عالَم اسلام میں ایک نیا سیکولرزم اُبھر رہا ہے

مصطفیٰ ایکول

393

کئی دہائیوں سے سماجی علوم کے ماہرین اس سوال سے نبرد آزما ہیں کہ کیا دنیا کا دوسرا بڑا مذہب اسلام اسی طرح کی انقلابی تبدیلی سے گزرے گا جس طرح کی انقلابی تبدیلی دنیا کے سب سے بڑے مذہب مسیحیت میں رونما ہوئی: یعنی سیکولرپسندی۔ کیا اسلام بھی اپنے ماننے والوں کی سماجی زندگیوں پر اپنا اختیار کھو دے گا؟ اور مسلم سماج میں بجائے ایک فیصلہ کن قوت کی حیثیت کے دیگر اٹھنے والی عام آوازوں کی مانند ایک رائے کی صورت میں باقی رہ جائے گا؟

کئی مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ نہیں، ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اسلام بہت جامد ہے اور اس میں سیکولر تصورات کو قبول کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ بہت سے مسلمان بھی اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں مگر وہ یہ کہتے ہوئے فخریہ انداز سے کہتے ہیں کہ اسلام سیکولرزم کی راہ میں مزاحم رہے گا کیونکہ ہمارا سچا عقیدہ کبھی بھی غلطیوں کے احتمالات سے پُر لادین مغرب کے رستے پر چلنے والا نہیں ہے۔

1970ء کی دہائی سے اب تک اسلام ازم کی اٹھان (اسلام کی بہت زیادہ حد تک  سیاسی تشریحاتی شکل) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام سیکولر تصورات کی راہ میں بہت حد تک مزاحمت کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم دنیا کے نامور مفکر شادی حامد جنہیں مذہبیات اور سیاسیات پہ بہت عبور حاصل ہے، نے سال 2016ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’اسلامی استثنائیت‘ میں بھی کیا ہے۔

تاہم انسانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جسے پتھر پہ لکیر سمجھا جائے اور ایسے کئی اشارے موجود ہیں کہ مسلم دنیا میں سیکولرزم کی نئی لہر اٹھ رہی ہے۔

ایسی کچھ نشانیوں کی جانب ’عرب بیرومیٹر’ نے اشارہ کیا ہے، عرب بیرومیٹر محققین کا ایک گروپ ہے جس کا تعلق یونیورسٹی آف پرنسٹن اور یونیورسٹی آف مشی گن سے ہے، ان کا مشاہدہ ہے کہ مسلم دنیا اسلام –ازم اور بعض مقامات پر اسلام سے ہی دور ہورہی ہے۔ اس گروپ سے وابستہ اعداد و شمار اکٹھے کرنے والے محققین نے حال ہی میں اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے چھ اہم ممالک میں مذہبی سیاسی جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں پر اعتماد میں کمی واقع ہوئی ہے اور مسجدوں میں لوگوں کی آمد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

زیادہ تر اسلامی دنیا میں بہت سے مسلمان ان بدکاریوں سے مایوس ہیں جو ان کے مذہب کے نام پر انجام دی گئیں

یہ مان لیتے ہیں کہ یہ رواج کوئی بہت بڑے پیمانے پہ نظر نہیں آتا۔ سال 2013ء میں ہونے والے ایک سروے میں 8 فیصد عربوں نے کہا تھا کہ وہ غیر مذہبی ہیں اور سال 2018ء میں ہونے والے اسی طرح کے سروے میں یہ تعداد بڑھ کر 13 فیصد ہوگئی۔ لہذا خطے کے معاملات پر چند ماہرین مثال کے طور جیسا کہ مصری نژاد برطانوی دانشور ہشام۔اے ہیلر، وہ احتیاط  کا مشورہ دیتے ہیں۔

تاہم اس کے برعکس دیگر بہت سے ماہرین مثال کے طور پر لبنان میں پیدا ہونے والے معروف تجزیہ کار کرل شرو کے مطابق واقعی کچھ خاص ہورہا ہے۔ سیکولرزم کی لہر سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہاں! یہ کسی حد تک  سچ ہے اور آپ اسے بہت سے مقامات پر خاص طور پر خلیجی ممالک میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تبدیلی کا آغاز ہے جسے آتے آتے بہت وقت لگ جائے گا۔‘‘

اس کی وجہ کیا ہے؟ شرو بتاتے ہیں کہ یہ اسلام پسند سیاست کی وجہ سے ہورہا ہے اور مسلم احیاء کے سماجی اور سیاسی مظاہر اس کی وجہ بن رہے ہیں۔ ’’مصر میں اخوان المسلمین سے ہونے والی ناامیدی، دولت اسلامیہ کا خوں آشام عہد، لبنان اور عراق میں فرقہ پرست سیاست سے پیدا ہونے والی بے چینی اور سوڈان کی اسلام پسند آمریت کو بھی اس کی وجوہات میں شامل سمجھیے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا۔

جب آپ عرب دنیا سے باہر نکلتے ہیں اور اس کے ہمسائے میں موجود دو بڑے ممالک ترکی اور ایران کا جائزہ لیتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اسی طرح کی سیکولرزم کی ایک لہر وہاں بھی بڑھ رہی ہے اوروہاں اس کا دائرہ کار وسیع ہے۔

ایران کی مثال لیجئے وہاں مسلم علما گزشتہ 40 سال سے حکومت کررہے ہیں تاہم ابھی تک وہ ایرانی معاشرے کو اسلام پسند بنانے کی اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بلکہ وہاں اس کے برعکس نتائج رونما ہورہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے دانشور نادر ہاشمی نے یہ رائے دی ہے۔ ’’بہت سے ایرانی آج ایک سیکولر، آزاد اور جمہوری ملک میں رہنا پسند کرتے ہیں بخلاف علما کی قیادت میں چلنے والے ایک مذہبی معاشرے کے‘‘۔ بہت سے ایرانی مذہبی حکومت سے تنگ آچکے ہیں اور اب وہ اس کے خلاف بہادری سے سڑکوں پہ نکل آئے ہیں۔

ترکی میں، جوکہ مصنف کا اپنا وطن ہے، وہاں بھی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اسی طرح کی سماجی تبدیلی مگر کسی قدر نرم انداز میں لائی جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ رجب طیب اردگا ن کی قیادت میں ترکی میں موجود اسلام پسند جو کسی زمانے میں پسماندگی کا شکار تھے اب وہاں کی نئی حکمران اشرافیہ بن چکے ہیں۔ اس کے سبب اب وہ اپنا عقیدہ مزید دکھاوے اور اکساہٹ سے بیان کررہے ہیں مگر یہ ہتھکنڈہ ایک طرح سے طاقت کے حصول کے  لئے ان کی ختم نہ ہونے والی ہوس کو چھپانے کا ایک طریقہ بھی ہے۔ لہذا جیسا کہ ترکی میں جنم لینے والے ماہر عمرانیات مجاہد بلیچی نے اپنے مشاہد ے میں بیان کیا ’’آج کے ترکی میں اسلام پسندی عوامی زندگی میں کرپشن اور ناانصافی جیسے رویوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور بہت سے ترک جتنی نفرت اس سے آج کرتے ہیں اتنی پہلے نہیں دیکھی گئی۔‘‘

حالیہ سیکولرزم کی لہر اپنی اصل میں اس سیکولرزم سے بہت مختلف ہے جو ایک صدی پہلے مسلم دنیا پر اتاترک یا رضاشاہ پہلوی جیسی آمرانہ مغرب پسند قیادت نے نافذ کیا تھا۔ اب کی بار یہ خود سماج کے اندر سے ابھر رہا ہے۔ نچلے طبقے سے اعلیٰ درجے کی کی جانب مائل ہے

یہ ناامیدی اسلام پسند ی کے سیاسی ہتھیار سے ہے تاہم یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ  یہ بذات خود اسلام کے بطور مذہب خلاف ہوجائے گی۔ ترکی میں ثانی الذکر احتمال کے واقع ہونے کا امکان بہت بڑھتا جارہا ہے کیونکہ روزمرہ کی مجلسی زندگی میں بہت سے نوجوان یہ بتاتے ہیں کہ وہ الٰہیات کے قائل تو ہیں لیکن وہ کسی مذہب کو نہیں مانتے۔ اردگان کے حامی اسلام پسند اسے اسلام کے لئے سب سے خطرناک خطرے کے طور پر سمجھ رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ اس بڑھتے ہوئے رویے کو بھی ایک مغربی سازش قرار دیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب ان کے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ سیکولرزم کی یہ لہر کہاں تک جائے گی؟ مجھ سے پوچھئے تو میں اس کا جواب مذہب کی زبان سے دے سکتا ہوں۔ واللہ أعلم۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ حالیہ سیکولرزم کی لہر اپنی اصل میں اس سیکولرزم سے بہت مختلف ہے جو ایک صدی پہلے مسلم دنیا پر اتاترک یا رضاشاہ پہلوی جیسی آمرانہ مغرب پسند قیادت نے نافذ کیا تھا۔ ان کی حکمت عملی بااثر طبقے کا ایسا انقلاب تھا جو سماج کے نچلے درجوں تک نفاذ پہ یقین رکھتا تھا اور اسے سماج کی اکثریتی آبادی نے غیر مستند جان کر مسترد کیا تھا۔ تاہم اب کی بار یہ خود سماج کے اندر سے ابھر رہا ہے۔ نچلے طبقے سے اعلیٰ درجے کی کی جانب مائل ہے۔ ان لوگوں کی جانب سے جو مذہب کے نام پر ہونے والی بدکاریوں سے الرجک ہوچکے ہیں۔ اسی لئےمسلم سماج میں سیکولرزم کی یہ ابھرتی ہوئی لہر مجھے مغرب میں روشن خیالی کے عہد کے آغاز کے جیسی لگتی ہے جب یورپی اقوام نے مذہب کے نام پر ہونے والی جنگوں اور ظلم و ستم سے تنگ آکر سیاسی سیکولرزم کو اپنا لیا اور منطق و دانش، آزادی اظہار وفکر، مساوات اور رواداری جیسی اقدار کو اپنا مقصد حیات بنالیا۔

بلاشبہ یہ مثالی تصورات اسلام کے ہم آہنگ ہیں، جیسا کہ جدیدیت پسند مسلمان انیسویں صدی سے کہتے آرہے ہیں اور آج کا تیونس اس کی ایک روشن مثال ہے جس کو دیکھ کر لگتا ہے عرب دنیا میں جدیدت پسندی کی امید کی ایک کرن روشن ہے۔

لیکن اگر مسلم دنیا کے مذہب پسند روایت پرستوں نے اپنی روش نہ بدلی تو بہت ممکن ہے کہ وہ انتہاء پسندی پر بنیاد رکھی ہوئی ایک مذہب مخالف تحریک کا سامنا کریں گے جو ملائیت اور مذہب دونوں سے ٹکرائے گی۔ یہ ایسی ہی بغاوت ہوگی جو فرانس میں کیتھولک چرچ کی کلیسائی طاقت کے خلاف فرانسیسی عوام نے دکھائی تھی۔

اسی لئے اگر اسلام پسند روایت پرست واقعی اسلام کے لئے فکر مند ہیں اور بطور مذہب اس کے مستقبل کے خیرخواہ ہیں بجائے اس کے وہ اس کے نام پر طاقت کے حصول میں دلچسپی لیں انہیں یہ سوچنا چاہیئے کہ وہ ان تمام بدکاریوں کو کیسے ختم کریں جو اسلام کے نام پر دنیا میں خانہ جنگیوں، آمرانہ حکومتوں اور نفرت سے لبریز تعلیمات کی صورت  موجود ہیں۔

اسلام اپنی اصل میں ایسی بہت سی خوبیوں کا حامل ہے جوپوری انسانیت کو متاثر کرسکتی ہیں جیسا کہ ہمدردی، انسانیت، دیانت داری اور خیرات۔ لیکن ان سب خوبیوں کو طاقت کے حصول اور تعصب پر مبنی رویئے نے عرصہ ہا دراز سے زنگ آلود کررکھا ہے۔

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ: نیویارک ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...