دینی مدارس کی رجسٹریشن میں کون رکاوٹ ہے؟

651

حکومت پاکستان کا دینی مدارس کے ساتھ مختلف امور میں اختلاف اور بات چیت کا مسئلہ گزشتہ 70 سال سے چل رہا ہے۔ وہ بنیادی مسائل جن پر طویل عرصے سے فریقین کے مابین کے بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے ان میں مدارس  کی رجسٹریشن، نصاب تعلیم، ان کی اسناد، فنڈنگ اور عصری علوم کا پڑھانا وغیرہ شامل رہے ہیں۔ اس طویل تاریخ میں ایک چیز واضح ہے کہ اہل مدارس ہمیشہ حکومت ساتھ تعاون کے لیے تیار رہے ہیں۔

11/9 کے بعد پاکستان کے تناظر میں جو بتدریج تبدیلی کے آثار نمایاں ہوئے ان میں سے ایک دینی مدارس پر بیرونی دباؤ بھی تھا۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں مدارس اس کا ہمیشہ شکار رہے۔ اس دباؤ کا ایک پیرایہ یہ بھی تھا کہ حکومت جبری بنیاد پر چاہتی تھی کہ مدارس مرکزی دھارے میں لائے جائیں اور ان کے مالیاتی نظام کا بھی احتساب کیا جائے۔ حکومتی دعووں میں یہ الزام اس وقت عروج پر تھا کہ کچھ ایسے دینی مدارس ہیں جنہیں بیرونی فنڈنگ ہوتی ہے۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے کچھ اداروں کے اکاؤنٹ سیز بھی کر دیے گئے تھے۔ مگر میری ناقص معلومات کے مطابق  کسی مدرسے یا اس کے وفاق کی بنیاد پر اب تک واضح طور پر کوئی بھی حکومت یہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت میں مدارس کے حوالے سے کچھ ایسی ہی کاروائی عمل میں لائی گئی اور بیرونی دباؤپر مدارس کی رجسٹریشن پر پابندی لگادی  گئی۔ جس کے سبب بے شمار مدارس کے بنک اکاؤنٹ کھلنے سے محروم رہے اور ادارے چلانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ مگر کچھ روشن خیال حلقے یہ کہتے ہیں کہ دینی مدارس کی بیرونی فنڈنگ معاملہ وائٹ کالر کرائم کی طرح پوشیدہ عمل ہے اور چند اہم مدارس میں بنک اکاونٹ  کے بغیر مالیاتی تقسیم کی جاتی رہی ہے۔ ایک الزام یہ بھی صادر کیا جاتا رہا ہے کہ دینی مدارس کا نصاب انتہاپسندی اور نفرت کی جانب  ابھارتا ہے۔ اگر اس دلیل کو مان بھی لیا جائے تو پھر پاکستان میں موجود تمام ہی مکاتب فکر کی 1947 سے لے کر اب تک ہر مسجد کا امام، ہر مدرسہ کا استاد اور ہر طالب علم  دہشت گردی کی تعلیم حاصل کر چکا اور کر رہا ہے۔ گویا ملک میں اس وقت کم و بیش 40 لاکھ طلبہ اور کم وبیش 3 لاکھ اساتذہ دہشت گرد ذہنیت کے موجود ہیں جو کسی آتش فشاں سے کم نہ ہوں گے۔ معاشرے کا ایک معتدل طبقہ ان الزام کی نفی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ایسا ہر گز نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کچھ علاقوں میں دیہی مدارس میں شدت پسندی کا رویہ ایک گونہ ابھرتا نظر آتا ہے جوکہ انفرادی سطح پر ہے، یہ زیادتی ہوگی کہ اس رویے کو نصاب تعلیم سے منسلک کر دیا جائے۔

انفرادی سطح پر شدت پسندی کے مظاہر کو دینی مدارس کے نصاب کے ساتھ جوڑ دینا ناانصافی ہے

2005ء میں حکومتی دباؤ کے سبب پاکستان کے پانچ معروف مکاتب فکر کے مرکزی وفاقات (دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، اہل تشیع اور جماعت اسلامی) کے ذمہ داران کا ایک سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا جو کہ مجموعی طور پر کم و بیش 23 ہزار مدارس کا نمائندہ تھا۔ تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاقات کے درمیان اب تک کوئی ایسا تنازعہ سامنے نہیں آیا ہے جس کے سبب یہ کہا جا سکے کہ ان کے وفاقات میں پالیسی سطح پر نفرتوں کا جال موجود ہے۔ ممکن ہے کہ انتظامی عہدوں پر کہیں کوئی اختلاف موجود ہو مگر ایک دوسرے کے خلاف نظریاتی اور عقائد کی جنگ  نہ ہونا واضح اور مثبت عمل ہے۔

کچھ روشن خیال حلقوں کو یہ خوف لاحق ہےاور اُن کا کسی گردان کی طرح یہ کہنا کہ ان دینی مدارس کا نصاب نئی نسل کو شدت پسندی اور انتہاپسندی کی جانب لے جاتا ہے اور کوئی بھی مکتبہ فکر ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنے نظریاتی دفاع میں کسی دوسرے مکتبہ فکر کو دل سے تسلیم کرے۔ یہ درست نہیں ہے۔ ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے کئی دہشت گردی کے واقعات میں دینی مدارس کے نہیں بلکہ کالج یونیورسٹیز کے طلبہ شامل تھے۔ اور پھر جس طرح پشاور سکول سانحہ(اے پی ایس) کے بعد دینی مدارس کو کوسا گیا اور قومی ایکشن پلان کے ضمن میں مدارس کومرکزی دھارے میں لانے کے لیے جو رجسٹریشن کی تحریک چلائی گئی اس میں بھی حکومت کی کمزور پالیسی ریکارڈ پر ہے اور دوسری جانب دینی مدارس کے ذمہ داران ہمیشہ تعاون کی جانب آمادہ رہے ہیں۔

اہل مدارس کو رجسٹریشن کے حوالے سے ہمیشہ یہ اعتراض رہا ہے کہ ہمیں تختہ مشق نہ بنایا جائے، مدارس رجسٹریشن کا مسئلہ کبھی نیکٹا دیکھتی ہے، کبھی وزارت مذہبی امور، کبھی وزارت تعلیم، کبھی وزیر اعظم کی اسپیشل کمیٹی تو کبھی قومی سلامتی امور کے چیئرمین۔ ایک معاہدہ 2005، دوسرا معاہدہ 2010 اور اب تیسرا معاہدہ اگست 2019 میں طے ہوا ہے۔ کچھوے کی چال میں کچھ معاملات ضرور آگے بڑھے ہیں مگر مکمل نتیجہ اب تک واضح نہیں۔

مدارس کے معاملات حکومتی رویے اور اس کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور کسی ممکنہ حل تک نہیں پہنچ پاتے لیکن الزام مدارس کو دیا جاتا ہے

موجودہ حکومت اگست 2019ء کے معاہدے سے قبل اور اب تک ان معاملات پر کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے اب تک دینی مدارس کے ذمہ داران کے درمیان  کچھ اہم اجلاس  بھی ہوچکے ہیں مگر حکومتی مشینری کا نظام کچھ ایسا بنا ہوا ہے کہ تاخیر کے سبب سارے معاملات اور کاروائی ہی رک جاتی ہے۔ اس تاخیر کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے اس کا سربراہ  گریڈ 22 یا کم از 20 کا افسر لگا دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ اس کی نگرانی میں کام ہوتا ہے مگر پھر اُس کی پوسٹٹنگ کسی دوسری جگہ کر دی جاتی ہے اور معاملہ رک جاتا ہے۔ اب اس سارے عمل میں مدارس کے ذمہ داران  کہاں مجرم ٹھہرتے ہیں؟ یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔

چند ماہ قبل کی بات ہے کہ ایک بہت ہی علم دوست بیوروکریٹ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وزارت تعلیم کی جانب سے مجھے یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ دینی مدارس  کے حوالے سے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ اس کے بعد مجھ سے جہاں تک ممکن ہوا انہیں دینی مدارس کی تاریخ، مسائل اور بالخصوص پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے بارے میں جو بھی تفصیلات میرے ناقص علم تھیں گوش گزارکر دیں۔ بالآخران کی کاوش و محنت سے وزیر تعلیم جناب شفقت محمود صاحب  کی زیر صدارت مدارس کے علمائے کرام کے ساتھ غالباً دو اجلاس منعقد ہوئے جوکہ حکومت اور دینی مدارس کے لیے بھی مثبت پیش رفت کا سبب بنے۔ لیکن صرف چند ماہ ہی  گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان بیوروکریٹ صاحب کا دوسرے شعبہ میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔ اب اس رویے کو حکومت کی عدم دلچسپی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ لیکن پھر گھوم پھر کر حکومتی تان دینی مدارس پر آکر ٹوٹے گی۔

حکومت سےمیری گزارش ہے کہ دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی جو کوشش آپ کی حکومت اور ریاستی ادارے کرنا چاہتے ہیں یا اب تک جو کچھ کر چکے ہیں، ماہ اگست میں حکومت اور وفاقات کے درمیان طے ہونے والا معاہدہ بھی موجود ہے۔ اس پر عملدر آمد کے لیے مستقل بنیاد پر فوری ایک شعبہ قائم کیا جائے (جیسا کہ وزیر تعلیم صاحب کی جانب سے 4 ماہ قبل اعلان بھی ہوا تھا کہ پاکستان کے 12 اضلاع میں مدارس ڈائیریکٹوریٹ بنائے جائیں گے) یہ شعبہ خودمختار بھی ہونا چاہیے، جب تک اس شعبہ کو قانونی حیثیت اور مکمل  اختیار حاصل نہیں ہوگا یہ بھی کمزور رہے گا اور جو بھی حکومت آئے گی وہ اس کی بنیادی پالیسی کو تبدیل کر تی رہے گی۔

اس ضمن میں محترم وزیرتعلیم صاحب کی خدمت میں تجویز پیش ہے کہ اس شعبہ کو قانونی حیثیت دینے میں کوئی رکاوٹ مانع ہو تو پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا آرڈیننس 2001ء جوکہ بطور ایکٹ موجود ہے اُسے اپنا لیا جائے اور جیسا کہ آپ نے مدارس کے امور کو وزارت مذہبی امور سے وزارت تعلیم کو منتقل کرنے کی سمری وزیر اعظم پاکستان سےمنظور کرالی ہے اسے ہی فوری اور قابل عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ (لیکن 6 ماہ بعد بھی اب تک اس ادارے کو آپ کے زیر دست اور ماتحت ذمہ داران وزارت تعلیم میں منتقل کرنے میں سست روی کا شکار ہو رہے ہیں)۔

میرے خیال میں اس ایکٹ پر مزید کام کرنے اور اصلاح کی گنجائش موجود ہے تاکہ ان تمام معاملات پر عملدر آمد کو قانونی حیثیت حاصل ہوسکے اور دینی مدارس کو مرکزی دھارے یعنی وزارت تعلیم کے ساتھ منسلک کرنے کا خواب پورا کیا جا سکے اور قانونی طور پر دینی مدارس کو بھی تعلیم کا شعبہ گردانا جائے۔ مزید یہ کہ  اگر اب بھی حکومت اور مدارس کے درمیان  کسی قسم کا  کوئی ابہام  یا خدشات موجود ہیں توا سے  فوری مذاکرات سے ہی حل کیا جانا ایک بہتر اور مثبت عمل ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...