2020ء: تبدیلی کی تبدیلی کا سال؟

381

گردشِ ایام ہمیں 2020ء میں لے آئی ہے۔ حکومت اِسے ترقی، خوشحالی اور نوکریوں کا سال قرار دے رہی ہے تو اپوزیشن نئے الیکشنوں کی پکار کے ساتھ اسے ’تبدیلی‘ کی ’تبدیلی‘ کا سال بنانا چاہتی ہے۔ تاہم پاکستان کے شہری یہ چاہتے ہیں کہ مسائل اور مشکلات کی دھند چھٹے اور بہتری کی سحر طلوع ہو۔ ایسا تبھی ممکن ہوگا کہ جب حکومت اور اپوزیشن صورتحال کی بڑی اور دُوراندیش تصویر دیکھنے کا ہنر اپنائیں گے۔

2020ء کرکٹ کی زبان میں ٹی ٹونٹی کی طرح عوام کے مفاد میں تیزترین سکور کرنے کا سال ہونا چاہیے۔ پہلی نوید پاکستان سپر لیگ کا اپنے گھر آنا ہے۔ کھیل کے میدان مزید آباد ہوں گے۔ دوسری نوید، جی ہاں یہ سال پاکستان میں الیکشن کا سال بھی ہوگا، مگر مقامی حکومتوں کے انتخابات کا سال۔ اگر ہم اچھا، مؤثر اور بااختیار سسٹم بنانے میں کامیاب ہوئے تو عوام کی زندگیوں میں تبدیلی نہیں تو کم ازکم کچھ سہولتیں ہی آجائیں گی۔ نیز اگر یوتھ  کو انتخابات کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے تو 2020ء میں سٹوڈنٹس یونینوں کے الیکشن بھی ہوسکتے ہیں۔

مقامی حکومتوں کے انتخابات سے قبل 2019ء میں نامکمل رہنے والے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ تکمیل لازمی ہوگی۔  اِس وقت کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور بلوچستان و سندھ کے مستقل ممبران سے محروم ہے۔ اسلام آباد ہائی کوٹ بارہا کہہ چکا ہے کہ سیاسی مسائل سیاست کو حل کرنا ہوں گے اور پارلیمانی مراحل پارلیمانی اداروں کو ہی طے کرنا ہوں گے۔ 2019ء اس ضمن میں سیاسی ڈائیلاگ کی ناکامی کا سال رہا۔ اُمید ہے نیا سال ہمیں سیاسی سمجھوتے سکھانے میں کامیاب رہے گا۔

2019ء میں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع اور جنرل مشرف پر آرٹیکل 6 کے اطلاق کے معاملات عدالت عظمیٰ اور خصوصی عدالت میں رہے۔ اگرچہ پہلا سوال پارلیمنٹ کے کورٹ میں پھینکا گیا، لیکن حکومت اِسے ایک بار پھر عدالت میں لے آئی ہے، اس طرح یہ 2020ء نئے چیف جسٹس آف پاکستان اور اُن کے ساتھی ججوں کے لیے تدبر کی آزمائش کا سال ہوگا۔ پاکستان کی عدالتی دنیا میں روزانہ احتساب سے لے کر معمول کے انصاف پر اتنا کچھ ہوتا ہے کہ انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہےکہ کیا ہم واقعی ’لیگل سوسائٹی‘ بن رہے ہیں؟ یا پھر سب کچھ وقتی ’سموگ‘ ہے جہاں حدِنگاہ محدود ہوچکی ہے اور دیگر اہم مسائل دھند میں نظر ہی نہیں آرہے۔

2019ء سیاسی ڈائیلاگ کی ناکامی کا سال رہا۔ اُمید ہے نیا سال ہمیں سیاسی سمجھوتے سکھانے میں کامیاب رہے گا

2020ء میں داخل ہوتے ہی ہم نے ایک منزل اور بھی طے کرلی کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت کے طویل ترین تسلسل کا عشرہ رہا۔ لیکن کیا جمہوریت واقعی ایک مستحکم حقیقت بن چکی؟ کیا ہم نے جمہوری کلچر اپنالیا، شاید نہیں۔ جمہوریت کی علامت پارلیمانی ادارے جتنے آج کمزور ہیں پہلے کبھی نہ تھے۔ 2019ء میں درجن بھر پارلیمنٹرین پسِ دیوارِ زنداں پہنچے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ پر عملاََ تالہ لگا ہے اور یہ بات اتنی غلط بھی نہیں کیونکہ مہینوں پارلیمنٹ کے اجلاس نہیں ہوپاتے۔ اُمید ہے 2020ء پارلیمانی زندگی میں حرارت لائے گا۔

2019ء میں بھی 2017ء میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج سامنے نہ آسکے۔ یہ اعدادوشمار قوم کی سیاسی اور معاشی دولت کی تقسیم کے لیے اہم ہیں۔ اُمید ہے نئے سال میں مردم شماری کے حتمی نتائج کا اعلان ہوگا اور انہیں ٹھوس منصوبہ بندی کی بنیاد بنایا جائے گا۔ 2019ء میں قومی کمیشن برائے اطفال بھی نہ بن پایا۔ آج قومی کمیشن برائے خواتین بھی سربراہ سے محروم ہے۔ اُمید ہے 2020ء میں یہ  ادارے ایک بار پھر فعال ہوکر اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔

معاشی حوالے سے 2019ء میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا کلہاڑا معیشت کے سر پر لٹکتا رہا۔ اُمید ہے 2020ء اِس سے بہتر ثابت ہوگا۔ اِس کلہاڑے کے خوف سے پاکستان میں غیرسرکاری تنظیموں کا کام بھی متأثر ہوا ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ نئے سال اس ضمن میں بھی کوئی بہتری کے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت میں مزید قرضے اور پھر مزید قرضے شاید 2020ء کا بھی رواج رہیں۔ تاہم دعا ہے کہ دوراندیش وژن کے ساتھ امن اور خوشحالی کی معیشت کی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔ 2019ء کا نعرہ کفایت شعاری رہا اُمید ہے نئے سال کا نعرہ صحت، تعلیم، ماحول اور افرادی قوت میں مستقبل بین لازمی سرمایہ کاری ہوگا، کیونکہ اب ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ہے۔

2020ء اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ تاریخی 18ویں آئینی ترمیم کو منظور ہوئے ایک دہائی مکمل ہوجائے گی۔ یہ موقع ہوگا کہ تجزیہ کیا جائے کہ کیا بہتر ہوا اور کسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...