ایغور حراستی مراکز اور چینی نقطہ نظر

بیجنگ نے "چینی طرز کے اسلام" کو پھیلانے کے لیے اماموں کی تربیت کے اسلامی مراکز قائم کیے ہیں

497

امریکی ایوان نمائندگان میں ایغور حقوق انسانی پالیسی ایکٹ 2019 کی منظوری کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکہ اور چین کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عالمی میڈیا کے ان متواتر الزامات کے بعد سامنے آیا جن کے مطابق چینی حکومت ایغور مسلم برادری پر ظلم و ستم اور ان کے انسانی حقوق کی پامالی کررہی ہے۔ البتہ چین ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ چینی حکومت کے مطابق اس امریکی اقدام کی نوعیت سیاسی ہے جس کا مقصد عالمی دنیا میں چین کو بدنام کرنا ہے۔ چین کے مطابق وہ اپنے ملک میں موجود برادریوں کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لئے انسداد انتہاپسندی کا منصوبہ چلائے ہوئے ہے۔

چینی حکومت کے ان دعووں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی اور انسداد انتہاپسندی یا تعلیم نو کے نام سے جاری یہ منصوبے تاحال ایک معمہ ہیں۔ چین کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کو یہ یقین دلائے کہ اس کے زیر اہتمام انتہاپسندی کے تدارک کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں حقوق انسانی کا لحاظ کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب چینی حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ انتہاپسندی کے تدارک کے لیے جو حکمت عملی انہوں نے اختیار کی ہے وہ مغربی دنیا اور مسلم ممالک کی جانب سے اس مقصد کے لیے اپنائی گئی حکمت عملیوں کے محتاط جائزے کے بعد ترتیب دی گئی ہے۔ چینی حکومت کے اس اعلان کو ان عناصر نے چیلنج کیا ہے جن کے مطابق انسداد انتہاپسندی کے عالمی معیارات ان اقدامات سے بہت مختلف ہیں جو چین نے اٹھا رکھے ہیں۔ اور یہ کہ عالمی سطح پر انسداد انتہاپسندی کی سرگرمیاں انسداد دہشتگردی کے پروگراموں کے مطابق ترتیب دی جاتی ہیں۔

ثانیاََ انتہاپسندی کی جو وضاحت چین کی جانب سے بیان کی جاتی ہے وہ بہت پیچیدہ ہے کیونکہ اس میں مذہبی، نسلی، لسانی اور ثقافتی تحفظات کے مابین شائد ہی کوئی تفریق کی جاتی ہو۔ اور نہ ہی چینی وضاحت میں یہ تفریق کرکے بیان کیا گیا ہے کہ انتہاپسندی کی متشدد اور غیر متشدد صورت کی سیاسی و سماجی تعبیر کیا ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں بنیادپرستی کے خاتمے کے لیے چینی طرز کا یہ منصوبہ ایک بڑے پیمانے کی سرگرمی ہے جس کے تحت اس کی اقلیتی برادری کی سماجی و ثقافتی سطح پر تعمیر نو کی جارہی ہے۔

چینی حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ انتہاپسندی کے تدارک کے لیے جو حکمت عملی انہوں نے اختیار کی ہے وہ مغربی دنیا اور مسلم ممالک کی جانب سے اس مقصد کے لیے اپنائی گئی حکمت عملیوں کے محتاط جائزے کے بعد ترتیب دی گئی ہے

چینی کیمونسٹ پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ریاستی حکمت عملیوں کا بنیادی محرک ’’ہم آہنگی‘‘ ہے جسے بیلٹ اینڈ روڈ پہلکاری کے تصور میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ہم آہنگی یا ہم آہنگ ہونے کے تصور کو متواتر جمہوری عمل کے متبادل کے طور پر بھی لیا جا سکتا تھا لیکن یہ تعلیم نو کی حکمت عملی سمیت قانون سازی اور انتظامی اصلاحات کے محرک کی صورت سامنے آیا ہے۔ تاہم چین ابھی تک بھی اپنی مذہبی اور نسلی برادریوں کو ہم آہنگ بنانے کے مؤثر ضابطہ کار کو وضع کرنے کی کوشش میں ہے۔ چینی دانشوران یہ یقین رکھتے ہیں کہ اقلیتی برادریوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے جبری طریق ہی واحد ذریعہ ہے جس کے تحت انتظامی طور پرخود مختارخطوں میں امن و امان کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

ایغور مسلم یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ اس ’’ہم آہنگ‘‘ منصوبےکے لیے بہت بھاری قیمت ادا کررہے ہیں جس کے سبب ان کی مذہبی، نسلی اور ثقافتی شناخت ختم ہو رہی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ مسلم دنیا میں ایسی آوازیں بہت کم آوازیں ہیں جو ان کے حق میں بلند ہوتی ہوں۔ مسلم امہ کی قیادت جو کہ اسلاموفوبیا کے معاملے پر بہت حساس ہے ایسا لگتا ہے کہ اس نے ایغور مسئلے پر اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ ان کی اس خاموشی کا صلہ انہیں چین کی جانب سے معاشی معاونت اور عالمی سطح پر سفارتی حمایت کی صورت میں ملتا ہے۔

اگرچہ چینی حکام کو ایسا لگتا ہے کہ وہ سیاسی و ثقافتی سطح پہ کایا پلٹنے کے اپنے منصوبے کے اہداف حاصل تو کرلیں گے تاہم وہ عالمی سطح پر چینی شبیہہ کے متعلق تشویش کا شکار ہیں۔ امسال چینی حکام نے اس منصوبے سے متعلق عالمی تصور کو بدلنے کے لئے کاشغر میں قائم تعلیم نو کے ایک مرکز کو دنیا بھر کے سفارتکاروں، صحافیوں اور ماہرین تعلیم کے دورے کے لیے کھولا تھا۔ تاہم اس اقدام نے عالمی معائنہ کاروں کو زیادہ متأثر نہیں کیا۔ اگرچہ یہ مرکز اس تصویر سے بہت مختلف تھا جو عالمی میڈیا میں ایسے مراکز سے متعلق بنی ہے تاہم وہاں موجود زیر تربیت افراد کے رٹے رٹائے بیانات سے معائنہ پر آئے ہوئے مہمانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ ثانیاََ چینی حکام نے اس طرح کے مراکز کے بارے میں درست تعداد نہیں بتائی تاہم عالمی میڈیا میں کہا جارہا ہے کہ اس نوعیت کے کم ازکم 85 مراکز ملک بھر میں قائم کیے گئے ہیں جن میں سے اکثر سینکیانگ میں واقع ہیں۔

انسداد انتہاپسندی کے چینی ضابطہ کار کا ایک شعبہ انتہاپسند بیانیے کے تدارک کے لیے متعین کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایغور مسلم برادری کی ایک نئی نسلی و ثقافتی شناخت جنم لے رہی ہے۔ وہ سینکیانگ اور چین میں مسلم تاریخ کی تعبیر نو کررہے ہیں۔ معائنہ پر آئے ہوئے مہمانوں کو جو کتابیں اور کتابچے دکھائے گئے ان کے مندرجات کے ذریعے چینی مؤرخین اور دانشور خطے کے مسلمانوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ وہ ہزاروں سال سے چینی تہذیب کا حصہ ہیں۔  ثقافتی انضمام کی یہ پرزور کوشش اِس کثیر الجہت منصوبے کا حصہ ہے۔

ایغور مسلم یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ اس ’’ہم آہنگ‘‘ منصوبےکے لیے بہت بھاری قیمت ادا کررہے ہیں جس کے سبب ان کی مذہبی، نسلی اور ثقافتی شناخت ختم ہو رہی ہے

ایک کتابچہ جس کا عنوان ’’سینکیانگ کے متعلق تاریخی حقائق‘‘ ہے اور جسے سال 2019ء میں ریاستی کونسل برائے دفتر اطلاعات نے شائع کیا وہ اس تصور کو رد کرتا  ہے جس کے مطابق سینکیانگ کو مشرقی ترکستان کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس میں درج ہے کہ ایسی کوئی ریاست کبھی موجود نہیں تھی۔ ایک اور کتابچے کے مطابق جو کہ حکام کی جانب سے دیا گیا ہے بیسویں صدی کے آغاز میں ’’پان ترک ازم اور پان-اسلام ازم‘‘ جیسی اصطلاحیں سینکیانگ میں داخل کی گئیں اور چین کے اندر اور باہر موجود علیحدگی پسندوں نے ان اصطلاحوں کے ذریعے خطے کے جغرافیے کی سیاسی تفہیم کی اور اس کے ذریعے خطے میں آباد تمام برادریوں (مسلمانوں) کو اکسایا کہ وہ مشرقی ترکستان کے نام سے ایک مذہبی ریاست کے قیام کے لیے جدو جہد کریں۔

چینی حکام کے مطابق ایغور برادری اور دیگر چینی حکام کے مابین لسانی رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے ان مراکز میں چینی زبان کی تعلیم لازمی ہے۔ اس سرگرمی کا ایک غیرمعمولی پہلو حکام کی جانب سے مقامی چینی خصوصیات کا حامل اسلام متعارف کروانے کی انہی بنیادوں پرکوشش ہے جن بنیادوں پر وہ چینی خصوصیات کے حامل اشتراکی نظام کی تربیت فراہم کرتے رہے ہیں۔ ان مقاصد کے لیے بیجنگ حکومت نے اسلامی مراکز قائم کئے ہیں جہاں ائمہ یا نماز پڑھانے والوں کی تربیت کی جاتی ہے تاکہ وہ چینی خصوصیات کے حامل اسلام کی تعلیمات پھیلا سکیں۔ ان اسلامی مراکز میں مذہب کی تعلیم کے علاوہ چینی زبان، تاریخ ، ثقافت، قانون اور دستور کی تعلیم لازمی ہے۔ ان مراکز کو دیگر مسلم دنیا میں قائم اسلامی مراکز سے تعاون کی اجازت نہیں ہے۔

ارومچی میں قائم ایک ایسے مرکز کے سربراہ نے وضاحت کی کہ مسلم ممالک میں قائم مذہبی درسگاہوں میں مذہبی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے اور وہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہوتے ہیں لیکن چین میں قائم اسلامی مراکز نے اشتراکی اقدار کو قبول کرتے ہوئے مذہب، حب الوطنی اور سماجی انضمام میں ہم آہنگی قائم کی ہے۔ اس سربراہ نے دنیا بھر سے آئے ہوئے مصنفین بشمول راقم الحروف کو بتایا کہ ’’چینی اسلام میں انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی جیسی برائیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے‘‘۔

چینی حکام یہ شکایت کرتے ہیں کہ ایغور مسلم برادری کے لوگ ریاستی قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتے۔ ایک کتابچہ جسے ریاستی کونسل برائے دفتر اطلاعات نے ’’سینکیانگ میں فنی تعلیم اور تربیت‘‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے اس معاملے پر چینی نکتہ نظر کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ انتہاپسند قوتیں ’’مسخ شدہ مذہبی قوانین اور مقامی بودو باش‘‘ کے تحت ملکی آئین اور قوانین کو پامال کرتی ہیں۔

یہ صورتحال دلچسپ ہے کہ جب تمام دنیا میں نسلی برتری، انتہاپسندانہ حب الوطنی اور نسل پرستی عروج پکڑ رہی ہے چین نے اپنی طرز کے ’’ہم آہنگ سماج‘‘ منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اپنی اصل میں یہ تصور عالمی سطح کے رواج کی نفی ہی سہی تاہم اس کے مقاصد بھی وہی ہیں اور اس میں تنوع اور تکثیریت کے لئے زیادہ گنجائش موجود نہیں ہے۔

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...