بھارت میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی پر جناح ذمہ دار کیوں؟

یاسر لطیف ہمدانی

254

وقت آن پہنچا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے لوگ تاریخ کا مطالعہ اسی طرح سے کریں کہ جس طرح وہ حقیقت میں پیش آئی۔ ہندوستان کے لبرل اور ہندوانتہاء پسند، دونوں ہی کے لیے یہ بہت آسان اور سہل ہے کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کو گالی دیں اور ہر طرح کے جھوٹ اور بہتان ان پر باندھیں کیونکہ وہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بھارت ماتا کو تقسیم کیا۔ حالیہ دنوں میں جب ہندوستان میں حکمران بی جے پی اتحاد ہندوستانی آئین کا تشخص پامال کرتے ہوئے شہریت کے قانون میں آئینی ترمیم کررہا ہے تو کانگرس کے معروف رہنما اور سیکولر لبرل بھارت کا نمائندہ چہرہ سشی تھرور نے بھارتی پارلیمان کے لوک سبھا میں تقریرکرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا شہریت کے قانون میں ترمیمی بل دراصل گاندھی کے نظریات پر جناح کے تصورات کی جیت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ خود سشی تھرور بھی اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ پاکستان میں شہریت کے حصول کے لئے کسی خاص مذہب سے ہونے کا اقرار نامہ بھرنا نہیں پڑتا اگرچہ آج کا پاکستان قائد اعظم کے ہم آہنگ اور جدید پاکستان کے تصور سے کس قدر دور ہی کیوں نہیں چلا آیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح، جن کی سیاسی جدوجہد کا زیادہ تر عرصہ خودمختار اور متحد آزاد ہندوستان کے لئے کوشش کرتے ہوئے گزرا اور انہیں اس مقصد کے لئے کوشش پر ہندو مسلم اتحاد کا سفیر تک کہا گیا، اگر انہوں نے ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا مطالبہ کیا تو اس کے لئے معقول وجوہات موجود تھیں۔ قائداعظم کے سیاسی سفر کی داستان جس میں وہ ایک قوم پرست ہندوستانی سے ہندوستان کی تقسیم پر یقین رکھنے والے مسلمان میں تبدیل ہوئے، اس سفر کا بلاتعصب مطالعہ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

ہمیں اس دوران چند حقائق کو اپنے تصورات میں بہرحال رکھنا ہوگا، مثلاََ کہ قرارداد لاہور جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ سرزمین کا مطالبہ کیا گیا اس میں پاکستان کا نام تک موجود نہیں تھا اور اگر اس قرارد اد کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اس امر کی گنجائش موجود ہے کہ ہندوستان کی دیگر اقوام کے ساتھ معاملہ فہمی اور بات چیت ہوسکتی ہے۔ اس قرارداد کے متن میں موجود مصالحت کی اس گنجائش کا واضح موقع ’’کیبنٹ مشن پلان‘‘ کی صورت میں سامنے آیا۔ اگر اس پر عملدرآمد ہوجاتا تو ہندوستان کی تقسیم رک سکتی تھی۔ کانگرس نے کیبنٹ مشن پلان کی مخالفت میں یہ جواز پیش کیا کہ اس میں ہندوستان کی تقسیم کا ممکنہ اشارہ موجود ہے  اور تقسیم ہند کی بحث 10 سال بعد دوبارہ شروع ہوجائے گی۔ اگرچہ کیبنٹ مشن پلان کی اس شق میں یہ ممکنہ اشارہ موجود تھا مگر اس میں یہ بھی درج تھا کہ ہندوستان میں مختلف اقوام کے مابین مثبت مصالحت ہواور تین جہتی وفاق کی صورت میں ایک متحدہ ہندوستان باقی رہ جائے۔

دوقومی نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے جناح نے واضح کردیا تھا کہ پاکستان کی شہریت کے لیے کوئی مذہبی امتحان نہیں دینا پڑے گا

پاکستان کا قانون شہریت

دوقومی نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے جناح نے واضح کردیا تھا کہ پاکستان کی شہریت کے لیے کوئی مذہبی امتحان نہیں دینا پڑے گا۔ انہوں نے اس کا اظہار گاندھی کے سامنے بارہا کیا اور بہت وضاحت سے بیان کردیا کہ پاکستان میں آباد برادریوں کو یکساں شہری حیثیت حاصل ہوگی ۔ تقسیم ہند کے منصوبے کے اعلان کے ساتھ قائم ہونے والی متحدہ ہندوستان کی آخری عبوری حکومت میں قائد اعظم نے مسلم لیگ کی جانب سے جوگندر ناتھ منڈل کو نمائندگی کرنے کے لئے کہا ۔ آزادی کے بعد جوگندر ناتھ منڈل پاکستانی آئین ساز کمیٹی کے سربراہ بنے اور انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی ۔ انہیں ہی پاکستان کا پہلا وزیر قانون بنایا گیا۔ قائد اعظم نے 11 اگست 1947 کو پاکستان کی مجلس قانون ساز سے خطاب کرتے ہوئے بہت صراحت سے پاکستانی ریاست کے خدوخال بیان کئے۔

’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے، برطانیہ میں حالات، کچھ عرصہ پہلے تک بہت ابتر تھے۔ اس سے کہیں بدتر، جس کا آج ہمیں برصغیر میں سامنا ہے۔ رومن کیتھو لک اور پروٹسٹنٹ فرقوں نے ایک دوسرے کا قتل عام کیا ۔ آج بھی ایسی ریاستیں موجود ہیں جہاں مختلف طبقہ فکر ہونے کی بنیاد پر تعصب برتا جاتا ہے اور پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارا قومی سفر ایسے حالات میں شروع نہیں ہورہا۔ ہم ایسے حالات میں اپنا قومی سفر شروع کررہے ہیں جب کوئی تفریق نہیں ہے۔ کوئی تعصب نہیں ہے۔ کوئی تقسیم نہیں ہے ۔ کسی ذات، نسل ، برادری، نظریئے کی بنیاد پر، ہم اس اصول کے ساتھ اپنا قومی سفر شروع کررہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ایک ریاست کے برابر شہری ہیں۔

برطانیہ کے لوگوں کو وقت کے دھارے میں ان حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا ، انہیں ان ذمہ داریوں اور بوجھوں کو اٹھانا پڑا جو ان کی حکومت نے ان پر لاد رکھا تھا ۔ انہوں نے اس آگ کو مرحلہ وار بجھایا ہے۔ آج آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ برطانوی نظام عدل میں کوئی کیتھولک نہیں ہے اور کوئی پروٹسٹنٹ نہیں ہے ۔آج کیا ہے؟ وہ سب شہری ہیں ۔ تاج برطانیہ کے برابر شہری اور وہ تمام ایک برطانوی قوم کا رکن ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب ہمیں اس اصول کو پیش نظر رکھنا ہوگا ۔ آپ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا۔ یہ میں مذہبی معنوں میں نہیں کہہ رہا کیو نکہ وہ ہر فرد کا ذاتی فیصلہ ہے بلکہ میں یہ سیاسی فہم میں کہہ رہا ہوں کیونکہ ہم سب ایک ریاست کے برابر شہری ہوں گے۔‘‘

قائد اعظم اس معاملے میں بالکل واضح موقف رکھتے تھے کہ پاکستان میں شہریت کے معاملے پر کوئی مذہبی اقرار نامہ نہیں طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے اکتوبر 1947 میں معروف صحافتی جریدے روئٹرز کے نمائندے ڈنکن ہوپر سے بات کرتے ہوئے کہا۔

’’اقلیتیں شہری ہیں۔ اقلیتیں جو ہندوستان یا پاکستان میں رہ رہی ہیں انہیں اپنی اپنی ریاستوں میں شہریت کے لئے کسی خاص مذہب کو ماننے ، کسی خاص عقیدے سے تعلق رکھنے  یا کسی ایک خاص نسل سے ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ میں نے اس امر کا بارہا اظہار کیا ہے خاص طور پر میں نے مجلس قانون ساز کے پہلے اجلاس کی تقریر میں واضح کیا  ہے کہ پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں ہماری شہری ہیں اور انہیں بالکل وہی آئینی حقوق حاصل ہیں جو کسی بھی دوسری برادری کو حاصل ہیں ۔ پاکستان کی ریاستی پالیسی یہی ہونی چاہیئے اور ہمیں وہ تمام کوششیں کرنی چاہیئں جس کے ذریعے ہماری اقلیتیں پاکستان میں خود کو بااعتماد اور محفوظ تصور کریں۔

ہم ان کی وفاداری جانچنے کے لئے کسی اسکول کے امتحان کے جیسا کوئی اہتمام نہیں کریں گے۔ ہمیں پاکستان کے کسی ہندو شہری سے یہ کبھی نہیں پوچھنا کہ اگر جنگ ہوئی تو کیا وہ اپنے دشمن ہندو پہ گولی چلائے گا یا نہیں ؟۔‘‘

جناح اور گاندھی و نہرو کو مقابل لا کر کسی ایک کو فاتح اور دوسرے کی مفتوح بنانا کوئی دانشمندانہ تقابل نہیں ہے۔ جناح نے ایک سیکولر پاکستان کے لئے جدوجہد کی مگر یہ سچ ہے کہ ان کے بعد پاکستان نے ان کے تصور ریاست سے انحراف کرتے ہوئے ایک مذہبی جمہوریہ بننا پسند کرلیا۔ دوسری جانب گاندھی اور نہرو نے ایک اکثریت پسند جمہوریت کے قیام کے لئے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی مگر ان کے تصورات کے برعکس آج کا ہندوستان ایک ہندو راشٹر بننے جا رہاہے

اگرچہ موجودہ پاکستان جناح کے سیکولر تصور ریاست سے مطابقت نہیں رکھتا تاہم پاکستان کا قانون شہریت آج بھی قائد اعظم کے تصور شہریت پہ کھڑا ہے۔یہ بات دلچسپ ہے کہ پاکستانی آئین کے سیکشن 7 کے لئے درج شرائط کو دیکھیں تو یہ ان ہندوؤں اور سکھوں کے لئے بھی پاکستانی شہریت کے دروازے کھول دیتی ہیں جو 1947 میں ہندوستان نقل مکانی کرگئے تھے۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ دعویٰ کرنا کہ بھارت کے قانون شہریت میں ترمیمی بل گاندھی کے تصورات پر جناح کے خیالات کی فتح ہے کہ مکروہ فریب کے سوا کچھ نہیں۔ جب بھی جناح کو بنیاد پرست مذہبی سیاست کا سامنا ہوا تو وہ ہمیں مذہبی بنیاد پر سیاسی تصور کو ماننے کی بجائے اس کی برعکس صورت حال پہ موجود نظر آئے۔

ہندوستان کی تقسیم سے متلق چند حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا ۔ مسلم لیگ کی جدوجہد کا مقصد مسلم اکثریتی صوبوں کی علیحدگی تھا۔ اس کے لئے دوقومی نظریہ ایک معاون دلیل کے طور پر شامل تھا تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ آئین کو تمام برادریوں کی یکساں حمایت حاصل ہو۔ اگرچہ کانگرس نے بظاہر دو قومی نظریئے کی مخالفت کی تاہم بنگال اور پنجاب کو تقسیم کرنے کی ان کی خواہش یہ بیان کرتی ہے کہ دراصل دو قومی نظریئے کی بنیاد پر ان دونوں خطوں کی تقسیم کانگرس کی خواہش تھی۔ اگر ایک جانب جناح سکھوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کررہے تھے کہ پنجاب کو تقسیم نہ کریں تو دوسری جانب کانگرس سکھوں کو یہ کہہ کراکسا رہی تھی کہ مسلم حکمرانی میں رہنا سکھوں کے لئے ایک بھیانک خواب ہوگا۔ اسی طرح تقسیم کے موقع پر ایک تجویز یہ تھی ایک سیکولر، آزاد اور متحد بنگال قائم کیا جائے۔ جناح نے اس تجویز کی بھی حمایت کی۔ اس موقع پر یہ کانگرس تھی جس نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنگال کو تقسیم کرنے کی رائے دی۔

یہ بھی بہت اہم ہے کہ جناح نے ماؤنٹ بیٹن کووضاحت کی کہ بنگالی اور پنجابی پہلے بنگالی اور پنجابی ہیں اور پھر اس کے بعد مسلمان، ہندو یا سکھ ہیں۔ جناح کے لئے دوقومی نظریے کا تصور ایک سیاسی تصور تھا وہ اس کو مذہبی عقائد کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ اسی سبب انہوں نے پاکستان کی شہریت کو کبھی بھی مذہبی عقیدے کی رو سے مشروط نہیں کیا۔

جناح اور گاندھی و نہرو کو مقابل لا کر کسی ایک کو فاتح اور دوسرے کی مفتوح بنانا کوئی دانشمندانہ تقابل نہیں ہے۔ جناح نے ایک سیکولر پاکستان کے لئے جدوجہد کی مگر یہ سچ ہے کہ ان کے بعد پاکستان نے ان کے تصور ریاست سے انحراف کرتے ہوئے ایک مذہبی جمہوریہ بننا پسند کرلیا۔ دوسری جانب گاندھی اور نہرو نے ایک اکثریت پسند جمہوریت کے قیام کے لئے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی مگر ان کے تصورات کے برعکس آج کا ہندوستان ایک ہندو راشٹر بننے جا رہاہے۔

سشی تھرور اور برکھا دت جیسے ہندوستانی لبرلز کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ جناح اور پاکستان کو اپنے داخلی تضادات اور انتشار میں گھیسٹنا بند کردیں۔ اس سے زیادہ مناسب صورت یہ ہے کہ وہ سرحد کے اس جانب پاکستان کے جمہوریت پسند لبرلز کو اپنا حامی بنائیں نہ کہ یہ راگ الاپتے رہیں کہ ہمارا دیش آپ سے عظیم تر ہے اور اسی انا میں پڑے رہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ بی جے پی کا لایا ہوا قانون شہریت میں ترمیمی بل جناح کے تصورات کے یکسر منافی ہے چاہے آپ ان کی زندگی کے اس دور کا مطالعہ کرلیں جب وہ کانگرس میں تھے اور ہندو-مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے یا جب وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان کے قائد اعظم تھے۔ وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کے عوام یہ سمجھ لیں کہ گاندھی اور جناح بھی انسان تھے اور سیاستدان تھے۔ سیاستدانوں سے غلطیاں ضرور ہوتی ہیں اور جناح اور گاندھی نے بھی کئی غلطیاں کی ہوں گی مگر ان کی زندگیاں اور سیاسی جدوجہد انسانیت اور سماجی مساوات کے لئے تھی۔ جناح اور گاندھی کے وارثین پر لازم ہے کہ وہ مذہبی انتہاء پسندی، فرقہ وارانہ نفرت اور سماجی تعصب کے خلاف سرحد کے دونوں جانب اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔

یاسر لطیف ہمدانی پنجاب ہائی کورٹ لاہور میں وکیل ہیں اور قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی پر ایک کتاب کے مصنف ہیں۔ ان کا یہ مضمون  معروف بھارتی جریدے ’’دی پرنٹ‘‘ میں شائع ہوا۔

مترجم: شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...