دہشتگردی کا چیلنج ابھی باقی ہے

پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے مگر یہ خطرہ ابھی مکمل ختم نہیں ہوا

260

سال 2019ء  کے دوران پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں مزید کمی ہوئی اور اس وجہ سے جانی نقصان بھی کم ہوا۔ اگرچہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ دہشتگرد عناصر کی عملی صلاحتیں کمزور ہوگئی ہیں تاہم دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری  ہے۔ دہشتگرد عناصر تتر بتر تو ہوگئے ہیں تاہم ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور سماج میں وقوع پذیرانتہاپسندانہ افکار تاحال ان کے لیے انسانی، مالی اور نظریاتی کمک کا باعث ہیں۔

اسلام آباد میں موجود تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں امسال دہشتگرد حملوں میں گزشتہ سال 2018ء کی نسبت 11 فیصد کمی ہوئی اور اسی طرح امسال دہشتگرد عناصر کے حملوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت 40 فیصد کم رہی۔ اعداد و شمار ملاحظہ کئے جائیں تو سال 2009ء سے ہی دہشتگرد حملوں میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے (سوائے سال 2013ء کے جب فرقہ واریت کی بنیاد پر حملے اور اس کے نتیجے میں زیادہ اموات ریکارڈ ہوئیں)۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس ڈیپارٹمنٹ، انسداد دہشتگردی کے لئے خصوصی اداروں کی مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف   جنگ اور موثر نگرانی اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت اٹھائے خصوصی اقدامات کے نتیجے میں بظاہر سال 2013ء سے دہشتگردی کی لہر میں مسلسل کمی آئی ہے۔

اعداد وشمار یہ بھی بتاتے ہیں گزشتہ چند سالوں کے دوران تشدد کے اکثر واقعات بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں پیش آئے جبکہ دیگر خطوں میں ایسے حملوں کی تعداد کم رہی۔ البتہ ایک جانب اگر صوبہ بلوچستان میں رواں سال دہشتگردی کے واقعات میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی تو دریں اثناء صوبہ خیبرپختونخوا میں اسی قدر دہشتگرد حملے ہوئے جس قدر گزشتہ سال ہوئے تھے۔ ان دو صوبوں میں دہشتگردی کے واقعات بہت زیادہ تھے کیونکہ ملک بھر میں ہونے وا لے دہشتگرد حملوں کا 91 فیصد انہی دو صوبوں میں وقوع پذیر ہوا۔ صوبہ بلوچستان میں 84 جبکہ خیبرپختونخواہ میں دہشتگرد ی کے 125 واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

رواں سال نام نہاد مذہب پسند مسلح گروہ جیسا کہ تحریک طالبان پاکستان، اس کے ملحقہ گروہ حزب الاحرار اور جماعت الاحراراور انہی رجحانات کی حامل دیگر مسلح جماعتیں مثلاََمقامی طالبان، لشکر اسلام اور نام نہاد دولت اسلامیہ وغیرہ کی جانب سے 158 حملے کئے گئے جبکہ قوم پرست مسلح تنظیموں جن میں زیادہ تعداد بلوچستان میں برسرپیکار بلوچ قوم پرست تنظیموں کی ہے، کی جانب سے 57 حملے ریکارڈ کئے گئے۔ جبکہ رواں سال فرقہ وارانہ دہشتگرد حملوں کی تعداد 14 رہی۔

اسلام آباد میں موجود تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں امسال دہشتگرد حملوں میں گزشتہ سال 2018ء کی نسبت 11 فیصد کمی ہوئی

یہ تمام رجحانات اور اعداد و شمار بیا ن کرتے ہیں کہ دہشتگردی ابھی تک ختم نہیں ہوئی لیکن عسکریت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کا بیانیہ قومی میڈیا اور عوامی و پالیسی ساز سطح  پہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ادارے و افراد اس  بیانیے یہ یقین کرچکے ہیں کہ ہم نے دہشتگردی اور مسلح عسکریت پسندی کو مکمل شکست دے دی ہے اور خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں سمیت ملک بھر میں امن و امان قائم کرلیا ہے۔  حقیقت میں یہ فقط آدھا سچ ہے۔ یہ اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ سال 2019ء کے دوران شمالی وزیرستان میں مسلح تشدد ایک بار پھر سے قوت پکڑچکا ہے جہاں کل 53 دہشتگرد حملے ہوئے۔ یہ تعداد خیبر پختونخوا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی کل تعداد کا 42 فیصد ہے اور ان حملوں میں 57 افراد ہلاک جبکہ 93 زخمی ہوئے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اس قدر چوکس ہونا لازم ہے کہ مسلح عسکریت پسندوں کو ملک کے کسی بھی حصے میں دوبارہ متحد نہ ہونے دیں۔

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کی مشرقی سرحد پر لاحق اسٹرٹیجک خطرات مزید پیچیدہ ہوگئے تھے۔ اس جلتی پہ تیل کا کام بی جے پی قیادت میں مودی سرکار کے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے متنازع فیصلے نے کیا۔ اس صورتحال  کے نتیجے میں ریاستی اداروں کی تمام توجہ روایتی خطرے کی جانب مبذول ہوگئی۔ پاک افغان سرحد پہ بھی حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ جبکہ پاک ایران سرحد پہ بھی حالات کشیدگی کی جانب مائل ہیں کیونکہ بلوچ عسکریت پسند پاکستان میں مسلح حملوں کے لئے مبینہ طور پر ایرانی سرزمین کا استعمال کرتے ہیں۔

اس تمام تر پیچیدہ اور دگرگوں صورتحال میں بھی پاکستانی ریاست کا کسی بھی مذہبی جماعت، قوم پر ست تنظیم یا مسلح گروہ کو ان حساس حالات میں بھی انتشار پھیلانے کی کوشش سے باز رکھنے میں کامیاب ہونا، ایک قابل تحسین امر ہے۔ اگرچہ بھارت کی جانب سے اس کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں اور اندرون ملک سیاسی حالات بھی تناؤ کا شکار ہیں۔ اس سارے منظرنامے میں پاکستان عالمی میڈیا اور حقوق انسانی کے اداروں کی توجہ کشمیریوں پر بھارت کی جانب سے روا رکھے گئے مظالم کی جانب مبذول کروانے میں کامیاب رہا ہے۔

اگر ان حالات میں لائن آف کنڑول کے پار کسی بھی قسم کی مسلح کاروائی ہوتی تو خطے کی صورتحال یکسر تبدیل ہوسکتی تھی۔ اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی تھی کہ بھارت نے ایک بار پھر سرحد پار دہشتگردی کا واویلا مچا دینا تھا اور عالمی حمایت حاصل کرلینا تھی۔ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی حکومت کے مظالم  پر پردہ ڈال دینا تھا اور عالمی دنیا کو مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی اخلاقی حمایت سے محروم کردینا تھا۔ ایسی صورت میں پاکستان کو درپیش مالی مشکلات میں بھی اضافہ ہونا لازمی تھا کیونکہ پاکستان پہلے ہی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

رواں سال خیبرپختونخواہ میں ہونے والی دہشتگردی کی کاروائیوں کا زور ایسے اضلاع میں رہا جو افغان سرحد کے قریب واقع ہیں

اب جبکہ پاکستان کی توجہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی جانب مرکوز ہے، پاکستان میں بر سرپیکار تحریک طالبان کے مسلح جنگجو مغربی سرحد کی جانب کوئی امن دشمن کاروائی انجام دے سکتے تھے تاہم جنگجوؤں کی بکھری ہوئی تنظیمی صورتحال نے انہیں ایسی کسی بھی کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دیا اگرچہ انہوں نے افغانستان کی سرحد سے ملحقہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع میں ایسی کاروائیوں کی کوششیں ضرور کیں۔  خیبرپختونخواہ میں ہونے والی دہشتگرد کاروائیوں کی وضع اور جغرافیائی ترتیب مشاہدہ کی جائے تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ امسال ہونے والی دہشتگردی کی کاروائیوں کا زور ایسے اضلاع میں رہا جو افغان سرحد کے قریب واقع ہیں ان میں باجوڑ، دیر، مہمند اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔ یہ حملے پاکستان میں موجود ان گروہوں کی جانب سے کئے گئے جنہوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور انہیں خیبرپختونخواہ کے سرحدی اور دیگر علاقوں میں اپنے معاونین اور مددگاروں کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب دنیا بھر نام نہاد دولت اسلامیہ کو رواں سال سخت ہزیمت اٹھانی پڑی اگرچہ اس کی جانب سے چند حملے بڑے پیمانے پر کئے گئے جن میں سرفہرست سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہوئے بم حملے تھے۔ سال 2018ء میں خود ساختہ دولت اسلامیہ پاکستان بھر میں 5 بڑے حملے کرنے میں کامیاب رہی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اندازہ تھا کہ یہ گروہ سال 2019ء میں بھی اپنی حملہ کرنے کی استعداد برقرار رکھ سکتا ہے۔ تاہم دولت اسلامیہ نے رواں سال صرف ایک فرقہ وارانہ نوعیت کا دہشتگرد حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ حملہ کوئٹہ کی ہزارہ برادری پر کیا گیا تھا۔ اس دوران دولت اسلامیہ کی جانب سے پاکستان میں بھی اپنی تنظیمی صورت کا اعلان کیا گیا تھا تاہم یہ گروہ کوئی کاروائی کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ دولت اسلامیہ کا ایک اعلیٰ سطحی کمانڈر حافظ بروہی صوبہ سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک کاروائی میں ہلاک ہوا جس کے سبب اس گروہ کو بہت بڑا نقصان پہنچا۔

پاکستان کا داخلی سطح پہ سیکورٹی منظرنامہ اندرونی و بیرونی ہر دو سطح پر درپیش خطرات کے سبب بہت پیچیدہ ہے۔ داخلی سطح پہ خطرات کا باعث بننے والوں میں نہ صرف سخت گیر مذہبی انتہاپسند فرقہ ورانہ گروہ شامل ہیں بلکہ وہ گروہ بھی اس خطرے کا سبب ہیں جو سماج میں مذہبی طور پر عدم برداشت پھیلاتے ہیں۔ موخر الذکر اس لئے بھی ایک مختلف طرح کا چیلنج دیتے ہیں کہ ایسے گروہ اپنے مددگاروں کے ذریعے بڑی سطح پہ ایسی صورتحال پیدا کردیتے ہیں جس کے سبب نہ صرف ملکی معیشت  کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے اور ملکی شبیہہ عالمی سطح پہ داغدار ہوجاتی ہے۔ اب جبکہ ملک 2020ء میں داخل ہورہا ہے ہماری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ابھی تک بھی ایسے گروہوں سے نمٹنے کے لئے ایک موثر ردعمل اور صلاحیتوں کے مظاہرے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ: رونامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...