آؤ پاکستان بنائیں

414

’’وہ اس گھرانے میں پیدا ہوا تھا جس گھرانے کے کئی افراد دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دیوبندی مدارس میں اہم مناصب پہ فائز تھے، اس کے انتہائی قریبی عزیزوں میں جامعہ علوم الاسلامیہ عربیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے صدر الشریعہ مفتی محمد نعیم بھی شامل ہیں۔

پچھلے سال ماہ فروری کے اوائل میں وزیراعلی ہاؤس کراچی کے قریب دودرجن کے لگ بھگ سماجی کارکن ،ضلع شکارپور میں ایک امام بارگاہ  پر ہونے والے خودکش حملے( جس میں شیعہ مسلک کے تقریبا 65 افراد جاں بحق اوردرجنوں زخمی ہوگئے تھے)کے خلاف 36 گھنٹے تک پرامن احتجاجی دھرنا دئیے ہوئے تھے ۔دھرنے کی سربراہی سماجی کارکنان جبران ناصر، خرم ذکی اورراؤخالدکررہے تھے جن کامطالبہ یہ تھاکہ سانحہ شکارپورکی ایف آئی آراہلسنت والجماعت (پاپندی سے قبل سپاہ صحابہ پاکستان) کے سربراہ کے خلاف درج کی جائے اورتنظیم کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حکومتی رہنماؤں کی اس یقین دہانی پرکہ پہلے مرحلے میں شہربھر سے اہلسنت والجماعت کی وال چاکنگ مٹائی اورجھنڈے اتارے جائیں گے، پردھرناختم کیاگیامگراہلسنت الجماعت کی جانب سے کشمیرڈے کے حوالے سے نکالی جانے والی ریلی کووزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب موڑنے کے اعلان پرسماجی کارکنوں کے اس گروپ نے دوبارہ دھرنا دینے کی کوشش کی جس پرپولیس نے 20 سماجی کارکنوں بشمول جبران ناصر، خرم ذکی اورراؤخالدکوچندگھنٹے کے لئے گرفتارکیاگیا۔

اس بار8 مئی کوبھی اسی جگہ پرایک بارپھردھرنادیاگیاجس میں سماجی کارکنان کے ساتھ ساتھ شیعہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی جواہلسنت والجماعت پرپاپندی کامطالبہ کررہے تھے۔ اس بارجبران ناصردوبارہ دھرنے کی سربراہی کررہے تھے مگراپنے ساتھی خرم ذکی کی لاش کے ساتھ۔

40سالہ سوشل میڈیا پرفعال سماجی کارکن خرم ذکی 7 مئی کی رات کوراؤ خالد اورجہانزیب مارشل کے ہمراہ نارتھ کراچی میں ایک کھلے ہوٹل میں کھانا کھارہے تھے کہ دوموٹرسائیکلوں پرسوارچارمسلح افراد نے ان پراندھادھند فائرنگ کردی جس سے خرم ذکی جاں بحق ،راؤخالد اورجہانزیب مارشل کے ساتھ  ایک راہ گیرزخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ پرگولیوں کے انیس خول ملے ہیں۔

خرم ذکی کا شمارکراچی کی سول سوسائٹی کے سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ ماضی میں صحافت کے پیشے سے بھی منسلک رہ چکے ہیں ۔نجی ٹی وی چینل نیوزون میں انفوٹینمنٹ اورمذہبی پروگراموں سے وابستہ تھے۔ قریبی دوستوں کے مطابق نیوزون میں سعودی حکومت پرتوسیع حرم کے حوالے سے ایک تنقیدی پروگرام نشرکرنے پرانہیں نوکری سے نکال دیاگیاتھا اوران کے خلاف دیوبندی اوراہلحدیث جماعتوں کی جانب سے مہم بھی شروع کی گئی تھی۔

نوکری سے نکالے جانے کے بعد وہ مذہبی انتہاپسندی کے خلاف ایک فعال سماجی کارکن کی حیثیت سے سرگرم ہو گئے اور ساتھ ہی ساتھ ایک ویب سائیٹ Let us Build Pakistan اور سوشل میڈیا پر ایک پیج کے ایڈیٹر بن گئے ۔یہ ویب سائیٹ وقتاً فوقتاً

خرم ذکی کا شمارکراچی کی سول سوسائٹی کے سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ ماضی میں صحافت کے پیشے سے بھی منسلک رہ چکے ہیں ۔نجی ٹی وی چینل نیوزون میں انفوٹینمنٹ اورمذہبی پروگراموں سے وابستہ تھے۔ قریبی دوستوں کے مطابق نیوزون میں سعودی حکومت پرتوسیع حرم کے حوالے سے ایک تنقیدی پروگرام نشرکرنے پرانہیں نوکری سے نکال دیاگیاتھا

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے بلاک کردی جاتی ہے جس کی وجہ حکومتی مخالف اورسخت گیرشیعہ مضامین شائع کیاجانابتائی جاتی ہے۔ویب سائٹ کے لئے باقاعدگی سے لکھنے والے ایک بلاگرعامرحسینی نے اپنے فیس بک اسٹیٹس پرخرم ذکی کے حوالے سے لکھاہے کہ ’’ وہ ایک ایسے بلاگ کا ایڈیٹر تھا جس کی ایڈمن ٹیم میں وہ واحد پاکستان میں رہنے والا رکن تھا جو اپنے اصل نام سے وہاں موجود تھا  اور وہ اس وقت تعمیر پاکستان بلاگ کے مدیر کے طور پہ سامنے آیا تھا جب اس بلاگ پہ خود سول سوسائٹی کے کچھ حلقوں نے یہ اعتراض کرنا شروع کیا تھا کہ اس کے لوگ اپنی اصل شناخت چھپاکر کام کررہے ہیں اور اس بلاگ کے باقی اراکین سے بھی سامنے آنے کا مطالبہ ہوتا رہا‘‘۔

عامرحسینی نے اسی پوسٹ میں لکھاہے کہ ’’وہ اس گھرانے میں پیدا ہوا تھا جس گھرانے کے کئی افراد دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دیوبندی مدارس میں اہم مناصب پہ فائز تھے، اس کے انتہائی قریبی عزیزوں میں جامعہ علوم الاسلامیہ عربیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے صدر الشریعہ مفتی محمد نعیم بھی شامل ہیں۔وہ انتہائی دائیں بازو کی قدامت پرستی سے بتدریج رواداری پہ مبنی صلح کل روایت کی جانب آیا اور اس نے مذہبی اور نسلی فسطائیت کے خلاف جدوجہد شروع کی‘‘۔

خرم ذکی اس وقت مشہورہوئے جب انہوں نے پشاورمیں آرمی پبلک اسکول پرحملے کے خلاف اسلام آباد میں لال مسجدکے باہر جبران ناصراوردیگرکارکنوں کے ہمراہ مولاناعبدالعزیزکے خلاف احتجا ج اورگرفتاری کامطالبہ شروع کیاجہاں مقامی انتظامیہ اورپولیس کی جانب سے منع کرنے کے باوجود احتجاج جاری رکھنے پرخرم ذکی اوران کی اہلیہ اوربیٹی کودیگرکارکنوں کے ہمراہ گرفتارکیاگیا جنہیں بعد میں سوشل میڈیا پربھرپورمہم کے بعد وزیرداخلہ چوھدری نثارکے کہنے پررہاکردیاگیا۔لال مسجدکی انتظامیہ اورشہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے مقامی تھانے میں

ویب سائٹ کے لئے باقاعدگی سے لکھنے والے ایک بلاگرعامرحسینی نے اپنے فیس بک اسٹیٹس پرخرم ذکی کے حوالے سے لکھاہے کہ ’’ وہ ایک ایسے بلاگ کا ایڈیٹر تھا جس کی ایڈمن ٹیم میں وہ واحد پاکستان میں رہنے والا رکن تھا جو اپنے اصل نام سے وہاں موجود تھا

بھی خرم ذکی اورجبران ناصرکے خلاف شکایت درج کی گئی جس میں کہاگیاکہ دونوں حضرات کراچی سے لال مسجدکی انتظامیہ اوراہلسنت اوالجماعت کی قیادت کے خلاف نفرت اورتشددپھیلانے کی غرض سے اسلام آباد آئے ہوئے ہیں۔

خرم ذکی کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سرسید تھانے میں درج کیا گیا جبکہ مقدمے کے متن میں درج ہے کہ دو موٹر سائیکل سوار افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ خرم ذکی کو اسلام آباد کی لال مسجد کے معزول خطیب مولانا عبدالعزیز اور اہلسنت والجماعت کے اورنگزیب فاروقی کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

خرم ذکی کی نماز جنازہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر ادا کی گئی، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔

اس موقع پر مقتول کی اہلیہ نے انکشاف کیا کہ ان کے شوہرکودھمکیاں مل رہی تھیں،خاندان کو اب بھی خطرہ ہے، تحفظات کے باوجود سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ میرے شوہر کو خفیہ اداروں نے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔جنازہ میں شامل خرم ذکی کے قریبی دوستوں نے کہاکہ خرم ذکی سیکیورٹی کے حوالے سے بالکل احتیاط نہیں کرتے تھے اورپورا دن وہ شہرمیں گھومتے پھرتے تھے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...