صلح کی فضا میں خلیج کانفرنس کا اختتام

631

منگل کے روز ہونے والی 40 ویں خلیج کانفرنس صلح کی فضا میں اپنے اختتام کو پہنچی، پوری عرب اور اسلامی دنیا کی نگاہیں اس کانفرنس پر مرکوز تھیں جس کے بارے میں بجا طور پر توقع کی جا رہی تھی کہ اس کانفرنس کی کوکھ سے مصالحت جنم لے گی۔ کانفرنس سے ایک دن قبل جب امیر قطر کے روانڈا دورے کی خبر بریک ہوئی اور ریاض میں ماقبل کانفرنس میٹنگ میں شرکت کے لیے قطر کی طرف سے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ریاض پہنچے تو مصالحت کا خواب دیکھنے والوں میں مایوسی پھیل گئی تھی کیونکہ گزشتہ برس بھی قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے قطر کی نمائندگی کی تھی اور اس وقت جانبین سے سرد مہری کا مشاہدہ کیا گیا تھا تاہم اس وقت مایوسی پھر سے آس میں بدل گئی جب امیر قطر کی طرف سے اپنی کابینہ کی سب سے اعلی شخصیت شیخ عبداللہ بن نصر آل ثانی کو نمائندگی کے لیے بھیجنے کا اعلان کیا گیا جو کہ وزارت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کے منصب پر بھی فائز ہیں۔

قطر کی جانب سے اس پیش رفت کے بعد اب نظریں سعودی ردعمل پر جمی ہوئی تھیں کہ وہاں سے استقبال کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آئیں گے یا وزیر خارجہ یا پھر کوئی جونیر آفیسر؟ لیکن سعودی عرب نے قطر کی طرف سے مصالحت کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھ کا ایک قدم آگے بڑھ کر جواب دیا اور خادم الحرمین الشریفین شیخ سلمان بن عبد العزیز خود استقبال کے لیے ہوائی اڈے پر پہنچے۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور خادم الحرمین الشریفین نے قطری وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم آپ کو آپ کے ہی دوسرے ملک میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔‘‘

قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارے سعودی عرب سے مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات میں وہ 13 مطالبات شامل نہیں ہیں جو تعلقات میں تعطل کا باعث بنے تھے

کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے شاہ سلمان نے خطے کے امن کے لیے خلیجی ممالک کی وحدت پر زور دیا اور مل کر آگے چلنے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک پہلے بھی بحرانوں پر بڑی خوش اسلوبی سے قابو پاتے رہے ہیں اور اب بھی ہم بحران پر قابو پا لیں گے۔ کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ خلیجی ممالک متحد ہو کر رہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی خلیج کانفرنس کے ارکان ممالک کے تعلقات معمول پر آجائیں گے اور باہمی رنجشیں ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔ کویت کے نائب وزیر خارجہ الجار اللہ نے بھی کانفرنس کی فضا کو تسلی بخش اور حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارے سعودی عرب سے مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات میں وہ 13 مطالبات شامل ہی نہیں ہیں جو تعلقات میں تعطل کا باعث بنے تھے اس لیے ہم مستقبل پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پر جو قرارد پیش کی گئی اس میں چار اہم نکات سامنے آئے

1،  خلیج کے پانیوں کا ہر صورت میں تحفظ کیا جائے گا۔

2، خلیجی ممالک وحدت اور یک جہتی کے ساتھ خطے کا امن یقینی بنائیں گے۔

3، خطے میں امن وامان کے قیام کے لیے باہمی عسکری و تزویراتی تعاون کو بڑھایا جائے گا۔

4، فلسطین کو الگ ملک کی حیثیت دلوائی جائے گی جس کا دارالحکومت القدس ہو گا۔

کانفرنس کے بعد ایک گھنٹہ بند کمرہ میں میٹنگ بھی جاری ریی جس کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں، مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ میٹنگ قطر کے بائیکاٹ کے خاتمے کے لیے خدوخال طے کرنے کے لیے تھی۔ امیر قطر کے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب تک بائیکاٹ کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا جاتا شیخ تمیم کا سعودی عرب جانا ممکن نہیں۔ چالیسویں خلیج کانفرنس خلیجی ممالک کے درمیان حائل خلیج پاٹنے میں کافی حد تک کارگر ثابت ہوئی ہے اور قطر بائیکاٹ کے خاتمے کا عمل بتدریج شروع ہو چکا ہے جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، امید ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں جانبین کے تعلقات معمول پر آجائیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...