یونیورسٹی کیمپس اور پولیس

طلبہ کی جدوجہد اور احتجاج کے دوران پولیس کے ساتھ دوبدو ہونے کی مختصر تاریخ

287

جرمنی جنگ کی تیاری کررہا تھا، اٹلی نے لیگ آف نیشنز کے احکامات کی پیروی نہ کرتے ہوئے ایتھوپیا پہ حملہ کردیا تھا، جاپان کی حکومت ایسا ہی اقدام چین کے خلاف کرنے جارہی تھی، اسپین میں خانہ جنگی شروع ہوچکی تھی، ری پبلکن پارٹی نے فاشسٹ آمر جنرل فرانکو کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی تھی، جبکہ وزیر اعظم چیمبرلین نے پہلے ہی ہٹلر کے ساتھ صلح کی پینگیں بڑھانا شروع کردی تھیں، انہوں نے روس کو مشترکہ دشمن قراردیا تھا۔ لندن مجلس، جوکہ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ اہل علم کی ایک جماعت تھی، اپنے آپ کو واقعات کے طوفان میں گھِرا ہوا محسوس کررہی تھی۔

فسطائیت اور استعماریت کے خلاف گہری نفرت نے دیگر تصورات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، لندن مجلس کے اراکین اس بات پر متفق ہوئے کہ طلبہ ہی وہ واحد قوت ہیں جو دنیا بھر میں ایسی تبدیلی محرک بن سکتے ہیں جو شعور اور بیداری کی بنیادوں پر کھڑی ہوگی۔ تین دہائیوں پہلے جمہوریت کے حامی طلبہ تیانامن اسکوائر میں سڑکوں پہ نکل آئے جنہیں بندوقوں کے بل پر خاموش کروایا گیا۔ انڈونیشیا کی سڑکیں بھی ایسے طلبہ کے خون سے لال ہوئیں جو معاشی بد حالی اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

1959ء میں کئی طلبہ، عورتیں اور بچے تاریخی طور پر مشہور ’’تحریک خوراک‘‘ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کرگئے۔ 1962ء میں ہونےوالی چین بھارت جنگ کے دوران بہت سے طلبہ اس بات پر احتجاج کناں تھے کہ چین کو جارح کیوں کہا جارہا ہے۔ 1965ء میں کلکتہ کے طلبہ شہریوں کو یہ باور کروانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ انہیں ٹرام سروس کے بڑھے ہوئے کرائے ادا نہیں کرنے چاہیئں۔ ان میں سے کئی گرفتار ہوئے۔ 1966ء میں ایک اور ’’تحریک خوراک‘‘ شروع کی گئی، اب کی بار یہ اس اقدام کے خلاف تھی کہ حکمران جماعت نے بڑے جاگیرداروں نے غلے کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دے دی تھی۔

بہت سے طلبہ پولیس کے لاٹھی چارج کا نشانہ بنے اور ان میں سے کئی اپنے اوپر برسائی گئی گولیوں کے نتیجے میں اپنی جانوں سے گئے۔ حکام کے خلاف ان کی یہ جدوجہد، چاہے کتنی متنازعہ کیوں نہ ہو، یہ بھارت سمیت بہت سے ممالک میں، پھر بھی، یہ ان کا اب  تک باقی رہنے والا  بنیادی جمہوری حق  ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ طلبہ محاذ کی یہ جدوجہد ابھی اور چلے گی۔ نومبر2010ء میں لندن کے طلبہ سڑکوں پہ نکلے مگر تشدد اور ہنگامہ آرائی کے سبب اس مسئلہ نظرانداز ہوگیا، مظاہرین نے مل بینک ٹاور اور دیگر عوامی یادگاروں پر قبضہ کرلیا اور یوں اس کے نتیجے میں کئی گرفتاریاں ہوئیں۔ پولیس پہ الزام لگا کہ اس کی جانب سے ضرورت سے زیادہ سختی کی گئی اور ہزاروں طلبہ پولیس کے محاصرے کے سبب سردی میں ٹھٹھرتے رہے۔ ایک نوعمرلڑکے کو پولیس کی لاٹھیاں اتنی مہلک پڑیں کہ اسے تین گھنٹے سے زائد سرجری کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔ بھارت میں طلبہ احتجاج پہ پولیس گردی کی تاریخ مصدقہ ہے جس میں ربر کی گولیاں برسانا اور ڈنڈوں سے پیٹنا ایک عمومی رویہ رہا ہے۔ سال 2011ء میں رام لیلا گراؤنڈ میں بابا رام دیو کے یوگا کے کیمپ کے لئے آئے ہوئے یاتری جب سو رہے تھے تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کردیا اس پر جے این یو اور دہلی یونیورسٹی کے طلبہ نے پولیس کے خلاف احتجاج کیا۔

نظم وضبط اورعملدرآمد، یہ وہ دو توجہیات تھیں جن پر ہٹلر کی سیاست بنیاد کرتی تھی۔ تاریخ کم ہمت لوگوں کو زندہ نہیں رکھتی مگر وہ جہالت کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کرتی

حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کا کیمپس چند سال پہلے ایک نئی ریاست تیلگانہ کے قیام کے فیصلے کے خلاف احتجاج کا مرکز بنا رہا۔ یہاں پہ بھی کئی گرفتاریاں ہوئیں اور پولیس نے کیمپس کا محاصرہ کرکے ان طلبہ پر زبردستی کی جو مرن برت رکھ کر بیٹھے تھے۔ سال 2015ء میں ایک احتجاج جو کہ اس معمولی واقعہ سے شروع ہوا کہ حکام کا رویہ ایسے طلبہ کے ساتھ اچھا نہیں تھا جو اپنے خلاف ہراسانی کی شکایت کرتے ہیں، جادو یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غفلت کے سبب آپے سے باہر ہوگیا۔ یہاں بھی پولیس کو صورتحال سنبھالنے کے لئے یوں بلالیا گیا کہ طلبہ گویا کوئی عادی مجرم ہوں۔ اپنی طاقت کا غیرمعمولی استعمال کرکے وائس چانسلر ایک استاد کی بجائے ایک پولیس والا بن کر پیش آیا اور یوں اس نے اس کرسی کے لئے اپنی اہلیت پہ خود ہی ایک سوالیہ نشان لگادیا۔

سال 2016ء میں جب پولیس نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے صدر کنہیاکمار کو گرفتار کیا تو اس کے سبب سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور ماہر ین تعلیم کے مابین ایک تنازع چھڑ گیا۔ دہلی پولیس کو جارح، ہتھ چھوٹ  اور غصیل بنا کر پیش کیا گیا۔ حقائق سے ظاہر ہوا کہ پولیس نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ سے معاملہ کرتے ہوئے ضبط سے کام نہیں لیا اور ضرورت سے زیادہ سختی کا مظاہرہ کیا۔ ظاہرہے کہ طلبہ کا رویہ باغیانہ ہوتا ہے تاہم ان کے ساتھ دانش مندی سے پیش آنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخ سے ظاہر ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بہت سے یونیورسٹیوں کے طلبہ ویت نام جنگ کے خلاف تھے اور وہ اس کے لئے مظاہرے کرتے تھے مگر انہیں ہماری جواہر لعل نہرویونیورسٹی کے طلبہ کے برعکس کبھی بھی غداری کے مقدمات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

حال ہی میں شہریت کے قانون میں ترمیمی بل کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کا بظاہر پرامن دکھنے والا احتجاج کیمپس میں پولیس کے حملے کا سبب بن گیا۔ ایسا کیوں ہے کہ  کہیں اور بھی پولیس نے طلبہ کے ساتھ ضرورت سے زیادہ سختی کا ایسا مظاہرہ کیوں کیا جیسے وہ کوئی عادی جرائم پیشہ ہوں؟ اس کے سبب پولیس کی اس کاروائی کی شدید مذمت کی جانی چاہیئے۔ ان  کی جانب سے بہت زیادہ طاقت کا مظاہرہ اس عمومی تصور کا تقویت دیتا ہے کہ دہلی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں۔ کیا ان کی اس کاروائی کی کوئی توجیہہ ہے؟ کیا اس پہ کوئی انکوائری ہوگی کہ وہ یونیورسٹی کیمپس، اس کی لائبریری، اس کے غسل خانوں اور رات کے اندھیرے میں طالبات کے ہاسٹل تک جاگھسے؟

یہ اس کے مقابلے میں  کہیں بڑا جرم ہے کہ طلبہ کوئی احتجاج کررہے تھے۔ یونیورسٹی کیمپس میں گھسنے سے پہلے حکام بالا سے کوئی پیشگی اجازت نہیں لی گئی تھی، لہذا پولیس ہیڈٖکوارٹرز حکام کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہوگا کہ انہوں نے رات کی تاریکی میں طلبہ پہ طاقت کا بے دریغ استعمال کیوں کیا۔ کیا یہ ایسا ہونا چاہیئے تھا؟ ہمیں یہ سوال خود سے پوچھنا چاہیئے کہ ایک ایسی ریاست جو تیانامن اسکوائر کے معاملے پر طلبہ کے ساتھ کھڑی تھی آج اپنے ہی طلبہ کے اوپر ویسے ہی جارحانہ حربے کیوں استعمال کررہی ہے؟ یقیناََ جوکچھ بھی ہوا وہ وہ ریاستی جبر کی بدترین شکل ہے۔ بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ پولیس کاروائی کسی خارجی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ نیشنل پولیس کمیشن کی سفارشات میں درج ہے کہ پولیس کو اپنے دائرہ کار میں موجود کیمپس کا علم ہونا چاہیئے اور وہاں پر پائے جانے والے پرانے مسائل کا علم ہونا چاہیے۔ ان عملی تجاویز پر پولیس کی جانب سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔ پولیس کے غیر ضروری اقدامات سے عوام کی نظروں میں پولیس کی شبیہہ خراب ہوجاتی ہے۔ اور ایسے امکانات بہت وسیع ہوجاتے ہیں کہ آپ کسی اخلاقی ابتری کا مظاہرہ دیکھیں گے۔

ماحول بہت کشیدہ بن گیا تھا اور یہ گمان کہ اس واقعے میں بیرونی عنصر ملوث تھے بالکل بے بنیاد بھی نہیں تھا۔ طلبہ کو ممکنہ طور پر خارجی عناصر کے لیے پیادے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہو اور ایسا کرنے والے تقسیم کے دونوں جانب موجود ہیں۔ انارکی کوئی دور نہیں ہے۔ اور کیا ایسا نہیں ہے کہ ایسی تحریک سے جھوٹ سے پھوٹنے والے کوتاہ اندیش کم عقل نچلے درجے کے سیاسی رہنما ؤں کی شخصیت مضبوط ہوتی ہے؟

کوئی سماج گاندھی اور ٹیگور کے تصورات پہ کیسے پنپ سکتا ہے اگر اس میں ریاستی طاقت کے ایسی مثالیں موجود ہوں؟ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اس واقعے کو ایک انفرادی واقعے کے طور پر دیکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ اسے آہنی ہاتھ سے نمٹ لیا گیا، دوسرے لفظوں میں ریاست کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے۔

نظم وضبط اورعملدرآمد، یہ وہ دو توجہیات تھیں جن پر ہٹلر کی سیاست بنیاد کرتی تھی۔ تاریخ کم ہمت لوگوں کو زندہ نہیں رکھتی مگر وہ جہالت کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کرتی۔

اے ۔ کے گھوش: مصنف گورداس کالج کلکتہ کے سابقہ ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ انگریزی ادب ہیں اور ان دنوں رابندرا بھارتی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔

مترجم: شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...