کوالالمپور سمٹ: سیاسی اسلام کے احیاء کا خواب؟

133

گزشتہ ہفتے چار دنوں پر محیط کوالالمپور سربراہی اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس دوران سمٹ کے اغراض ومقاصد اور اثرات کے حوالے سے کافی گہماگہمی رہی۔ بالخصوص خلیجی ممالک کی جانب سے اس پر تنقید ہوئی۔ اجلاس میں ایرداوان کی طرف سے پاکستان کے شرکت نہ کرنے پر سعودی دباؤ اور دھمکی کا ذکر بھی کیا گیا جس سے پاکستان کی خودمختار خارجہ پالیسی پر ایک بار پھر سوال اٹھے اور وزیراعظم کے فیصلے پر عوام تقسیم کا شکار نظر آئے۔

قطع نظر اس کے کہ پاکستان پر خلیجی ریاستوں کا دباؤ تھا یا اِس بلاک میں رہنے سے اب تک پاکستان کو کیا فائدہ ہوا، بظاہر یہ یہ لگتا ہے کہ کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ اگرچہ یہ رجوع خاص سوچا سمجھا نہیں تھا تاہم یہ اپنے اثرات میں شاید راست اقدام ہے۔

سمٹ کے انعقاد سے قبل جو تأثر دیا گیا وہ مختلف اور غیرجانبداری کا تھا، اس کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کے زمینی مسائل پر غور اور ان کے حل کی جانب اقدام بتایا گیا لیکن جس طرح اس کا انعقاد ہوا اور جو عناصر اس کا محور تھے اس سے یہ تأثر غالب ہوتا ہے کہ یہ بلاک حقیقت میں خلیج مخالف ہی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ نتیجتاََ اس سے عالم اسلام کے زمینی مسائل کے حل کی بجائے سیاسی اسلام کی آئیڈیالوجی کو زیادہ تقویت ملے گی۔ اگرچہ مہاتیر محمد نے اپنی تقریر کی ابتداء میں یہ کہا کہ ’میں مذہب کی بجائے مسلمانوں کے مسائل پر بات کرنا چاہوں گا‘ لیکن اجلاس کی زبان اور اس کا مجموعی حوالہ سیاسی سماجی کی بجائے آئیڈیالوجیکل تھا۔ اس کے علاوہ سمٹ میں کوئی بھی جامع منصوبہ اور عملی سنگ میل بھی نہیں پیش کیا گیا۔ زیادہ تر اتحادِ اُمت کی اہمیت پر زور دیا گیا اور اسلاموفوبیا پر تشویش کا اظہار ہوا۔ البتہ The Perdana Foundation for Civilisational Dialogue کے نام سے دوہزار بیس میں ایک تحقیقی ادارے کے قیام کا اعلان ہوا جس کی سربراہی مہاتیرمحمد، ایردوان کے داماد، قطر کے سابق امیر کی زوجہ سمیت پانچ افراد کریں گے۔

یہ سمٹ چونکہ مسلم ممالک کے مسائل کے حوالے سے انعقادپذیر ہوا اس لیے اس میں مسلم مفکرین اور علما کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کا حصہ بننے والے اور اس کے سرکردہ چہروں کی ایک بڑی تعداد سیاسی اسلام کی تحریکوں و جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں کی تھی جن میں سے بعض انتہائی سخت گیر نظریات کے حامل ہیں۔ 52 ممالک سے مدعو کی جانے والی ساڑھے چار سو شخصیات میں سے 150 کا تعلق اسی نوع سے تھا۔ ان میں اکثریت اخوان المسلمین کی ہے۔ ملائیشیا اگرچہ سیاسی اسلام کی قیادت کا اس طرح گڑھ نہیں ہے لیکن ترکی، قطر اور ایران اس آئیڈیالوجی کے پرچارک ہیں۔ 2013ء کے بعد سے مصر، سوڈان، الجزائر، عراق اور لبنان کی اخوانی قیادت ترکی، قطر اور ملائیشیا منتقل ہوئی ہے اور وہ اپنی فعالیت کے لیے نئے راستوں کی تلاش میں ہے۔

چین پر تنقید کی گئی لیکن بھارت کے کشمیر اور شہریت کے حوالے سے اقدامات پر خاموشی مناسب سمجھی گئی

اخوان سمیت تمام مسلم ممالک کی سخت گیر مذہبی جماعتوں کی اکثریت اس نئے بلاک کی حمایت کررہی تھی۔ اخوان نے اسے باقاعدہ ’’تاریخی موڑ‘‘ قرار دیا۔ رکن ممالک کا سیاسی اسلام کی جانب جھکاؤ یا ایسی جماعتوں کا حمایت کرنا شاید پھر بھی کوئی مسئلہ نہ ہو لیکن پیچیدگی یہ ہے کہ یہ عنصر فعال بھی رہا۔ سمٹ میں مدعو کی جانے والی بعض شخصیات متشدد نظریات کی حامل تھیں۔ مثال کے طور پر ایک موریطانیہ کی شخصیت ولد الددو الشنقیطی تھے جو القاعدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2013ء کے رمضان میں اپنے ملک کے ٹی وی پروگرام میں انتہائی متنازعہ باتیں کیں، جیسے کہ جہادی لڑاکے دشمنوں کے سر کاٹ کر انہیں نیزوں پر اٹھاسکتے ہیں، قیدیوں کو بطور ڈھال استعمال کیا جاسکتا ہے، ضرورت پڑے تو معاہدے کی خلاف ورزی کی جاسکتی ہے، وغیرہ۔ حیران کن طور پہ مجوزہ تحقیقی ادارے کی کمیٹی میں ایک نام ان کا بھی ہے۔ ایک اور شخصیت سوڈانی عبدالحی یوسف ہیں جن کے یوٹیوب پر خطبے دستیاب ہیں۔ انہوں نے 2009ء میں سوڈان کے ہمسائے ملک اریٹیریا میں جہاد کے فرض عین ہونے کا فتویٰ دیا تھا، انہوں نے اپنے ملک میں داعش کے حق میں ایک مظاہرہ بھی نکالا تھا۔ ایک اور شخص علی محمد الصلابی شریک تھے جو القاعدہ سے تعلق رکھتے ہیں یہ سعودیہ، بحرین اور امارات کی دہشت گرد شخصیات کی فہرست میں شامل ہیں۔ اور بھی ایسی متعدد متنازعہ شخصیات اس کا حصہ تھیں۔

یہ درست ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف منظم اقدامات کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ بھی دلچسپ پہلو ہے کہ سمٹ کے تین ملک ایسی کئی آئیڈیالوجیکل مسلح جماعتوں کی سرپرستی کرتے ہیں جو اپنے مذہب ہی کے مخالف گروہ کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اس مسئلے کے حل کو موضوع نہیں بنایا گیا۔ چین پر تنقید کی گئی لیکن بھارت کے کشمیر اور شہریت کے حوالے سے اقدامات پر خاموشی مناسب سمجھی گئی، شاید اس لیے کہ پاکستان شریک نہیں ہوسکا۔

مسلم دنیا کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے متبادل تنظیمیں وجود میں آنی چاہیئں، یہ ناگزیر ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ ایجنڈے میں کسی اور بلاک کی مخالفت نہ رکھیں، نہ کسی متشدد آئیڈیالوجی کو سہارا دیں۔ حالیہ سمٹ کی صورت میں ایک بہتر نئی تنظیم وجود میں لائی جاسکتی تھی لیکن اس کا مجموعی تأثر مثبت وثمرآور نہیں رہا۔ پچھلے سال ایردوان نے بھی ترکی میں اسی طرح کا ایک سمٹ منعقد کرایا تھا لیکن وہ بھی ناکام رہا۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ ملک سب مسلم ملکوں کو برابر حصہ دینے اور انہیں فائدہ پہنچانے کی بجائے اپنے لیے بڑے کردار تلاش کرتے ہیں۔

حالیہ سمٹ کسی واضح نتیجے و منصوبے کو سامنے لائے بغیر روایتی جلسے کی طرح اختتام پذیر ہوگیا۔ اس کی زبان سیاسی سماجی کی بجائے زیادہ تر آئیڈیالوجیکل محسوس کی گئی۔ اس کی اساس ایک گونہ مخالفت کے عنصر پر قائم نظر آئی اور باتوں میں ’’اہانت کی ثقافت‘‘ کا غلبہ۔ یہ خلیج مخالف تھا، امریکا مخالف تھا، یورپ مخالف تھا اور چین مخالف بھی تھا۔ کم ازکم پاکستان کے کے لیے اس کا حصہ بننے میں شاید کوئی فائدہ نہیں تھا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...