غربت کیسے ختم ہوتی ہے؟

ابھیجیت بینرجی، ایستھر ڈفلو

195

امیر ممالک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے باوجود ماضی قریب کے چند عشرے دنیا کے غریب افراد کے حق میں بہتر ثابت ہوئے ہیں۔ 1980ء سے 2016ء کے درمیانی عرصے میں نچلے طبقے کی آمدن میں پچاس فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ طبقہ کُل عالمی شرح پیداوار کے 12 فیصد پر ملکیت رکھتا ہے۔ آبادی کا وہ حصہ جو یومیہ 1.90 ڈالر کماتا تھا 1990ء سے اب تک اس کی تعداد میں تقریباََ نصف تک کی کمی واقع ہوئی ہے، اس کی تعداد پہلے دو ارب تھی جو گھٹ کر 700 ملین تک آچکی ہے۔ انسانی تاریخ میں غربت کی شرح میں اس حد تک تیزی کے ساتھ کمی پہلے کبھی محسوس نہیں کی گئی۔

بشمول غریب طبقے کے، مجموعی طور پہ لوگوں کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ پوری دنیا میں 1990ء سے حاملہ ماؤں کی اموات کا تناسب آدھا کم ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک سو ملین سے زائد بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ سوائے ان ملکوں کے جن کا سماجی ڈھانچہ بری طرح متأثر ہے باقی ہر جگہ بچوں اور بچیوں کو پرائمری سکول کی تعلیم تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ رواں صدی کی ابتداء تک ایچ آئی وی اور ایڈز کی بیماریوں کے حوالے سے نااُمیدی چھاگئی تھی کہ یہ بالکل ناقابل علاج ہیں لیکن اب یہ خطرہ ویسا نہیں رہا۔

ان تمام اشاریوں میں حوصلہ افزا علامات کا مطلب مجموعی شرح پیداوار میں نمو کا رجحان ہے۔ لوگوں کی اقتصادی بہبود اور قومی مجموعی پیداوار میں ارتقائی عمل نے حکومتوں کے لیے یہ مواقع پیدا کیے ہیں کہ وہ سکولوں، ہسپتالوں اور دوائیوں کی شعبے میں خرچ کرسکیں اور غریبوں کو تعاون کی فراہمی ممکن بنائیں۔ غربت میں سب سے زیادہ کمی لانے والے ممالک چین اور بھارت ہیں جہاں معیشت تیزی کے ساتھ اٹھان پکڑتی نظر آتی رہی ہے۔ تاہم اب ان دونوں ملکوں میں مجموعی قومی پیداواری شرح کا پہیہ قدرے آہستہ ہوا ہے۔ اس کے کچھ اسباب ہیں جن کے متعلق فکرمند ہونا چاہیے۔ کیا چین اور بھارت اس تنزلی کو روک سکتے ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی ایسا قابل عمل منصوبہ ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر ممالک کی حکومتیں بھی اپنے لاکھوں غریب شہریوں کو غربت کی دلدل سے باہر نکال سکیں؟

ماہرینِ اقتصادیات خوشحالی اور غربت کے عقدوں کو سمجھنے کے لیے سخت تگ دو اور تحقیق کرتے ہیں لیکن درست یہ ہے کہ وہ اب تک کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچے کہ بعض معیشتیں گروتھ کیوں کرتی ہیں اور بعض سکڑ کر کیوں رہ جاتی ہیں۔ ترقی اور پیداوار کا کوئی ایک لگا بندھا فامولہ موجود نہیں ہے۔ البتہ ایک عام حقیقت یہ ہے کہ تیزرفتار معیشتیں ایک خاص پیداواری منہج کو زبردست طریقے سے استعمال کرتی ہیں جو شروع میں سُودمند ہوتا ہے لیکن ایک وقت کے بعد وہ منہج بے اثر ہوجاتا ہے جس کے بعد حکومتوں کو غربت کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے۔

پیداوار بڑھانے کے حقیقی ذرائع

اگرچہ مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں اضافہ غربت کو کم کرنے کا موجب بنتا ہے لیکن ’پیداوار میں تیزی لاؤ‘ یا حتیٰ کہ ’پیداواری عمل میں تسلسل رکھو‘ جیسے نعرے حتمی امکانی پالیسی سے زیادہ اُمید اور حوصلہ بڑھانے کا وسیلہ ہیں۔ 80 اور 90 کی دہائیوں میں معیشت دان بین الممالک شرحِ نمو میں موازنہ کرتے تھے جس کے اندر مختلف امور میں اعدادوشمار کا تجزیہ کرتے۔ وہ تعلیم، سرمایہ کاری، کرپشن، عدم مساوات، ثقافت، سمندر سے فاصلہ وغیرہ جیسے عوامل کا مطالعہ کرتے تھے تاکہ انہیں علم ہوسکے کہ پیداوار کو بڑھانے والا یا اس پر منفی اثرانداز ہونے والا عنصر کونسا ہوتا ہے۔ یہ مشق شرحِ نمو کو بڑھانے میں اُمید پیدا کرتی تھی۔

تاہم اس نوع کی تحقیق میں دو طرح کے مسائل تھے۔ ایک تو جس کی طرف معیشت دان ولیم ایسٹرلی نے اشارہ کیا ہے کہ ایک عشرے سے دوسرے عشرے میں سرعت کے ساتھ ملک کی شرحِ پیداوار میں تغیر واقع ہوجاتا ہے حالانکہ اس دوران پیداواری منہج یا کسی اور حوالے سے کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں برازیل عالمی سطح پر ترقی کے اشاریے میں سرفہرست تھا، تاہم 80 کی دہائی سے اگلی دو دہائیوں میں اس کی پیداواری شرح رک گئی، اس کے بعد دوبارہ یہ عمل شروع ہوا۔ رابرٹ لوکس ماڈرن مائیکرو اکنامکس کے بانی شمار ہوتے ہیں، انہوں نے 1988ء میں نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں انہوں نے اس پر حیرانی کا اظہار کیا کہ بھارت کی معاشی نمو سست روی کا شکار کیوں ہوگئی ہے؟ اُس وقت کے حالات میں مصر اور انڈونیشیا کی طرح اس کا پہیہ تیز کیوں نہیں ہے۔ اس کے بعد اگلے تیس سالوں میں بھارت کی اقتصادی ترقی میں بہتری آتی گئی، جبکہ مصر و انڈونیشیا پیچھے ہوتے گئے۔ بنگلہ دیش کا اس کی علیحدگی کے وقت سے مذاق اُڑایا جاتا تھا کہ وہ آگے نہیں بڑھ سکے گا، تاہم وہ 1990ء سے 2015ء تک سالانہ پانچ فیصد کی شرح کے ساتھ ترقی کرتا گیا۔ دوہزار سولہ ، سترہ اور اٹھارہ میں اس کی شرحِ نمو سات فیصد ہوگئی اور وہ دنیا کی ترقی کرتی بہترین بیس معاشی طاقتوں میں شامل ہوگیا۔ ان تمام کیسز میں پیداواری اٹھان یا تنزلی کے کوئی لگے بندھے ٹھوس اسباب نظر نہیں آتے۔

قومی پیداوار بڑھانے کے ٹھوس اسباب کی تلاش سعیِ لاحاصل ہے

پیداواری اضافے کے ذرائع کا کھوج لگانا ایک معقول کوشش ہے لیکن تقریباََ ہر ملک کی مثال میں وسیلہ نمو جزوی طور پہ مختلف نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پہ تعلیم کو پیداوار کا ایک ذریعہ خیال کیا جاتا ہے، حکومت سکولوں کو چلاتی اور ان پر پیسے خرچ کرتی ہے۔ تاہم جو حکومت اس میدان میں متحرک ہے وہ ممکنہ طور پہ دیگر امور میں بھی بہتر ہوسکتی ہے، جیساکہ سڑکوں کی تعمیر وغیرہ میں۔ اگر اچھی تعلیم دینے والے ممالک میں ترقی کی شرح زیادہ ہے تو اس کا کریڈٹ تعلیمی اداروں کو دینا چاہیے کہ وہ بہترین ورک فورس پیدا کررہے ہیں یا سڑکوں کی تعمیر کو کہ جو تجارت کو آسان بناتی ہیں، یا پھر ان دونوں کے علاوہ کوئی اور چیز اس ترقی کا سبب ہے؟ تصویر کا ایک اور رخ یہ بھی ہے جو اور پیچیدگی کو جنم دیتا ہے، وہ یہ کہ لوگ اس حالت میں بچوں کو تعلیم دلانے کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں جب ملک میں ترقی نظر آرہی ہو، اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ شرحِ نمو تعلیم میں اضافہ کرتی ہے نہ اس کے برعکس۔ خوشحالی کے حصول کا کوئی ایک فارمولہ نہیں ہے۔

اگر ایسا ہے تو پھر پالیسی میکرز کیا کریں؟ اس ضمن میں کچھ چیزیں تو ایسی ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے، جیسے قیمتوں میں مسلسل اضافہ، انتہائی حیثیت میں طے شدہ ایکسچینج ریٹس، کمیونزم چاہے سوویت والا ہو، ماؤ کا یا شمالی کوریائی۔ تجارت کے نجی سیکٹر پر ریاستی قبضے کی کوشش جیساکہ بھارت میں 70 کی دہائی میں ہوتا رہا کہ حکومت نے کشتیوں سے لے کر جوتے کی فیکٹریوں تک پر اپنا تسلط جمایا۔ یہ وہ اقدمات ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے لیکن اب یہ بہت زیادہ مفید نصیحت بھی نہیں کیونکہ آج اس طرح کے اقدامات شاذ ہی ہوتے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کی اکثریت اس میں دلچسپی رکھتی ہے کہ چینی ترقی کے ماڈل کو کیسے اپنایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ چین ایک کھلی مارکیٹ اکانومی ہے لیکن اس کا سرمایہ دارانہ نظام کلاسک اینگلو سیکسن نظم سے قدرے الگ ہے، بلکہ یورپی ڈھانچے سے بھی مختلف ہے، اس میں ریاست کا کردار غالب ہے۔ چین میں قومی اور لوکل سطح پر زمین، سرمائے اور لیبر کے حوالے سے معاملات کا تعین ریاست کرتی ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان سمیت مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں روایتی سرمایہ دارانہ نظام سے ہٹ کر تجربات کیے گئے جو شرحِ نمو میں زبردست اضافے کا ذریعہ بنے۔ ان تمام معیشتوں نے غیرروایتی منہج اپنانے کے بعد غیرمعمولی ترقی کی۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے جو پالیسی اپنائی یہ ان کی مجبوری تھی یا سوچا سمجھا منصوبہ۔ مشرقی ایشیا کی قسمت اچھی تھی یا اس میں کوئی سبق ہے جو سکیھا جاسکتا ہے؟ ان کی معیشت دوسری جنگ عظیم میں تباہ ہوکر رہ گئی تھی، ہوسکتا ہے تیزرفتار پیداوار بحالی کے عمل کا مظاہرہ ہو۔ اس کے علاوہ چینی ترقی کا وہ راز کونسا ہے جسے غریب ملک اپنا کر اپنا مسئلہ حل کرسکتے ہیں؟ کیا انہیں ڈنگ شاؤپنگ کے چین سے شروع کرنا چاہیے جو کمزور اکانومی تھی مگر تعلیم اور صحت عامہ کا عمدہ ڈھانچہ رکھنے والی اور آمدن کی متناسب تقسیم کرتی تھی۔ یا چین کے ثقافتی انقلاب سے ابتدا کی جائے جس میں اشرافیہ کا قبضہ ختم کرکے ہر فرد کے لیے مواقع پیدا کیے گئے۔ اور یا پھر اس کی چار ہزار سالہ تاریخ کے اُمید کے عقدے اور مشرقی خواب کو بنیاد بنایا جائے۔ ان میں سے کسی چیز کو ثابت کرنے کا کوئی حتمی میزان نہیں ہے۔

بہرطور ماہرین یہ قبول کرتے ہیں کہ اقتصادیات میں کوئی ایسا منہج موجود نہیں ہے جس پر غریب ممالک عمل کرکے اپنی پیداوار میں مستقلاََ اضافہ کرتے جائیں۔ 2006ء میں ورلڈ بینک نے معیشت دان مکیل سپینس سے مطالبہ کیا کہ وہ شرحِ نمو پر تشکیل دیے گئے کمیشن کی سربراہی کریں۔ کمیشن نے یہ رپورٹ دی کہ ترقی اور گروتھ کے کوئی طے شدہ اصول نہیں ہیں۔ ولیم ایسٹرلی نے اس کا خلاصہ یوں لکھا ’’دو سال تک تحقیق کی گئی جس میں دنیا کے 21 لیڈرز و ماہرین، ورکنگ گروپ کے 11 ممبر، 300 علمی شخصیات نے حصہ لیا اور اس کمیشن کے زیراہتمام 12 ورکشاپ، 13 مشاورتی اجلاس ہوئے اور منصوبے پر 4 ملین ڈالرز کا خرچ آیا، اس ساری مشق میں شرحِ نمو بڑھانے کے کیا اصول ہیں؟ کا جواب یہ حاصل ہوا کہ: ہم نہیں جانتے، تاہم آپ اس کی جانچ کے لیے اپنے ماہرین پر بھروسہ کریں‘‘۔

تیزرفتار نمو کا دور ختم ہوچکا

ہر ملک کی معیشت میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب پیداوار کا تناسب کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دنیا کی کئی ترقی کرتی معیشتیں اس نکتے پر پہنچ گئی ہیں۔ انہیں اور تمام دنیا کو یہ غیرتسلی بخش سچ قبول کرلینا چاہیے ’تیزرفتار پیداوار کا زمانہ اختتام کو پہنچنے والا ہے‘۔

چین ایک ایسا ملک ہے جس نے اپنے اقتصادی ذرائع کی درست تشخیص کی، بھاری اور نئی سرمایہ کی، دنیا کی بے پناہ مانگ کے پیش نظر اشیاء ایکسپورٹ کیں اور برآمدات کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ لیکن اب اس میں کمی آنے لگی ہے۔ ممکن ہے چین فی کس آمدنی کے لحاظ سے امریکا کے برابر پہنچ جائے تاہم اس کی اقتصادی نمو میں آتی کمی کا مطلب ہے کہ اس نہج تک پہنچنے میں کافی وقت لگے گا۔ یہ ناقابلِ یقین ہے کہ چین کی سالانہ شرحِ پیداوار پانچ فیصد کم ہوگئی ہے، اگر یہ اسی پوائنٹ پر رہتی ہے اور اس کے ساتھ امریکی شرح نمو سالانہ 1.5 فیصد کے ساتھ بھی آگے بڑھتی رہتی ہے تو چین کو فی کس آمدنی میں امریکا کے برابر پہنچنے میں 35 برس کا عرصہ لگ جائے گا۔ چینی حکام کو یہ سچ قبول کرلینا چاہیے کہ تیزرفتار پیداوا وقتی ہے، جیسا کہ وہ حقیقت میں اس کا ادارک رکھتے بھی ہیں۔ دوہزار چودہ میں چینی صدر نے سست رو نمو کو نیونارمل سے تعبیر کیا تھا۔

ایسی ہی صورتحال بھارت میں بنتی نظر آرہی ہے۔ وہاں 2002ء سے صنعتی سیکٹر میں کافی بہتری کے آثار نمایاں ہوئے۔ صنعتکاری کی انڈسٹری میں جدید ٹیکنالوجی کے عنصر نے اسے مہمیز دی۔ معیشت کے میدان کی یہ تبدیلی کسی سیاسی منصوبہ بندی اور پالیسی کے ساتھ نہیں جڑی تھی اس لیے بعض ماہرین نے اسے بھارت کے پراسرار معجزے کے نام سے تعبیر کیا۔ لیکن یہ معجزہ نہیں تھا بلکہ ذرائعِ پیداوار کے حوالے سے درست تشخیص کا نتیجہ تھا۔ بہرحال اس کی باریک توجیہ کے مختلف زاویے ہوسکتے ہیں۔ مثلاََ یہ کہ صنعتکاری کا شعبہ جدید پڑھی لکھی نئی نسل کے ہاتھ میں آیا جو نئے اسالیب اور عالمی مارکیٹ سے واقفیت رکھتی تھی۔ یا چھوٹے چھوٹے منافع کی کثرت نے فیکٹریوں کو بہتر اسالیب کے اختیار میں مدد دی۔ وجہ جو بھی ہو اب اس میں تنزلی آرہی ہے۔ بھارتی اور ایشیا کے بینکوں نےیہ بتایا کہ سال 2019-20 میں بھارتی شرح نمو میں چھ فیصد تک کمی واقع ہوجائے گی اور حقیقت میں ایسا ہورہا ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھارت ’متوسط آمدنی کے جال‘ میں پھنس جائے گا جیساکہ بڑی معیشتیں جب لڑکھڑاتی ہیں تو ایسا ہوجاتا ہے۔ جیساکہ کہ ماہرین پیداوار کے کسی ٹھوس سبب بارے نہیں جانتے اسی طرح وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ بعض ملک متوسط آمدنی کے جال میں کیسے پھنس کر رہ جاتے ہیں جیساکہ میکسیکو کے ساتھ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا جیسے بعض دیگر ملک اس کا شکار نہیں ہوتے۔

عدم مساوات کو نہ بڑھنے دیں

تیزرفتار نمو والی معیشتیں جب لڑکھڑاتی ہیں تو وہ اپنی نمو کے تناسب کو باقی رکھنے کے لیے مستقبل میں بہتر نتائج کے وعدے کے نام پر بعض خطرناک اقدامات کرلیتی ہیں جس کا نقصان غریب طبقے کو ہوتا ہے۔ یہ پالیسیاں یکطرفہ ہوتی ہیں جس میں سراسر فائدہ امراء کو ہوتا ہے اور غریب پس جاتے ہیں۔ جیساکہ امراء کو ٹیکس کی چھوٹ دی جاتی ہے اور تجارتی کمپنیوں کو مالی فوائد مہیا کیے جاتے ہیں۔ امریکا میں رونالڈ ریگن اور برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر کے ادوار میں اس طرح کی سیاسی پالیسیاں اپنائی گئی تھی۔ غریب طبقے کو کہا گیا تھا کہ آپ کچھ وقت کے لیے سیٹ بیلٹ باندھ لیں، امراء کو دی جانے والی چھوٹ اور مالی فوائد مستقبل میں ان کے لیے ثمرآور ثابت ہوں گے۔ اس پالیسی سے دونوں ممالک کے غریبوں کو کچھ فائدہ نہیں ہوا، بلکہ الٹا عدم مساوات کی خلیج وسیع ہوگئی۔

جن ممالک میں پیدوار کی رفتار سست ہوتی ہے اور نتیجہ میں عدم مساوات بڑھ رہی ہوتی ہے وہاں سیاست میں پاپولسٹ رہنما ایک معجزاتی حل کی نوید لیے آگے آجاتے ہیں، یہ دعوے میں کامیاب نہیں ہوپاتے اور ملکی حالت وینزویلا کی طرح تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے۔ عالمی بینک کسی وقت میں جس کا پالیسی محور ’سب سے پہلے نمو‘ کا نعرہ تھا، اب اسے یہ ادراک ہوا ہے کہ غریب طبقے کی قربانی کی اساس پر نمو کی بات کرنا غلط سیاسی پالیسی ہے۔ وہ اب عدم مساوات کی خلیج کو کم کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

جی ڈی پی کے اعدادوشمار وسیلہ ہیں، ہدف نہیں

شرحِ نمو چین اور بھارت سمیت دنیا میں ہر جگہ آہستہ ہو رہی ہے اور اس حوالے سے بہت کم ایسے اقدامات ہیں جو اٹھائے جاسکتے ہیں۔ یہ ہوسکتا ہے کہ کسی ملک میں بہتری کے آثار نظر آئیں لیکن اس کی وجہ بارے کچھ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ تاہم اس منظرنامے میں اچھی خبر یہ ہے کہ اگر مجموعی قومی پیداوار حوصلہ افزا نہیں ہے تو ترقی کے دیگر اشاریوں میں کارکردگی کو عمدہ بنایا جاسکتا ہے اور وہ ہے ایسے شعبوں میں خرچ کرنا جن سے براہِ راست معیارِ زندگی میں مثبت علامات نظر آئیں، بالخصوص ان لوگوں پر خرچ کرنا جن سماج میں بالکل نچلی سطح پر زندگی بسر کررہے ہیں۔ معاشی ماہرین کو یاد رکھنا چاہیے کہ جی ڈی پی کے اعدادوشمار ایک وسیلہ ہیں ہدف نہیں۔ خرچ کرنے کے مقامات و ترجیحات میں ذرا سی تبدیلی لائیں۔ ’بہتر معیارِ زندگی‘ کا مطلب صرف زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا نہیں ہے، خصوصاََ غریب طبقے ک لیے یہ اصطلاح ایک اور معنیٰ رکھتی ہے۔ وہ خود کو سماج کا قابل احترام جزو محسوس کرنا چاہتے ہیں، اپنے والدین کی صحت کا خیال رکھنا اور بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ ان کی آواز سنی جائے اور وہ اپنے خوابوں کی طرف سفر کرسکیں۔ بلند اعدادوشمار کی جی ڈی پی غیریبوں کی ان تمام حاجات کو پورا کرسکتی ہے لیکن یہ آخری اور واحد راستہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ سب سے بہترین ہے۔ معیارِ زندگی متوسط آمدنی کے حساب سے ہر ملک کا الگ ہوتا ہے تاہم اس پر ہر حالت میں توجہ مرکوز کی جاسکتی ہے۔

یہ آئیڈیا حیران کن نہیں ہے۔ حالیہ چند عشروں میں جن ممالک میں زبردست کامیابیاں حاصل کی گئیں وہ جی ڈی پی کے بلند اعدادوشمار کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ انہوں نےمخصوص شعبوں اور خاص سماجی حصوں میں زیادہ توجہ دی۔ ساری دنیا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی وفات میں کمی واقع ہوئی ہے، یہ صرف ان ممالک میں نہیں ہوا جہاں مجموعی قومی پیداوار تیزرفتار تھی بلکہ غریب ملکوں میں میں بھی یہ بہتری نظر آئی۔ اس کا کریڈٹ پالیسی میکرز کو جاتا ہے جنہوں نے نومولود بچوں پر خرچ کیا، ان کی خواراک کی فراہمی اور انہیں ملیریا ویکسین پلانے کے اہتمام کو ترجیح دی۔ معیارِ زندگی کو بہتر کرنے والے دیگر عوامل کے حوالے سے بھی یہی اپروچ اپنائی جاسکتی ہے جن سے عام آدمی کے بنیادی مسائل کے حل میں سہولت ملے، جیسے تعلیم، صحت اور سکلز کی تعلیم وغیرہ۔

کوئی یہ نسخہ تو نہیں جانتا ہے کہ کینیا کو جنوبی کوریا میں کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے تاہم ہمیں یہ تجربہ ہوا کہ ملیریا میں کمی لانے کا یہ اچھا ذریعہ ہے کہ غریب آبادیوں اور بستیوں میں مچھردانیاں مفت تقسیم کی جائیں۔ دوہزار چودہ سے سولہ کے درمیان پوری دنیا میں 582 ملین مچھردانیاں مفت تقسیم کی گئیں اور اس کے ساتھ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ کیا گیا۔

خلاصہ یہ کہ اگر ممالک کی مجموعی پیداوا کے اشاریے بہت اچھے نہیں تو پھر بھی ایسے راستے موجود ہیں جن میں توجہ دی جائے تو معیارِزندگی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ جو بچے مہلک امراض سے مرجاتے ہیں، جن سکولوں میں اساتذہ حاضر نہیں ہوتے، عدالتیں جو انصاف کی راہ میں مشکلات حائل کرتی اور مایوسی جنم دیتی ہیں، یہ تمام معاملات ایسے ہیں جو زندگی کو خراب اور بدتر بناتے ہیں، اور تخلیقی عمل کو دبانے کا ذریعہ بنتے ہیں، اگر ان کو ٹھیک کرلیا جائے تو مجموعی قومی پیداوار تو شاید بلند نہ لیکن اس سے شہریوں کی زندگی میں آسانی پیدا کی جاسکتی ہے۔

دنیا کے ان ممالک نے زیادہ جلد ترقی کا زینہ طے کیا اور وہ گلوبلائزیشن کے عمل میں سرفہرست آگئے جو یا تو کیمونسٹ تھے کہ انہوں نے آئیڈیالوجیکل تناظر میں انسانی وسائل پر خوب خرچ کیا، جیساکہ چین اور ویتنام۔ یا پھر وہ ملک تھے جو کمیونزم کے خطرے سے بچنے کے لیے انہوں نے ایسی پالیسی اپنائی، جیسے جنوبی کوریا اور تائیوان کی مثال۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے ذرائع پر زیادہ توجہ صرف کریں۔ جیساکہ تعلیم اور صحت عامہ کا شعبہ، عدالتوں اور بینکوں کو بہتر و فعال بنانا، سڑکوں کی تعمیر اور ایسے شہروں کی تاسیس جہاں زندگی آسان ہو۔ اگر ترقی کا معجزاتی پہیہ تیز نہیں ہیں تو لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے جی ڈی پی کے اعدادوشمار کو بلند کرنے میں ساری توجہ لگانے کی بجائے ان دیگر اشاریوں پر توجہ مرکوز رکھی جائے جن سے یہی مقصود حاصل کیا جاسکتا ہے۔ غریب طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کو ترجیح دی جائے۔

ترجمہ وتلخیص: شفیق منصور، بشکریہ: فارن افیئرز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...