جیلوں میں کس طرح شدت پسندی کے فروغ کا خطرہ ہوتا ہے؟

محمد خیی، علی قیس

159

War is boring ویب سائٹ کے بانی صحافی ڈیوڈ اکس نے تین دسمبر کو نیشنل انٹرسٹ میں ہٹلر کے بارے میں لکھا کہ 1924ء میں چونتیس سالہ اڈولف ہٹلر جو ایک بے سلیقہ مصور اور قدرے شرمیلا نوجوان تھا، اسے ایک چھوٹے سے ناکام انقلاب کی پاداش میں پانچ سال کے لیے لینڈزبرگ کی جیل میں ڈالا گیا۔ اسے جب 9 ماہ بعد رہائی ملی تو وہ اپنے افکار میں زیادہ واضح اور ایک پراعتماد قائد تھا، اسی عرصے میں اس نے اپنی کتاب ’مائن کیمف‘ بھی تصنیف کی تھی جو اس کا نیا سیاسی پروگرام تھا۔ ہٹلر اور اس کے آسٹرین ساتھی روزانہ دوپہر کے کھانے پر ملتے تھے۔ وہ لائن بنا کر کھڑے ہوتے اور ’’ہوشیار‘‘ کی آواز کا انتظار کرتے۔ اس کے بعد دسترخوان میز کی ایک جانب ہٹلر براجمان ہوتا، وہ ان سے خطاب کرتا جو ’’فتح زندہ باد‘‘ کے نعرے پر ختم ہوتا۔ اس نے جیل میں اپنی ذات و فکر کو تقدیس کا ہالہ پہنا دیا تھا۔ جیل نازی ازم کی پہلی تجربہ گاہ تھی۔

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے سال 2013ء میں فارن پالیسی میں ایک مضمون لکھا جس میں انہوں کہا کہ ہمارے ماتحت عراقی جیلیں شدت پسندی کی درسگاہیں بن گئی تھیں، وہاں پر قید ایسے شدت پسند جو تحریکی رجحانات رکھتے ان کو الگ نہیں رکھا گیا، ان کی تعداد آٹھ سو کے قریب تھی وہ دیگر قیدیوں میں تبلیغ کرتے اور اپنی جانب مائل کرتے تھے۔ ان جیلوں سے جو لوگ باہر نکلتے وہ زیادہ خطرناک ثابت ہوئے۔

برطانوی مؤرخ پرفیسر اینڈریو تھامسن نے نیویارک ٹائمز کے صفحات میں بتایا کہ عراق کے بوکا حراستی کیمپ میں ابوبکر البغدادی اور دیگر سینکڑوں بنیادپرست قیدی بنائے گئے تھے۔ لیکن وہاں جو ماحول بن گیا تھا اسے دیکھ کر ہم میں سے کئی یہ سوچنے لگے کہ یہ جیل کی بجائے شدت پسندی کا گھونسلہ ہے۔ یہیں پر سخت گیر نظریات کے حامل شدت پسندوں اور صدام کی جماعت کی سییکولر شخصیات کے درمیان رابطہ استوار ہوا اور ملک کے سابق بیوروکریٹس دہشت گردی کا حصہ بن گئے۔ یہاں سے باہر آنے والوں نے داعش کی بنیاد رکھی۔

بہت سارے لوگ یہاں ایک نفسیاتی بحران سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جیلیں Traumatic Turning point ثابت ہوتی ہیں۔ قید کی فضا میں لوگ ایک نئی معنویت کی تلاش کے احساس کے زیراثر بھی ہوتے ہیں جس کے بارے میں مثبت ہونے کا تناسب کم ہوتا ہے

جیلوں کے بارے میں ہم اکثر یہ گمان رکھتے ہیں کہ یہ چاردیواریاں ایک مجرم کو سزا دینے کے لیے ہوتی ہیں یا یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہاں سزا کے ساتھ فرد کی اصلاح بھی ہوتی ہے، لیکن یہ تصور پوری طرح درست نہیں ہے۔ اس ماحول کی بہت زیادہ نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے اور خاطرخواہ احتیاط برتنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر انسانی نفسیات، جیل کے ماحول کی نوعیت، سہولیات، تعلیم وتربیت اور دیگر کئی ضروری امور پر توجہ نہ دی جائے تو یہ جیلیں انسانی معاشروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہاروی کشنر کہتے ہیں کہ جیلیں اپنی بنیاد میں کمزوری کا مقام (Place of Vulnerability) ہوتی ہیں جہاں فرد کو اس کے مانوس ماحول سے تنہائی میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ بہت سارے لوگ یہاں ایک نفسیاتی بحران سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جیلیں Traumatic Turning point ثابت ہوتی ہیں۔ قید کی فضا میں لوگ ایک نئی معنویت کی تلاش کے احساس کے زیراثر بھی ہوتے ہیں جس کے بارے میں مثبت ہونے کا تناسب کم ہوتا ہے۔ زندگی کے لیے نئی معنویت کی تلاش کا احساس عملاََ کبھی اپنی ذاتی حیثیت میں راستہ بناتا ہے تو بعض اوقات جیل کے کچھ عناصر اس کی مدد کرتے ہیں۔ جیل کی فضا میں قومی، نسلی، لسانی یا مذہبی شناخت کے منفی طور پہ غلبہ پاجانے کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آجکل مغرب میں جیلوں کے مسلم جتھے (Muslim Prison Gangs) کے نام سے نئی اصطلاح سننے کو ملتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جیلوں میں مذہبی شناخت کی بنا پر ایکدوسرے کے قریب آئے۔ ظاہر ہے یہ سب لوگ شدت پسندی کے جرم میں جیل نہیں گئے تھے، لیکن جب یہ واپس آتے ہیں تو نئی معنویت کے زیراثر ہوتے ہیں جسے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان القاعدہ اور داعش میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

دو ہزار سترہ کی ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی جیلوں میں قید نصف سے زائد تعداد مسلمانوں کی ہے۔ ان جیلوں کی حالت بارے یورپی یونین عدم اطمینان کا اظہار کرچکی ہے۔ دوہزار پندرہ میں چارلی ایبڈو پر حملہ کرنے والے نوجوان فرانس کی جیل میں ایکدوسرے سے متعارف ہوئے تھے۔ دوہزار سولہ میں پانچ یہودیوں کو قتل کرنے والا نوجوان جیل میں جہاد کی دعوت دیتا تھا۔ ان واقعات کے بعد فرانس کی حکومت نے جیلوں کے نظام پر نظرثانی شروع کی ہوئی ہے۔ فرانس 2025ء تک مزید 33 جیلوں کی تعمیر مکمل کرے گا تاکہ اندر کے نظام اور حالات کو بہتر بنایا جاسکے۔

یورپی یونین میں کاؤنٹر ٹیررزم کوارڈینیٹر کے عہدے پر کام کرنے والے Gilles de Kerchove نے کہا تھا کہ داعش کے شانہ بشانہ لڑ کر واپس آنے والوں کے بارے نہیں کہا جاسکتا کہ سبھی جرائم میں ملوث رہے ہوں گے۔ جیلیں شدت پسندی کی فکر کو پختہ کرسکتی ہیں۔ واپس آنے والوں کی بہت نگرانی اور توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ نفسیاتی طور پہ شدید طرح کے اضطرابات کا شکار ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پہ ان کے معاملے میں فوکس یہ ہونا چاہیے کہ انہیں سماج کے دھارے میں واپس کس طرح بحال کیا جاسکتا ہے۔

مسلم ممالک میں جیلوں کا معاملہ کچھ مختلف مسائل بھی رکھتا ہے۔ مثال کے طور پہ یہاں کی جیلیں غیرانسانی سلوک روا رکھنے میں مشہور ہیں۔ نظم وضبط، منصوبہ بندی، تربیت اور محتاط رویہ مفقود ہے۔ جن ملکوں میں آمریتیں ہیں وہ اس حوالے سے زیادہ مشکلات رکھتی ہیں۔ رواں برس ہیومن رائٹس واچ نے مصر کی جیلوں کے بارے میں Like a Fire in a Forest: ISIS Recruitment in Egypt’s Prisons  کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جو حیران کن انکشافات سے بھرپور ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے سیسی کے دور میں مصر کی جیلوں میں دہشت گردی کی آبیاری ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں کئی حوالوں سے جیلوں کے اثرات پر بات کی گئی ہے۔ مثلاََ یہ کہ زندانوں کی ابتر، کٹھن اور انسانیت سوز حالت عام قیدیوں کو اندر موجود شدت پسندوں کی دعوت کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ بھی ذکر ہے کہ دہشت گردی سے متأثر لوگ بھی کیسے دہشت گردی کا حصہ بن رہے ہیں۔ مثال کے طور پہ بتایا گیا کہ وادی سینا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا گیا، وہاں زیادہ تر عام لوگ مارے گئے، انہی میں سے دو نوجوان ایسے تھے جن میں سے ایک کا گھر ہی خاندان سمیت آپریشن کے دوران اُڑا دیا گیا، یہ نوجوان بچ گیا اور گرفتار ہوا، جبکہ دوسرا نوجوان ایک مقام سے اس لیے گرفتار ہوا کہ وہ اس وقت غلط جگہ پر موجود تھا۔ دونوں نوجوانوں پر جیل میں سخت تشدد ہوا۔ اسی عرصے میں وہ قیدی داعشی افراد کی فکر کی جانب راغب ہوگئے۔ یہ بعد میں رہا ہوئے۔ 2016ء میں قاہرہ کے چرچ پر دھماکے کرنے والے یہی دو نوجوان تھے جس میں بیسیوں مسیحی مارے گئے تھے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنرل سیسی اپنے منصب کے جواز کے لیے شدت پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ قاہرہ کی ایک جیل میں ایک نوجوان سے بات کی گئی جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا لیکن اسے کفر اور کفار کے بارے میں دلائل ازبر تھے۔ یہ اس نے جیل میں اپنے استاد سے سیکھا تھا۔

جہاد بن صلاح شام کے علاقے عفرین سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے پانچ سال ایک شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق کے شبہ میں صیدیانا جیل میں گزارے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں داخل ہونے والے سب شدت پسند نہیں ہوتے تھے لیکن جب واپس جاتے ہیں تو ان کی اکثریت معتدل نہیں ہوتی۔ اس جیل میں جہاں اور خوفناک مظاہر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اس جیل میں مختلف ملکوں، نسلوں اور افکار کے حامل دو ہزار لوگ قید تھے۔ مخالفت رکھنے والے متشدد افراد کو چن کر ایک جگہ رکھا جاتا جہاں وہ ایکدوسرے کے ساتھ لڑتے اور بعض اوقات نوبت ایکدوسرے کی جان لینے پر منتج ہوتی۔ جان بوجھ کر لڑائیاں کرائی جاتیں اور اس کے بعد سزا کے طور پہ انتظامیہ خود تشدد کرتی۔

جیلیں انتہائی حساس جگہیں ہوتی ہیں۔ ان کی نگرانی اور توجہ کے لیے خاص منصوبہ بندی اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوشش کی جانی چاہیے کہ یہاں آنے والوں کے اندر اگر نئی معنویت کا جو احساس پیدا ہوجائے وہ کم ازکم شدت پسندی نہ ہو۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ مرکز نشید۔ عریبک پیپل

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...