لبرل آرٹس کی تعلیم ناگزیر ہے

231

جمہوریت، طرزِ حکومت سے پہلے طرزِ زندگی ہے جس کی اولین اساس آزادانہ سوچنے، سیکھنے اور اظہار کرسکنے کی صلاحیت کا مضبوط ہونا ہے۔ اس صلاحیت کی پرورش تعلیمی ادارے کرتے ہیں اور صرف وہی کرسکتے ہیں۔ یعنی کہ جمہوریت کا حقیقی محافظ کوئی دستاویز یا طبقہ نہیں، بشمول سیاستدانوں کے، بلکہ اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ جمہوری اقدار وعناصر کا عملی اظہار جب تک اپنی فطری بنیاد سے نمو پاکر طرزِ زندگی میں نہیں ڈھلتا اس وقت تک یہ طرزِ حکومت میں بھی متشکل نہیں ہوسکتا۔ جمہوریت کی فضا ایک تعلیمی وسماجی فکری ریاضت کا مطالبہ کرتی ہے۔

 ہمارے ہاں معاشرتی سطح پر جمہوری عمل کی کامیابی کو اولین حیثیت میں آئین، قوانین، سیاستدانوں، تحریکوں اور ریاستی رویے کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے اور تعلیم کے ساتھ اس کے تعلق کو ثانوی درجے میں رکھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت اولین حیثیت میں طرزِحکومت خیال کی جاتی ہے اور ثانوی سے بھی کم درجے میں اسے طرزِ زندگی کے طور پہ دیکھا جاتا ہے۔

جمہوری طرزِ زندگی اور اس کا اجتماعی شعور آزادانہ سوچنے، سیکھنے اور اظہار کرسکنے کی صلاحیت کے رسوخ سے پروان چڑھتا ہے۔ یہ صلاحیت تعلیمی اداروں میں لبرل آرٹس کی تعلیم سے جنم لیتی ہے۔ معاشروں میں جیسے جیسے اس شعبے کی حیثیت کم ہوتی جائے گی اسی طرح انسان کے اجتماعی، حقوق اور اقدار کے مسائل اوجھل ہوتے جائیں گے۔ گزشتہ صدی کی شروعات میں لبرل آرٹس کی تعلیم کی جانب میلان 70 فیصد تھا جو صدی کی آخری چوتھائی کی ابتدا میں چالیس فیصد رہ گیا۔ اب اکیسویں صدی میں جوں جوں ہم آگے بڑھ رے ہیں یہ تناسب مزید کم ہوتا جارہا ہے۔ اِس وقت ہر جگہ کمپیوٹر سائنسز، انجیئنرنگ، میڈیکل اور سکلز کی تعلیم اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے۔ خصوصاََ ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ممالک معاشی گہماگہمی کی دوڑ میں لبرل آرٹس کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کو افورڈ ہی نہیں کر پارہے۔ سیاسی ہلچل اور بہتر زندگی کا واحد معیار اقتصادی خوشحالی ہے تو والدین، طلبہ اور تعلیمی ادارے وہی مضامین پڑھنے پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں جن سے ملازمت کا حصول یقینی ہو۔ حتیٰ کہ اب بائیں بازو کے لبرل سیاسی نمائندے بھی لبرل آرٹس کی تعلیم پر بات کرتے نظر نہیں آتے۔

ایک پاپولسٹ سیاسی رہنما جب انسانوں کے سمندر کے آگے معاشی ضمانت کی بنیاد پر جمہوری اقدار کا تمسخر آڑاتا ہے تو اسے مزاحمت کا اندیشہ نہیں ہوتا اور لوگ اس کو قبول کرلیتے ہیں۔ جبکہ پچھلی صدی یہ ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ ہم انسانوں کی مجبوریاں ہمارے حافظے اور سماجی بشری شعور کو متأثر کررہی ہیں۔ بالخصوص سوشل انگیجمنٹ اور پولیٹیکل موبلائزیشن کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار بشری حافظے اور اس کے شعور کو کمزور کرنے کا باعث بن رہا ہے جو اپنے نتائج میں جمہوریت اور جمہوری زندگی کے لیے پہلا خطرہ ہے۔

لبرل آرٹس کی تعلیم تنگ نظری کو سب سے پہلے ختم کرتی ہے۔ تنگ نظری کا خاتمہ ملک کے اندر بھی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے اور ہمیں گلوبلائزیشن کے عمل کا فعال حصہ بننے کا موقع بھی فراہم کرے گا جس سے معاشی حالت بہتری کی جانب مائل ہوسکتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے عمل کا حصہ بننا ہمیں ’’اہانت کی ثقافت‘‘ سے باہر نکال کر اُمید کی روشنی میں لے آئے گا

فرید زکریا نے 100 صفحات پر مشتمل اپنی کتاب in defence of liberal education میں اسی مسئلے کو موضوعِ گفتگو بنایا ہے۔ یہ کتاب اس حوالے سے بہت نمایاں شمار کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لبرل آرٹس کی تعلیم کو معتبر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس کی ضرورت اور ٹیکنالوجی و بزنس کے شعبوں میں اس کی افادیت پر تفصیل سے بات کی ہے۔ اس کی تعلیم جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی و بزنس کے میدان میں مزید بہتری لانے کا موجب بنتی ہے وہیں اس کے ساتھ جمہوری عمل کو بھی سہارا دیتی ہے۔ مارک زوکر برگ نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ فیس بک بنیادی طور پر نفسیات اور سوشیالوجی کا پلیٹ فارم ہے نہ کہ ٹیکنالوجی کا۔ فرید زکریا نے سنگاپور کی ایک مثال بھی پیش کی کہ میں نے اس کے وزیرتعلیم سے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ کے تعلیمی ادارے ریاضی کے ساتھ فنی تعلیم کے بعض شعبوں میں درجہ بندی کے تناسب میں امریکا سے بہتر ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ آپ ٹیکنالوجی اور ترقی کے حوالے سے کارکردگی میں امریکا سے پیچھے ہیں تو وزیرتعلیم نے جوابدیا کہ ہمارے تعلیم ادارے رٹا مروانے اور امتحانات میں کامیابی دلوانے میں تو بہتر ہیں لیکن وہ سوچنے اور آزادی کا وہ احساس پیدا نہیں کرتے جو امریکا کی خاصیت ہے۔ فرید زکریا کہتے ہیں کہ سوچنے، چیلنج کرنے اور تخلیقی صلاحیت کو مہمیز دینے میں امریکی معاشرے کا امتیاز لبرل آرٹس کی دین ہے۔ اس کے لیے انہوں نے بل گیٹس اور مارزوکربرگ جیسے کئی ٹیکنالوجی و بزنس کمپنیوں کے سربراہان کی سوچ اور پالیسیوں پر گفتگو کی ہے جس میں لبرل آرٹس کا کردار واضح ہوتا ہے۔

امریکا ایک ترقی یافتہ ملک ہے، ٹیکنالوجی میں قیادت اس کے پاس ہے، آئین، عدلیہ اور سیاسی کلچر جمہوری ہے، بیسیوں مؤثر اسانی حقوق کی تنظیمیں ہے اس کے باوجود وہ جمہوری طرزِ زندگی کے لیے تعلیمی اداروں میں لبرل آرٹس کے تحفظ کو ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ جمہوری حکومت، جمہوری طرزِ زندگی اور تعلیم کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ چونکہ بشمول امریکا دنیا میں ہر جگہ لبرل آرٹس شعبوں کے اندر داخلوں میں کمی واقع ہوئی ہے اس لیے 2012ء میں باراک اوباما نے وزارت تعلیم کی جانب سے ’’نیشنل ٹاسک فورس آن سِوک لرننگ اینڈ ڈیموکریٹک انگیجمنٹ‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام شروع کرایا جو پرائمری سے اعلیٰ تعلیم تک میں جمہوریت، شہریت اور انسانی حقوق کی تعلیم و اقدار کے حوالے سے آگہی کو فروغ دیتا ہے۔ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ امریکا کی ترقی، خوشحالی اور تخلیقی قیادت کا راز آزادانہ، سوچنے، سیکھنے اور اظہار کرسکنے کی صلاحیت کی نمو میں پوشیدہ ہے۔ یہ پروگرام کسی اور سماجی سطح پر نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں شروع کرایا گیا۔ اس سے جمہوری طرز زِندگی، تعلیم اور خوشحالی کے مابین ربط کا پتہ چلتا ہے۔

لبرل آرٹس کے شعبے براہِ راست جمہوری نظام و ڈھانچے کی بات نہیں کرتے بلکہ ان افکار ومسائل پر سوچنا سکھاتے ہیں جو انسانی نفسیات، سماج اور خوشحالی کے عقدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ریاضت ہمیں جمہوری طرزِ زندگی سے مانوس کرتی ہے۔ فرید زکریا کے مطابق صرف سوچنے کی صلاحیت کافی نہیں ہوتی، بلکہ ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اظہار کرسکنے کی صلاحیت کو بھی مضبوط کریں۔ اظہار کرسکنے کی صلاحیت ہمیں اپنی سوچ میں واضح، پراعتماد اور چیلنج قبول کرنے والا بناتی ہے۔ دو ہزار سولہ کے ایک سروے کے مطابق امریکی انتخابات میں ان طلبہ نے ووٹنگ میں زیادہ حصہ لیا جو لبرل آرٹس سے وابستہ تھے، اس کے مقابلے میں دیگر شعبوں کے طلبہ کی شراکت کا تناسب کم تھا۔

پاکستان لبرل آرٹس کی تعلیم کی درجہ بندی میں دنیا کے اندر 50ویں نمبر پر آتا ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ لبرل آرٹس میں رجحان کی کمی کا ہی نہیں ہے، بلکہ جو تھوڑا بہت موجود ہے اس کی نوعیت کا بھی ہے۔ لبرل آرٹس مضامین کے نام پر مخصوص نظریات پڑھائے جاتے ہیں

جدید مغرب کی بنیاد لبرل آرٹس نے رکھی۔ عباسی عہد کا پہلا حصہ مسلم تاریخ میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور سنہرا دور شمار کیا جاتا ہے اور یہی مرحلہ آرٹس کے عروج کا زمانہ تھا۔

پاکستان لبرل آرٹس کی تعلیم کی درجہ بندی میں دنیا کے اندر 50ویں نمبر پر آتا ہے۔ یہ بہت برا تناسب ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ لبرل آرٹس میں رجحان کی کمی کا ہی نہیں ہے، بلکہ جو موجود ہے اس کی نوعیت کا بھی ہے۔ لبرل آرٹس مضامین کے نام پر مخصوص نظریات پڑھائے جاتے ہیں۔ اسلامی ادب، اسلامی فلسفہ، اسلامی تاریخ، اسلامی نفسیات وغیرہ کے رجحانات غالب ہیں جو آزادانہ سوچنے، سمجھنے اور اظہار کرسکنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی بجائے یا تو کنفیوژن پیدا کرتے ہیں یا پھر شعور کو مزید مقید کردیتے ہیں۔ ڈھائی ہزار سال پہلے چینی دانشور لاؤتزو نے اُس وقت کے استبدادی نظمِ حکومت کے بارے میں لکھا تھا کہ ’شعور حکومت کرنے کو مشکل بنا دیتا ہے‘۔ ریاست جب سول سائٹی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہو تو وہ شعور کو پابند بنانے کا سامان کرتی ہے۔ کالونیل سوچ کی حامل ریاست لبرل آرٹس کی بالکلیہ حوصلہ شکنی کرے گی یا اسے آئیڈیالوجیکل چولا پہنا دیتی ہے۔

لبرل آرٹس کی تعلیم تنگ نظری کو سب سے پہلے ختم کرتی ہے۔ تنگ نظری کا خاتمہ ملک کے اندر بھی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے اور ہمیں گلوبلائزیشن کے عمل کا حصہ بننے کا موقع بھی فراہم کرے گا جس سے معاشی حالت بہتری کی جانب مائل ہوسکتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے عمل کا حصہ بننا ہمیں ’’اہانت کی ثقافت‘‘ سے باہر نکال کر اُمید کی روشنی میں لے آئے گا۔

لبرل آرٹس تعلیم میں کمی کے رجحان کے باوجود ترقی یافتہ ممالک میں یہ شعبہ اربوں ڈالر کی انڈسٹری رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان میں لبرل آرٹس سے متعلقہ ہر انڈسٹری ابتری کا شکار ہے۔ تعلیم کا یہ شعبہ بھوکا نہیں مارتا۔ ضرورت اس امر کی ہے اس سے متعلقہ کاروبار کو زندہ کیا جائے تاکہ اس کی حوصلہ افزائی ہو۔ نجی سیکٹر کو چاہیے کہ اس تعلیم اور اس کی اندسٹری میں سرمایہ کاری کرے۔ یہ بہت اچھا اقدام ہوگا۔

مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی بات ہم اکثر سنتے کرتے ہیں لیکن بغور دیکھا جائے تو جس نوعیت کی تبدیلی کا منصوبہ بنایا جاتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، سوائے اس کے کہ سخت گیر نظریات کے حامل افراد اس کے بعد سماجی ڈھانچے پر زیادہ مضبوط گرفت حاصل کرلیں گے۔ فکری تبدیلی کا راستہ لبرل آرٹس کے مضامین کو اور بشرط اصل حالت میں فروغ دینے سے ہموار ہوگا۔

اس بحث کا مقصد کمپیوٹر سائنسز، انجیئنرنگ، میڈیکل اور سکلز کی تعلیم کے شعبوں کی عدم اہمیت کو ظاہر کرنا نہیں ہے، یہ شعبے اپنی جگہ بنیادی حیثیت کے حامل ہیں جس کا انکار ممکن نہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لبرل آرٹس کی تعلیم کو بھی ملک میں زندہ کیا جائے۔ اس کی افادیت اور ثمرات کے آگے روک نہ لگائی جائے۔

ہم ایک ایسا سماج ہیں جہاں انسانی حقوق کے مسائل آئے روز ایک بھیانک بحرانی نظارہ پیش کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ثقافت میں لبرل آرٹس کے شعبے کو زندہ کریں۔ آزادانہ ، سوچنے، سیکھنے اور اظہار کرسکنے کی صلاحیت کو نمو بخشیں اور جمہوری طرزِ زندگی کو جِلا دیں۔ اسی سے جمہوری طرزِ حکومت بھی مضبوط ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...