پارلیمان کو نظرانداز کرکے آرڈیننس کے اجراء کی روایت

احمد بلال محبوب

141

پاکستان دنیا کے ان معدودے چند جمہوری ممالک میں سے ایک ہے جہاں ایگزیکٹو حکمنامے کے ذریعے قانون کی منظوری کا اختیار دیا گیا ہے۔ حقیقی جمہوریتوں میں قانون کی منظوری کا استحقاق پارلیمنٹ کی مجلس قانون ساز کو حاصل ہوتا ہے لیکن پاکستان اور کچھ دیگر ممالک میں آئینی طور پہ یہ اختیار ایگزیکٹو اتھارٹی کو بھی دیا گیا ہے کہ وہ اسے بغیر بحث ومباحثے کے منظور کرلے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 89 میں درج ہے کہ ’’جب سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس جاری نہ ہو اور حالات ایسے ہوں کہ متعلقہ معاملے میں فوری اقدام درکار ہو تو ایسی صورتحال میں صدر کو یہ اختیار ہے کہ وہ آرڈیننس تیار کرکے اس کا اجراء کردے‘‘۔

بادی النظر میں آئین اس استثنا کی اجازت صرف غیرمعمولی صورتحال میں فراہم کرتا ہے، جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری نہ ہو اور نہ نزدیکی تاریخ میں اسے طلب کیا جاسکتا ہو، اور قانون ایسی فوری اہمیت کا حامل ہو کہ اسے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس تک مؤخر نہ کیا جاسکتا ہو۔ تاہم اگر 1973ء کے آئین کی تشکیل سے اب تک جتنے بھی آرڈیننس منظور کیے گئے ہیں اگر ان کے اجراء کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی بمشکل ایسا ہوگا جس کے لیے پارلیمنٹ کے اجلاس کا انتظار نہ کیا جاسکتا تھا۔

زیادہ تر آرڈیننس کی منظوری میں پارلیمنٹ کو اس لیے نظرانداز کردیا گیا کہ حکومت مجوزہ قانون پر پارلیمان میں بحث کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ آرڈیننس پارلیمنٹ کو بالائے طاق رکھ کر گزرنے کا آسان ذریعہ ہیں۔ کئی بار حکومتیں اس لیے آرڈیننس کا سہارا لیتی ہیں کہ انہیں پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہوتی، وہ بجائے اپوزیشن کے ساتھ مل کر قانون پر بات چیت کرنے کے اس کی منظوری کا آسان اور مختصر راستہ اختیار کرتی ہیں۔

دوہزار دس میں اٹھارویں ترمیم سے قبل آرڈیننس کی 120 دن کی مدتِ فعالیت کے ختم ہونے پر اس کا اجراء متعدد بار کیا جاسکتا تھا لیکن اٹھارویں ترمیم میں دو سے زائد مرتبہ اس کا اجراء ممنوع قرار دیدیا گیا۔ یہ بھی ایک عام بات تھی کہ پارلیمانی اجلاس سے ایک دن پہلے یا چند گھنٹے قبل بھی آرڈیننس کو جاری کردیا جاتا تھا حالانکہ یہ آئین میں آرڈیننس کے دیے گئے اختیار کی اصل وجہ سے انحراف ہے۔

جمہوری عمل کی رُوح یہ تقاضا کرتی ہے کہ آئین میں اس طرح فراوانی کے ساتھ آرڈیننس کے اجراء پر پابندی عائد کردی جانی چاہیے تاکہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کی روایت مستحکم کی جاسکے

اگرچہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی آئینی طور پہ آرڈیننس کے حوالے سے اسی طرح کا اختیار دیا گیا ہے لیکن وہاں  یہ استحقاق ویسی فراوانی کے ساتھ استعمال نہیں کیا گیا جیساکہ پاکستان میں ہوتا ہے۔ 1973ء سے اب تک ہمارے ہاں 1,774 آرڈیننس جاری کیے گئے، جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کے اندر صرف 533 بار یہ اختیار استعمال میں لایا گیا۔

سالہا سال کے اس عمل سے اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ آرڈیننس جاری کرنے کی روایت جمہوریت کی روح کو زک پہنچا رہی ہے۔ 46 برس سے زائدہ کے عرصے میں کوئی بھی حکومت ایسی نہیں آئی جس نے اس طریقے سے جمہوریت کی روح کو کمزور نہ کیا ہو۔ اس دورانیے میں 28 حکومتیں اور اتنے ہی چیف ایگزیکٹو آئے ہیں۔ ان اٹھائیس حکومتوں میں سے سولہ منتخب، دس نگران اور دو فوجی حکومتیں تھیں۔

ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے اداوار گیارہ سالوں پر محیط تھے، اس میں ان نیم جمہوری حکومتوں کی مدت شامل نہیں ہے جو ان دو ادوار میں قائم کی گئی تھیں۔ ان دو ادوار میں 680 آرڈیننس جاری کیے گئے تھے، یعنی کہ ہر سال تقریباََ 63 آرڈیننس پاس ہوئے۔ نگران حکومتوں کا کُل دورانیہ دو سال سے زائد کے عرصے پر مشتمل ہے، انہوں نے سالانہ 59 کے تناسب کے ساتھ 140 مرتبہ اس اختیار کا استعمال کیا۔ سولہ منتخب حکومتیں جن کا عرصہ 33 برس کا تھا انہوں نے 954 آرڈیننس جاری کیے، یعنی کہ جمہوری ومنتخب حکومتیں ہر سال 29 بار پارلیمنٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ عمل اختیار کرتی ہیں۔

ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی حکومتوں میں آرڈیننس کے اجراء کا سالانہ تناسب 63 کے عدد کے ساتھ  دیگر حکومتی ادوار کے مقابلے میں بہت بلند رہا ہے۔ اس کے بعد نگران حکومتیں آتی ہیں جنہوں نے سالانہ 59 مرتبہ اس اختتیار کا فائدہ اٹھایا، جمہوری حکومتیں جنہیں ملامت کا سامنا رہتا ہے وہ سالانہ 29 کے تناسب کے ساتھ سب سے نچلے درجے پر ہیں۔

ضیاءالحق اور پرویز مشرف کی آمریتوں کے عہد میں اول الذکر نے اگرچہ اپنی حکومت میں کُل 407 آرڈیننس جاری کیے جو مشرف کے مقابلے میں زیادہ بنتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عہد میں 273 دفعہ اس اختیار کو استعمال کیا، تاہم اگر حکومت کی میعاد کے حساب سے دیکھا جائے تو مشرف نے یہ اختیارات کم مدت میں استعمال کیے جو تناسب کے اعتبار سے سالانہ 88 بنتے ہیں اور ضیاءالحق کی میعادِحکومت کے لحاظ سے سالانہ 53 آرڈیننس جاری کیے گئے۔ نگران حکومتوں میں سے ملک معراج خالد کے عہد میں اس استحقاق کا سب سے زیادہ استعمال ہوا، ساڑھے تین ماہ کے مختصر دورانیے میں 51 آرڈیننس جاری کیے گئے۔

16 منتخب حکومتوں کا موازنہ کیا جائے تو محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں (اکتوبر1993ء تا نومبر1996ء) 357 مرتبہ آرڈیننس کے اجراء کی راہ اختیار کی گئی۔ جبکہ محمد علی خان جونیجو تین سالوں میں سب سے کم آرڈیننس جاری کیے۔

عمران خان کی حکومت پر اگرچہ پچھلے پندرہ ماہ میں متعدد بار آرڈیننس کا سہارا لینے پر تنقید کی جاتی ہے لیکن مجموعی تناسب کے اعتبار سے 16 منتخب حکومتوں میں اس اختیار کے استعمال کرنے میں تحریک انصاف کا نمبر 9واں ہے۔ موجودہ حکومت نے ایک سال میں اٹھارہ آرڈیننس پاس کیے ہیں۔ اس امر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی اور سینٹ میں عددی برتری کے لحاظ سے بہت کمزور حیثیت رکھتی ہے۔

جمہوری عمل کی رُوح یہ تقاضا کرتی ہے کہ ترجیحی طور پہ آئین میں اس طرح فراوانی کے ساتھ آرڈیننس کے اجراء پر پابندی عائد کردی جانی چاہیے تاکہ قانون سازی پارلیمنٹ میں کی جاسکے۔ اس کے علاوہ عوام میں بھی یہ آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ یہ عمل جمہوریت کو کمزور کرنے ما باعث ہے تاکہ ووٹ دینے والے عوام ہر حکومت پر یہ دباؤ ڈال سکیں اور مطالبہ کریں کہ اس راستے کا غلط استعمال کرنے کی بجائے پارلیمنٹ میں قانون سازی کا راستہ اپنایا جائے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...