کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ ۔۔۔

شور و غوغا عوامی شور کی وہ قسم ہے جس کا مقصد صرف احتجاج اورغم و غصہ کی اطلاع ہو تا ہے۔ اس کا نوٹس لینا اور مزید کاروائی مطلوب نہیں ہوتے۔ مثلاً آجکل گمشدہ کو تلاش نہیں کیا جاتا، اخبارات میں شورو غوغا کے اشتہار کو ہی کافی سمجھا جا تا ہے

266

گالیاں کل تک راندہ درگاہ تھیں۔ ہم وثوق سے نہیں کہ سکتے کہ آج انہیں جو عزت مل رہی ہے یہ ان بد قسمتوں کے حق آزادی کا اعتراف ہے، بالی وڈ کی نقالی ہے، گو رے میڈیا سے ٹرینڈی ہم آہنگی کی علامت ہے، گالیوں والے آئیٹموں کی بڑھتی ہوئی ریٹنگ ہے یا میڈیا کے شیریں لبوں کی وہ جادوگری ہے کہ بقول غالب گالیاں سن کے رقیب بھی بے مزہ نہیں ہوتے۔ دشمن کے خلاف ہو یا دوست کے، ہر گالی پر لوگ خوشی سےجھومنے لگتے ہیں کہ

برق سی گر گئی،  کام ہی کر گئی     آگ ایسی لگائی، مزہ آ گیا

بعض روایت پسند ناظرین حیدر علی آتش کی طرح ضروربڑبڑاتے رہتے ہیں کہ

لگے منہ بھی چِڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب      زباں بگڑی تو بگڑی تھی،  خبر لیجے دہن بگڑا

دہن بگڑنے کی شکایت بجا لیکن انگریزی بولنے میں درست تلفظ کے لئے فنکار کو کسی حد تک منہ بگاڑنے کی اجازت تو دینی پڑے گی۔ گالی تو ہوتی ہی کڑوی ہے۔ زبان کسیلی ہونے کی شکایت بھی بے جا ہے۔ اور جب منہ بگاڑنے اورگالیاں دینے، سننے اورسنانے میں سبھی گراہکوں کا منو رنجن ہو تو میڈیا سے بھی کیا شکوہ، خبریں پریس ریلیز اور ٹریجڈی کے ڈرامے بن جائیں اور وقفے بریکنگ نیوز کی نذر ہوجائیں تو دل لگی کے لئے گالیاں ہی رہ جاتی ہیں۔ رہا ادب کا تقاضا کہ میر کے سرہانے جو ٹک روتے روتے سو گیا ہے شور نہ ہوآہستہ بولو، تو قصور تو میر کا ہے جو شہرآشوب کی داستاں کہتے کہتے سو گیا۔ زمانہ تو بڑے شوق سے سن رہا تھا۔ منتظر تھا کہ حرفِ تمنا میر کی زبان پر آئے۔ عشق صبر طلب، تمنا بے تاب اور دنیا گھڑی دو گھڑی  کا ٹھکانا ہے۔ تمنا مختصر ہو تو تمہید طولانی زیب نہیں دیتی۔ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔ گالیاں اس لئے عزت کی سزاوار ہوئیں کہ وہ کسی تمہید کے بغیر مختصرترین الفاظ میں تمنا بیان کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔

شدت پسند شعرا گالی کو قابل سزا سجھتے ہیں لیکن سزا کے بارے میں ان میں بھی اختلاف ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوا حیدر علی آتش گالی کو منہ کا بگاڑ یا دہن کی خرابی شمار کرتے تھے اس لئے اس کی خبر لینا ہی سزا تھی۔ پاکستان جیسے مہذب معاشروں میں محض فوری نوٹس سے مجرم کیفر کردار تک پہنچ جاتا ہے۔ انتقام پسند شعرا کی رائے میں گالی وصل کی ایسی خواہش کا اقرار ہے جس کے پورا ہونے پر غسل واجب ہوجا تا ہے۔ جناب مائل حیدر آبادی کی رائے میں یہ خواہش دہن یعنی صرف منہ تک محدود رہتی ہے اس لئے گالی پر صرف کُلّی لازم آتی ہے۔

وعدہ کیا ہے وصل کا اور وہ بھی غیر سے        کُلّی کرو حضور ہو ا ہے دہن خراب

شدت پسندی کے ذکر سے یاد آیا کہ مکالمے کی بات شدت پسندی کی مذمت سے شروع ہوئی تھی۔ مذمت میں تشدد شروع ہوا تو مکالمے کی ثقافت لانچ ہوئی۔ مکالمہ شروع کیا تو بعض  نےگالی کو گولی کا نعم البدل سمجھ کر رواج دیا اوراکثر نے جوش استدلال میں گالی کو دلیل بنایا۔ یوں مکالمہ مگالمہ بنتا گیا۔ جمہور  کے لئے  گالیاں قوت لایموت کا درجہ رکھتی ہیں۔ یادوں کی تلخی گالیوں سے کم کرتےہیں۔ کبھی دنیا کو گالیاں دیتے ہیں۔ کبھی خود کو کوسنے لگتے ہیں۔ تفریح طبع کے لئے بھی گالیوں سے مزا لیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی کی گالیاں پُھس پھُسی لگیں تو ’موراوور‘ کا تڑکا  لگا کر مزہ  دوبالا کرتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ گورے ایک پاکستانی کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کچھ دیر تو وہ انگریزی زبان میں جواب دیتا رہا تسلی نہ ہوئی تو مور اوور کہہ کر مغلظات کا باب کھول دیا۔ مغلظات ثقافتی تسلی کی وہ رسم ہے جو دوسروں کی ماوں بہنوں سے نفرت کی تکرار سے ادا ہوتی ہے۔ یہ لسانی ابلاغ کی تکمیل کا اضافی عمل ہے اس لئے مور اوور کہلاتا ہے اور صرف ماں بولی میں مکمل ہوسکتا ہے۔ ماہرین ثقافت کی نگاہ میں بین الاقوامی لسانی ترقی میں گالی کا کردار بہت اہم ہے۔

مسئلہ خود ہی کیفر کردار کو نہ پہنچے تو ہم دوسرا، تیسرا اور چوتھا مسئلہ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ مسائل کی کثرت ہو تو پھر کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی جلدی نہیں رہتی

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ گالیاں انسانی صحت کے لئے مفید ہیں، ان  سے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔ ہماری تحقیقات کے مطابق گالیاں دماغی صحت ہی نہیں معاشی صحت کے لئے بھی مفید ہیں۔ گالی کی معیشت اپنائیں تو دفاعی اخراجات میں حیران کن حد تک کمی آسکتی ہے۔ گالی سستی اور مفت ہے، گولی مہنگی اور قرض آور۔ گالی گولی سے زیادہ کارگر ہے کیونکہ اس کی چوٹ گولی سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ گالی دماغ میں جا گھستی ہے۔ متعدی ہوتی ہے، عادت بن جاتی ہے۔ اسلحہ ساز ملک بوجوہ گالی کے شدید مخالف ہیں۔ انہوں نے تشدد مخالف تنظیمیں بنائی ہیں جو پروپاگنڈہ کرتی ہیں کہ دشمن کی توپوں میں گالیوں سے کیڑے نہیں پڑتے۔ دشمن کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے جدید ترین اسلحہ درکار ہے۔ بایں ہمہ گالی سیاست  کے باب میں  نعمت غیر مترقبہ ہے۔

گالی اتنی کارگر نہ ہوتی مخالفین انصاف کی دہائی نہ دیتے۔ اب تو پوری دنیا مگالمے کے عشق میں مبتلا ہے۔ مگالمے آغاز قومی شناخت کے حل سے شروع ہوا۔ جنم بھومی اور وطن کے جھگڑے نمٹاتا مگالمہ باپ دادا بلکہ پراچین کال تک پہنچا۔ اب تو سبھی عمر ہائے رفتہ کو آواز دے رہے ہیں۔ ماضی میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ گردش ایام کی الٹی دوڑ کا طلب گار اسرائیل تو پچھلے پاوں بھاگ ہی رہا تھا، اب بھارت سرکار بھی گڑے مردے اکھاڑ کر آئین کے مندر سجا رہی ہے۔ بھارت میں جرمنی کے ہٹلر یکے بعد دیگرے دوسرا اور تیسراجنم لے رہے ہیں۔ آریہ ورت میں نئی مہا بھارت لڑی جارہی ہے۔ پرانے زمانوں میں شہروں کے گرد فصیلیں تعمیر کی جاتی تھیں تاکہ بیرونی حملہ آوروں کو روکا جاسکے۔ اب جمہوریت اور سیکولرزم کے دعوے دار اپنے ہی شہریوں کو ملک بدر کرنے کے لئے قانون کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔ معیشت میں ترقی یافتہ ملک جو باہر سے لوگوں کو مہمان محنت کار کا درجہ دے کر بلایا کرتے تھے اور شہری بنا کر وہیں روک لیا کرتے تھے، اب قومیت اور شہریت کو خالص رکھنے کے لئے مدت سے بسے شہریوں کو اجنبی بلکہ بیرونی حملہ آور قرار دے رہے ہیں۔ جن قوموں نے نئی روشنی کے نام پر دوسرے ملکوں کوغلامی کے اندھیروں میں دھکیلا تھا، خود کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لئے دوسرے ملکوں کومیدان جنگ بناتے رہے ہیں اور جنہوں نےاپنی معیشت کی مضبوطی کے لئے دوسروں کو کنگال کیا، اب کنگلوں کے ٹڈی دلوں کا رخ اپنی جانب دیکھ کر  بندوقیں اٹھائے ہاہا کار مچا رہے ہیں۔

اہل مذہب بھی ماضی کی تلاش کرتے مستقبل کی پیشین گوئیوں میں ایسے گم ہوے ہیں کہ واپسی کا راستہ نہیں مل رہا۔ زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے۔ مذہب کے نام پر بنے ملکوں میں صور اسرافیل پھونکا جا رہا ہے۔ روز محشر بپا ہے۔ اعمال نامے تقسیم ہو رہے ہیں۔ جنت اوردوزخ  کے فیصلے سنائے جارہے ہیں۔ موت بانٹی جارہی ہے۔ سولیاںسج رہی ہیں۔ صلیب کے لئے لاشوں کا چُناو کیا جارہا ہے۔ شناخت کی پرتیں کھل رہی ہیں تو راہ چلتوں کو سلام کہتے ہحکچاہٹ ہو رہی ہے۔ کیا پتا کفر کا مرتکب دوزخی ہو، یا کب کافر قرار دے دیا جائے اور دوزخ میں ڈال دیا جائے۔ قیامت کی مایوسی ہے۔ امید اورانتظار کے  بے خواب کواڑ بند کرنے کو کہا جارہا ہے۔

ہم نے عقل اور دماغ  کے آبگینوں کی ہمیشہ جی جان سے حفاظت کی ہے۔ ان پردہ نشینوں پر کبھی کسی غیر کا سایہ نہیں پڑنے دیا۔ عقل و دماغ کو خطرہ ہو توعقل کے گرد حصار باندھ کر سینہ سپر سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ شوروغل مچتا ہے کہ عقل سہم کر سمٹنے لگتی ہے۔ شور و غل اور شور و غوغا تمام مسائل کے حل کا مجرب نسخہ ہے۔ کوئی مسئلہ سر اٹھاتا ہے تو گالیوں کے شور سے بھگا دیتے ہیں۔ شور وغوغا سے مسئلہ کم زور ہوجاتا ہے تو اس پر گالیوں سے مزید ضعیفی طاری کی جاتی ہے۔ بقول اقبال جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ہے۔ نظراندازہونے کے دکھ سے مسئلہ سسک سسک کر مر جاتا ہے۔ خود ہی کیفر کردار کو نہ پہنچے تو ہم دوسرا، تیسرا اور چوتھا مسئلہ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ مسائل کی کثرت ہو تو پھرکسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی جلدی نہیں رہتی۔

بعض پریشان فکر شاعر پے بہ پے مسائل کو دریا کی تمثیل بتاتے ہیں اور حیران ہوتے رہتے ہیں کہ ایک پار کر لیں تو دوسرا کیوں سامنے آجاتا  ہے۔ دور بیٹھے ماہرین ہمیں سخت جان قوم کہہ کر داد دیتے ہیں کہ ہم بحران در بحران جینا جانتے ہیں۔ نہیں جانتے کہ ہماری صحت کا راز گالیاں ہیں جن سے عوام کے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔ میڈیا کے آنے سے شرفا اور خواص کو بھی دل کی بھڑاس نکالنے اوراپنے مخصوص شوروغل کا موقع ملنے لگا ہے۔ اس  مخصوص شور و غل کے لئے اردو میں ابھی تک الگ سے کوئی لفظ نہیں ہے۔ شور کا لفظ شرفا سے منسوب کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ شورعوام کرتے ہیں اشرافیہ نہیں۔ اب ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ اشرافیہ کے شور کا اعتراف کیا جائے۔ اسے کوئی بھلا سا نام دیا جائے۔

اشرافیہ کے شور کا اعتراف اور ان کے اور عوام کے شور میں فرق کے لئے ہم اس تحریر کی وساطت سے ’’شورنا‘‘ کی اصطلاح تجویز کرنا چاہتےہیں۔ شورنا میں ہر چند کہیں کہ ہے شور نہیں ہے۔ اس لئے کہ نا سننے میں نہ سنائی تو دیتا ہے دکھائی نہیں دیتا۔ شورنا اور شور میں فرق کے لئے شور کا لغوی اور معنوی تجزیہ ضروری ہے۔

خبریں پریس ریلیز اور ٹریجڈی کے ڈرامے بن جائیں اور وقفے بریکنگ نیوز کی نذر ہوجائیں تو دل لگی کے لئے گالیاں ہی رہ جاتی ہیں۔ رہا ادب کا تقاضا کہ میر کے سرہانے جو ٹک روتے روتے سو گیا ہے شور نہ ہوآہستہ بولو، تو قصور تو میر کا ہے جو شہرآشوب کی داستاں کہتے کہتے سو گیا

اردو زبان میں  شور کا لفظ فعل کے طور پر استعمال ہو تو اسے مرکب کرنا پڑتا ہےاور وہ بھی کسی تابع مہمل کے ساتھ جو فعل تو ہوتا ہے لیکن تابع بلکہ تابعدار۔ جیسے شور کے ساتھ کرنا، مچانا، اٹھانا، پڑنا، وغیرہ لاحقے ضروری ہیں۔ یہ سارے لاحقے مفرد استعمال ہوں تو فعل کے معنی دیتے ہیں۔ لیکن شور سے جڑ کے شور کو فعل میں تبدیل کرتے ہیں اور خود مہمل اور بے معنی ہو جاتے ہیں۔ ایسے مہمل الفاظ  سے شور کو ملانے اور معنی پیدا کرنے کا اصل مقصد عوام کو یہ باور کرانا تھا کہ شور مہمل فعل ہے۔ شور بطور اسم صرف عوام سے منسوب  کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں یہ اسم  ہوتے ہوے بھی فعل شمار ہوتا ہے۔ اردو زبان میں عوام کے شورکو شور و غل اور غل غپاڑا کہتے ہیں جو قابل دست اندازی پولیس ہے۔ بطور اسم مرکب اس کا رشتہ ایسے رسوائے زمانہ الفاظ  سے جوڑا جاتا ہے جن سے فتنہ و فساد کی بو آتی ہے۔ مثلاً  شورو شر، شورو شغب،  شور شرابا ،شورش اور شور و غوغا۔  شور و غوغا عوامی شور کی وہ قسم ہے جس کا مقصد صرف احتجاج اورغم و غصہ کی اطلاع ہو تا ہے۔ اس کا نوٹس لینا اور مزید کاروائی مطلوب نہیں ہوتے۔ مثلاً آجکل  گمشدہ کو تلاش نہیں کیا جاتا، اخبارات میں  شورو غوغا کے اشتہار کو ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔

شور کا لفظ دوسری کئی زبانوں میں بھی استعمال  ہوتا ہے۔ عربی لفظ شوریٰ جومشورہ  کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، شور سے نکلا ہے۔ عربی قواعد کی رو سے شور شوریٰ کا مادہ ہے۔ اردو  قواعد کی رو سے یہ جملہ صحیح نہیں لگتا کیونکہ اردو میں شور مذکر اور شوریٰ مونث سمجھے جاتے ہیں۔ عربی میں تذکیر و تانیث کے فرق کو بنیادی اہمیت ضرور دی جاتی ہے لیکن شور کے شوریٰ کا مادہ ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ شوریٰ کا لفظ شور سے نکلا ہے۔ جب سےمرد اور عورت دونوں کو شوریٰ میں شرکت اور شور کا برابرحق حاصل ہوا ہے یہ بحث بے کار ہوگئی ہے۔

فارسی میں شور کا لفظ کھارے اور کڑوے ذائقے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مزاج کے کڑوے  لوگوں کو شوریدہ سر اور شوریدہ مزاج کہا جاتا ہے۔ کھارے پانی والی زمین جس میں کاشت نہ ہوسکے شورابہ کہلاتی ہے۔ اردو میں ایسی زمین کو محض شور کہتے ہیں۔ انگریزی میں شور ساحل کو کہتے ہیں۔ تعلق تو اس کا بھی کھارے پانی سے لگتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں بھی ساحلی علاقوں کو کھارے پانی کی وجہ سے کھارادر کہتے ہیں۔ گورے اِن شور اور آف شور میں فرق کرتے ہیں۔ اِن شور کمپنیاں جائزدولت اور کاروبار کا بیمہ کرتی ہیں اور آف شور کمپنیاں ناجائز دولت کی ضمانت دیتی ہیں۔ ہمارے ہاں پارلیمنٹ کو آئین میں مجلس شوریٰ کانام دیا گیا ہے۔ لیکن ہم ابھی تک یہ طے نہیں  کر پائے کہ یہ مجلس عربی معنوں میں کام کرے یا اردو اور فارسی مفہوم  میں۔ اردو میں شور مذکر اور شوریٰ مونث ہے اس لئے بحث ختم نہیں ہوئی۔ اصطلاحی زبان میں بھی شور کا رشتہ عوام سے جڑا ہے اور گالیوں کی تکرار شور کی تکلیف دہ مثال شمار ہوتی ہے۔ تکلیف دہ اس لئے کہ گالیوں کی بھڑاس ٹی وی کی سکرین سے ناظرین میں منتقل ہوکر بہت جلد معاشرے میں پھیل جاتی ہے اور دیر تک پورے ماحول پر دھند بن کر چھائی رہتی ہے۔

شورنا کی مجوزہ اصطلاح شور کی ایسی اعلیٰ اور نفیس قسم کا نام  ہے جو شور کا جوہر ہے۔ ٹاک شو کے دوران جب دو یا زیادہ ماہرین شریک ہوجائیں تو اکثر شورنا کا ظہور ہوتا ہے۔ چند لمحوں میں منظر بدل جاتا ہے۔ شورنا وہ لمحہ ہے جب سارے تجزیہ نگار بیک وقت بولنا شروع کرتےہیں، ایک دوسرے کا تزکیہ کرنے لگتے ہیں اور خالص شور وجود میں آتا ہے۔ یہ وہ  شور ہے جو ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی۔ یہ دکھائی دیتا ہے سنائی نہیں دیتا ہے۔ سنائی دے بھی تو الفاظ کا پتا چلتا ہے نہ معانی کا۔ یہ وجد اور وجود  کے بیچ کی وہ کیفیت ہے جو نہ قال میں نصیب ہوتی ہے نہ حال میں۔

شور اپنی فطرت میں عوامی ہے، یہ  بطور اسم یا فعل اشرافیہ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ شورنا کی اصطلاح میں شور کے سارے معانی جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ آواز کی وہ اٹھان ہے جو کان پڑی سنائی نہیں دیتی۔ یہ ذائقے کی وہ کڑواہٹ ہے جو چکھی نہیں جا سکتی۔ یہ وہ بھڑاس ہے جو صرف شورنے سے نکلتی ہے۔ یہ شیریں لبوں کی وہ گالیاں ہیں جن سے رقیب بھی بے مزہ نہیں ہوتے۔ در حقیقت شورنا میں  شور کی وہ صفات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں جو صرف قلمی شورے کا خاصہ ہیں۔ قلمی شورے کو انگریزی میں پوٹاشیم نائٹریٹ کہتے ہیں جو پٹاخوں اور آتش بازی میں استعمال ہوتا ہے۔ شورنا بھی گالیوں کے پٹاخے چلا کر آتش بازی کے جادوئی رنگ بکھیر تا ہے۔ قلمی شورہ کی دوسری صفت یہ ہے کہ پانی کو سُن کردیتا ہے اور دودھ کی قلفی بنادیتا ہے۔ شورنا بھی ناظرین کے دماغ سُن کردیتا ہے۔ خبروں کی ایسی قلفی بنا کرپیش کرتا ہے کہ ناظرین بے سدھ ہو جاتے ہیں۔ اینکر ’’مجھے بریک کے لئے کہا جا رہا ہے‘‘ کی جتنی تکرار کرتا ہے نشہ بڑھتا جاتا ہے، اشتہار چلتے رہتے ہیں، ناظرین ٹی وی سے چِپکے بیٹھے رہتے ہیں۔ ریٹنگ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ میڈیا ان پروگراموں کو ٹاک شو، گفت و شنید، بات چیت، گفتگو اور مکالمہ کا نام دیتا ہے۔ ناظرین کو بھی اطمینان ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کے مسائل کا محلول بنانے کے عمل میں برابر شریک ہیں۔

شورنا گفتگو اور مکالمے کا جدید انداز ہے جو تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ یہ وہ مکالمہ ہے جس میں نہ سوچنے کا تکلف  کرنا پڑتا ہے اور نہ دوسروں کی سننے اور اپنی سمجھانے کی زحمت۔ اس کی مقبولیت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ وہ قلمی شورہ ہے جس میں قلم آپ کے نہیں کسی اور ہاتھ میں ہوتاہے۔ نہ انگلیاں خون دل میں ڈبونا پڑتی ہیں، نہ سر قلم  ہوتے ہیں۔ یہ لکھی پڑھی اشرافیہ کا شور ہے جو محفوظ چاردیواری میں رچایا جا تا ہے۔ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔ پلے بیک  گانے کی طرح ایک بے آواز پیغام ملتا رہتا ہے: ’’سوچنا چھوڑیے، شورنا اپنائیے‘‘۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...