بھارت سے جیتنے کا وقت آن پہنچا ہے

548

کل 9 دسمبر تھا۔ کل کے دن بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے شہریت میں ترمیم کا متنازعہ بل پیش کیا جسے اپوزیشن کی شدید اجتماعی مخالفت کے باوجود بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔ اس متنازعہ بل کی رو سے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ایسے افراد کو بھارت میں پناہ کا حق مل سکے گا جو مسلمان نہ ہوں بلکہ ان کا تعلق، ہندو، سکھ، جین، بدھ، پارسی اور مسیحی برادری سے ہو۔ اس سے پہلے حکمران اتحاد بی جے پی کی قیادت میں متنازعہ این آرسی کا قانون بھارتی ریاست آسام میں نافذ کیا جاچکا ہے جس کی رو سے 20 لاکھ کے لگ بھگ افراد جس میں واضح اکثریت مسلمانوں کی ہے انہیں غیر ملکی قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت ان افراد کے لئے محدود طرز کے کیمپ تعمیر کررہی ہے جہاں ان لاکھوں افراد کو قید کرکے رکھا جائے گا اور انہیں نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔

دنیا بھر میں حقوق انسانی کی تنظیمیں اور عالمی ادارے بھارتی حکومت کے ان اقدامات کی مذمت کررہے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نےبھارت کے قانون شہریت میں ترمیمی بل کے پاس ہوجانے کی صورت میں بھارتی وزیر داخلہ امِت شاہ پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔ بھارتی پارلیمان میں اس حکومتی بل  کی مخالفت میں اپوزیشن ارکان نے جو نقطہ نظر اپنایا وہ یہ تھا کہ یہ بل چونکہ مذہبی تقسیم اور تعصب پر مبنی ہے، جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 14 بھارت میں مقیم تمام شہریوں کو برابری اورمساوات کا حق دیتا ہے۔ لہذایہ بل اس لئے متنازعہ ہے کہ اس میں ہمسایہ ممالک یعنی پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم کرکے محض غیر مسلم برادیوں کو یہ حق دیا جارہا ہے۔

اس کے جواب میں بھارتی وزیر داخلہ اور اس متنازعہ بل کے نقشہ نویس امِت شاہ نے یہ دلیل دی کہ چونکہ یہ تینوں ممالک مسلم اکثریتی ہیں اور یہاں مذکورہ بالا ان چھ غیر مسلم برادریوں کو مذہبی آزادیاں اور وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جس کے وہ حق دار ہیں لہذا خطے میں بڑا اور سیکولر ملک ہونے کے ناطے یہ بھارت کا فریضہ ہے کہ وہ ان برادریوں کو تنہا نہ چھوڑے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے کانگرس کے رہنما سشی تھرور نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنا بالخصوص کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنے کے واقعات عام ہیں  تو اگر یہی دلیل ہے تو انہیں بھی  دیگر غیر مسلم برادریوں کی مانند بھارتی شہریت کے لئے درخواست دینے کا اہل قرار دیا جائے۔ مزید یہ بھی اگر یہ بل پاس ہوا تو یہ بانی پاکستان  جناح کے نظریات کی جیت ہوگی جنہوں نے ہندوستان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی روایت ڈالی۔ اس اعتراض پہ امِت شاہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

دنیا بھر میں حقوق انسانی کی تنظیمیں اور عالمی ادارے بھارتی حکومت کے ان اقدامات کی مذمت کررہے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نےبھارت کے قانون شہریت میں ترمیمی بل کے پاس ہوجانے کی صورت میں بھارتی وزیر داخلہ امِت شاہ پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے

اس صورتحال پر غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بھارتی حکومت کے یہ اقدامات دراصل سال 2024 کے انتخابات کی تیاری ہے اور بی جے پی کی یہ سیاسی روایت رہی ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم مذہبی تقسیم اور منافرت کی بنیاد پر چلاتی ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے عوام کی توجہ معیشت کی خراب صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہٹائی جارہی ہے۔

مبصرین کی اس رائے سے قطع نظر یہ بات تو طے ہے کہ بی جے پی حالیہ انتخابی جیت کے بعد کھل کر سامنے آئی ہے اور وہ اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے اور فلسفے کو نافذ کررہی ہے جس کے مطابق بھارت ایک ہندو راشٹر بنے گا ۔

اب سرحد کے اُس پار سے پلٹیے اور وطن عزیز کی جانب چلیے۔ آج 10 دسمبر ہے۔ حقوق انسانی کا عالمی دن ہے۔ شائد یہ قدرت کی جانب سے اشارہ  اور اطلاع ہے کہ بھارت سے جیتنے کا یہی طریقہ ہے کہ حقوق انسانی کو پامال ہونے سے بچائیے۔ پاکستان کا قانون شہریت 1951ء سے نافذ ہے۔ اس کی رو وہ سبھی افراد پاکستانی ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے وہ پاکستانی ہیں، چاہے وہ کسی بھی عقیدے کے ماننے والے ہوں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے تقسیم ہند کے منصوبے کو قبول کرلینے کے بعد جب پہلی بار پاکستان کی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کیا تو الفاظ انہوں نے ادا کئے انہیں یہاں دہرانا لازمی ہے۔ آپ نے فرمایا

’’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘‘

پاکستانی نصاب میں پڑھائے جانی والی چند حقیقتوں میں سے ایک  حقیقت کا یہاں اظہار کرنا بھی لازمی ہے کہ تحریک آزادی کے دوران جناح ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے لیکن یہ کانگرس، ہندو مہاسبھا اور ان جماعتوں کے ہندو قوم پرست سیاسی رہنما تھے جنہوں نے قائد اعظم کو یہ ماننے پر مجبور کردیا کہ ایک مشترکہ آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کا نقصان ہوگا اور ہندو اپنی اکثریت کے بل بوتے پر ان کا استحصال کریں گے۔ معروف بھارتی صحافی کرن تھاپر کے مطابق سچائی یہ نہیں کہ بھارت کی تقسیم جناح نے کی بلکہ سچائی اس کے عین برعکس ہے۔ انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں قائد اعظم کی تصویر  کے معاملے پر ہندو انتہاء پسندوں کے احتجاج کے دوران لکھا،

’’انسان اپنی ہوشیاری سے بہت کچھ بدل سکتا ہے لیکن تاریخ نہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ 1916ء میں سروجنی نائڈو نے جناح کو ’ہندو مسلم اتحاد کا سفیر‘ قرار دیا تھا، گاندھی جی کی خلافت تحریک کے دوران جناح مذہب اور سیاست کو ملانے کے خلاف تھے اور وہیں سے کانگریس سے ان کے اختلافات شروع ہوئے تھے۔ جناح ایک بڑے وکیل تھے اور انھوں نے بال گنگا دھر تلک کے خلاف بغاوت کے مقدمات میں دو مرتبہ تلک کا دفاع کیا تھا اور دو قومی نظریہ پہلی مرتبہ جناح نے نہیں ہندو مہاسبھا کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ء1937 میں (ہندوتوا کے نظریے کے بانی) ویر ساورکر نے پیش کیا تھا۔‘‘

ایک کانگرسی رہنما نے پاکستان کے تصور کی مخالفت کرتے ہوئے کہا

’’تصور پاکستان کے مطابق قائم ہونے والی ریاست ایک ایسی حکومت کی حامل نہیں ہوگی جو تمام برادریوں کی نمائندہ مجلس قانون سازکے سامنے جوابدہ ہو، بلکہ یہ ایک مذہبی ریاست ہوگی جس کا مقصد اس مذہب کی تعلیمات کے مطابق حکمرانی کرنا ہوگا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس مذہب کے پیروکار نہیں ہوں گے، وہ حکومت میں حصہ کے حق دار نہیں ہوسکیں گے‘‘ علی گڑھ یونیورسٹی میں قائد اعظم نے اس کانگرسی رہنما کا جواب دیتے ہوئے کہا

’’کیا یہ ہندوں اور سکھوں کو اکسانے کی کوشش نہیں ہے۔ ان کو یہ بتانا کہ یہ (پاکستان)ایک مذہبی ریاست ہوگی جس میں انہیں حکومت واقتدار سے الگ رکھا جائے گا، یہ کھلا جھوٹ ہے۔ وہ(ہندو اور سکھ)ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں، اور وہ ریاست کے شہری بن کر رہیں گے۔‘‘

اگر ہم آج حقوق انسانی کے عالمی دن کے موقع پر ریاستی اور سماجی سطح پر ہوچکی تمام غلطیوں اور کوتاہیوں پر شرمندہ ہو کر ایک عہد کرلیں کہ پاکستان میں آباد تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر یکساں آزادیاں اور حقوق حاصل ہوں گے تو ہم بھارت سے ایک ہی جست میں جیت جائیں گے۔ حالیہ  بھارتی حکومت سماجی ارتقاء کے منفی رستے کی جانب تیزی سے سفر کررہی ہے ہمیں فقط مثبت سماجی ارتقاء کی جانب لوٹنا ہے پھر چاہے قدم کتنے ہی سست کیوں نہ ہوں ہمارا ہر دن بھارت پر جیت ہوگا۔ آئیے اس سفر کا آغاز حقوق انسانی کے یکساں احترام سے شروع کرتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...