عام انتخابات اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی

میر غوث بخش بزنجو

543

میر غوث بخش بزنجو پاکستان کے قوم پرست سیاستدانوں میں ایک نمایاں نام ہیں، 1970ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی اُس وقت کے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں واحد اکثریتی پارٹی بن کر ابھری، یہی انتخابات بالآخر پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہوئے۔ میر غوث بخش بزنجو سقوطِ ڈھاکہ کے چشم دید گواہ ہیں۔ اس وقت کے تنازعہ کے تمام فریقوں کے ساتھ وہ مذاکرات میں شامل رہے۔ یہ درست ہے کہ قیام پاکستان سے قبل وہ کانگریس کے ساتھ تھے اور پاکستان بننے کے مخالف تھے، تاہم جب یہ ملک بن گیا تو اس کو متحد رکھنے کی انہوں نے پوری کوشش کی۔ اس کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا اتفاق تھا کہ جو اس ملک کے قیام میں پیش پیش تھے وہ اسے توڑنا چاہتے تھے اور جو اس کے مخالف تھے وہ اسے قائم رکھنا چاہتے تھے۔ پاکستان کیسے ٹوٹا؟ اس کا جواب میر غوث بخش کی گواہی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ زیر  نظر مضمون ان کی آپ بیتی سے لیا گیا ہے جسے کراچی یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈی سینٹر نے 2009ء میں In Search of Solutions کے نام سے شائع کیا۔

عام انتخابات کی جانب پہلا قدم

جنرل محمد یحییٰ خان نے عنان حکومت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا اہم سیاسی قدم اٹھاتے ہوئے یکم جولائی 1970 کو مغربی پاکستان کی ون یونٹ کی اکائی کا مکمل خاتمہ کردیا اس طرح ملک کے دونوں حصوں میں موجود باہمی مطابقت اپنے انجام کو پہنچ گئی، اس کے ساتھ حکومت نے یہ اعلان بھی کردیا کہ آئندہ انتخابات ’’ایک فرد ایک ووٹ‘‘ کی بنیاد پر کرائے جائیں گے، مزید براں پہلی مرتبہ بلوچستان کی حیثیت بھی ایک صوبے کے طور پر تسلیم کرلی گئی۔ یہ بات بھی خاصی مضحکہ خیز لگتی تھی کہ تمام جمہوری اور مثبت اقدام ایک فوجی حکمران کے ہاتھوں انجام پا رہے تھے۔

یحییٰ خان کی حکومت نے انتخابی عمل پر براہ راست اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی تاہم خفیہ طور پر کئی سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کی مالی امداد کی گئی تاکہ عوام کے ووٹوں کو اس طرح تقسیم کردیا جائے کہ کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل کرکے حکومت بنانے کے قابل نہ رہے۔ ایسے موقع پر فوجی حکومت اپنی من مرضی سے ایسی چال چلتی کہ مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کر اپنی پسند کی مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی۔

’’لیگل فریم ورک‘‘ کا مسئلہ بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس کی رو سے قومی اسمبلی کو120 دنوں کے اندر آئینی ڈھانچہ تیار کرنا تھا ورنہ ناکامی کی صورت اسمبلی کی بساط لپیٹی جاسکتی تھی۔ یہ بات بھی نہایت اہم تھی کہ یحییٰ خان نے مارشل لاء نافذ کردیا تھا لیکن اس نے صدر ایوب کی پالیسیوں کے برعکس کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی عائد نہ کی اور نہ ہی سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تاہم کچھ عرصے کیلئے سیاسی سرگرمیوں پر قدغن ضرور دیکھنے میں آئی۔

شیخ مجیب الرحمن نے اپنی انتخابی مہم کی بنیاد چھ نکاتی منصوبے پر رکھی، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں قومی خود مختاری کی بنیاد پر انتخابی مہم استوار کی گئی جبکہ پنجاب کو دفاعی حکمت عملی کا سامنا کرنا پڑا۔ صوبہ سندھ کو جہاں ایک طرف پنجابی اور مہاجر کی تقسیم کے تحت گروہی سازش کا شکار ہونا پڑا وہاں دوسری جانب وڈیروں کی مفاد پرستانہ سیاسی روش کا سامنا بھی رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں بااثر طبقے پر بھروسہ کررہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اتحادیوں کے کردار کو بھی اپنا ہم نوا خیال کرتی تھی۔ مسٹر بھٹو تو جنرل یحییٰ کی حکومت میں ڈپٹی وزیراعظم کے طور پر بھی کام کرنے کے لیے پرتول رہے تھے پاکستان کی اس سیاسی صورتحال کے متعلق میں بعد میں بھی عقدہ کشائی کروں گا تاہم یہ درست ہے کہ یحییٰ خان اپنی پسندیدہ جماعتوں میں سے مسٹر بھٹو کی پی پی پی،قیوم خان کی مسلم لیگ اور چند چھوٹے سیاسی گروہوں پر اعتماد کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ اس نے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی بھرپور مہم چلانے کیلئے مناسب وقت بھی فراہم کیا۔

ملک کے پہلے عام انتخابات کا انعقاد7 دسمبر1970ء کو وقوع پذیر ہوا۔ تمام نتائج فوج اور اس کے حامیوں کی توقع اور پیش گوئیوں کے برعکس برآمد ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے162 نشستیں جیت لیں جس کا مطلب تھا کہ300 ممبران پر مشتمل قومی اسمبلی میں اسے واضح اکثریت حاصل ہو چکی تھی۔ مغربی پاکستان میں پی پی پی نے پنجاب میں سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی اکثریتی سیٹیں جیت لیں اور سندھ میں بھی قومی اسمبلی کی اکثریت اس کے ہاتھ رہی جبکہ صوبائی اسمبلی میں اسے تین سیٹوں کی کمی سے اکثریت سے محروم ہونا پڑا، بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور اس کی چھوٹی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی زیادہ تر نشستیں جیت لیں اور پی پی پی یہاں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکی اسی طرح شمال مغربی صوبہ سرحد میں بھی نیپ(NAP) اور جمعیت العلمائے اسلام(JUI) اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئیں۔

مجھے یاد ہے 1970ء کے عام انتخابات کے موقع پر مسٹر بھٹو سے ایک اتفاقیہ ملاقات کے دوران جب میں نے ان سے پارٹی کی کارکردگی کے متعلق استفسار کیا تو وہ کہنے لگے کہ اگر35 سے 40 سیٹیں بھی جیت لیں تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی، یقیناً جب اسے اپنی پارٹی کی توقع سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کی خبر ملی ہوگی تو اس کیلئے یہ ایک خوشگوار حیرت کا مقام ہوگا۔

غیر متوقع نتائج نے فوجی جنتا کو مایوس کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہوگا کہ حکومت ایک صدمے کی کیفیت سے دوچار تھی۔ شیخ مجیب الرحمن جو کل تک اگرتلہ سازش کیس میں نامزد تھا اس کی پارٹی عوامی لیگ اب بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی اور ایک بڑی پارٹی کی حیثیت سے جمہوری طور پر حکومت بنانے کا قانونی جواز رکھتی تھی لیکن اس نے مغربی پاکستان سے کوئی سیٹ نہیں جیتی تو قدرتی طور پر نیپ(NAP) اور دوسرے قوم پرست جماعتوں سے الحاق کرنے کی پوزیشن میں تھی لیکن یہ جماعتیں بھی فوج اور پنجاب کے حکومتی عہدیداروں کی آنکھوں میں کھٹکتی تھیں، چنانچہ یہ صورتحال کچھ عجیب کش مکش کی آئینہ دار تھی اور اگر کوئی ایسا اتحاد عمل میں آبھی جاتا تو اسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا۔ بلا شبہ پاکستان کے وجود میں آتے ہی پنجاب مرکزی حکومت میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا آرہا تھا۔ شروع کے سالوں کے دوران اردو بولنے مہاجر طبقے اور دوسرے صوبوں کے ساتھ امتیازی رویے اس بات کے گواہ تھے، اب یہ لوگ دوبارہ فوج اور ذوالفقار علی بھٹو کی پی پی پی کے ساتھ مل کر ایسی سازشوں کا جال بُن رہے تھے تاکہ اکثریتی پارٹی کو انتقال منتقل کرنے کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں۔

انتقالِ اقتدار کا خاتمہ

جنوری1971ء کے اختتام پر عوامی لیگ نے اپنے چھ نکاتی ایجنڈے کی بنیاد پر آئینی مسودے کی تیاری کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ یقین بھی دلایا کہ پاکستان کے دونوں حصوں کو علیحدہ کرنے کیلئے کوئی دراڑ نہیں ڈالی جائے گی۔ چنانچہ مغربی پاکستان کی زیادہ تر چھوٹی جماعتوں نے آئین کی تیاری پر عوامی لیگ کو اپنی بھرپور مدد کا یقین دلایا۔ ادھر13 فروری کو یحییٰ خان نے اعلان کردیا کہ نئی اسمبلی کا اجلاس3 مارچ1971ء کو ڈھاکہ میں منعقد ہوگا۔ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی چھوٹی پارٹیوں نے ایک ایک کرکے اجلاس میں شرکت کرنے کی یقین دہانی کرادی لیکن بھٹو صاحب کے ذہن میں کوئی اور ہی کھچڑی پک رہی تھی وہ ایسی رکاوٹوں کے متعلق سوچ رہے تھے تاکہ قومی اسمبلی کے اجلاس کا انعقاد کسی طرح ممکن نہ ہوسکے۔

سب سے پہلے انہوں نے ایک مضحکہ خیز اعلان کیا کہ حکومت میں برابری کی بنیاد پر حصہ شامل کیا جائے۔ یہ تجویز تو بالکل ہی غیر جمہوری اور غیر آئینی تھی۔ جب شیخ مجیب الرحمن نے اس احمقانہ تجویز کو قطعی طور پر رد کردیا تو مسٹر بھٹو نے’’اُدھر تم اور اِدھر ہم‘‘ یعنی تم مشرقی پاکستان کو سنبھالو اور ہم مغربی پاکستان میں اپنا عمل دخل قائم کرتے ہیں، کا نعرہ بلند کیا۔ یہ کچھ ایسے منحوس الفاظ تھے کہ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے تمام واقعات اس کے گرد گھومتے گئے۔

28فروری1971ء کو پنجاب کے سامعین کے ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے برملا کہا کہ مغربی پاکستان کے کسی ممبر اسمبلی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ڈھاکہ جانے کی کوشش کی تو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اور مذکورہ ممبران کا مغربی پاکستان میں دوبارہ داخلہ ممنوع ہوگا۔ مجھے ایک اخباری بیان یاد ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی اس دھمکی کے بعد اسے بتایا گیا کہ نیپ(NAP) کے ممبران اسمبلی ڈھاکہ کے اجلاس میں شریک ہوں گے وہ جو چاہے جی میں آئے کر گز رے۔ اس پر مستزاد یہ کہ مقررہ تاریخ پر تمام جماعتوں کے ممبران ڈھاکہ پہنچ گئے حتیٰ کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چند ممبران نے بھی ہوائی جہاز کے ٹکٹ خرید لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سیاسی صورتحال تبدیل ہو جائے اور وہ اقتدار کی بس میں سوار ہونے سے رہ جائیں۔

29 فروری کو ہم ڈھاکہ ہی میں تھے جب جنرل یحییٰ خان نے غیر حقیقت پسندانہ حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسمبلی کے ابتدائی اجلاس کو یہ کہہ کر برخاست کرردیا کہ:

’’پاکستان پیپلز پارٹی جیسی ایک بڑی جماعت اور چند دوسری سیاسی پارٹیوں کی عدم شرکت کی وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس کا کوئی جواز نہیں رہتا اور اگر یہ اجلاس اس صورتحال میں بھی جاری رکھا جاتا ہے تو اسمبلی خود بخود ٹوٹ جائے گی۔‘‘

فوجی حکومت کے اس اشتعال انگیز قدم سے مشرقی پاکستان بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، بنگالی عوام خاصے مشتعل تھے۔ اکثریت میں ہونے کے باوجود23 سال کے عرصے سے انہیں فیصلہ کن اہم حکومتی معاملات سے دور رکھا جارہا تھا اب جبکہ ان کی جماعت انتخابات میں ایک واضح اکثریت سے کامیاب ہو کر آئی تھی تو پھر بھی انہیں حکومت کرنے کے قانونی حق سے محروم کیا جارہا تھا اب تو حکمرانوں نے حد ہی کردی تھی،عوامی لیگ کے رہنماؤں کے کسی رسمی اعلان کی پرواہ کئے بغیر ڈھاکہ کے عوام ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور مغربی پاکستان کے خلاف نعرہ بازی اور احتجاج شروع کردیا۔ مواصلاتی رابطے منقطع ہوگئے،ٹرانسپورٹ رک گئی اور تمام شہری زندگی اور کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ لوگوں نے کرفیو کی پابندیوں کو نظر انداز کردیا،یوں احتجاج میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔

یہ بات خاصی مضحکہ خیز لگتی تھی کہ حکومت کے دو اعلیٰ عہدیدار یعنی گورنر ایڈمرل احسان اور آرمی کمانڈر جنرل صاحبزادہ یعقوب خان جو اعلیٰ ظرفی اور مستقل مزاجی سے حالات کا مقابلہ کررہے تھے انہوں نے آرمی کو طاقت کا مظاہرہ کرنے یا انتقامی کارروائی سے روکے رکھا،فوج کو عوام کے خلاف حرکت میں لانے میں عدم دلچسپی کی وجہ سے گورنر احسان کی جگہ جنرل ٹکا خان کو ڈھاکہ میں تعینات کردیا گیا۔ عجیب طرفہ تماشا تھا کہ ڈھاکہ میں کوئی ایک آدھ جج بھی نئے گورنر سے ان کے عہدے کا حلف لینے پر تیار نہ تھا اب واضح دکھائی دے رہا تھا کہ مشرقی پاکستان مکمل تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی عوام کے اس عظیم احتجاج کا حصہ بن چکی تھیں۔ ڈھاکہ کی تمام انتظامیہ عملی طور پر شیخ مجیب الرحمن اور اس کی پارٹی کے کنٹرول میں تھی،مشرقی پاکستان میں صرف اور صرف ان کی انتظامی اجارہ داری قائم ہو چکی تھی۔ فوج نے محض چھاؤنیوں کا انتظام سنبھال رکھا تھا یا پھر ڈھاکہ میں وفاق کے ماتحت چلنے والے چند دفاتر ان کے زیر انتظام کام کررہے تھے۔

ہم قومی اسمبلی کے ممبران کے ہمراہ اسمبلی کے ہاسٹل میں محبوس ہو کر رہ گئے تھے۔ میں نے شیخ مجیب الرحمن کو فون کرکے مدد کی درخواست کی لیکن ہماری طرح وہ بھی ہزاروں لوگوں کے احتجاجی سیلاب کے آگے بے بس دکھائی دیتا تھا، میں نے گورنر احسان سے بھی ٹیلی فون پر مدد طلب کی لیکن اس نے بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ اسی دوران ہاسٹل میں کھانے پینے کی اشیاء بھی مفقود ہو گئیں ملازم بھی بھاگ گئے اور ہمارا باہر نکلنا بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔بالآخر گھیراؤ کے تیسرے روز فوج کا ایک دستہ وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوا اور ہم لوگ ان کی حفاظت میں ایئر پورٹ پہنچے۔ وہاں بھی سامان اٹھانے کیلئے کوئی قلی یا مزدور موجود نہیں تھا جب کراچی سے ہوائی جہاز آیا تو معلوم ہوا کہ پی آئی اے کا ملازم ہر فلائٹ کے ساتھ آتا ہے اور ایئر پورٹ پر ہی مسافروں کو ٹکٹ فراہم کردیا جاتا ہے۔ تمام ایئر پورٹ کو فوج کے مسلح جوانوں نے نہایت مستعدی سے اپنے نرغے میں لے رکھا تھا۔

کراچی آتے ہوئے میرے ذہن میں عجیب عجیب خیال آرہے تھے میں سوچ رہا تھا کہ اب مشرقی پاکستان اپنی سابقہ پہچان کھو دے گا کیونکہ حالات میں مثبت تبدیلی کی کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی۔

مشرقی پاکستان کا آخری سفر

بحران کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوتا دیکھ کر یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس25 مارچ کو طلب کرلیا۔ مذکورہ اعلان میں یہ دھمکی بھی شامل تھی کہ حکومت مٹھی بھر لوگوں کو لاکھوں معصوم پاکستانیوں کی قسمت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی اور پاکستان کی بہادر افواج کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ ملک کی سالمیت، یکجہتی اورتحفظ کو یقینی بنائے۔ یہ ایک واضح پیغام تھا اور اب کوئی بات پوشیدہ نہیں رہی تھی۔

ہر آنے والے دن کے ساتھ حالات کشیدہ ہوتے جارہے تھے، اسی دوران یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمن سے ملاقات کا اظہار کیا تاکہ اہم معاملات پر مذاکرات کیے جاسکیں لیکن معلوم ہوا کہ شیخ صاحب نے سختی سے اس خیال کو رد کردیا ہے۔ میرے کراچی کے چند احباب جو موجودہ صورتحال کا نہایت قریب سے مشاہدہ کررہے تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ میں ڈھاکہ جا کر شیخ مجیب کو قائل کرنے کی کوشش کروں تاکہ وہ جنرل یحییٰ خان سے ملاقات کیلئے تیار ہو جائے اور بحرانی کیفیت پر تعمیری گفتگو کو ممکن بنایا جاسکے۔

سچ پوچھیے تو میں موجودہ صورتحال میں خاصی مایوسی کا شکار تھا۔مشرقی پاکستان کے حالات اس نہج تک پہنچ چکے تھے کہ اب وہاں سے واپسی ناممکن تھی۔ شیخ مجیب کہنے کی حد تک بات چیت کا مخالف نہیں تھا لیکن موجودہ بحران مختلف عناصر کی باہمی چپقلش کی وجہ سے مسائل کا ملغوبہ بن چکا تھا، پنجاب کے روایتی طاقت ور عناصر اس دن کے انتظار میں تھے کہ کب بنگالیوں کی اکثریتی جماعت کو حکومت حوالے کرنے کی بجائے ان سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرلی جائے۔ لیکن آخری کیل ٹھونکنے سے پہلے وہ چاہتے تھے کہ بنگالیوں کے خلاف ریاست کی طاقت کا استعمال کرکے انہیں سبق سکھایا جائے شاید اس طرح وہ زیر نگیں ہو جائیں پھر صنعت کار اور تاجر جو کئی سالوں سے مشرقی پاکستان میں فوائد حاصل کررہے تھے ان کے مفادات کو زک پہنچنے کا اندیشہ تھا۔حالانکہ وہ بھی پرامن حالات کے حق میں تھے مگر اس بات سے خوفزدہ تھے کہ کہیں قوم پرست بنگالی ان کی جگہ پر طاقت سے قبضہ جمالیں گے یقیناًیہ ان کیلئے بُری خبر ہوتی،چنانچہ انہوں نے بھی مغربی پاکستان میں موجود اپنے ہمدردوں کے ساتھ کھڑا ہونے کو مقدم جانا۔ مغربی پاکستان میں موجود حقیقت پسند اور معتدل مزاج رکھنے والے سیاسی عناصر بھی ان دنوں یہ کہتے سنے گئے کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ ہم بنگالیوں کو ہمیشہ کیلئے خدا حافظ کہہ دیں۔

مغربی پاکستان کے حکمرانوں کی بدنیتی کے حوالے سے ان کی ذہنی کیفیت کی میں ایک مثال پیش کروں گا۔ بلوچستان میں ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر طے پانے والے الیکشن کے معاملات پر میری یحییٰ خان سے1970 کے انتخابات سے قبل ایک ملاقات ہوئی تھی، گفتگو کے دوران جب مشرقی پاکستان کا مسئلہ زیر بحث آیا تو جنرل صاحب کہنے لگے’’جلد یا بدیر مشرقی پاکستان کٹ کر علیحدہ ہو جائے گا،اگر یہی سب کچھ ہونا ہی ہے تو پھر انہیں ہمارا خون چوسنے کی مزید 2یا3 سال کی مہلت کیوں دی جائے۔‘‘ صدر پاکستان کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میں سکتے میں آگیا، ساری دنیا جانتی تھی کہ کون کس کا خون پی رہا تھا، صرف یحییٰ خان اور ان کے حواری یا پھر مشرقی پاکستان میں ان کے مٹھی بھر ہم نوا اس حقیقت سے بے بہرہ تھے۔

یحییٰ خان کے پچھلے بیان کی بازگشت میرے کانوں میں گونج رہی تھی، یہی وجہ تھی کہ1971ء میں مشرقی پاکستان کا دورہ کرنے کیلئے اعصاب میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔میں نے اپنے دوستوں اور کامریڈ ساتھیوں کو جو کہ میرے جانے کیلئے اصرار کررہے تھے بتایا:

’’تم اس بات سے بخوبی آگاہ ہو کہ مشرقی پاکستان سے رابطے کے عمومی راستے منقطع کردیئے گئے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان مشکل حالات میں شیخ مجیب کے دل و دماغ کی کیا کیفیت ہے، ان لمحات میں وہ مشرقی پاکستان کا محض سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ بنگالیوں کا مشہور قومی ہیرو بھی ہے۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ رابطے کی کوئی راہ نکل آئے گی تو میں ڈھاکہ جانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا۔‘‘

پاکستان پریس انٹرنیشنل(PPI) نیوز ایجنسی کے مالک معظم علی بھی میرے ان دوستوں میں شامل تھے جو یہ چاہتے تھے کہ میں ڈھاکہ جاؤں اس نے کہا کہ ایک ٹیلکس مشین ابھی تک کام کررہی ہے اس سے ڈھاکہ میں پیغام بھیجا جا سکتا ہے۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ شیخ مجیب الرحمن کو ٹیلکس کے ذریعے یہ پیغام بھیجے کہ اگر وہ مجھ سے ملنا مفید سمجھتا ہے تو میں ڈھاکہ آنے کو تیار ہوں۔ اگلے ہی روزمعظم علی نے شیخ مجیب الرحمن کا جوابی پیغام دیا کہ اگر میں ڈھاکہ آکر ملوں تو اسے خوشی ہوگی اور میں اس کے ہاں قیام بھی کروں۔ اب میرے پاس وہاں جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ کوئی مثبت نتیجہ نہیں برآمد ہوگا پھر بھی میں نے ڈھاکہ جانے کیلئے ٹکٹ خرید لیا۔ غیر متوقع طور پر اسی روز ولی خان بھی لندن سے کراچی آگئے۔تمام دوستوں نے اسے بھی مجبور کیا کہ وہ میرے ساتھ ڈھاکہ چلے میری بھی یہی خواہش تھی کہ وہ میرا ساتھ دے۔ خان صاحب نے تھوڑی دیر کیلئے توقف کیا اور پھر حامی بھر لی۔

ہم دونوں 13 مارچ 1971ء کو ڈھاکہ پہنچے، ایئر پورٹ سے ہی سیدھے اپنے دیرینہ کامریڈ ساتھی احمد الکبیر اور لیلیٰ کبیر کی رہائش گاہ پر گئے، وہاں سے ہم نے شیخ مجیب کو ٹیلی فون کیا اور اپنی آمد کی اطلاع دی وہ یہ جان کر بہت خوش ہوا کہ ولی خان بھی میرے ہمراہ ہے۔ شیخ مجیب کی آواز میں بلا کا ٹھہراؤ تھا، اس نے کہا کہ ہم دونوں اس کے مہمان بنیں اور ہمیں اس کے پاس ٹھہرنا چاہیے تھا اور آنے کی اطلاع بھی دینی چاہیے تھی۔ میں نے جواباً مطلع کیا کہ احمد الکبیر ہمارے لئے کوئی اجنبی نہیں ہے وہ آپ کا بھی دوست ہے اس لئے یہ بھی اپنا ہی گھر ہے۔ اس طرح باتوں ہی باتوں میں ہم نے اگلے دن ملاقات کا وقت طے کرلیا۔

اگلے روز یعنی 14مارچ1971ء کو میں اور ولی خان مقررہ وقت پر شیخ مجیب کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے اس نے نہایت گرم جوشی اور محبت سے ہمارا استقبال کیا جونہی ہم بیٹھے،میں نے چھوٹتے ہی شیخ صاحب کو اپنے آنے کے مقصد سے آگاہ کیا۔

’’آپ ہمیں اپنے منصوبے سے صاف صاف آگاہ کریں کیونکہ ہمارا تعلق مغربی پاکستان کے اس طبقے سے ہے جو آپ کے سیاسی نظریات کی حمایتی ہے آپ نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور حکومت بنانے کا حق آپ کا ہی ہے اگر آپ یک طرفہ طور پر آزادی کا اعلان کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان مسائل کی شدت کا ادراک ہونا چاہیے جس کا سامنا ہمیں کرنا پڑے گا۔‘‘

یہ سنتے ہی شیخ صاحب بہت جذباتی ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔

’’یہ کون کس سے پاکستان کے ٹوٹنے کی بات کررہا ہے تم لوگ جو کانگریس کے ساتھی تھے(اس کا اشارہ ہماری طرف تھا جب ہم آزادی سے قبل انڈین نیشنل کانگریس کے رکن تھے)۔ مجھے سمجھا رہے ہو، شاید تم بھول رہے ہو کہ میں ایک کٹڑ مسلم لیگی تھا اور پاکستان بننے کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کی تھیں۔ یہ کیسی مضحکہ خیز بات کی ہے!‘‘

ولی خان نے معاملے کو سنبھالا اور اپنے مخصوص طنز آمیز انداز میں شیخ صاحب کو یاد دلایا۔

’’اس وقت بھی ہم نے آپ کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ متحدہ ہندوستان کو مت توڑو اور پاکستان بنانے کا خیال دل سے نکال دو لیکن آپ نے کہا کہ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک پاکستان بن نہ جائے اور آج پھر ہم آپ سے ہاتھ باندھ کر بھیک مانگ رہے ہیں کہ پاکستان کو موت توڑو لیکن تم کہتے ہو کہ پاکستان کو ٹوٹنا ہے۔ماضی اور حال کے تناظر میں تم مسلم لیگیوں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ عجیب و غریب قسم کی مخلوق سے پالا پڑا ہے۔‘‘

بالآخر ہم اصل موضوع کی طرف آئے ہم نے شیخ صاحب پر واضح کیا کہ جیسا وہ جانتا ہے حالات نہایت مخدوش ہیں اگر وہ کوئی بروقت فیصلہ نہ کرتا تو یقیناًپاکستان ٹوٹ جائے گا، ہم نے اسے یہ عندیہ دینے کی کوشش کی کہ اسے یحییٰ خان سے ضرور ملنا چاہیے تاکہ اسے حکومت منتقل کرنے کی سبیل نکل آئے کیونکہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد یہ اس کا قانونی حق ہے۔ یوں لگتا تھا کہ جہاز کے کنٹرول روم میں بیٹھے ہوئے لوگ اسے بحرانی کیفیت سے نکالنے کے اہل نہیں تھے۔شیخ صاحب نے جواب دیا

’’میں آپ کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ(یحییٰ خان اور ان کے حواری) کبھی بھی حکومت میرے حوالے نہیں کریں گے، چاہے پاکستان ٹوٹ ہی کیوں نہ جائے،پنجاب کبھی نہیں چاہے گا کہ میں اقتدار میں آؤں‘‘۔

ہم واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ شیخ مجیب کتنے گہرے کرب میں مبتلا تھا جب اس نے درج ذیل بیان دیا تو اس کے چہرے سے اداسی کے سائے مترشح تھے۔

’’میں ایک شرط پر یہ کام کروں گا جب تک بات چیت کا دور چلے گا تم دونوں کو یہاں ڈھاکہ میں رہنا ہوگا اب میں تمہارے ساتھ ہی باہر آؤں گا۔ عوام کو کوئی بھی آگاہ نہیں کرے گا کہ میں یحییٰ خان سے ملنے جارہا ہوں‘‘۔

وہ جب ہمارے ساتھ برآمدے میں نمودار ہوا تو وہاں ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کا جم غفیر انتظار کررہا تھا اور ہزاروں لوگ’’جے بنگلہ‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے، لوگوں کا سامنا کرتے ہی شیخ مجیب نے باہر منتظر صحافیوں کے سامنے بے دھڑک اعلان کردیا کہ اس نے یحییٰ خان سے ملنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ہمارے سمیت جو بھی وہاں موجود تھا کسی کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ ایک امریکی صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ یحییٰ خان سے بھی اسی صورت میں ملیں گے جب وہ مسٹر بھٹو کی طرح ملنے کیلئے ان کی رہائش گاہ پر آئیں۔! شیخ مجیب نے سیاسی طور پر نہایت جچا تلا جواب دیا ’’یحییٰ خان ملک کا صدر ہے وہ جہاں چاہے گا میں وہیں اس سے مل لوں گا‘‘۔

کچھ روز کے بعد یعنی15 مارچ1971ء کو یحییٰ خان ڈھاکہ آئے، انہوں نے مجھے اور ولی خان کو گورنر ہاؤس میں ملنے کی دعوت دی، ہم نے شروع میں ہی اسے باور کرا دیا کہ شیخ مجیب علیحدگی کے متعلق نہیں سوچ رہا۔ اس کا ارادہ محض یہ ہے کہ اس کی پارٹی نے قومی اسمبلی کی اکثریتی سیٹیں جیت لی ہیں اس طرح یہ ایک جمہوری عمل ہے کہ اکثریت رکھنے والی پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے ہم نے یحییٰ خان پر یہ بات واضح کی’’کہ شیخ مجیب کے موقف کی ہم تائید کرتے ہیں آپ بذاتِ خود اس سے مل لیں تاکہ یقین آجائے‘‘ یحییٰ خان نے بھی شیخ مجیب کی طرح مجھے اور ولی خان کو کہا کہ جب تک ہماری گفت و شنید چلتی ہے تم دونوں ڈھاکہ میں ہی رہو گے۔

یحییٰ، مجیب مذاکرات

یحییٰ خان اور مجیب الرحمن کے مابین مذاکرات کا آغاز16 مارچ1971ء کو ہوا۔ شیخ مجیب ہمیں ہر لمحے کی پیش رفت سے آگاہ رکھتا رہا۔ شروع شروع میں گفت و شنید قدرے بہتر انداز میں جلتی رہی بعدازاں یحییٰ خان نے مغربی پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کو ڈھاکہ آنے کی دعوت دی ان لیڈروں میں ممتاز دولتانہ، سردار شوکت حیات، مولانا نورانی،مفتی محمود اور قیوم خان شامل تھے۔ذوالفقار علی بھٹو اپنے منفرد اندازمیں وارد ہوئے ان کے ساتھ جے اے رحیم،عبدالحفیظ پیرزادہ، رفیع رضا اور محمود علی قصوری بھی آئے تھے(محمود علی قصوری نےNAP کو چھوڑ کر PPP میں شمولیت اختیار کرلی تھی)یحییٰ خان نے سیکرٹری مالیات ایم ایم احمد اور چند دوسرے احباب کو بھی طلب کرلیا۔ جب شیخ مجیب کے علم میں یہ بات آئی تو اس نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اب مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں کیونکہ مسٹر بھٹو اور ایم ایم احمد بات چیت کو سبوتاژ کردیں گے۔

ڈھاکہ آمد کے بعد بھٹو صاحب نے پی پی پی کے نمائندوں پر مشتمل ایک گروپ کو ہماری ملاقات کیلئے بھیجا ان میں محمود علی قصوری، رفیع رضا اور ایک اور صاحب شامل تھے۔ بھٹو صاحب کی خواہش تھی کہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنما ایک متفقہ موقف اپنائیں۔ ہم جانتے تھے کہ بھٹو صاحب مغربی پاکستان کی اشرافیہ کے مفادات کے امین تھے مزید براں وہ اپنی مخصوص سیاسی فکر بھی ٹھونسنا چاہتے تھے یعنی اگر یحییٰ مجیب مذاکرات کے دوران انتقالِ اقتدار میں شراکت کی کوئی صورت نہ نکلی تو پھر ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ بات چیت ناکام ہو جائے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ شیخ مجیب کو رام کرنے کیلئے یحییٰ خان طاقت کے استعمال کی دھمکی دے تاکہ وہ سودے بازی کی بہتر پوزیشن میں آجائے اور اس کیلئے چاہے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے تاہم ہم نے بھٹو صاحب کے مشترکہ موقف اپنانے کی تجویز دکردی۔

یحییٰ خان کے ساتھ مذاکرات نے اب ایک نیا موڑ اختیار کرلیا، ابتداء میں اس نے کہا کہ اگر لیگل فریم ورک آرڈر(LFO) کی شرائط پوری کی جائیں تو انتقالِ اقتدار کیا جاسکتا ہے۔ شیخ مجیب نے مشورہ دیا کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے منتخب شدہ ارکان کا اجلاس بلایا جائے اور انہیں کہا جائے کہ اپنے علیحدہ علیحدہ آئین کا مسودہ تیار کریں اس کے بعد اسمبلی کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے وفاقی آئین کا مسودہ منظور کرلیا جائے۔ یحییٰ خان اس بات پر مصر تھے کہ اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ جب ہماری رائے طلب کی گئی تو میں نے جنرل یحییٰ کو مشورہ دیا:

’’ ہمیں اسمبلیوں کے الگ الگ اجلاس بلا کر اپنے علیحدہ آئینی مسودے تیار کرکے دنیا کو یہ پیغام نہیں دینا چاہیے کہ ہم دو مختلف قومیں ہیں بہتر ہے کہ پانچوں اسمبلیوں کی بنیاد پر پانچ آئینی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں(یعنی ہر صوبے کی رائے مدنظر رکھی جائے) اور پھر یہ کمیٹیاں قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں ملک کا وفاقی آئین ترتیب دیں‘‘۔

جنرل یحییٰ خان نے میری تجاویز پر نیم رضا مندی کا اظہار کیا اور جب ہم اسی رات شیخ مجیب سے علیحدگی میں ملے تو اس نے بتایا کہ جنرل صاحب کا مزاج میری سمجھ سے بالاتر ہے وہ کسی ایک رائے پر قائم نہیں رہتے۔اس نے کہا

’’میں اب ان سے مزید ایک اسمبلی یا دو اسمبلیوں کا اجلاس بلانے پر زور نہیں دوں گا میرا صرف یہی مطالبہ ہے کہ اقتدار منتقل کیا جائے اور مارشل لاء فوراً اٹھا لیا جائے اور اکثریتی پارٹی کا لیڈر ہونے کی حیثیت سے اسمبلی کا اجلاس میں خود طلب کروں گا،اصل مسئلہ مارشل لاء اٹھانا ہے اور حکومت میری پارٹی کے حوالے کردی جائے‘‘۔

مارشل لاء کے خاتمے اور انتقالِ اقتدار کے حوالے سے شیخ مجیب کے مطالبات ہم نے یحییٰ خان تک پہنچائے،جب ہم پاکستان کی سالمیت کے حوالے سے اسے فنی باریک بینیوں سے محتاط انداز میں گریز کرنے کا مشورہ دیا تو اس نے جواباً کہا ’’اگر تمہارا دوست مجیب الرحمن مثبت رویہ نہیں اپناتا تو پھر میری فوج حالات سے نمٹنا خوب جانتی ہے‘‘۔ جنرل نے اپنی رائے کا برملا اظہار کردیا تھا۔ اب اس کے ذہن کو پڑھنے میں مزید کوئی دشواری نہیں رہی تھی۔ میں نے اس کی جانب پلٹتے ہوئے کہا’’صدر محترم۔!کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس نازک مسئلے کا حل صرف فوج کے استعمال سے ہی ممکن ہے یعنی یہ مسئلہ فوج کی طاقت استعمال کیے بغیر حل نہیں ہوگا۔‘‘ ان کا واضح جواب تھا۔’’نہیں‘‘۔

جب ہم 24 مارچ کو شیخ مجیب سے ملے تو اس نے شکستہ لہجے میں ہمیں خطرے سے آگاہ کیا۔’’اب بہتری اسی میں کہ تم دونوں ڈھاکہ سے نکل جاؤ،کیونکہ فوج نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اگلے دو دنوں میں ہم پر چڑھائی کردے گی۔ تمہاری موجودگی اب مزید کسی مثبت پیش رفت کا باعث نہیں بنے گی‘‘۔ ہم دم بخود رہ گئے اور خاموشی سے اٹھ کر اپنی رہائش گاہ پر واپس آگئے۔

جنرل یحییٰ خان نے اسی رات مغربی پاکستان کے قومی اسمبلی کے منتخب ارکان کا اجلاس گورنمنٹ ہاؤس میں طلب کرلیا،میں نے جان بوجھ کر وہاں نہ جانے کا فیصلہ کیا اور کمیونسٹ پارٹی کے رہنما مانی سنگھ سے الوداعی ملاقات کرنے چلا آیا میں نے کامریڈ مانی سنگھ کو نئی صورتحال سے آگاہ کیا اور بدلتے پس منظر میں اس کی رائے طلب کی کامریڈ کا جواب خالصتاً کمیونسٹ نظریات کا آئینہ دار تھا۔

’’میں اچھی طرح سے یہ جانتا ہوں کہ نئی تبدیلی عوام کیلئے کوئی فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی کیونکہ وہ جبلی طور پر رجعت پسند واقع ہوئے ہیں، لیکن جب تمام بنگالی قوم نے یہ فیصلہ کرہی لیا ہے تو پھر کوئی کیا کرسکتا ہے۔تاہم یہ سات آٹھ کروڑ بنگالیوں کی آزادی کا سوال ہے اور ان کی خواہش کا احترام بھی ضروری ہے‘‘۔

جب میں کبیر کی رہائش گاہ پر واپس آیا تو لیلیٰ بھابھی بے چینی سے میرا انتظار کررہی تھی۔اس نے مجھے آگاہ کیا کہ میری غیر موجودگی میں گورنمنٹ ہاؤس سے متعدد فون کالیں آئی تھیں،اسی اثناء میں ولی خان بھی گورنمنٹ ہاؤس سے لوٹ آئے،جنرل صاحب نے انہیں کہلا بھیجا تھا کہ اب ڈھاکہ میں ہماری موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہا چنانچہ ولی خان اور میں ان کے ساتھ ہی کراچی جانے والی پرواز پر واپس چلے جائیں۔ولی خان نے جنرل صاحب کا شکریہ ادا کیا تاہم ان سے درخواست کی کہ وہ دو عدد ٹکٹوں کے حصول میں مدد کریں کیونکہ ڈھاکہ میں پی آئی اے کا کوئی دفتر کام نہیں کررہا تھا۔ا گلے روز ہمیں ٹکٹ مل گئے اور ہم کراچی لوٹ آئے۔ یہ 25 مارچ1971ء کی ایک عمومی صبح تھی کراچی پہنچ کر ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ڈھاکہ کی صورتحال کے متعلق یہاں کے لوگ خاصے بے خبر تھے جونہی ہم کراچی ایئر پورٹ پر اترے تو ہمیں اخباری نمائندوں نے گھیر لیا اور لاحاصل سوالات کے انبار لگا دیئے مثلاًNAP کو کون کون سی وزارت سے نوازا جارہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان کی معلومات کے مطابق ڈھاکہ میں تمام معاملات طے پا چکے تھے اور حکومت کے قیام کی کوششیں جاری تھیں، ولی خان نے اصل صورتحال کو اشارے کنائے سے سمجھاتے ہوئے کہا ’’تم لوگ نتھنی پہنانے کیلئے فکر مند ہو لیکن ڈھاکہ میں تو سرے سے ناک ہی کاٹ دی گئی ہے اس لئے دائیںیا بائیں نتھنے میں کوئی نتھ پہنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب کوئی ناک نامی شے باقی نہیں رہی‘‘ ولی خان کا تبصرہ سن کر کسی نمائندے کو بھی اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔

25 اور 26 مارچ1971 کی درمیانی شب کو ڈھاکہ پر قیامت ٹوٹ پڑی ، شہر میں آگ لگی ہوئی تھی فوج نے مشرقی پاکستان میں عسکری آپریشن شروع کردیا تھا،بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ تھا اسی دوران مسٹر بھٹو کراچی واپس آئے، انہوں نے ایئر پورٹ پر منتظر صحافیوں کو خوش خبری سنائی’’اللہ کی کمال مہربانی سے بالآخر پاکستان کو بچا لیا گیا ہے‘‘۔

ان گمراہ کن خبروں کی وجہ سے مغربی پاکستان کے عوام اور خاص طور پر پنجاب کے لوگ اپنی لاعلمی یا جہالت کی وجہ سے خوش فہمی کا شکار ہوگئے تھے جبکہ دوسری جانب مشرقی پاکستان کے آٹھ کروڑ عوام کی بدقسمتی کا تصور کرکے ہی روح کانپ اٹھتی تھی۔ مغربی پاکستان کا جاگیر دار حکومتی طبقہ،صنعت کار، بیوروکریسی،فوج اور اقتدار کے بھوکے اور خود غرض سیاست دانوں نے بنگالی قوم کا سودا کردیا تھا۔

اور پاکستان ٹوٹ گیا

جونہی پاکستانی افواج نے عوام پر دھاوا بولا تو نہتے مرد، عورتیں اور بچے بھی اس کی زد میں آئے، گھر اور گھروندے روند ڈالے گئے، اس کا قدرتی رد عمل سامنے آیا فوج میں موجود بنگالی، ایسٹ پاکستان رائفل، نیم فوجی دستے اور پولیس محض تماشائی بن کر نہ کھڑی رہی بلکہ انہوں نے بغاوت کا علم بلند کردیا۔ 30,000 سے زائد لوگ اپنے کیمپوں سے فرار ہوگئے اور ان کے ہتھے جو ہتھیار بھی چڑھا لے دوڑے ان میں سے اکثریت عوام کے جم غفیر میں چھپ گئی اور کچھ لوگ سرحد پار کرکے مغربی بنگال میں جا نکلے۔ فوج کے بھگوڑے افسران نے ہز اروں بنگالی نوجوانوں کی عسکری تربیت شروع کردی ان لوگوں میں مغربی بنگال بھاگ جانے والے فوجی جوان بھی شامل تھے۔ اس طرح آزادی کی خاطر لڑنے والی عسکری تنظیم ’’مکتی باہنی‘‘ کا وجود عمل میں آیا۔ انہیں واضح طور پر ہندوستان کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ شیخ مجیب نے ڈھاکہ میں ہی رہنے کو ترجیح دی بعد ازاں اسے گرفتار کرکے پنجاب میں لا کر نظر بند کردیا گیا اوراس پر غداری کا مقدمہ بھی دائر کردیا گیا۔

اپنی تمام تر تیاری اور مضبوط ارادے کے باوجود مکتی باہنی کا واسطہ ایک تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس فوج سے پڑا تھا لیکن اس کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج کو مشرقی پاکستان میں اپنا کنٹرول مسلط کرنے میں دشواری کا سامنا تھا کیونکہ آٹھ کروڑ بنگالی مرد اور عورتیں آزادی کی حاطر منحرف ہو کر سرکشی پر اتر آئے تھے۔

میں 9 مہینے کے عرصے پر محیط اس کشت و خون کی ہولی کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، مختلف حلقوں کی جانب سے اس بحران کے سیاسی حل کی گئی کوششیں کی گئیں لیکن صد افسوس کہ مغربی پاکستان کی طاقتور مافیا اور ان کے مشرقی پاکستان میں مٹھی بھر ساتھیوں نے ایک نہ چلنے دی وہ پاکستان کے ٹکڑے کرنے کا تہیہ کر چکے تھے۔

اسی دوران یحییٰ خان نے ایک ایمرجنسی کابینہ کی تشکیل جس میں آزمودہ کار بنگالی سیاستدان جناب نورالامین کی بطور وزیراعظم تقرری عمل میں آئی ،اسی دوران مسٹر بھٹو کو ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ تفویض کیا گیا تاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقی پاکستان کے حالات کے متعلق بحث کے دوران پاکستان موقف کی بھرپور انداز میں نمائندگی کرسکے۔ سلامتی کونسل میں آخری حل کے طور پر پولینڈ کے وفد نے ایک قرارداد پیش کی یہ کوئی پوشیدہ راز نہیں کہ کس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اس آخری امید کو بھی جذباتی ڈرامے کے رنگ میں ڈھال کر پولینڈ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے پرزے پرزے کرکے پھاڑ ڈ الا اور خود ہاتھ جھاڑتے ہوئے اسٹیج سے نیچے اتر آئے۔

ڈھاکہ میں ہمارے قیام کے دنوں میں روس کے کونصل جنرل نے فرسٹ سیکرٹری کی معیت میں ہم سے ملاقات کی تھی اور زور دے کر کہا تھا کہ ہم اپنی حکومت کو آگاہ کردیں کہ اگر مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کی گئی تو پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا ہم انہیں یہ کیسے بتاتے کہ جس حکومت کاوہ ذکر کررہے تھے وہ خود ہی اس ڈرامے کا ایک اہم کردار ہے جو مشرقی پاکستان میں رچایا جارہا تھا۔

آخر کار وہ انہونی جس کا ڈر تھا ہو کر رہی۔ ہندوستان کی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل ہوگئیں، کچھ ہی دنوں میں 90,000 سے زائد پاکستانی فوجی دستے جن میں اعلیٰ فوجی افسران، پولیس کے متعدد جوان اور سول افسران شامل تھے جنگی قیدی بنا لیے گئے اور ایک ناقابل یقین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 16 دسمبر1972 کو مشرقی پاکستان تاریخ کا حصہ بن گیا اور اس کی جگہ بنگلہ دیش کی آزاد مملکت نقشے پر نمودار ہوگئی۔

مسٹر بھٹو سلامتی کونسل میں اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کرنے کے بعد فوراً ہی پاکستان نہ لوٹے۔ مسلح افواج اب ملک پر مزید حکومت جاری رکھنے کی حالت میں نہیں تھی عوام کی نظروں میں اسے ناقابل تلافی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بیرون ملک اپنی قسمت کا فیصلہ ہونے تک انتظار کیا، بالآخر18 دسمبر1972 کو وہ لمحہ آگیا جب یحییٰ خان نے انہیں ملک میں واپس بلوا لیا اور پھر20 دسمبر کو جنرل گل حسن خان اور ایئر مارشل رحیم خان کی زیر نگرانی حکومت کا قلمدان بھٹو صاحب کے سپرد کردیا گیا اور اس طرح بے چاری پاکستانی قوم کو تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک انوکھے سیاسی ڈرامے کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک سیاستدان کو سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے روپ میں دیکھا۔ یوں لگتا تھا کہ ابھی تک تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا تھا۔بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی کے ممبران نے بچی کھچی قومی اسمبلی سے وقت ضائع کئے بغیر مارشل لاء اور ایمرجنسی کو جاری رکھنے کی توثیق حاصل کی اس عمل کو بھٹو صاحب نے نئے پاکستان کی اصطلاح سے موسوم کیا اس طرح ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت عوامی لبادے میں یحییٰ خان کی فوجی حکومت کی باقیات کے عملی نمونے کے طور پر سامنے آئی۔

مترجم: انجینئر مالک اشتر

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...