ہم ایسے تو نہ تھے

289

پاکستانی سماج کو کیا ہوگیا ہے؟ جسے دیکھو وہی نفرت کے نصاب کی مجسم تصویر بنتا جا رہا ہے۔ ہاتھوں میں پتھر، تیزابی لہجے اور سوچ کا فقدان۔ المختصر فکری افلاس اور تدبر کے قحط کا زمانہ لگتا ہے۔

ویسے تو ہجو اور قصیدہ ہمارے ادب کی عرصہ سے معروف اصناف ہیں۔ ہجو اپوزیشن کا بیانیہ ہے تو قصیدہ دربارِ شاہی کی شان وشوکت کا اظہاریہ۔ بھلا ہو 24/7 ٹیلی ویژن کا کہ دونوں دبستانوں کے معروف ہمنوا کھل کر ہمارے سامنے ہیں۔ جو کہیں بھی نہیں وہ تجاہلِ عارفانہ کا شکار لگتے ہیں۔

اگرچہ سیاست اور سماج میں ’نیوٹرل آدمی‘ کا قائل نہیں، تاہم اختلافِ رائے کو دشمنی کی حدوں تک لے جانے کو بھی قابلِ تحسین نہیں سمجھتا۔ مہذب انداز میں اختلاف رائے نبھانے کا ہنر جاندار سیاسی عمل سکھاتا ہے۔ یہ کام درسگاہوں میں طلبہ یونین کرتی ہے، مزدور یونین معاشی حقوق کی نگہبانی کرتی ہے تو کسانوں کی انجمنیں ان کے مسائل کی گتھیاں سلجھاتی ہیں، خوایتن کی تنظیموں کا کردار بھی اہم ہے، تاجروں کی تنظیمیں بھی اپنا مقام رکھتی ہیں۔ مگرکیا کیا جائے کہ جمہوری کلچر کی یہ ساری نرسریاں تقریباََ ویران ہوچکی ہیں۔ آجکل ایک ہی فقرہ ہے کہ ہر جگہ نفرت کا سپیںڈ بریکر بنا ہوا ہے ’’تم مجھے جانتے نہیں‘‘۔ تلخ لمحوں میں یہ بات کہتے ہوئے ہر کوئی اپنے موبائل فون پر اپنے کسی ’ماموں‘ کا فون نمبر ملا رہا ہوتا ہے۔

گویا تضحیک کرنا، ٹھٹھا لگانا، نام بگاڑنا، پھبتی کسنا، طنز کے تیر برسانا عصری ہنر بنتے جارہے ہیں۔ تسلیم کہ انسان حیوانِ ناطق ہے اور اس کی قوتِ گویائی ہی انسانی سماج کی تعمیر کا جزوِ لاینفک ہے، لیکن یہ کیا ہوا کہ ہر ایک کے اندر اپنے اپنے تعصبات کی کیسٹ پھنس سی گئی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ زبان کے زخم باقی سب ہتھیاروں کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہی۔ اگر ہمیں اچھا کلام میسر نہیں، ہمارا ذخیرہ الفاظ محدود ہے اور ہمارے سارے استعارے و محاورے دوسرے کی تذلیل تک محدود ہیں تو شاید ہمیں اشاروں کی زبان تک سمٹ جانا چاہیے۔

 تسلیم کہ انسان حیوانِ ناطق ہے اور اس کی قوتِ گویائی ہی انسانی سماج کی تعمیر کا جزوِ لاینفک ہے، لیکن یہ کیا ہوا کہ ہر ایک کے اندر اپنے اپنے تعصبات کی کیسٹ پھنس سی گئی ہے

میں باقی شعبوں کی بات نہیں کرتا۔ فقط سیاست تک ہی محدود رہ کر اگر بات کی جائے تو یہ ’جیالا‘ ’نرالہ’ ’پٹواری‘ اور ’یوتھیا‘ کب سے ہماری ڈکشنری میں شامل ہوئے ہیں؟ پولیٹیکل کمٹمنٹ تو اعزازکی بات ہے اور وہ بھی اُس زمانے میں جب سیاسی ورکر نایاب نسل ہوچلے اور اب سیاسی مزدوروں کو باقاعدہ نوکری دینی پڑتی ہے، سوشل میڈیا میں یا پھر جلسہ جلوس کے لیے دیہاڑی دار مزدور لینا پڑتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی سرپھرا سیاسی عَلم تھامے ہے تو اس کی قدر کرنی چاہیے، نہ کہ تذلیل۔ پیپلزپارٹی کے جیالے تو ایک نارمل اصطلاح بن چکی ہے۔ اور پی پی کے کئی کارکن اسے قابل فخر بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن پٹواری کا لقب مسلم لیگ نواز اور یوتھیا کا تصور پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں کی پہچان کا تنقیدی حوالہ ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان میں جمہوری کلچر کی نمو کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں۔

سیاسی اختلافِ رائے نظریات کی جنگ تک محدود ہو تو سماج میں متبادل سیاسی راہیں وضع ہوتی ہیں۔ اگر یہ فقط دوسرے کی ہجو اور اپنے قائدین کا قصیدہ بن کر رہ جائے تو وہی ہوتا ہے جو آج پاکستانی سماج میں ہورہا ہے۔ نفرتوں کے اس جنگل میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ماضی میں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے کارکنوں کی تربیت کے لیے سٹڈی سرکل کا انتظام کرتی تھیں، آج یہ روایت دم توڑ چکی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو کم ازکم ایک بیان دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے احترام کی اہمیت پر ضرور دینا چاہیے۔

رہی بات غصے کی آگ میں جلتے غیرسیاسی لوگوں کی تو ہمیں اپنے نصابِ تعلیم میں سِوک ایجوکیشن کو جگہ دینی ہوگی تاکہ سیکھ سکیں کہ سماج میں اختلافات مہذب انداز میں کیسے کیے جاتے ہیں۔ مؤثر سِوک ایجوکیشن ہی ہمیں آئین کی حکمرانی، قانون کی اہمیت اور شائستہ تہذیبی رویے سکھاتی ہے۔

اِس حوالے سے ہر شخص کو یہ بھی احساس کرنا ہوگا کہ سارے انسان ہر ایک کی فوٹو کاپی نہیں ہوتے بلکہ ہم سب اپنی سوچ اور اپنی اپروچ میں منفرد و مختلف ہیں۔ سیکھنے کا ہنر یہ ہے کہ ہم باہم مل جل کر ایک اچھا سماج کیسے بنا سکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...