محترمہ بےنظیر بھٹو کا پارلیمانی کردار

ظفراللہ خان پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کے سربراہ رہے ہیں اور پارلیمانی تاریخ پر کتاب لکھ رہے ہیں۔

566

محترمہ بینظیر بھٹو کی 30 سالہ جدوجہد جو 1977ء میں شروع ہوئی عزم، ہمت اور وژن کی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ تاہم اِس سفر میں ایک حوالہ اُن کا پارلیمانی کردار ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کا پارلیمانی کردار 1988ء سے لے کر 1999ء تک کم وبیش گیارہ سالوں پر محیط ہے۔ اِس عرصہ کے دوران محترمہ کو دنیا کی کم عمر ترین عالَم اسلام اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہونے کا تاریخی اعزاز نصیب ہوا۔ اس مرحلے میں انہیں دو بار قائدِایوان(وزیراعظم) اور دو بار قائدٍ حزب ِ اختلاف کا کردار نبھانے کا موقع ملا۔ محترمہ بینظیر یھٹو کے بے مثال پارلیمانی کردار پر تحقیق کی جائے تو پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ نیز ان کی پارلیمانی تقاریر ایک الگ کتاب کا موضوع ہیں۔

الیکشن 1988ء جیت کر محترمہ بینظیر بھٹو 30 نومبر 1988ء کو پہلی بار قومی اسمبلی آف پاکستان میں حلف اٹھانے آئیں۔ پارلیمانی روایت ہے کہ حلف اٹھانے کے بعد معززاراکین ’’رول آف ممبر‘‘ پر دستخط کرتے ہیں۔ 1988ء کی اسمبلی کے رول آف ممبر پر سب سے پہلے دستخط محترمہ نے کیے۔ 3 دسمبر 1988ء کو جب ملک معراج خالد سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو محترمہ بینظیر بھٹو نے اسمبلی کے فلور سے اپنے پہلے پارلیمانی کلمات ادا کیے۔ محترمہ کے تاریخی الفاظ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کا جمہوری وژن کیا تھا۔ انہوں نے کہا:

’یہ آپ کی کامیابی نہیں ہے، یہ جمہوریت کی کامیابی ہے۔ ہم اس بات کا احساس رکھتے ہیں کہ سپیکر کا جو کردار ہے وہ خالی ایک پارٹی کے لیے نہیں ہوتا ہے بلکہ پورے ہاؤس کے لیے ہوتا ہے۔‘

’آج ہم نے آپ کو جمہوریت میں پیش کردیا۔ آج سے آپ خالی ہمارے نہیں ہیں، آپ پورے گھر کے ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی جانبداری ماضی میں بھی نہیں کی اور ابھی بھی یہی چاہتے ہیں کہ جو بھی رُولز ہوں، جو بھی ریگولیشنز ہوں، آپ ان کے مطابق چلیں، اور اگر آپ ہماے خلاف بھی فیصلہ دیدیں گے، آپ دیکھیں گے کہ ہمارے اندر برداشت کی قوت ہے۔ آپ قانون کی حفاظت کریں اور آئین کی بالادستی۔‘

بے مثال جدوجہد کے بعد پارلیمانی اداروں اور آئین کی حرمت کا مشن محترمہ کے ان تاریخی الفاظ سے عیاں ہوتا ہے۔

حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کے لیے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا لازوال پارلیمانی کردار رہنمائی کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے

12 دسمبر 1988 کو محترمہ بینظیر بھٹو نے بحیثیتِ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ 237 اراکین کے ایوان میں اُنہیں 148 ووٹ ملے۔ اِس موقع پر ایک مذہبی جماعت کے دو اراکین نے اسلام میں عورت کی حکمرانی کا سوال اُٹھا کر تھوڑی سی تلخی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ تاہم محترمہ نے اپنے خطاب میں صرف اتنا جواب دیا کہ اگر محترمہ فاطمہ جناح مذہبی جماعتوں کی مشترکہ اُمیدوار ہوسکتی ہیں تو آج یہ مسئلہ کیوں؟ محترمہ بینظیر بھٹو کی پارلیمانی تقاریر ادب، تاریخ اور مستقبل کے بارے میں دستوری راہوں پر چلنے کے ترغیبی محاورے سے عبارت ہوتی تھیں۔ اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے اپنی جیت کو عوام کی جدوجہد کی جیت اور خود  کو وفاق پاکستنا کی وزیراعظم قرار دیا۔

محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کے جمہوری اور دستوری ڈھانچہ میں پارلیمنٹ کو سب سے زیادہ ہمیت دیتی تھیں۔ وہ نہ صرف اجلاسوں میں باقاعدگی سے حاضر ہوتیں بلکہ ملکی حالات، خارجہ امور، معاشی صورحال، انسانی حقوق ایسے موضوعات پر کھل کر بات کرتی تھیں۔ 1988ء کی اسمبلی میں اپوزیشن محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد بھی لائی جوکہ ناکام ہوئی۔ اِس موقع پر بھی محترمہ کی گفتگو میں ذاتی دکھ نہ تھے بلکہ پاکستان کی پارلیمانی راہوں پر چل کر عوام کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کی دعوت نمایاں رہی۔ اپنے پہلے دورِ اقتدار میں انہوں نے مارشل لاء ریگولیشن 60 کا خاتمہ کرکے سٹوڈنٹس یوینین بحال کیں۔

6 اگست 1990 کو جب 58(2)b کا اژدھا عوام کی منتخب اسمبلی کو کھا گیا تو بھی محترمہ بینظیر بھٹو کا پارلیمانی سیاست پر اعتماد متزلزل نہیں ہوا۔ 1990ء کے انتخابات کی کہانی سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس کے بعد اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 1990-93ء کی اسمبلی میں محترمہ نے قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر انتہائی مؤثر کردار ادا کیا۔ اِسی دور میں وہ خارجہ امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن بنیں جوکہ تلخیوں کے باوجود پارلیمانی کردار نبھانے کے کلچر کی ابتداء تھی۔ 1993ء میں اسمبلی کی تحلیل اور سپریم کورٹ کے ذراجہ بحالی کے بعد بھی محترمہ کا پارلیمانی کردار قابلِ فخر رہا۔ 15 اکتوبر 1993ء کو وہ ایک بار پھر کامیاب لیڈر کے طور پر قومی اسمبلی میں پہنچیں۔ 19 اکتوبر 1993ء کو جب وہ 217 کے ایوان میں 121 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئیں تو مذہبی جماعتیں ایک بار پھر عورت کی حکمرانی کا سول اٹھارہی تھیں۔ اس عرصہ کے دوران قومی اسمبلی کی عمارت میں حادثاتی طور پہ آگ لگ گئی اور اسمبلی کے اجلاس سٹیٹ بینک بلڈنگ میں ہوئے جہاں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کا آئین بنایا تھا۔ اِس طرح اُس تاریخی ہال میں بھی محترمہ کی آواز گونجی۔ اپنے عہدِ اقتدار میں انہوں نے عوامی مقامات پر کوڑے مارنے کے قانون کا خاتمہ کیا اور انسانی حقوق کی وزارت قائم کی۔ عوام کے حقوق کے لیے قانون سازی ہوئی۔

1997ء کے انتخابات کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک بار پھر قائدحزب اختلاف کا کردار نبھایا۔ جب اُس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسمبلیاں کھانے والے آمرانہ 58(2)b کے خاتمہ کا عزم کیا تو محترمہ نے غیرمشروط حمایت کی۔

محترمہ بینظیر بھٹو نے عالمِ اسلام کی خواتین پارلیمنٹیرین کی کانفرنس کا اہتمام کیا۔ امریکی ایوانِ نمائندگان میں خطاب کے دوران جمہوری ممالک کی انجمن بنانے کا تصور پیش کیا۔ آپ اگر آج پارلیمنٹ ہاؤس جائیں تو وہاں قائدعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کی تاریخی تقریر کا پورا متن آویزاں ہے۔ یہ فیصلہ بھی محترمہ بینظیر کا تھا۔

آج دکھ کی بات یہ ہے کہ ملک کے سیاسی منظرنامے پر پارلیمنٹ کو اس کی آئینی اہمیت نہیں دی جارہی۔ حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کے لیے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا پارلیمانی کردار رہنمائی کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے دو ہی حوالے ہیں:

اول: اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو دستور کی چھاؤں میں پارلیمانی راستے ہیں جو منزلوں تک جائیں گے۔

دوم: اپوزیشن، ذاتی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ متبادل نقطہ نظر ہے۔ پارلیمنٹ میں مل کام کرنا ہی عوام کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتا ہے۔ اس لیے ڈائیلاگ کا دروازہ بند نہیں رکھا جاسکتا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...