اگر بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں !

163

ہم نے اختلاف کی قدر نہیں کی، کتنی اہم شخصیات کو دیس نکالا دیا یا موت کے گھاٹ اُتار دیا، آج معاشرہ تنگ سوچ اور کم ظرفوں کے نرغے میں ہے

محترمہ بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو شہید کی گئیں۔ جس وقت ان کی شہادت ہوئی، میں اپنے عزیز کے ساتھ گھر میں بیٹھا مختلف مسائل و معاملات پہ گفتگو کر رہا تھا۔ اچانک بے نظیر بھٹو کے قافلہ میں دھماکہ کی خبر آئی، پھر اُن کے زخمی ہونے اُس کے بعد ان کی شہادت کی خبر آگئی۔ اس سانحہ کے بعد، صرف انسانوں پہ ہی نہیں پورے ملک میں سوگ کی کیفیت طاری تھی۔ ہر طرف ہُو کا عالٙم تھا، میں نے اپنی زندگی میں کسی بڑے حادثے پہ اس طرح کبھی ہر فرد کو غم میں ڈوبے ہوئے نہیں دیکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ہر شخص نے غم کی چادر اوڑھی ہوئی ہے۔

ایک انسان کی ذہنی پختگی، تجربہ کاری اور فکری سطح کو بلند ہونے میں ایک زمانہ درکار ہوتا ہے۔ وہ سیاست دان ہو یا بزنس مین، عالِم دین ہو یا سوشل سائنٹسٹ، اس کے فکری سفر کا آغاز ابہام و شکوک سے ہوتا ہے۔ مسلسل جستجو، مطالعہ، پیدا کردہ سوالات اور ان کے جوابات پر غور و فکر سے وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کی خدمت کر سکے اور طالبانِ علم اُس سے استفادہ کر سکیں۔ یہ اُس قوم کی بد قسمتی ہوتی ہے کہ علم و فن کے عروج کے وقت اس شخصیت کے جانے کا وقت آجائے۔

گزشتہ سالوں میں ہم نے ایسے بہت سے لوگ  کھوئے ہیں جنہوں نے بہت محنت سے اپنے اپنے شعبوں میں نام کمایا، اپنے علم و فن کی بلندی پہ پہنچے اور انہیں ہم سے چھین لیا گیا۔ اعلیٰ ڈاکٹرز (جن میں سپیشلسٹ اور سرجنز بھی شامل تھے) پروفیسرز (جن کی یونیورسٹیز میں پڑھاتے عمر گزری) جامعات کے شیوخ الحدیث اور جید اساتذہ، ماہرین تعلیم، سائنسدان اور سیاستدان جو بلا تفریق پوری قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں، ایسے افراد کو دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ وہ تاجر طبقہ جس سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے اس کے ساتھ فرقہ و سیاست کی بنیاد پہ  بیمانہ سلوک کیا جاتارہا۔ کامیاب بزنس مین کو قتل کردیا گیا یا وہ موت کے خوف سے ملک چھوڑ کر چلےگئے۔ ایسے حالات میں معاشرہ زوال و افتراق سے کیسے بچ سکتا ہے جس کے ’موتیوں‘ کو یوں ناقدری سے رول دیا جائے۔ گلستاں کا وجود سایہ دار درختوں سے ہوتا ہے۔ اگر درختوں کو ان کی شاخوں  پتوں، پھولوں سے محروم کر دیا جائے تو تصور کیجئیے! ایسے گلستان کا انجام کیا ہو گا۔

ہمارے ملک میں یہی سلوک  قابل ترین افراد سے کیا گیا ہے۔ ہم نے اختلاف کرنے والوں اور مختلف سوچ رکھنے والوں کا قتل کیا ہے۔ ان کے اختلاف کی قدر نہیں کی۔ مہان لوگوں کے قتل اور ان کے چلے جانے کا نتیجہ ہے کہ اب ہم ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جن کا اپنے شعبے میں قد کاٹھ ’بونوں‘ سے بھی چھوٹا ہے۔ کسی کو دیس سے نکالا اور کسی کو دنیا سے ہی نکال دیا۔ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی کتاب Reconciliation: Islam, Democracy and the West پڑھ کر محترمہ کے علمی اور سیاسی قد کاٹھ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں وہ جمہوریت اور مغرب کے حوالے سے اسلام کا موقف بہت اچھی طرح سمجھتی تھیں۔ اگر آج وہ زندہ ہوتیں ممکن تھا کہ پاکستان آج سے قدرے مختلف ہوتا یا پھر یہ بھی ممکن تھا کہ وہ دوبارہ جیل میں ہوتیں یا پھر جلا وطنی کاٹ رہی ہوتیں، ’’کیونکہ جمہوریت ہے‘‘۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...