جنید حفیظ اور توہین کا مقدمہ

انگریزی روزنامہ ڈان کا اداریہ معمولی ردو بدل کے ساتھ

254

یہ کوئی چھ طویل سالوں سے زیادہ عرصہ ہوچلا ہے کہ جب سے ایک فطین استاد جس کا نام جنید حفیظ ہے ملتان کی سنٹرل جیل میں قید تنہائی کاٹ رہا ہے۔ راجن پور کے رہائشی جنید حفیظ نے فل برائٹ اسکالر شپ پر امریکہ سے اعلیٰ تعلیم کے بعد وطن واپس آکر ملتان شہر میں بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے طلبہ کو ان بڑے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے پڑھانے کا فیصلہ کیا جو دنیا کو سال 2011ء میں درپیش تھے۔

جنید کو شاعری، نثر اور ڈرامہ نگاری میں بہت دلچسپی تھی اور وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ ان دلچسپیوں کو اپنے طلبہ کے اذہان میں منتقل کریں۔ تاہم وہ اپنی اس کوشش کو زیادہ عرصہ تک باقی نہ رکھ سکے کیونکہ سال 2013 میں مبینہ طور پر انہیں پاکستان پینل کوڈ کے آرٹیکل 295-سی کے تحت توہین کے ایک مقدمے میں ملزم ٹھہرایا گیا۔ پہلے پہل ان کے لیے کسی وکیل کا بندوبست کیا جانا ممکن نہ ہوسکا چونکہ ان کی وکالت کے لئے حامی بھرنے پر وکلاء کو دھمکیوں کا سامنا رہتا تھا تاہم ملتان کے ہی رہائشی حقوق انسانی کے نامور علمبردار اور ہومین رائٹس کمیشن آف پاکستان سے وابستہ  راشد رحمان نے ان کی وکالت کے لیے رضامندی ظاہر کی۔ راشد رحمان نے اس مقدمے میں ان کی مدعیت میں ایک بار عدالت پیش ہوئے جہاں انہیں مخالف وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ آپ شائد آئندہ پیشی پہ نہ پہنچ سکیں۔ ان کے وکیل کی یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور راشد رحمان 7 مئی 2014 کو اپنے دفتر میں نامعلوم حملہ آوروں کی 6 گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

ان کے قتل پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ’’استغاثہ نے یہ دھمکیاں اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج کے سامنے دی تھیں لیکن اُنھوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا‘‘۔

یہ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ توہین مذہب کے قوانین کو اپنی پیشہ ورانہ رنجشوں اور ذاتی نفرتوں کے لیے، خاص طور پر سماج کے کمزور طبقات کے خلاف  استعمال نہیں کیا جائے گا

اسی دوران راشد رحمان کے قتل کے بعد ملتان میں مقامی وکلا کو کچھ پمفلٹ بھیجے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ راشد رحمان نے توہین مذہب کے ایک ملزم کو بچانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ اس پمفلٹ میں وکلا کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لیں۔

خوف کے اس ماحول میں جنید حفیظ کے لیے منصفانہ ٹرائل ممکن نہیں ہوسکا۔ ان کے والدین نے سابقہ چیف جسٹس سے ایک خط کے ذریعے اپیل کی کہ وہ اس مقدمے کو اپنے نوٹس میں لیں اور اس کی شنوائی کریں کیونکہ 6 سال سے زائد عرصے کے دوران ایک مختصر سے تاریک سیل میں رہتے ہوئے ان کے بیٹے کی ذہنی و جسمانی حالت مسلسل بگڑرہی تھی۔ لاہور میں قائم ایک تحقیقی ادارے سنٹر فار سوشل جسٹس کی جانب سے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 1987 سے لے سال 2017 تک 1500 کے لگ بھگ افراد پر توہین کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔

اگرچہ ریاست کی جانب سے ابھی تک ایسے مقدمے میں ملوث کسی بھی شخص کے لیے موت کی سزا پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تاہم ایسے بہت سے واقعات رونما ہوچکے ہیں جس میں عام لوگوں نے غصے اور طیش میں آکر اس شخص کو قتل کردیا جس پر توہین کا الزام لگایا گیا۔ اس لیے جنید حفیظ کی جان جیل کے اندر بھی محفوظ نہیں کیونکہ مبینہ طور پر ایسا گمان ہے کہ کوئی اور قیدی  بھی طیش میں آکر ان کی جان لے سکتا ہے۔

رواں ہفتے ملتان کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت نے جنید حفیظ کو توہین کے اس مقدمے میں سزائے موت سنائی ہے۔ ان کی زندگی کی کہانی جو کہ ایک مقصد سے شروع ہوئی تھی اب ایک اور جانب گامزن ہے۔ تاہم یہ ابھی تک بھی ختم نہیں ہوئی۔ ان کے وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کے لیے اعلیٰ عدالت میں شنوائی کی درخواست دائر کریں گے۔ ماضی میں بھی اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے ایسے مقدمات میں ذیلی عدالتوں کے فیصلے تبدیل کیے گئے ہیں۔ اس کی  ایک مشہور مثال آسیہ بی بی کا کیس تھا جسے شیخوپورہ کی ضلعی عدالت نے موت کی سزا سنائی مگر سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے یہ حکم سنایا کہ آسیہ بی بی پر توہین کا الزام ثابت نہیں ہوتا اور انہیں بری کیا جائے۔

امکان ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں اس مقدمے کا فیصلہ بھی تبدیل ہوجائے گا۔ یہ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ توہین مذہب کے قوانین کو اپنی پیشہ ورانہ رنجشوں اور ذاتی نفرتوں کے لیے، خاص طور پر سماج کے کمزور طبقات کے خلاف  استعمال نہیں کیا جائے گا۔

مترجم: شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...