مدرسہ ڈسکورسز کو بدگمانیوں کی نذر نہ کریں

476

جیسے ہی مدرسہ ڈسکورس کی کسی نئی علمی سرگرمی کا آغاز ہوتا ہے تو پاکستان میں مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر اعتراضات کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے۔ کسی بھی اقدام پر سوال اٹھانے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے اور اس پہ کوئی قدغن ہونی بھی نہیں چاہیے، تاہم اس کے ساتھ اگر ایکدوسرے کو سمجھنے کی کوشش کا عنصر کارفرما ہو تو بات چیت اور اختلاف کی مشق سودمند ثابت ہوسکتی ہے، اور اگر یکطرفہ تنقید ہی مقصود ہوتو غبار مزید غالب آتا ہے اور بدگمانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ چونکہ راقم خود اس عمل کا حصہ ہے لہذا بہتر محسوس ہوا کہ جو دیکھا اور سمجھ میں آیا اس کے تناظر میں مدرسہ ڈسکورس کی تھوڑی بہت وضاحت کردی جائے۔

مدارس کے فضلاء کو ایک پختہ علمی سرگرمی کے ماحول میں بحث ومباحثہ کرنے کی عادت ڈالنے، ماضی کے علمی مواقف پر غوروفکر کرتے ہوئے سوالات اٹھانے اور مسلمانوں کواپنے  گزرے سنہری دور میں پیش آنے والے مسائل ومشکلات کو سمجھنے کی اس کوشش کا نام مدرسہ ڈسکورسز ہے۔ جس میں نہ صرف علمی نصوص کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا جاتا ہے بلکہ اسلاف کےان مناظروں، مباحثوں اور علمی افکار وخیال کو بھی پڑھا جاتا ہے تاکہ یہ سمجھ آسکے کہ انہیں کیسے مسائل کا سامنا رہا اور وہ اس کا حل کیسے تلاش کرتے تھے۔

ناقدین کی اکثریت نے مدرسہ ڈسکورسز کے نصاب کو دیکھے بغیر، اس سے سے وابستہ اہل علم سے سوال کیے بنا ایسے الزامات لگانے شروع کردیے ہیں کہ ان کا ذکر کرتے ہوئے بھی افسوس ہوتا ہے کہ یہ الزام کن لوگوں پر لگایا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز میں مسائل تو زیر بحث آرہے ہیں مگر ان کا کوئی مخصوص حل نہیں پیش کیا جاتا، بلکہ یہ تربیت دی جاتی ہے کہ غوروفکر کرنے کی عادت ڈالیں اور ان فکری، تہذیبی مسائل و مشکلات کا حل خود تلاش کریں۔ مجھے اس میں شامل ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہے مگر مولانا عمار خان ناصر اور ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ وغیرہم کو ایک عرصہ سے جانتا ہوں، ان کی کتب و افکار سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔ یہ حضرات اپنی تمام علمی سرگرمیوں میں کامیابی کا سبب مدرسہ کے ساتھ قائم اپنے تعلق کو بتاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں مدرسہ ڈسکورسز کے زیر اہتمام موسم سرما کی ایک پانچ روزہ علمی سرگرمی میں شریک ہونے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کورس ہمیں اپنی دینی روایت سے جوڑنے اور اسے سمجھنے کی ایک کوشش کا نام ہے۔ ڈاکٹر موسیٰ کو ڈاکٹر فضل الرحمن کا شاگرد قرار دے کر تجدد پسند اور ڈاکٹر فضل الرحمن کا متبادل کہا جارہا ہے مگر میں نے جب ڈاکٹر موسیٰ سے اس بارے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فضل الرحمن سے میری صرف ایک ملاقات ہے۔ بلاسوچے سمجھے ان اہل علم کو متجددکے ساتھ ساتھ مشرک تک قرار دیتے جانا درست رویہ نہیں۔

بدگمانیوں نے پہلے ہی بہت تفریق پیدا کی ہے، نفرتیں اٹھائی ہیں۔ بجائے اس کے کہ ایک نئی سعی کو بھی اس کی نذر کردیا جائے بہتر ہے کہ اس پر بات چیت کا رُخ مثبت و تعمیری ہو

مدرسہ ڈسکورسز کی پانچ روزہ علمی ورکشاپ کے آخری روز جب طلبہ و اساتذہ اپنے اپنے خیالات و تجاویز کا اظہار کررہے تھے تو مولانا محمد عمار خان ناصر نے مدرسہ سے متعلق چند الفاظ کہے۔ وہ الفاظ میں یہاں من وعن پیش کرتے ہوئے یہ اپیل کرتا ہوں کہ توہمات کی دنیا سے باہر نکلیں اور حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اگر اس علمی سرگرمی کی حمایت نہیں کی جاسکتی تو لوگوں کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنا اچھا طرز نہیں۔ مولانا عمار خان ناصر کا کہنا تھا

’’ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کے بارے میں چند ایک باتیں کہنا چاہتا تھا، جن میں سے کچھ ڈاکٹر وارث مظہری نے کردی ہیں، کچھ اور تفصیلات بھی ہیں لیکن پھر کبھی بیان کروں گا۔ ڈاکٹر صاحب کی ذات سے بہت ساری باتیں سیکھنے کی ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر جو چیزیں ڈاکٹر موسیٰ سے سیکھی ہیں، ان میں سے اہم چیز  ہر وقت علم سے کسی نہ کسی رنگ میں اشتغال رکھنا ہے۔ مطالعہ، تلاش، تحقیق  اس سے ہر وقت اشتغال ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ  کسی زمانے میں مدرسہ کمیونیٹیز کا حصہ ہوتے تھے، تو وہاں سے باہر جانے کے بعد اور ایک دوسری دنیا میں اپنا علمی مقام بنانے کے بعد اب ڈاکٹر موسیٰ امریکہ میں مقیم ہیں۔ امریکہ میں  اسلامک سٹڈیز کے جو چند ایک  بڑے شیو خ ہیں ،ان میں اب ڈاکٹر صاحب کا شمار ہوتا ہے مگر مدارس سے وہ رشتہ جو کئی سال پہلے قائم ہوا تھا، انہیں اب بھی یاد ہے کہ میں نے بھی اپنی دینی تعلیم کی بنیادیں اس مدرسہ کی صفوں پر بنائی تھیں۔

میرے خیال میں ہمارے سیکھنے کے لیے یہ بڑی اہم چیز ہے کہ ہم میں سے سبھی لوگ بالخصوص پاکستان کے احباب کسی نہ کسی طور پر مدارس سے اپنا تعلق قائم کیے ہوئے ہیں مگر ہمارے کیریئرز دوسرے اداروں  سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ تعلق یاد رکھنا کہ بطور ادارہ اس کا ہم پر ذاتی حوالے سے حق ہے اور واقعہ یہ ہے کہ مدرسہ  ہماری تاریخ اور تہذیب کا کسی نہ کسی رنگ میں بچا ہوا واحد ادارہ ہے۔ ہماری تاریخ و تہذیب نے جتنے ادارے قائم کیے تھے، وہ سارے مختلف حوادث کی نذر ہوچکے ہیں۔ یہ ایک واحد ادارہ ہے جو کسی نہ کسی رنگ میں موجود ہے اوراسے لوگوں کا اعتماد آج بھی  حاصل ہے۔ ہم داخلی طور پر جتنی بھی تنقید کریں مگر اس کی تہذیبی اہمیت کا انکار ممکن نہیں۔

ایک زمانہ مجھ پر بھی ایسا گزرا ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ یہ ادارہ اب کسی کام کا نہیں رہا اور اس کی جگہ کسی دوسرے ادارے کو سامنے آنا چاہیے مگر اب میں شرح صدر سے اس کی اہمیت کا قائل ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ تہذیب و تاریخ میں ادارے آسانی سے نہیں بنتے، ایک ادارے کو اپنا نام بنانے اور اپنے کام سے متعلق صحیح طور پر آگاہ کرنے میں صدیاں لگتی ہیں۔ بہت سے مسائل آئے، بہت ساری چیزوں کا سامنا کرنا پڑا، تاریخ نے بڑے عجیب کھیل ہمارے ساتھ کھیلے مگر اس ادارے کی قدروقیمت کو سمجھنا اور جس علمی روایت کا یہ ادارہ امین ہے، ہمارا ایک تاریخی  ورثہ ہے جس کا مدرسہ ایک بڑا حصہ ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کے ہماری ذات پر جتنے حق ہیں، انہیں ادا کرنے کی بھرپور کوشش   کرنی چاہیے۔‘‘

اختلاف رکھنے والے احباب سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان کی دینی روایت میں شروع ہونے والے اس نئے عمل پر اعتراض کی بجائے اس سے وابستہ اہل علم سے رابطہ کریں، ان سے سوال کریں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بدگمانیوں نے پہلے ہی بہت تفریق پیدا کی ہے، نفرتیں اٹھائی ہیں۔ بجائے اس کے کہ ایک نئی سعی کو بھی اس کی نذر کردیا جائے بہتر ہے کہ اس پر بات چیت کا رُخ مثبت و تعمیری ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...