فرقہ وارانہ جذبات کا استحصال کرکے پورا کرتی ہیں۔ یہ نا صرف معاشروں کومذہبی اور فرقہ وارانہ خطوط پہ تقسیم کررہی ہیں بلکہ  مذہبی اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کو بھی فروغ دیتی ہیں ۔ اس کے سبب سازشی نظریات کو ماننے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان کے لئے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کی اہمیت اس کے جغرافیائی مقام اور مضبوط فوج کے سبب مزید اہم ہوجاتی ہے۔ ایران کو یہ خدشہ ہے کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے ساتھ براہ راست جنگ کی صورت میں پاکستان اس کے مخالف کیمپ کا ساتھ دے سکتا ہے۔ ایران نے ناصرف پاکستان میں فرقہ وارانہ خطوط پہ سرمایہ کاری کررکھی ہے بلکہ بلوچستان، سندھ کے کچھ اضلاع اور جنوب پنجاب تک کی آئل مارکیٹ پہ اپنا اثرونفوذ قائم کررکھا ہے۔  بلوچستان میں نا صرف تیل کی کھپت کا بڑا حصہ قانونی و غیرقانونی طور پر ایران سے درآمد کیا جاتا ہےبلکہ اشیائے خوردنوش سے لے کر تعمیرات کے سامان تک متفرق اشیاء ایران بھی سے ہی آتی ہیں۔ غیررسمی تجارت کا یہ مایہ جال ہمارے ہاں کی کمزور معیشت اور بدحال طرز حکمرانی  کے سبب پھل پھول رہا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں ایرانی حکومت نے پاکستانی بلوچستان میں برسرپیکار بلوچ علیحدگی پسندوں سے بھی تعلقات جوڑے ہیں جس کے سبب پاکستانی ریاست سے سیاسی معاملہ فہمی میں اب ان کی پوزیشن پہلے کی نسبت قدرے مضبوط ہوئی ہے۔ یہ محض ایران ہی نہیں ہے جس نے پاکستان کے ساتھ اس طرح  سیاست کی ہے۔سعودی عرب اور اس کے اتحادی بھی پاکستان کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے  معاشی اور تجارتی فوائد کااستعمال کرتے ہیں۔  فرق صرف طریق کار میں ہے۔ ایران کے پاس نقد رقم نہیں ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے لہذا اس نے سیاسی و معاشی مفادات کے حصول کے لئے دیگر رستے تلاش کئے ہیں۔

جہاں تک پراکسیز کی بات ہے تو مشرق وسطیٰ اور جنوب ایشائی ریاستوں نے اس میدان میں خوب نام کمایاہے۔ ان ریاستوں نے اپنے  ‘اثاثوں’ کی تعمیر اس تزویراتی تصور پہ کی ہے کہ سیاسی طور پر کمزور ریاستوں کے لئے پراکیسز سستا ترین متبادل ہیں۔ تاہم فرقہ وارانہ پراکسیز بہت خطرناک ہیں اور پاکستان مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کی طرف سے کھڑی کی گئی ان پراکسیز کی آپسی جنگ سے بہت متاثر ہوچکا ہے۔ حتیٰ کہ سال 2019 میں جب ملک بھر میں دہشتگردی کے عمومی واقعات میں کمی آئی تھی تب بھی فرقہ وارانہ نوعیت کے 14واقعات پیش آئے تھے اور ان میں سے کئی بہت بڑے نقصان کا سبب بنے تھے۔ پاکستان نے تاریخی تناظر میں اپنی غیرجانبدار پوزیشن کا عملی اظہار اس وقت کیا جب اس نے یمن میں سعودی عرب کی معاونت کے لئے اپنی فوج بھیجنے سے انکار کیا۔ سیاسی اور سفارتی سطح پہ اس غیرجانبدار پوزیشن کو بہت اہمیت دی گئی۔

پاکستان کے اپنے معاشی، سیاسی اورجغرافیائی مسائل ہیں جس میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر اور افغانستان سرفہرست ہیں۔ وہ افغان مفاہمتی عمل میں نئی حکمت عملی کے سبب  عالمی دنیا کی سفارتی و سیاسی حمایت حاصل کرنے میں کوشاں ہے جو اس کی معیشت اور کشمیر پراس کی پوزیشن کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے جیسے معاملے پر پاکستان اپنے عرب دوستوں سے مکمل سفارتی مدد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس معاملے پر بظاہر عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن جب کبھی انہیں ضرورت ہوئی تو وہ پاکستان سے غیر مشروط حمایت کا تقاضا کریں گے۔

حقیقت یہی ہے کہ معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی اپنی ترجیحات واضح کرنے میں آزاد ہوسکتا ہے۔لیکن ملک کو اپنے ہاں موجود فرقہ وارانہ تقسیم، عدم برداشت اور انتہاء پسندی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کو بھی اپنی ترجیح سمجھنا ہوگا۔ ملکی سیاست میں ناصرف مربوط ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے بلکہ عرب دنیا اور ایران کے آپسی داؤ پیچ سے نکلنا بھی لازم ہے۔ تاہم اس کے لئے ضرورت اس مر کی ہے کہ ملک میں موجود مذہبی اداروں کی مالیات کو قانونی دائرے میں لایا جائے اور ایسے گروہوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے جو ‘دوسروں’ کے سیاسی مفادات کی خاطر پاکستان  میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ڈان

مترجم : شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...